سورہ اعراف (7): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ اعراف کے بارے میں معلومات

Surah Al-A'raaf
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
صفحہ 165 (آیات 121 سے 130 تک)

قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَٰهِرُونَ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
165

سورہ اعراف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ اعراف کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

کہنے لگے "ہم نے مان لیا رب العالمین کو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo amanna birabbi alAAalameena

اردو ترجمہ

اُس رب کو جسے موسیٰؑ اور ہارونؑ مانتے ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Rabbi moosa waharoona

اردو ترجمہ

فرعون نے کہا "تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ ساز ش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو اچھا توا س کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala firAAawnu amantum bihi qabla an athana lakum inna hatha lamakrun makartumoohu fee almadeenati litukhrijoo minha ahlaha fasawfa taAAlamoona

ذرا انداز ملاحظہ ہو۔ تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ گویا یہ ان کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس سے اجازت لیں کہ وہ ایمان قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے شعور و وجدان کو کوئی حرکت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنے شعور کے معاملے میں بھی خود مختار نہیں ہیں۔ اگر ان کے قلب و نظر پر کوئی روشنی پڑتی ہے تو انہیں حجاب کرنا چاہئے اور اس معاملے میں بھی فرعون سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان کے دلوں میں کوئی عقیدہ یا یقین بیٹھتا ہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ فرعون کے اذن کے بغیر ایسا کریں غرض ان کا فرض ہے کہ ہر قسم کی نئی روشنی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔

لیکن ہر طاغوتی طاقت جاہل اور غبی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر طاغوتی طاقت متکبر ، مغرور اور انتہا پسند ہوتی ہے۔ نیز ہر طاغوتی طاقت اپنے اقتدار کے بارے میں نہایت حساس ہوتی ہے اور اسے ایسی باتوں سے اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے اور طاغوتی تخت اور اقتدار متزلزل نظر آتا ہے۔

اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۔ یقینا کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دار السلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بےدخل کردو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔

اور ایک دوسری آیت میں ہے (انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر) یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت رب العالمین کی طرف تھی اور ہر وہ دعوت جو رب العالمین کی طرف ہوتی ہے وہ نہایت خوفناک ہوتی ہے ۔ جہاں بھی رب العالمین کی طرف دعوت پھیل جائے وہاں طاغوتی نظام باقی ہی نہیں رہتا۔ اس لئے کہ طاغوتی نظام قائم ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں رب العالمین کے اقتدار اور قانون کے بجائے دوسرے انسانوں کا اقتدار اور قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان زمین پر بطور رب کام کرتے ہیں۔ انسانوں کو اپنا غالم بناتے ہیں اور ان کے لئے جو چاہتے ہیں قوانین بناتے ہیں۔ در اصل یہ دو مستقل نظام حیات ہوتے ہیں جو ایک جگہ جمع ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ بلکہ یہ دو الگ الگ دین ہوتے ہیں اور ان کے دو الگ الگ رب ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو فرعون اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کی جماعت بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حجرت موسیٰ کی دعوت کے نتیجے میں فرعون کا اقتدار متزلزل ہوگیا تھا اور اب جبکہ جادوگر سب کے سب سجدے میں گر گئے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ انہوں نے رب العالمین کی دعوت تسلیم کرلی ہے اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے رب پر ایمان لائے ہیں۔ یہ جادوگر اس وقت کے مذہبی لیڈر اور کاہن تھے اور انہوں نے دینی اعتبار سے فرعون کو رب الناس کا مقام دیا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان کو اس قدر وحشیانہ اور عبرت آموز سزا کی دھمکی دی۔

اردو ترجمہ

میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

LaoqatiAAanna aydiyakum waarjulakum min khilafin thumma laosallibannakum ajmaAAeena

تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب نفس انسانی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا ہے اور کیا چھوڑے یا کیا ہے یا وہ کیا پائے گا اور کیا کھوئے گا اور اس کو اس راہ میں کیا کیا مشکلات انگیز کرنی ہوں گی ؟ اور کیا کیا مشقتیں اٹھانی ہوں گی ؟ کیونکہ اس کا نصب العین دور افق پر روشن نظر آتا ہے اور اس کی نظر بلند ہوجاتی ہے اور وہ پھر نیچے راستے کے کانٹوں کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔

اردو ترجمہ

انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo inna ila rabbina munqaliboona

اردو ترجمہ

تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama tanqimu minna illa an amanna biayati rabbina lamma jaatna rabbana afrigh AAalayna sabran watawaffana muslimeena

یہ ہے وہ ایمان حقیقی کا حامل انسان ، جو نہ خائف ہوتا ہے اور نہ اس کے پاؤں ڈگمگاتے ہیں۔ نہ وہ جھکتا ہے اور نہ غلام ہے۔ جو اپنے انجام کے بارے میں مطمئن ہے اور اس راہ پر راضی ہوگیا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والا ہے اور وہ اس راہ کو اب نہیں چھوڑ سکتا۔

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ انہوں نے جواب دیا۔ بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے۔

