اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِىَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِـَٔايَةٍ فَأْتِ بِهَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ
قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٌ
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ
قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍ
وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوٓا۟ إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٰلِبِينَ
قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ
قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحْنُ ٱلْمُلْقِينَ
قَالَ أَلْقُوا۟ ۖ فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ سَحَرُوٓا۟ أَعْيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
فَوَقَعَ ٱلْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
فَغُلِبُوا۟ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُوا۟ صَٰغِرِينَ
وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
آیت 105 حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لآَّ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ الاَّ الْحَقَّ ط فرعون کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی اجنبی آدمی نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام اس کے ساتھ ہی شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جو فرعون برسر اقتدار تھا وہ اس فرعون کا باپ تھا اور اسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں بچایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا تھا۔ وہ صندوق فرعون کے محل کے پاس ساحل پر آ لگا تھا اور محل کے ملازمین نے اسے اٹھا لیا تھا۔ فرعون کو پتا چلا تو وہ اسرائیلی بچہ سمجھ کر آپ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوا ‘ مگر اس کی بیوی نے اسے یہ کہہ کر باز رکھا تھا کہ ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں گے ‘ یہ ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا : قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ ط القصص : 9 کیونکہ اس وقت تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ چناچہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ بعد میں اس کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا بیٹا تقریباً ہم عمر تھے ‘ وہ دونوں اکٹھے محل میں پلے بڑھے تھے اور ان کے درمیان حقیقی بھائیوں جیسی محبت تھی ‘ بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت بڑے بھائی کی تھی۔ جب بڑا فرعون بوڑھا ہوگیا تو اس نے اپنی زندگی میں ہی اقتدار اپنے بیٹے کے سپرد کردیا تھا۔ چناچہ جس فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا یہ وہی تھا جس کے ساتھ آپ علیہ السلام شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ ابھی کچھ ہی برس پہلے آپ علیہ السلام یہاں سے مدین گئے تھے اور پھر مدین سے واپس آ رہے تھے تو آپ علیہ السلام کو نبوت اور رسالت ملی اس کی پوری تفصیل آگے جا کر سورة طٰہٰ اور سورة القصص میں آئے گی۔ اس پس منظر میں فرعون کے ساتھ آپ علیہ السلام کا بات کرنے کا انداز بھی کسی عام آدمی جیسا نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے بڑے واضح اور بےباک انداز میں فرعون کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو ! میرا یہ منصب نہیں اور یہ بات میرے شایان شان نہیں کہ میں تم سے کوئی لایعنی اور جھوٹی بات کروں۔قَدْ جِءْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے فلسطین سے آکر مصر میں اس وقت آباد ہوئے تھے جب یہاں ایک عربی النسل خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کے بادشاہ چروا ہے بادشاہ Hiksos Kings کہلاتے تھے۔ ان کے دور حکومت میں حضرت یوسف علیہ السلام کے احترام کی وجہ سے بنی اسرائیل کو معاشرے میں ایک خصوصی مقام حاصل رہا اور وہ صدیوں تک عیش و عشرت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کے بعد کسی دور میں مصر کے اندر قوم پرست عناصر کے زیر اثر انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں حکمران خاندان کو ملک بدر کردیا گیا اور یہاں قبطی قوم کی حکومت قائم ہوگئی۔ یہ لوگ مصر کے اصل باشندے تھے۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ تبدیلی بڑی منحوس ثابت ہوئی۔ سابق شاہی خاندان کے چہیتے ہونے کی وجہ سے وہ قبطی حکومت کے زیر عتاب آگئے اور ان کی حیثیت اور زندگی بتدریج پست سے پست اور سخت سے سخت ہوتی چلی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں یہ لوگ مصر میں غلامانہ زندگی گزار رہے تھے ‘ بلکہ فرعونوں کی طرف سے آئے روز ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ یہ وہ حالات تھے جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلا کر واپس فلسطین لائیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دیا جائے۔
