اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍ
قَالَ فَٱهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ
قَالَ أَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ
قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ
ثُمَّ لَءَاتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَٰنِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَٰكِرِينَ
قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورًا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ
وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
فَوَسْوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وُۥرِىَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ ٱلْخَٰلِدِينَ
وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ
آیت ” قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَاْ خَیْْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِن طِیْنٍ (12)
” پوچھا ” تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ۔ “ بولا : ” میں اس سے بہتر ہوں ‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “
ابلیس کا قصور یہ تھا کہ نص صریح کے ہوتے بھی اس نے یہ سوچا کہ وہ اپنی رائے پر عمل کرسکتا ہے اور اگر حکم کے باوجود کوئی سبب اور علت اور علت ہو تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ جب نص صریح آجائے تو پھر فکر ونظر کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ اب صرف یہ صورت رہتی ہے کہ اطاعت کی جائے اور حکم کو نافذ کیا جائے ۔ اب حضرت ابلیس ملعون کو دیکھئے کہ باوجود اس بات کے علم کے کہ اللہ خالق ومالک ہے ‘ وہی رازق اور مدبر ہے اور اس دنیا میں کوئی بات اس کے علم اور اذن کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ اس کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا جو اس کے پاس پہنچ گیا ہے ۔ وہ اپنی منطق سامنے لاتا ہے ۔ ” میں اس سے زیادہ بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “ اس کی اس حجت سازی پر اس کو فورا سزا ملتی ہے ۔
آیت ” قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَن تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ (13)
” فرمایا : ” اچھا “ تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ۔ “
یہاں اب اس کا علم اس کے لئے نفع بخش نہیں رہا ‘ وہ اللہ کی ذات وصفات سے خوف واقف ہے ۔ لیکن یہ علم اس کے لئے نفع بخش نہیں ہے ۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہوگا جس تک اللہ کا حکم پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعد وہ پھر اپنی فکر ونظر کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے ۔ ایک مسئلہ اس کے سامنے ہے جس کا فیصلہ اللہ کی عدالت سے ہوگیا ہے لیکن وہ اسے نہیں مانتا ‘ وہ اپنا فیصلہ خود کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ کے فیصلے کو رد کرتا ہے ۔ پس یہ جان بوجھ کر اور اچھی طرح سمجھ کر کفر کا ارتکاب ہے ۔ ابلیس کے پاس علم ومعرفت کی کمی نہ تھی ‘ اس کا اعتقاد متزلزل نہ تھا۔
چناچہ وہ جنت سے بھگایا گیا ‘ اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا اور اس پر لعنت لکھ دی گئی ۔ اس کے اوپر ذلت مسلت کردی گئی ۔ لیکن یہ شدید فطرت اس بات کو سمجھنے کی سعی ہی نہیں کرتی کہ اس آدم کی وجہ سے وہ راندہ درگاہ ہوا ۔ چناچہ اب وہ توبہ کرنے بجائے انتقام پر اتر اتا ہے ۔ اب وہ اپنے سر پر وہ ذمہ داریاں لیتا ہے جو اس شر کے ساتھ مناسب ہیں جس میں وہ مبتلا ہوگیا ہے ۔
آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17)
” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “
معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی اس شرپسندی پر اصرار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے پوری طرح عزم کرلیا ہے کہ وہ گمراہ ہوگا اور مزید لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی مخلوق کی فطرت میں گمراہی رچی بسی ہے اور یہ اس کی خصوصیت اولی ہے ۔ یہ شرعا رضی اور وقتی نہیں ہے ‘ یہ اصلی ‘ بامقصد اور عمدا ہے اور نہایت ہی گہری دشمنی پر مبنی ہے ۔
یہ آیت عقلی ‘ معنوی اور نفسیاتی حرکات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس میں زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔
ابلیس یہ درخواست کرتا ہے کہ اسے قیامت تک مہلت دی جائے ‘ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اللہ کی مشیت و ارادے کے بغیر اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ انتظار اور مہلت کے بارے میں اس کی درخواست منظور فرماتے ہیں لیکن ایک معلوم میعاد تک جیسا کہ دوسری سورتوں میں وضاحت کردی گئی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ مہلت نفخہ اولی کے دن تک ہے جس دن تمام مخلوق جان دے دے گی ۔ یوم البعث تک نہیں ہے ۔
