ذرا انداز ملاحظہ ہو۔ تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ گویا یہ ان کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس سے اجازت لیں کہ وہ ایمان قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے شعور و وجدان کو کوئی حرکت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنے شعور کے معاملے میں بھی خود مختار نہیں ہیں۔ اگر ان کے قلب و نظر پر کوئی روشنی پڑتی ہے تو انہیں حجاب کرنا چاہئے اور اس معاملے میں بھی فرعون سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان کے دلوں میں کوئی عقیدہ یا یقین بیٹھتا ہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ فرعون کے اذن کے بغیر ایسا کریں غرض ان کا فرض ہے کہ ہر قسم کی نئی روشنی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔
لیکن ہر طاغوتی طاقت جاہل اور غبی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر طاغوتی طاقت متکبر ، مغرور اور انتہا پسند ہوتی ہے۔ نیز ہر طاغوتی طاقت اپنے اقتدار کے بارے میں نہایت حساس ہوتی ہے اور اسے ایسی باتوں سے اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے اور طاغوتی تخت اور اقتدار متزلزل نظر آتا ہے۔
اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۔ یقینا کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دار السلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بےدخل کردو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔
اور ایک دوسری آیت میں ہے (انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر) یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت رب العالمین کی طرف تھی اور ہر وہ دعوت جو رب العالمین کی طرف ہوتی ہے وہ نہایت خوفناک ہوتی ہے ۔ جہاں بھی رب العالمین کی طرف دعوت پھیل جائے وہاں طاغوتی نظام باقی ہی نہیں رہتا۔ اس لئے کہ طاغوتی نظام قائم ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں رب العالمین کے اقتدار اور قانون کے بجائے دوسرے انسانوں کا اقتدار اور قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان زمین پر بطور رب کام کرتے ہیں۔ انسانوں کو اپنا غالم بناتے ہیں اور ان کے لئے جو چاہتے ہیں قوانین بناتے ہیں۔ در اصل یہ دو مستقل نظام حیات ہوتے ہیں جو ایک جگہ جمع ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ بلکہ یہ دو الگ الگ دین ہوتے ہیں اور ان کے دو الگ الگ رب ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو فرعون اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کی جماعت بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حجرت موسیٰ کی دعوت کے نتیجے میں فرعون کا اقتدار متزلزل ہوگیا تھا اور اب جبکہ جادوگر سب کے سب سجدے میں گر گئے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ انہوں نے رب العالمین کی دعوت تسلیم کرلی ہے اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے رب پر ایمان لائے ہیں۔ یہ جادوگر اس وقت کے مذہبی لیڈر اور کاہن تھے اور انہوں نے دینی اعتبار سے فرعون کو رب الناس کا مقام دیا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان کو اس قدر وحشیانہ اور عبرت آموز سزا کی دھمکی دی۔
آیت 123 قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج اِنَّ ہٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْْمَدِیْنَۃِ یہ تمہاری ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو تم سب نے مل کر چلی ہے شہر کے اندر اب فرعون کی جان پر بن گئی کہ لوگوں پر جادوگروں کی اس شکست کا کیا اثر پڑے گا ‘ عوام کو کیسے مطمئن کیا جاسکے گا ؟ لیکن وہ بڑا ذہین اور genius شخص تھا ‘ فوراً پینترا بدلا اور بولا مجھے سب پتا چل گیا ہے ‘ یہ موسیٰ بھی تمہارا ہی ساتھی ہے ‘ تمہارا گروگھنٹال ہے۔ یہ سب تمہاری آپس کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اور تم سب نے مل کر ہمارے خلاف ایک سازش کا جال بنا ہے۔
فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ ؑ اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی ؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آجاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آگیا تو مجھے بیشک یقین ہوجائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کرلی۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑجائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ وقدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہوجائیں گی ؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہوگیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آجائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہوجاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