جو شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اور طاغوتی نظام کے درمیان برپا معرکے کی نوعیت کیا ہے ؟ اور یہ کہ یہ معرکہ ایک نظریاتی معرکہ ہے ، وہ پھر مداہنت نہیں کرتا اور نہ جنگی داؤ پیچ سے کام لیتا ہے نہ درگزر اور عفو سے کام لیتا ہے۔ خصوصاً ایسے دشمن کے مقابلے میں جس کا مقصد یہ ہو کہ اہل ایمان اپنے ایمان اور نظرئیے سے دستبردار ہوجائیں۔

وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا۔ تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔

جو شخص یہ جانتا ہو کہ وہ کس کے خلاف صف آرا ہے ، اور وہ کس کے مقابلے میں آگے بڑھ رہا ہے ، پھر وہ اپنے دشمن سے امن و عافیت کا سوال نہیں کیا کرتا۔ وہ صرف اپنے رب سے سوال کرتا ہے اور وہ بھی اس ات کا کہ اسے اس فتنے میں صبر و استقامت عطا کی جائے اور یہ کہ وہ اسلام کا وفادار ہے۔

رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ " اے رب ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمان بردار ہوں "۔

اب سرکشی ایمان کے مقابلے میں بےبس ہوجاتی ہے ، اسے ایک فہم سے اور اطمینان کے ایک پہاڑ سے واسطہ پڑتا ہے۔ سرکشی اور طغیان کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ اسے اختیار کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اسے انسان کے جسم پر غلبہ اور کنٹرول حاصل ہے ، اس طرح اسے لوگوں کے دل و دماغ پر بھی تسلط حاصل ہے۔ اور جس طرح وہ لوگوں کے جسموں پر حکم چلاتے ہیں اسی طرح وہ لوگوں کے دماغوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں ، لیکن یہ بات ان کے لئے انہونی ہوتی ہے کہ کوئی دل ان کی نافرمانی کرے حالانکہ ایسا ہوتا ہے ، اس لیے کہ دل تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور جب کسی دل کا رابطہ اللہ سے ہوجائے اور وہ سرکشی کے مقابلے میں ڈٹ جائے تو یہ سرکشی بےبس ہوجاتی ہے۔ جب دل اللہ کے ہوجائیں اور ان کا ربط اللہ سے ہوجائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی بےبس ہوجاتی ہے۔ ایمانی قوت کے مقابلے میں بڑے بڑے سلطان اور جبار عاجز آجاتے ہیں۔

یہ انسانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موقف ہے۔ ایک طرف فرعون ، اس کا طاغوتی نظام اور اس کے پیروکار ہیں اور دوسری جانب بےبس مومن جادوگر ہیں جو کبھی جادوگر تھے۔ اب وہ ایک تاریخی موقف کے حامل ہیں۔ ان کا نظریہ حیات زندگی پر فاتح ہوکر برتری حاصل کرچکا ہے۔ انسانی عزیمت نے جسمانی رنج والم پر برتری حاصل کرلی ہے۔ انسان شیطان پر غالب آگیا ہے۔

بیشک یہ انسانی تاریخ کا ایک دو ٹوک موقف ہے۔ اس موقف کے ذریعے ایک حقیقی آزادی کا اعلان کیا گیا ہے۔ آزادی کی ماہیت کیا ہے ؟ آزادی یہ ہے کہ ایک انسان اپنے عقیدے اور نظریات کو لے کر سرفراز ہوجائے اور جباروں اور سرکشوں کے مقابلے میں ڈٹ جائے۔ اور اس مادی قوت کو ہیچ سمجھ لے جو انسانی جسموں پر تو کنٹرول کرتی ہے لیکن جسے انسان کی روح اور نظریات تک رسائی نہیں ہوتی ، اور جب مادی قوتیں دلوں کو مسخر کرنے سے عاجز آجائیں تو اس مقام سے حقیقی حریت اور آزادی کا جنم شروع ہوتا ہے اور یاد رہے کہ یہ جنم آزاد دلوں میں ہوتا ہے۔

یہ ایک دو ٹوک موقف ہے اور پوری انسانی تاریخ میں یہ موقف واضح طور پر بتاتا ہے کہ مادی قوت بےکس و بےبس ہے۔ ذرا دیکھیے کہ یہ جادوگر ابھی تو فرعون سے معمولی اجرت کے طلبگار تھے اور پھر یہ تمنا رکھتے تھے کہ اس کے دربار میں کرسی نشین ہوجائیں اور بادشاہ کے ساتھ انہیں قرب نصیب ہو۔ یہ حقیر گروہ ، ایمان کے بعد ، اب فرعون کے مقابلے میں سرفرازی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دار و رسن کے مقابل کے تیار کھڑا ہے۔ حالانکہ مادی اعتبار سے ان کے ماحول ہر چیز اسی حالت میں ہے جو تغیر ہوا ہے۔ وہ صرف یہ ہے کہ ایک حقیر ستارے کو خفیہ اجالا مل گیا ہے ، اور اب یہ حقیر ستارہ نہیں بلکہ حقیر ذرہ ایک مستحکم برج میں داخل ہوگیا ہے اور ایک فانی فرد ازلی اور ابدی قوت تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔ قلب مومن پر ایک سوئی رکھ دی گئی ، اب دل مومن قدرت کے اثرات قبول کر رہا ہے ، اس کے ضمیر میں سے قدرتی آوازیں آرہی ہیں ، اور انسانی بصیرت پر انوار پڑتے ہیں ، یہ سوء قلب مومن کو احساس دلاتی ہے جبکہ عالم مادیت میں کچھ بھی تغیر پذیر نہیں ہوتا۔ لیکن انسان عالم مادیت سے سربلند ہوکر ایسے جہان نو میں چلا جاتا ہے جن کے بارے میں پہلے وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔

اب دھمکی اپنا راہ لیتی ہے اور ڈراوا تلاش میں رہتا ہے لیکن ایمان اپنی راہ پر دور نکل چکا ہوتا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف دیکھا ہی نہیں ، اسے کوئی تردد نہیں ہوتا اور نہ وہ بےراہ ہوتا ہے۔

اس حد تک جب منظر چلتا ہے تو پردہ گر جاتا ہے اور مزید تفصیلات نہیں دی جاتیں کیونکہ یہاں اس منظر کی خوبصورتی اپنے عروج کو پہنچ کر ایک بات بھی مکمل ہوجاتی ہے اور ایک فنی خوبصورتی بھی اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے۔ قرآن کا فنی کمال یہاں پر بھی اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور قاری کا وجدان بھی قصے کے نفسیاتی مقاصد کو پا لیتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اور قرآن کریم کے مخصوص اسلوب اظہار میں۔ (دیکھیے میری کتاب التصویر الفنی)

قرآن کے سائے میں اس دلچسپ منظر کے سامنے کھڑے ہو کر ہمیں چاہئے کہ قدرے غور و فکر کریں۔

فرعون اور اس کے ساتھیوں نے جادوگروں کی جانب سے ایمان اور رب موسیٰ اور ہارون کو تسلیم کرلینے کے فعل کو اپنے نظام حکومت کے خلاف ایک سازش سمجھا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اور اقتدار خطرے میں ہے۔ اس لیے کہ جس اصول پر ایمان کا نظام قائم ہوتا ہے وہ اصول فرعونی نظام کے اساسی اصول سے متضاد ہے۔ اس بات کی تشریح اس سے قبل ہم کرچکے ہیں۔ یہاں بطور تکرار و تاکید دوبارہ یہ بات لائی جاتی ہے ، کسی ایک دل ، کسی ایک ملک ، کسی ایک نظام میں یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ بھی رب العالمین ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی انسان بھی رب الناس ہو ، اور اس کے قوانین لوگوں میں رائج اور نافذ ہوں اس لیے کہ اللہ کا دین بھی ایک مکمل نظام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فرعونی دین بھی ایک مکمل دین ہے۔

جب جادوگروں کے دلوں میں شمع ایمان روشن ہوگئی اور انہوں نے ایمان و کفر کی حقیقت کو پا لیا تو انہوں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ ان کے اور فرعون کے درمیان ایسا نظریاتی اور اصولی اختلاف ہے ، اور یہ کہ فرعون جو انتقامی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے وہ محض اس لیے دے رہا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ہم نے اللہ کو رب العالمین تسلیم کرلیا ہے۔ اور اس انداز میں ایمان لانا فرعون کے نظام حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ اسی طرح فرعون کی حکومت کے اعلی ڈھانچے اور دستوری نظام کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے۔ یعنی فرعون کا نظام ربوبیت جس بت پرستانہ تصورات پر قائم تھا وہ جڑ سے اکھڑ گئے تھے۔ جو شخص بھی رب العالمین وحدہ لا شریک کی طرف دعوت دیتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لے۔ اس لئے کہ اس ادراک ہی کی وجہ سے اہل ایمان کے لیے تمام مصائب و شدائد قابل برداشت بن گئے۔ اب وہ دار و رسن کے لیے تیار ہوگئے اس لیے کہ انہوں نے ایمان کا دعوی کردیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کا اور فرعون کا دین ان سے جدا ہے اس لیے کہ فرعون نے لوگوں کو غلام بنا کر اور اپنا قانون جاری کرکے اللہ کی رب العالمینی کا انکار کردیا ہے لہذا فرعون کافر ہے۔ اس طرح ہر داعی کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ایمان کی طرف دعوت دے رہا ہے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والے کافر ہیں اور فرعونی نظام کے داعی ہیں۔ اور یہ دشمنی محض (البغض فی اللہ) ہے۔ اس کی تہ میں کوئی اور داعیہ ، داعیہ ایمان کے سوا نہیں ہے۔

اس کے بعد اس منظر میں ہمیں نظر آتا ہے کہ ایمان کے سامنے پوری زندگی اور اس کی آسائشوں کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ عزم و ارادے کے سامنے رنج والم کے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔ انسانی قوت شیطانی پر فتح یاب ہوتی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی فحت بخش اور حیران کن منظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس منظر کی خوبصورتی کا بیان ممکن نہیں ہے۔ خود نصوص قرآن ہی کو پڑھیے۔