آیت 109 قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ انہوں نے کہا ہوگا کہ یہ جو یہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا تھا اور کئی سال بعد واپس آیا ہے تو کہیں سے بہت بڑا جادو سیکھ کر آیا ہے۔
آیت 110 یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْج فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ یہ تو چاہتا ہے کہ جادو کے زور پر تمہیں اس ملک سے نکال کر یہاں خود اپنی حکومت قائم کرلے۔ اس نازک صورتحال سے عہدہ بر آہونے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے ؟
آیت 111 قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْْمَدَآءِنِ حٰشِرِیْنَ یعنی ابھی فوری طور پر ان کے خلاف کوئی ردِّعمل ظاہر نہ کیا جائے۔ انہیں مناسب انداز میں ٹالتے ہوئے مؤثر جوابی حکمت عملی اپنانے کے لیے وقت حاصل کیا جائے اور اس دوران ملک کے تمام علاقوں کی طرف اپنے اہلکار روانہ کردیے جائیں۔
آیت 112 یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ملک کے کونے کونے سے چوٹی کے جادو گروں کو بلا کر ایک عوامی اجتماع کے سامنے مقابلے میں انہیں شکست سے دو چار کیا جائے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے خوف کے اثرات زائل ہو سکیں۔
آیت 113 وَجَآء السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Iیہاں پر غیر ضروری تفاصیل کو چھوڑ کر رسالت کے مقام و منصب اور دنیا داروں کے مادہ پرستانہ کردار کے فرق کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اللہ کے رسول موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کے مطابق انہیں نشانیاں دکھائیں مگر آپ علیہ السلام کو اس سے کوئی مفاد مطلوب نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون اور اہل دربار کو مرعوب کر کے کسی انعام و اکرام کا مطالبہ نہیں کیا۔ جب کہ دوسری طرف جادوگروں کا کردار خالص مادہ پرستانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے آتے ہی جو مطالبہ کیا وہ مالی منفعت سے متعلق تھا۔
آیت 114 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ تمہیں مالی فوائد اور انعام و اکرام سے بھی نوازا جائے گا اور دربار میں بڑے بڑے مراتب و مناصب بھی عطا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد ایک کھلے میدان میں بہت بڑے عوامی اجتماع کے سامنے یہ مقابلہ شروع ہوا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگر ایک دوسرے کے سامنے آگئے تو :
آیت 116 قَالَ اَلْقُوْا ج جادوگروں نے اپنی جادو کی چیزیں زمین پر پھینک دیں۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں کسی جگہ پر رسیوں کا ذکر آیا ہے اور کہیں چھڑیوں کا۔ یعنی اپنی جادو کی وہ چیزیں زمین پر پھینک دیں جو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر رکھیں تھیں۔فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْیُنَ النَّاسِ انہوں نے جادو کے زور سے حاضرین کی نظر بندی کردی جس کے نتیجے میں لوگوں کو رسیوں اور چھڑیوں کے بجائے زمین پر سانپ اور اژدھے رینگتے ہوئے نظر آنے لگے۔وَاسْتَرْہَبُوْہُمْ وَجَآءُ وْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ۔واقعتا انہوں نے بھی اپنے فن کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ یہاں اس قصے کی کچھ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے ‘ مگر قرآن حکیم کے بعض دوسرے مقامات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں کے اس مظاہرے کے بعد عارضی طور پر ڈر سے گئے تھے کہ جو معجزہ میرے پاس تھا اسی نوعیت کا مظاہرہ انہوں نے کر دکھایا ہے ‘ تو پھر فرق کیا رہ گیا ! تب اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرو نہیں ‘ بلکہ تمہارے ہاتھ میں جو عصا ہے اسے زمین پر پھینک دو !
آیت 117 وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَج فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ۔ موسیٰ علیہ السلام کا عصا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔
آیت 119 فَغُلِبُوْا ہُنَالِکَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَ ۔ یعنی فرعون کے بلائے ہوئے بڑے بڑے جادو گر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے مغلوب ہوگئے اور نتیجتاً فرعون اور اس کی قوم کے سردار ذلیل ہو کر رہ گئے۔
آیت 120 وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ یعنی ایسے لگا جیسے جادوگروں کو کسی نے سجدے میں گرادیا ہے۔ ان پر یہ کیفیت حق کے منکشف ہوجانے کے بعد طاری ہوئی۔ یہ ایک ایسی صورت حال تھی کہ جب کسی با ضمیر انسان کے سامنے حق کو مان لینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ option رہ ہی نہیں جاتا۔