آیت ” قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَن تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ (13)
” فرمایا : ” اچھا “ تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ۔ “
یہاں اب اس کا علم اس کے لئے نفع بخش نہیں رہا ‘ وہ اللہ کی ذات وصفات سے خوف واقف ہے ۔ لیکن یہ علم اس کے لئے نفع بخش نہیں ہے ۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہوگا جس تک اللہ کا حکم پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعد وہ پھر اپنی فکر ونظر کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے ۔ ایک مسئلہ اس کے سامنے ہے جس کا فیصلہ اللہ کی عدالت سے ہوگیا ہے لیکن وہ اسے نہیں مانتا ‘ وہ اپنا فیصلہ خود کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ کے فیصلے کو رد کرتا ہے ۔ پس یہ جان بوجھ کر اور اچھی طرح سمجھ کر کفر کا ارتکاب ہے ۔ ابلیس کے پاس علم ومعرفت کی کمی نہ تھی ‘ اس کا اعتقاد متزلزل نہ تھا۔
چناچہ وہ جنت سے بھگایا گیا ‘ اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا اور اس پر لعنت لکھ دی گئی ۔ اس کے اوپر ذلت مسلت کردی گئی ۔ لیکن یہ شدید فطرت اس بات کو سمجھنے کی سعی ہی نہیں کرتی کہ اس آدم کی وجہ سے وہ راندہ درگاہ ہوا ۔ چناچہ اب وہ توبہ کرنے بجائے انتقام پر اتر اتا ہے ۔ اب وہ اپنے سر پر وہ ذمہ داریاں لیتا ہے جو اس شر کے ساتھ مناسب ہیں جس میں وہ مبتلا ہوگیا ہے ۔
نافرمانی کی سزا ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں نہیں رہ سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔ بعض نے کہا ہے (فیھا) کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کردیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حکام پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