اب اس قصے کا مزید مطالعہ کیجئے۔ پردہ اٹھتا ہے اور ایک جدید اور دوسرا خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس میں کفر کی پارلیمنٹ نظر آتی ہے۔ مشورہ اور نجوہ ہوتا ہے اور کسی سخت اقدام کے لیے ایک دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے۔ پہلے اور کھلے میدان کے معرکے میں کھلی کھلی شکست میں خفت اٹھائے ہوئے اعیان دولت بپھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صورت حالات ناقابل برداشت ہے کہ موسیٰ اور ہارون اس طرح کامیاب و کامران ہوجاء یں۔ اور یہ ایمان لانے والے لوگ بھی مزے مزے سے ان کے ہمرکاب ہوں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں چند کمزور لوگ شامل تھے اور وہ فرعون سے ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں فرعون ان کو فتنے میں نہ ڈال دے۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن نے تصریح کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ سختی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ کے خلاف فرعون کو برانگیختہ کر رہے ہیں اور اسے ڈراتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔ حکومت کا رعب جاتا رہے گا۔ جدید خطرناک نظریات پھیل جائیں گے۔ لوگ فرعون کے بجائے اللہ کو رب العالمین سمجھیں گے۔ چناچہ وہ تیار ہوجاتا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ وہ فیصلہ کردیتا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف شدید ایکشن لے اور قوت کا استعمال کرے اور اخلاقی شکست کے بعد پوری مادی قوت استعمال کرے۔ مادی قوت کے مالکان ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔
وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭقَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں ؟ " فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "۔
فرعون کا دعوی یہ نہ تھا کہ وہ اس کائنات کا الہ اور خالق اور اس کائنات کو وہ چلاتا ہے یا یہ کہ اسے اس کائنات کے طبیعی نظام پر قدرت حاصل ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو اپنی کمزور پبلک پر الہ اور رب سمجھتا تھا۔ اس معنی میں کہ وہ حاکم اور مقن ہے اور یہ کہ اس کا حکم اور ارادہ قانون ہیں اور ان پر عمل ہوتا ہے اور ہونا چاہیے اور تمام حکام اور بادشاہوں کا بھی یہی دعوی ہوتا ہے کہ ان کا قانون چلتا ہے اور ان کے حکم سے امور طے ہوتے رہیں اور یہی مفہوم ہے ربوبیت کا ازروئے لغت۔ مصر میں لوگ فرعون کی بندگی اس معنی میں نہ کرتے تھے کہ وہ فرعون کی نمازیں پڑھتے تھے یا فرعون کے روزے رکھتے تھے بلکہ ان کے اپنے الہ تھے جس طرح فرعون نے اپنے لیے الہ بنا رکھے تھے اور یہ لوگ ان الہوں کی بندگی بجا لاتے تھے اور اس حقیقت کا اظہار درباریوں کے اس قول سے بھی ہوتا ہے۔
وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے ہیں " اور یہ حقیقت مصر کی فرعونی تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ فرعون کا الہ تھا۔ لہذا فرعون اس معنی میں ان کا رب اور الہ تھا کہ یہ لوگ اس کے اوامرو نواہی کے پابند تھے اور اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی کرسکتے تھے اور عبادت کا یہی لغوی ، حقیقی اور اصطلاحی مفہوم ہے بلکہ یہی واقعی مفہوم ہے جو شخص کسی انسان کے وضع کردہ قانون کی اطاعت کرے وہ گویا اس کی عبادت کر رہا ہے۔ اور حضور ﷺ نے یہی تشریح فرمائی ہے۔ اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ کی تشریح کے بارے میں ایک صحابی عدی ابن حاتم نے حضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت تو نہ کرتے تھے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ احبارو رہبان ان کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے تھے اور یہ لوگ اس میں ان کی اطاعت کرتے تھے ، یہی تو ان کی جانب سے ان کی عبادت ہے۔ (ترمذی)
رہی یہ بات جو اس نے کہا ما علمت لکم من الہ غیری۔ میرے علم میں تمہارے لیے میرے سوا کوئی الہ نہیں ہے ؟۔ تو اس کی تفسیر خود قرآن نے کردی ہے۔ قرآن نے فرعون کی زبانی یہ بات نقل کردی۔ (الیس لی ملک مصر و ھذہ الانھار تجری من تحتی افلا تبصرون۔ ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین ولا یکاد یبین۔ فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب او جاء معہ الملئکۃ مقترنین) " لوگو کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی (معیت) میں نہ آیا "۔ ظاہر ہے کہ وہ اس میں اپنا اور حضرت موسیٰ کا موازنہ پیش کر رہا تھا۔ اس کے پاس کنگن نہیں ہیں اور میں نے کنگن پہنے ہوئے ہیں یعنی میں بادشاہ ہوں اور زیب وزینت کا مالک ہوں اور موسیٰ کے پاس یہ خوبی نہیں۔ لہذا اس کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ میرے سوا تمہارا کوئی حاکم نہیں ہے۔ میں ہی حاکم ہوں اور جس طرح چاہتا ہوں اس مملکت کو چلاتا ہوں اور لوگ میری بات سے سرتابی نہیں کرسکتے اور اس مفہوم میں حاکمیت الوہیت کے مترادف ہے۔ اور فی الحقیقت الوہیت کا مفہوم ہی یہی ہے۔ الہ ہوتا ہی وہ ہے جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے۔ چاہے وہ الوہیت کا دعوی کرے یا نہ کرے۔
