سورہ اعراف: آیت 129 - قالوا أوذينا من قبل أن... - اردو

آیت 129 کی تفسیر, سورہ اعراف

قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

اردو ترجمہ

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo ootheena min qabli an tatiyana wamin baAAdi ma jitana qala AAasa rabbukum an yuhlika AAaduwwakum wayastakhlifakum fee alardi fayanthura kayfa taAAmaloona

آیت 129 کی تفسیر

(قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا) اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں "

ان الفاظ کے پیچھے ایک خاص ذہنیت ہے ، ان کے اندر قطعیت کے ساتھ ان کی مایوسی کا اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم پر مظالم ہوتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی جاری ہیں۔ ان کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آرہا ہے۔ یہ ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔

لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن جسے یہ مقام ملتا ہے وہ در اصل بڑی آزمائش میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ اس نے جواب دیا۔ قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

حضرت موسیٰ نبوت کے دل و دماغ اور بصیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ، آپ سنت الہیہ کو مٹآ مٹآ دیکھ رہے ہیں۔ یہ سنت حسب وعدہ صابرین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے ، اسی طرح منکرین حق کے لیے بھی اس کے فیصلے وقت پر ہوتے ہیں۔ آپ کو صاف صاف نظر آتا ہے کہ طاغوتی طاقتوں نے تباہ و برباد ہونا ہے اور ان کی جگہ صابرین و مجاہدین نے لینی ہے ، لہذا آپ اپنی قوم کو راہ مصابرت پر آگے بڑھاتے ہیں تاکہ سنت الہیہ ان کے حق میں فیصلے کردے۔ آپ کو تو آغاز ہی سے معلوم ہے کہ بنی اسراء یل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے یہ آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل اپنے بارے میں زعم رکھتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے ان کے گناہوں کی وجہ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ، اس لیے کہ یہ دنیا یونہی بےمقصد بھی نہیں بنائی گئی اور نہ یہ ازلی اور ابدی ہے بلکہ یہاں ہر قوم کا عروج انسان کے لیے ہے۔ فینظر کیف تعملون۔ تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ اللہ تو کسی چیز کے واقعہ ہونے سے بھی پہلے جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی جانب سے ارتکاب جرم سے پہلے سزا نہیں دیتا۔ جب تک کہ وہ بات ان سے واقعہ نہیں ہوجاتی جس کا اللہ کو پہلے سے عالم الغیب ہونے کی حیثیت سے علم ہوتا ہے۔

آیت 129 قَالُوْٓا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَمِنْم بَعْدِ مَا جِءْتَنَا ط۔ ان الفاظ سے اس مظلوم قوم کی بےبسی اور بےچارگی ٹپک رہی ہے ‘ کہ پہلے بھی ہمارا یہی حال تھا کہ ہم بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے ‘ اور اب آپ علیہ السلام کے آنے کے بعد بھی ہمارے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّہْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ یہ آیت مسلمانان پاکستان کے لیے بھی خاص طور پر لمحۂ فکریہ ہے۔ برعظیم پاک و ہند کے مسلمان بھی غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ متحدہ ہندوستان اگر ایک وحدت کی حیثیت سے آزاد ہوا تو کثرت آبادی کی وجہ سے ہندو ہمیشہ ہم پر غالب رہیں گے ‘ کیونکہ جدید دنیا کا جمہوری اصول one man one vote ہے۔ اس طرح ہندو ہمیں دبا لیں گے ‘ ہمارا استحاصل کریں گے ‘ ہمارے دین و مذہب ‘ تہذیب و تمدن ‘ سیاست و معیشت اور زبان و معاشرت ہرچیز کو برباد کردیں گے۔ چناچہ انہوں نے ایک الگ آزاد وطن حاصل کرنے کے لیے تحریک چلائی۔ اس تحریک کا نعرہ یہی تھا کہ مسلمان قوم کو اپنے دین و مذہب ‘ ثقافت اور معاشرت وغیرہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے ایک الگ وطن کی ضرورت ہے۔ اس تحریک میں اللہ نے انہیں کامیابی دی اور انہیں ایک آزاد خود مختار ملک کا مالک بنا دیا۔ ابھی اس حوالے سے اس آیت کا دوبارہ مطالعہ کیجیے : وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ 4 کہ وہ تمہیں زمین میں طاقت اور اقتدار عطاکرے گا اور پھر دیکھے گا کہ تم لوگ کیسا طرز عمل اختیار کرتے ہو ! اس ملک میں اللہ کی حکومت قائم کر کے دین کو غالب کرتے ہو یا اپنی مرضی کی حکومت قائم کر کے اپنی خواہشات کے مطابق نظام چلاتے ہو۔

آیت 129 - سورہ اعراف: (قالوا أوذينا من قبل أن تأتينا ومن بعد ما جئتنا ۚ قال عسى ربكم أن يهلك عدوكم ويستخلفكم في الأرض...) - اردو