اردو ترجمہ

فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا "کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟" فرعون نے جواب دیا "میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqala almalao min qawmi firAAawna atatharu moosa waqawmahu liyufsidoo fee alardi wayatharaka waalihataka qala sanuqattilu abnaahum wanastahyee nisaahum wainna fawqahum qahiroona

اب اس قصے کا مزید مطالعہ کیجئے۔ پردہ اٹھتا ہے اور ایک جدید اور دوسرا خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس میں کفر کی پارلیمنٹ نظر آتی ہے۔ مشورہ اور نجوہ ہوتا ہے اور کسی سخت اقدام کے لیے ایک دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے۔ پہلے اور کھلے میدان کے معرکے میں کھلی کھلی شکست میں خفت اٹھائے ہوئے اعیان دولت بپھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صورت حالات ناقابل برداشت ہے کہ موسیٰ اور ہارون اس طرح کامیاب و کامران ہوجاء یں۔ اور یہ ایمان لانے والے لوگ بھی مزے مزے سے ان کے ہمرکاب ہوں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں چند کمزور لوگ شامل تھے اور وہ فرعون سے ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں فرعون ان کو فتنے میں نہ ڈال دے۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن نے تصریح کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ سختی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ کے خلاف فرعون کو برانگیختہ کر رہے ہیں اور اسے ڈراتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔ حکومت کا رعب جاتا رہے گا۔ جدید خطرناک نظریات پھیل جائیں گے۔ لوگ فرعون کے بجائے اللہ کو رب العالمین سمجھیں گے۔ چناچہ وہ تیار ہوجاتا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ وہ فیصلہ کردیتا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف شدید ایکشن لے اور قوت کا استعمال کرے اور اخلاقی شکست کے بعد پوری مادی قوت استعمال کرے۔ مادی قوت کے مالکان ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭقَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں ؟ " فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "۔

فرعون کا دعوی یہ نہ تھا کہ وہ اس کائنات کا الہ اور خالق اور اس کائنات کو وہ چلاتا ہے یا یہ کہ اسے اس کائنات کے طبیعی نظام پر قدرت حاصل ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو اپنی کمزور پبلک پر الہ اور رب سمجھتا تھا۔ اس معنی میں کہ وہ حاکم اور مقن ہے اور یہ کہ اس کا حکم اور ارادہ قانون ہیں اور ان پر عمل ہوتا ہے اور ہونا چاہیے اور تمام حکام اور بادشاہوں کا بھی یہی دعوی ہوتا ہے کہ ان کا قانون چلتا ہے اور ان کے حکم سے امور طے ہوتے رہیں اور یہی مفہوم ہے ربوبیت کا ازروئے لغت۔ مصر میں لوگ فرعون کی بندگی اس معنی میں نہ کرتے تھے کہ وہ فرعون کی نمازیں پڑھتے تھے یا فرعون کے روزے رکھتے تھے بلکہ ان کے اپنے الہ تھے جس طرح فرعون نے اپنے لیے الہ بنا رکھے تھے اور یہ لوگ ان الہوں کی بندگی بجا لاتے تھے اور اس حقیقت کا اظہار درباریوں کے اس قول سے بھی ہوتا ہے۔

وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے ہیں " اور یہ حقیقت مصر کی فرعونی تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ فرعون کا الہ تھا۔ لہذا فرعون اس معنی میں ان کا رب اور الہ تھا کہ یہ لوگ اس کے اوامرو نواہی کے پابند تھے اور اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی کرسکتے تھے اور عبادت کا یہی لغوی ، حقیقی اور اصطلاحی مفہوم ہے بلکہ یہی واقعی مفہوم ہے جو شخص کسی انسان کے وضع کردہ قانون کی اطاعت کرے وہ گویا اس کی عبادت کر رہا ہے۔ اور حضور ﷺ نے یہی تشریح فرمائی ہے۔ اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ کی تشریح کے بارے میں ایک صحابی عدی ابن حاتم نے حضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت تو نہ کرتے تھے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ احبارو رہبان ان کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے تھے اور یہ لوگ اس میں ان کی اطاعت کرتے تھے ، یہی تو ان کی جانب سے ان کی عبادت ہے۔ (ترمذی)