اس تفسیر کے مطابق ہم فرعون کے امراء کے اس قول کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں۔ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں۔
ان لوگوں کے نقطہ نظر سے فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ وحدہ کی ربوبیت اور حاکمیت کی طرف لوگوں کو بلائے ، کیونکہ جب کوئی اللہ رب العالمین کو الہ اور حاکم تسلیم کرتا ہے تو اس سے از خود تمام دوسرے نظاموں اور حاکموں کی نفی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ فرعونی نظام حاکمیت غیر اللہ کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ نظام فرعون کی ربوبیت کے اصول پر قائم ہوتا ہے اور یہ شخص اللہ کی ربوبیت کا داعی ہوتا ہے۔ لہذا اب ہر شخص فرعونیوں کی نظروں میں مفسد فی الارض ہوتا ہے۔ وہ باغی اور انقلابی ہوتا ہے اور ملک کے موجودہ قائم حالات کے اندر اکھاڑ پچھاڑ چاہتا ہے۔ اور موجود مستحکم حالات کی جگہ نئے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جن میں ربوبیت اور حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہو کسی انسان کو یہ حقوق حاصل نہ ہوں۔ لہذا ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ یہ مفسدین فی الارض ہیں اور فرعون اور اس کے الہوں کی بندگی کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔
دراصل فرعون نے اپنے تمام حقوق اس دین سے اخذ کیے تھے جس کا وہ پیروکار تھا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ ان الہوں کا محبوب بیٹا ہے اور باپ بیٹے کے جس تعلق کا وہ داعی تھا وہ کوئی حسی اور طبیعی تعلق نہ تھا ، کیونکہ لوگوں کو معلوم تھا کہ فرعون جس ماں باپ سے پیدا ہوا تھا وہ مصری باشندے تھے اور انسان تھے۔ یہ ایک اشاراتی اور رمزی ابنیت تھی جس کے ذریعے وہ اپنے لیھے وہ تمام حقوق حاصل کرتا تھا ، جو اس نے اپنے لیے مخصوص کر رکھے تھے۔ جب موسیٰ اور آپ کی قوم نے رب العالمین کی براہ راست بندگی شروع کردی اور فرعونی الہوں کو ترک کردیا جن کی عبادت مصری لوگ کرتے تھے ، تو اس فعل سے وہ نظریاتی اساس ہی ختم ہوجاتی تھی جس پر فرعون کی مملکت کی تعمیر ہوئی تھی۔ پھر وہ اپنے نظام مملکت میں اپنی قوم کو کچھ حیثیت بھی نہ دیتا تھا اور وہ لوگ بھی اس کی اطاعت کرتے تھے وہ اللہ کے دین سے خارج تھے اور فاسق تھے۔ دوسری جگہ میں ہے (فاستخف قومہ فاطاعوہ۔۔ انہم کانوا قوم فاسقین) " اس نے اپنی قوم کو ہلکا کردیا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔۔۔ بیشک یہ لوگ فاسق تھے " یہ تاریخ کی صحیح تفسیر ہے۔ اگر فرعون کی قوم ہلکے لوگوں پر مشتمل نہ ہوتی اور فسق و فجور کی عادی نہ ہوتی تو ہر گز فرعون کی اطاعت نہ کرتی۔ اللہ پر جو شخص ایمان لے آتا ہے طاغوت اسے ہلکا نہیں سمجھ سکتا۔ اور نہ کوئی مومن طاغوت کی اطاعت کرسکتا ہے بشرطیکہ مومن یہ جانتا ہو کہ یہ معاملہ شریعت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون اور تمام لوگوں کو رب العالمین کی طرف دعوت دینا ، پھر میدان مبارزت میں جادوگروں کو شکست دینا اور ان کا ایمان لے آنا اور اس کے بعد قوم موسیٰ کی طرف سے رب العالمین پر ایمان لانا اور رب واحد کی عبادت کرنا یہ سب امور ایسے تھے جو فرعون کے نظام حکومت کے لیے نہایت ہی خطرناک تھے اور جہاں بھی کوئی ایسا نظام قائم ہو جس میں انسان انسان کا غلام اور مطیع ہو اور ایسے نظام کے اندر کوئی صرف رب العالمین کی بندگی اور اطاعت کی دعوت شروع کردے تو یہ اس نظام کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شہادت لا الہ الا اللہ کی طرف دعوت دے اور یہ دعوت اس کلمہ کے حقیقی مفہوم کی طرف ہو کہ لوگ پورے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں اور یہ مفہوم نہ لیا جائے کہ جزوی طور پر مراسم عبودیت اللہ کے سامنے بجا لائیں تو یہ دعوت کسی بھی موجود نظام کفر کے لیے چیلنج ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فرعون نے اس صورت حالات میں سخت الفاظ میں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا اعلان کردیا کیونکہ اس کا پورا نظام مملکت خطرے میں تھا۔
قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "
حضرت موسیٰ کی پیدائش کے دور میں بھی بنی اسرائیل کے خلاف نسل کشی کی یہ پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ فرعون اور اس کا نظام مملکت ان کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ سورة قصص میں اس کی تفصیلات یوں دی گئی ہیں :۔ ان فرعون علا فی الارض و جعل اھلھا شیعا یستضعف طائفھ منہم یذبح ابناءہم و یستحیی نساءہم انہ کان من المفسدین " واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقعہ وہ مفسد لوگوں میں سے تھا "۔
یہ سرکشی ہر دور میں رہتی ہے اور ہر جگہ رہتی ہے۔ آج بھی وہ یہی ذرائع و وسائل اختیار کرتی ہے اور صدیاں پہلے بھی اس کے یہی ذرائع تھے۔
آیت 127 وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِہَتَکَ ط جس نئے نظریے کا پرچار وہ کر رہے ہیں اگر وہ لوگوں میں مقبول ہوتا گیا اور اس نظریے پر لوگ اکٹھے اور منظم ہوگئے تو ہمارے خلاف بغاوت پھوٹ پڑے گی۔ اس طرح ملک میں فساد پھیلنے کا سخت اندیشہ ہے۔یہاں پہ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قوم فرعون کے معبود بھی تھے۔ ان کا سب سے بڑا الٰہ تو سورج تھا۔ لہٰذا معاملہ یہ نہیں تھا کہ وہ خدا صرف فرعون کو مانتے تھے۔ فرعون کی خدائی سیاسی تھی ‘ اس کا دعویٰ تھا کہ حکومت میری ہے ‘ اقتدارو اختیار sovereignty کا مالک میں ہوں۔ نمرود کی خدائی کا دعویٰ بھی اسی طرح کا تھا۔ باقی پوجا پاٹ کے لیے کچھ معبود فرعون اور اس کی قوم نے بھی بنا رکھے تھے جن کے چھوٹ جانے کا انہیں خدشہ تھا۔ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَ ہُمْ وَنَسْتَحْیٖ نِسَآءَ ہُمْ ج یہ آزمائش ان پر ایک دفعہ پہلے بھی آچکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے قبل جو فرعون برسر اقتدار تھا اس نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر میں اس کے نجومیوں نے اسے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچے کی پیدائش ہونے والی ہے جو بڑا ہو کر آپ کی حکومت ختم کر دے گا۔ چناچہ اس خدشے کے پیش نظر فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جائے اور صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ تقریباً چالیس ‘ پینتالیس سال بعد اب پھر یہ مرحلہ آگیا کہ جب موجودہ فرعون کے سرداروں نے اس کی توجہ اس طرف دلائی کہ جسے تم مشت غبار سمجھ رہے ہو وہ بڑھتے بڑھتے اگر طوفان بن گیا تو پھر کیا کرو گے ؟ اگر اس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تمہارے خلاف ایک تحریک کی شکل میں منظم کرلیا تو پھر ان کو دبانا مشکل ہوجائے گا۔ لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ nip the evil in the bud کے اصول کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا جائے ‘ لیکن فرعون کے دل میں اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے محبت ڈالی ہوئی تھی۔ کیونکہ یہ وہی فرعون تھا جس کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کا سا رشتہ تھا ‘ جس کی وجہ سے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کے لیے طبعی محبت ابھی بھی موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کے بارے میں نہیں سوچا ‘ بلکہ اس کے بجائے اس نے بنی اسرائیل کو دبانے کے لیے پھر سے اپنے باپ کا پرانا حکم نافذ کرانے کا عندیہ دے دیا کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرتے رہیں گے تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم سے اجتماعی افرادی قوت مہّیا نہ ہو سکے۔وَاِنَّا فَوْقَہُمْ قٰہِرُوْنَ ۔ گویا اب درباریوں اور امراء کا حوصلہ بڑھانے کے انداز میں کہا جا رہا ہے کہ تم کیوں گھبراتے ہو ‘ ہم پوری طرح ان پر چھائے ہوئے ہیں ‘ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
آخری حربہ بغاوت کا الزام فرعون اور فرعونیت نے حضرت موسیٰ اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے کہنے لگے یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں بغاوت پھیلا دیں گے ملک میں بد امنی پیدا کریں گے ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہئے، اللہ کی شان دیکھئے کیا مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ آیت (ویذرک) میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں ہے آیت (وقد ترکوک ان یعبدوا الھتک) اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت الاھتک ہے یعنی تیری عبادت سے، بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا، ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لئے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لئے بچھڑا نکالا۔ الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب سے ان کے لئے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کردیا جائے لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کرچکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ حضرت موسیٰ پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور حضرت موسیٰ باوجود اس کے حکم کے زندہ وسالم بجے رہے اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کردیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑجائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اسی کو اور اس کی قوم کو غارت کردیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا اے اللہ کے نبی آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اس طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہوگا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے ؟ تکلیف کا ہٹ جانا راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کردیتا ہے یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