رہی یہ بات جو اس نے کہا ما علمت لکم من الہ غیری۔ میرے علم میں تمہارے لیے میرے سوا کوئی الہ نہیں ہے ؟۔ تو اس کی تفسیر خود قرآن نے کردی ہے۔ قرآن نے فرعون کی زبانی یہ بات نقل کردی۔ (الیس لی ملک مصر و ھذہ الانھار تجری من تحتی افلا تبصرون۔ ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین ولا یکاد یبین۔ فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب او جاء معہ الملئکۃ مقترنین) " لوگو کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی (معیت) میں نہ آیا "۔ ظاہر ہے کہ وہ اس میں اپنا اور حضرت موسیٰ کا موازنہ پیش کر رہا تھا۔ اس کے پاس کنگن نہیں ہیں اور میں نے کنگن پہنے ہوئے ہیں یعنی میں بادشاہ ہوں اور زیب وزینت کا مالک ہوں اور موسیٰ کے پاس یہ خوبی نہیں۔ لہذا اس کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ میرے سوا تمہارا کوئی حاکم نہیں ہے۔ میں ہی حاکم ہوں اور جس طرح چاہتا ہوں اس مملکت کو چلاتا ہوں اور لوگ میری بات سے سرتابی نہیں کرسکتے اور اس مفہوم میں حاکمیت الوہیت کے مترادف ہے۔ اور فی الحقیقت الوہیت کا مفہوم ہی یہی ہے۔ الہ ہوتا ہی وہ ہے جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے۔ چاہے وہ الوہیت کا دعوی کرے یا نہ کرے۔

اس تفسیر کے مطابق ہم فرعون کے امراء کے اس قول کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں۔ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں۔

ان لوگوں کے نقطہ نظر سے فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ وحدہ کی ربوبیت اور حاکمیت کی طرف لوگوں کو بلائے ، کیونکہ جب کوئی اللہ رب العالمین کو الہ اور حاکم تسلیم کرتا ہے تو اس سے از خود تمام دوسرے نظاموں اور حاکموں کی نفی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ فرعونی نظام حاکمیت غیر اللہ کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ نظام فرعون کی ربوبیت کے اصول پر قائم ہوتا ہے اور یہ شخص اللہ کی ربوبیت کا داعی ہوتا ہے۔ لہذا اب ہر شخص فرعونیوں کی نظروں میں مفسد فی الارض ہوتا ہے۔ وہ باغی اور انقلابی ہوتا ہے اور ملک کے موجودہ قائم حالات کے اندر اکھاڑ پچھاڑ چاہتا ہے۔ اور موجود مستحکم حالات کی جگہ نئے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جن میں ربوبیت اور حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہو کسی انسان کو یہ حقوق حاصل نہ ہوں۔ لہذا ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ یہ مفسدین فی الارض ہیں اور فرعون اور اس کے الہوں کی بندگی کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔

دراصل فرعون نے اپنے تمام حقوق اس دین سے اخذ کیے تھے جس کا وہ پیروکار تھا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ ان الہوں کا محبوب بیٹا ہے اور باپ بیٹے کے جس تعلق کا وہ داعی تھا وہ کوئی حسی اور طبیعی تعلق نہ تھا ، کیونکہ لوگوں کو معلوم تھا کہ فرعون جس ماں باپ سے پیدا ہوا تھا وہ مصری باشندے تھے اور انسان تھے۔ یہ ایک اشاراتی اور رمزی ابنیت تھی جس کے ذریعے وہ اپنے لیھے وہ تمام حقوق حاصل کرتا تھا ، جو اس نے اپنے لیے مخصوص کر رکھے تھے۔ جب موسیٰ اور آپ کی قوم نے رب العالمین کی براہ راست بندگی شروع کردی اور فرعونی الہوں کو ترک کردیا جن کی عبادت مصری لوگ کرتے تھے ، تو اس فعل سے وہ نظریاتی اساس ہی ختم ہوجاتی تھی جس پر فرعون کی مملکت کی تعمیر ہوئی تھی۔ پھر وہ اپنے نظام مملکت میں اپنی قوم کو کچھ حیثیت بھی نہ دیتا تھا اور وہ لوگ بھی اس کی اطاعت کرتے تھے وہ اللہ کے دین سے خارج تھے اور فاسق تھے۔ دوسری جگہ میں ہے (فاستخف قومہ فاطاعوہ۔۔ انہم کانوا قوم فاسقین) " اس نے اپنی قوم کو ہلکا کردیا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔۔۔ بیشک یہ لوگ فاسق تھے " یہ تاریخ کی صحیح تفسیر ہے۔ اگر فرعون کی قوم ہلکے لوگوں پر مشتمل نہ ہوتی اور فسق و فجور کی عادی نہ ہوتی تو ہر گز فرعون کی اطاعت نہ کرتی۔ اللہ پر جو شخص ایمان لے آتا ہے طاغوت اسے ہلکا نہیں سمجھ سکتا۔ اور نہ کوئی مومن طاغوت کی اطاعت کرسکتا ہے بشرطیکہ مومن یہ جانتا ہو کہ یہ معاملہ شریعت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون اور تمام لوگوں کو رب العالمین کی طرف دعوت دینا ، پھر میدان مبارزت میں جادوگروں کو شکست دینا اور ان کا ایمان لے آنا اور اس کے بعد قوم موسیٰ کی طرف سے رب العالمین پر ایمان لانا اور رب واحد کی عبادت کرنا یہ سب امور ایسے تھے جو فرعون کے نظام حکومت کے لیے نہایت ہی خطرناک تھے اور جہاں بھی کوئی ایسا نظام قائم ہو جس میں انسان انسان کا غلام اور مطیع ہو اور ایسے نظام کے اندر کوئی صرف رب العالمین کی بندگی اور اطاعت کی دعوت شروع کردے تو یہ اس نظام کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شہادت لا الہ الا اللہ کی طرف دعوت دے اور یہ دعوت اس کلمہ کے حقیقی مفہوم کی طرف ہو کہ لوگ پورے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں اور یہ مفہوم نہ لیا جائے کہ جزوی طور پر مراسم عبودیت اللہ کے سامنے بجا لائیں تو یہ دعوت کسی بھی موجود نظام کفر کے لیے چیلنج ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فرعون نے اس صورت حالات میں سخت الفاظ میں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا اعلان کردیا کیونکہ اس کا پورا نظام مملکت خطرے میں تھا۔

قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے دور میں بھی بنی اسرائیل کے خلاف نسل کشی کی یہ پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ فرعون اور اس کا نظام مملکت ان کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ سورة قصص میں اس کی تفصیلات یوں دی گئی ہیں :۔ ان فرعون علا فی الارض و جعل اھلھا شیعا یستضعف طائفھ منہم یذبح ابناءہم و یستحیی نساءہم انہ کان من المفسدین " واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقعہ وہ مفسد لوگوں میں سے تھا "۔

یہ سرکشی ہر دور میں رہتی ہے اور ہر جگہ رہتی ہے۔ آج بھی وہ یہی ذرائع و وسائل اختیار کرتی ہے اور صدیاں پہلے بھی اس کے یہی ذرائع تھے۔

اردو ترجمہ

موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala moosa liqawmihi istaAAeenoo biAllahi waisbiroo inna alarda lillahi yoorithuha man yashao min AAibadihi waalAAaqibatu lilmuttaqeena

اب پھر پردہ گرتا ہے ، فرعون اور اس کے حوالی و موالی کو سازش اور دھمکیوں اور سخت تندی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اب اس قصے کا ایک دوسرا خاص منظر سامنے آتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے تشدد کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس منظر میں حضرت موسیٰ اپنی قوم میں نظر آتے ہیں ، آپ اپنی قوم کے ساتھ ایک نبی کے قلب کے ساتھ ایک نبی کی زبان میں بات کررہے ہیں ، آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے رب کی پوری پوری معرفت حاصل ہے۔ آپ رب تعالیٰ کی سنت جاریہ کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں ، آپ کو علم ہے کہ اللہ کے منصوبھے اور اس کی تقدیر کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپ یہ مشکلات انگیز کریں۔ صبر سے کام لیں اور اللہ سے ان مشکلات کی برداشت کے لیے مدد اور معاونت طلب کریں۔ آپ انہیں اس کائنات کی اصل صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری انجام ان لوگوں کا اچھا ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ، صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور جب وہ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اے موسیٰ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم یہ مصائب تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہم ان مشکلات سے دو چار ہیں اور یہ مشکلات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں تو آپ ان کو ان الفاظ میں تسلی دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کرہ ارض کی خلافت تمہیں دے دے لیکن پھر تمہاری بھی آزمائش کا دور شروع ہوگا۔

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا " اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں " اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " اس نے جواب دیا " قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو "۔

نبی کی بصیرت دیکھ رہی ہے کہ اللہ کی قوتیں اس کائنات میں کس طرح متصرف ہیں۔ اور اللہ کی حقیقت اور قوت کس قدر عظیم ہے۔ اور اس کائنات میں سنت الہیہ کس طرح جاری وساری ہے اور اللہ کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں کیا کیا مراعات ہیں ؟

جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ان کے لیے جائے پناہ صرف ایک ہے اور وہ مامون محفوظ اور قابل بھروسہ جائے پناہ ہے۔ ان کا صرف ایک ہی ولی اور آقا ہوتا ہے جو بڑی قوت والا اور ناقابل شکست ہے۔ لہذا ایسے لوگوں کو اس وقت تک صبر اور مصابرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک ان کا آقا ان کے لیے فتح و کامرانی کے احکام صادر نہیں کرتا ، انہیں اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انسان کو معلوم نہیں ہے کہ غیب میں اس کے لیے کیا کیا پوشیدہ ہے اور اس کی بھلائی کس چیز میں ہے ؟

یہ زمین اللہ کی ہے۔ فرعون اور اس کی قوم یہاں مسافرین ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ یہاں کس قوم کو لاتا ہے اور اسے اس زمین کا وارث بناتا ہے۔ یہ کام اللہ اپنے سنن جاریہ کے مطابق کرتا ہے ، لہذا جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے کہ ان کا جس طاغوتی طاقت سے مقابلہ ہے ، وہ اس سرزمین پر بظاہر بڑی مستحکم نظر آتی ہے اور اس کی بنیادوں میں کوئی تزلزل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس زمین کا مالک اللہ ہے اور وہ کسی مناسب وقت میں کسی سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے بندے کے حوالے کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آخری اچھا انجام بہرحال متقین کا ہوتا ہے ، چاہے طویل عرصے کے بعد یہ انجام ظاہر ہو یا جلدی ظاہر ہو۔ لہذا رب العالمین کی طرف دعوت دینے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دلوں سے اپنے انجام کے بارے میں ہر خلجان کو نکال دیں اور یہ گمان نہ کریں کہ آج جن اہل باطل کی زمین پر چلت پھرت ہے وہ ہمیشہ اسی طرح رہیں گے۔

یہ تو نبی کی چشم بصیرت تھی جو اس کائنات میں ہونے والے واقعات کو دور تک دیکھ رہی تھی لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے۔

اردو ترجمہ

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo ootheena min qabli an tatiyana wamin baAAdi ma jitana qala AAasa rabbukum an yuhlika AAaduwwakum wayastakhlifakum fee alardi fayanthura kayfa taAAmaloona

(قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا) اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں "

ان الفاظ کے پیچھے ایک خاص ذہنیت ہے ، ان کے اندر قطعیت کے ساتھ ان کی مایوسی کا اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم پر مظالم ہوتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی جاری ہیں۔ ان کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آرہا ہے۔ یہ ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔

لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن جسے یہ مقام ملتا ہے وہ در اصل بڑی آزمائش میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ اس نے جواب دیا۔ قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

حضرت موسیٰ نبوت کے دل و دماغ اور بصیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ، آپ سنت الہیہ کو مٹآ مٹآ دیکھ رہے ہیں۔ یہ سنت حسب وعدہ صابرین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے ، اسی طرح منکرین حق کے لیے بھی اس کے فیصلے وقت پر ہوتے ہیں۔ آپ کو صاف صاف نظر آتا ہے کہ طاغوتی طاقتوں نے تباہ و برباد ہونا ہے اور ان کی جگہ صابرین و مجاہدین نے لینی ہے ، لہذا آپ اپنی قوم کو راہ مصابرت پر آگے بڑھاتے ہیں تاکہ سنت الہیہ ان کے حق میں فیصلے کردے۔ آپ کو تو آغاز ہی سے معلوم ہے کہ بنی اسراء یل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے یہ آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل اپنے بارے میں زعم رکھتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے ان کے گناہوں کی وجہ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ، اس لیے کہ یہ دنیا یونہی بےمقصد بھی نہیں بنائی گئی اور نہ یہ ازلی اور ابدی ہے بلکہ یہاں ہر قوم کا عروج انسان کے لیے ہے۔ فینظر کیف تعملون۔ تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ اللہ تو کسی چیز کے واقعہ ہونے سے بھی پہلے جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی جانب سے ارتکاب جرم سے پہلے سزا نہیں دیتا۔ جب تک کہ وہ بات ان سے واقعہ نہیں ہوجاتی جس کا اللہ کو پہلے سے عالم الغیب ہونے کی حیثیت سے علم ہوتا ہے۔

اردو ترجمہ

ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad akhathna ala firAAawna bialssineena wanaqsin mina alththamarati laAAallahum yaththakkaroona

اب سیاق کلام موسیٰ اور ان کی قوم کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ اب ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اس منظر میں فرعون اور اس کی قوم نظر آتے ہیں۔ فرعون اپنی قوم پر انتہائی ظلم کرتے ہوئے نظر آتا ہے اور حضرت موسیٰ کا وہ وعدہ سچ ہوجاتا ہے جو اس نے اپنی قوم سے کیا تھا اور جس کی انہیں امید تھی۔ اب رسول کی تمام باتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے اس لیے کہ یہ قصہ یہاں اسی مقصد کے لیے لایا گیا ہے۔

یہ منظر نہایت ہی معمول کے حالات میں شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد دھیرے دھیرے فضا میں تندی اور تیزی آتی جاتی ہے اور پردہ گرنے سے پہلے ہم فضا میں ایک خوفناک طوفان دیکھتے ہیں۔ ہر چیز تباہ و برباد کردی جاتی ہے۔ روئے زمین کو صاف کردیا جاتا ہے۔ اب یہاں کوئی طاغوت و سرکش نہیں رہتا۔ اور نہ طاغوت کے اہالی و موالی کا کوئی اتہ پتہ نظرآتا ہے اور ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ بنی اسرائیل نے مشکلات پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جزائے خیر دے دی۔ فرعون اور اس کی پارٹی نے فسق و فجور کی راہ لی اور ظلم کیا اور وہ بھی اپنے کیے پر مناسب انجام تک پہنچ گئے۔ اللہ کا وعدہ بھی پورا ہوا اور اس کی وعید نے بھی رنگ دکھایا۔ اور ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ سنت الہیہ کے مطابق سلوک ہوا۔ اللہ نے انہیں نہایت ہی مشکل حالات میں مبتلا کیا۔ ذرا تفصیلا مطالعہ کریں۔

( وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ) " ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے "

یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ابتدائی تنبیہ تھی۔ ملک کو خشک سالی نے آ لیا اور ہر قسم کی فصلیں ضائع ہوگئیں اور پیداوار ختم ہوگئی۔ سنین عربی اصطلاح میں خشک سالوں اور قحط اور شدت کے لیے بولا جاتا ہے۔ قحط سالی مصر جیسے سرسبز اور گل گلزار ملک میں عذاب الہی تصور ہوتی ہے۔ لوگوں کے اندر اس سے خوف و ہراس پیدا ہوجاتا تھا اور وہ پریشان ہو کر عالم بالا کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ لیکن چونکہ طاغوتی قوتیں اور ان کے اہلکار لوگوں کو غافل کرتے ہیں ، دین سے دور کرتے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں ، اس لیے وہ اس لائن پر نہیں سوچتے کہ یہ عذاب الہی ہے جو ان پر بصورت خشک سالی وغیرہ آیا ہے۔ طاغوتی قوتوں کی وجہ سے لوگوں کے اندر اس قدر غفلت اور لا پرواہی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کی تنبیہات کو بھول جاتے ہیں اور یہ اعتراف نہیں کرتے کہ ایمان اور روحانی اقدار اور طبیعی حالات کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اور عالم الغیب کی نظر لوگوں کی اخلاقی زندگی اور ان کے طبیعی حالات دونوں پر ہوتی ہے۔ طاغوتی نظام کے تحت لوگوں کا دماغ اس قدر موٹا ہوجاتا ہے کہ وہ محسوسات کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہیں سکتے اور وہ بہائم کی سطح تک اتر آتے ہیں کیونکہ بہائم بھی صرف محسوسات کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس قسم کے لوگ کچھ ایسے واقعات دیکھیں بھی جن کی وہ طبیعی تعبیر نہیں کرسکتے تو بھی ان اہم واقعات کو وہ اتفاقات اور مصاونات کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور ان واقعات کے پیچھے کام کرنے والی سنت الہیہ اور ناموس قدرت کو وہ نہیں سمجھ پاتے ، جو اس کائنات میں جاری وساری ہے۔

(جب خروچیف کے دور میں روس خشک سالی کا شکار ہوا اور ہر قسم کی زرعی پیداوار ختم ہوگئی تو اس نے کہا کہ قدرت ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ لا مذہب کمیونزم کا قائل تھا اور کسی غیبی طاقت کو تسلیم نہ کرتا تھا۔ غرض یہ لوگ زبردستی اپنے آپ کو اندھا کرتے ہیں اور دست قدرت کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ندرت کیا ہے جو ان کے خلاف جا رہی ہے ؟ یہی تو رب تعالیٰ ہے) ۔

غرض قوم فرعون کو اللہ نے متنبہ کرنے کی کوشش کی حالانکہ وہ کافر اور فاسق و فاجر تھے۔ بت پرستی کے خرافات نے ان کی فطرت کو تبدیل کردیا تھا اور اس کائنات میں جو ناموس قدرت جاری ہے اور جس کے مطابق خود انسانوں کی زندگی بھی رواں دواں ہے اس کے ساتھ ان کا کوئی ربط وتعلق نہ تھا۔ کیونکہ اس ناموس قدرت کا صحیح ادراک صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جنہیں صحیح ایمان اور نور ایمان نصیب ہوا ہو۔ اہل ایمان ہی یہ ادراک کرسکتے ہیں کہ یہ کائنات یونہی پیدا نہیں کی گئی اور نہ ہمیشہ کے لئے یونہی بےمقصد رہے گی بلکہ اس کے اوپر اللہ کے سچے قوانین حاوی ہیں۔ یہ ہے حقیقی علمی سوچ۔ یہ سوچ اللہ کے عالم مغیبات کا انکار نہیں کرتی۔ اس لئے کہ حقیقی علم و سائنس اور علم غیب کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ کائنات اور انسانی زندگی دونوں کے پیچھے اللہ ذات کام کرتی ہے جو (فعال لما یرید) ہے اور ذات الٰہی کا مطالبہ یہ ہے کہ بندے ایمان لائیں اور اللہ خلافت فی الارض کا منصب ان کے سپرد کردے۔ اور جس نے ہمیشہ انسانوں کے لئے ایسی شریعتیں تجویز کی ہیں جو ان قوانین فطرت اور نوامیس قدرت سے ہم آہنگ رہی ہیں اور انہوں نے اس کائنات میں انسانی زندگی اور اخلاق زندگی کے درمیان توازن پیدا کیا ہے۔

فرعون اور اس کے اہالی و موالی یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کے کفر و فسق اور آل موسیٰ پر ان کے مظالم اور قحط سالی کے عذاب کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے۔ خصوصاً مصر میں جہاں ہمیشہ تازگی ، سرسبزی اور بہار رہتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں اور زرعی پیداوار کی کثرت اور فراوانی ہوتی ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ مشکلات ان کے فسق و فجور کی وجہ سے ان پر نازل ہو رہی ہیں۔

غرض اہل فرعون مصر میں عظیم خشک سالی کے مہلک آثار کو دیکھ کر بھی متنبہ نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ جب کبھی ان پر اچھے دن آتے تو کہتے کہ یہ تو ان کا حق ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں لیکن جب خشک سالی اور مشکلات در پیش ہوتیں تو یہ کہتے کہ یہ سب کچھ موسیٰ کی وجہ سے ہورہا ہے۔ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی وجہ سے یہ مشکلات ان پر آرہی ہیں۔

165