اب مہلت کے بارے میں فیصلہ لے لینے کے بعد ابلیس نہایت ہی ڈھٹائی اور خبث باطن کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی اور راندگی کا بدلہ اللہ کی مخلوق سے یوں لے گا کہ وہ اللہ کی اس مکرم مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑے گا اور وہ اپنے اس پروگرام کا اعلان ایسے فیصلہ کن انداز میں کرتا ہے ۔
آیت ” لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17)
” میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا “۔
یعنی تو نے ان کے لئے جو سیدھا راستہ تجویز کیا ہے میں اس میں اپنے مورچے لگاؤں گا ۔ ان کو اس راہ سے روکنے کی سعی کروں گا ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ ظاہر ہے کہ کوئی محسوس راستہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ ایک ہی جگہ میں ہے اور اس کی طرف یہ راستہ جارہا ہے ۔ اللہ کا راستہ تو ایمان اور اطاعت کا راستہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ۔ لہذا شیطان انسانوں پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے ‘ آگے سے پیچھے سے ‘ دائیں سے اور بائیں سے ۔ اس طرح وہ انسانوں کو انکے ایمان وعمل کی راہ میں روکے گا ۔ یہ گویا ایک ایسا منظر ہے جو زندہ اور رواں دواں ہے ۔ ابلیس ہر طرف سے انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے ‘ مسلسل انہیں بدراہ کر رہا ہے اور لوگ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اللہ کی معرفت اور اس کے شکر سے محروم ہوتے ہیں ہاں ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو اس کے دام سے بچ نکلتی ہے اور وہ اللہ کے احکام پر چلتی ہے ۔
آیت ” وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17)
” تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “۔
یہاں شکر کا تذکرہ آغاز سورة میں تذکرہ شکر سے بطور ہم آہنگی کیا گیا ہے ۔ آغاز میں کہا گیا آیت ” قلیلا ما تشکرون “۔ (7 : 10) ” تم کم ہی شکر گزار رہتے ہو۔ “ مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ وہ کیا سبب ہے کہ انسان شکر گزار نہیں رہتا ۔ اس لئے کہ ابلیس خفیہ طور شکر گزار کے خلاف کام کرتا ہے ۔ وہ ہر راستہ پر مورچہ زن ہے اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ پوری طرح چوکنے ہوجائیں ‘ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ ہر طریقے سے انہیں ہدایت سے روکتا ہے اور انہیں اس امر کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان پر یہ مصیبت کس راستے سے آرہی ہے ۔
ابلیس کی درخواست اس لئے منظور کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ انسان خود مختاری سے اپنا راستہ خود بنائے ‘ کیونکہ اس کی فطرت میں خیر اور شر دونوں کی استعداد موجود ہے ۔ اسے عقلی قوت بھی دی گئی ہے ۔ جو شر کے مقابلے میں خیر کو ترجیح دیتی ہے ۔ پھر رسولوں کے ہاتھ پیغام بھیج کر اسے شر کے انجام بد سے خبردار بھی کردیا اور پھر اسے دین اسلام کا ضابطہ دے کر اسے درست راہ پر گامزن بھی کردیا گیا ۔ اسے بتایا گیا کہ مشیت الہی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا گمراہی اور اس کی شخصیت میں خیر وشر کی کشمکش رہے اور وہ دو انجاموں میں سے کسی ایک تک پہنچ جائے اور اللہ کی مشیت کے مطابق اس پر سنت الہیہ جاری ہو ۔ چاہے وہ ہدایت کی راہ لے یا ضلالت کا فیصلہ ہو ۔
لیکن یہاں سیاق کلام میں ابلیس معلون کو بصراحت یہ اجازت نہیں دی گئی کہ جاؤ تمہیں اجازت ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کرو ‘ جس طرح اس کے پہلے سوال کو منظور کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دے دی گئی تھی ‘ یہاں اس کی کارستانیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم ذلیل و خوار کرکے یہاں سے نکالے جاتے ہو اور اسے یہ دھمکی دیجاتی ہے کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔
آیت ” قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْؤُوماً مَّدْحُوراً لَّمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ لأَمْلأنَّ جَہَنَّمَ مِنکُمْ أَجْمَعِیْنَ (18)
” فرمایا : ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ‘ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۔ “
انسانوں میں سے بعض لوگ تو اللہ کو جانتے ہوئے شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ ہمارا الہ ہے لیکن اس معرفت اور عقیدے کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی اور اللہ کے قوانین کے مطابق فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہیں اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے احکام پر نظر ثانی کرسکتے ہیں اور اللہ کے احکام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ یہ پھر شیطان ان کو اس قدر گمراہ کردیتا ہے کہ وہ سرے سے خدا کو مانتے ہی نہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ شیطان کے پیروکار ہیں اور جہنم کے مستحق ہوں گے ۔
اللہ نے ابلیس اور اس کی جماعت کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی آزادانہ سعی کرے اور آدم اور اس کی اولاد کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ اپنے اختیار سے جو راہ چاہے اختیار کرے ۔ دونوں کے لئے آزمائش کے مواقع ہیں اور یہ اللہ کی مشیت کا تقاضا تھا کہ وہ اس طرح انسان کو آزمائے ۔ اس طرح اسے اس کائنات کی ایک منفرد اور مکرم مخلوق کا مقام دے تاکہ یہ انسان نہ فرشتہ ہو اور نہ شیطان بلکہ وہ اپنا ہی کردار ادا کرے نہ شیطانی کردار اور نہ ہی فرشتوں کا کردار۔
اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعددوسرا منظر سامنے آتا ہے ۔ ابلیس کو جنت سے دھتکارنے کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت آدم اور ان کی بیوی سے مخاطب ہوتے ہیں۔ یہاں ہمیں صرف اس قدر بتایا جاتا ہے کہ آدم کی بیوی بھی تھی اور وہ اس کی ہم جنس تھی لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی تخلیق کس طرح ہوئی ۔ آیت زیر بحث اور اس جیسی دوسری آیات جو قرآن کریم میں وارد ہیں ‘ اس معاملے میں کوئی بات نہیں بتاتیں اور تخلیق حوا کے بارے میں جو روایات ہیں ان کے اندر اسرائیلیات کے اثرات ضرور ہیں اس لئے ہم اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتے کہ حوا کی تخلیق کسے ہوئی ؟ یہ بات یقینی ہے کہ اللہ نے آدم کی ہم جنس اس کی بیوی پیدا کی اور اس طرح وہ جوڑا ہوگئے ۔ اللہ نے اپنے تمام مخلوق میں جوڑے پیدا کئے ہیں۔
آیت ” ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون “۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو “۔ چناچہ یہ اللہ کی سنت جاریہ اور اس کائنات کا بنیادی اصول ہے ۔ جب ہم اس اصول کے مطابق رائے اختیار کریں تو پھر ہمیں یہ رائے اختیار کرنی ہوگی کہ خلق آدم کے بعد حوا کی تخلیق بھی جلد ہی کی گئی اور حضرت حوا کی تخلیق بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوئی ۔
بہرحال اب خطاب حضرت آدم اور آپ کی بیوی حضرت حوا سے ہے تاکہ سب سے پہلے ان کی زندگی کے بارے میں اللہ ان کو احکام دے ۔ انکی تربیت کی جائے اور زمین پر انہوں نے جو بنیادی کردار ادا کرنا ہے اس کے لئے انہیں تیار کیا جائے کیونکہ آدم کو پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت الہیہ انجام دے جب کہ سورة بقرہ کی آیت میں واضح طور پر کہا گیا ہے ۔
آیت ” اذ قال ربلک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ “۔ ” جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں ۔
آیت ” نمبر 19۔
قرآن کریم نے اس درخت کا نام نہیں لیا کیونکہ درخت کا نام لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اصل بات یہ تھی کہ انہیں صرف منع کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام حلال چیزوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی اور ممنوعات کے استعمال سے روک دیا تھا ۔ ممنوعات کی حد اس لئے ضروری تھی تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتا اور اس کو رادہ واختیار کی جو آزادی دی گئی ہے اس کو استعمال کرکے وہ اپنی خواہشات اور میلانات پر کنٹرول کرنا سیکھے ۔ اور خواہشات اور میلانات پر برتری حاصل کرے ۔ وہ حیوانات کی طرح خواہشات کا غلام نہ ہو بلکہ خواہشات کا حاکم ہو ۔ کیونکہ ایک انسان اور حیوان میں فرق ہی یہ ہے کہ انسان خواہشات پر قابو رکھتا ہے اور حیوان خواہشات پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔
اب ابلیس اپنا وہ کام شروع کرتا ہے جس کے لئے اس نے اپنے آپ کو وقف کرلیا ہے ۔ یہ انسان جسے اللہ نے یہ اعزاز دیا اور جس کی تخلیق کا اعلان عالم بالا کی اس عظیم تقریب میں کیا گیا ‘ جسے تمام فرشتوں نے سجدہ ریز ہو کر سلامی دی اور جس کے سامنے سجدہ ریز نہ ہونے کی بنا پر ابلیس کو عالم بالا سے خارج البلد کیا گیا ۔ یہ مخلوق اپنے اندر دو صلاحیتیں رکھتی ہے ۔ یہ دونوں جانب جاسکتی ہے اور اس مخلوق میں بعض کمزور یونٹ بھی ہیں جن سے اسے پکڑا جاسکتا ہے الا یہ کہ وہ امر الہی پر کاربند ہوجائے ۔ ان کمزور مقامات سے اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ان کمزور نکات میں سے ایک ہے شہوات نفسانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھئے شیطان ان نکات سے کس طرح انسان پر قابو پاتا ہے ۔
آیت ” نمبر 20 تا 21۔
معلوم نہیں کہ شیطانی وسوسہ کس طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم شیطان کی حقیقت سے واقف نہیں جس سے ہم اس کے اعمال کی نوعیت سے خبردار ہوجائیں یا یہ معلوم کرسکیں کہ وہ انسان تک رسائی کیونکر حاصل کرتا ہے اور اس کو کس طرح گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں مخبر صادق کے ذریعہ یہ علم حاصل ہے کہ شیطان کسی نہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور ان غیبی حقائق کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہی سچا اور یقینی ذریعہ علم ہیں ۔ شیطان انسان کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور یہ تمام طریقے انسانی شخصیت میں کمزور مقامات کے ذریعے سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ انسانی شخصیت میں فطری کمزوریاں ہیں ان سے انسان صرف پختہ ایمان اور یاد الہی کے ذریعے سے بچ سکتا ہے اور ایمان اور ذکر کے بعد صورت یہ ہوجاتی ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا ۔ اس کی سازشیں کمزور پڑجاتی ہیں اور انسان پر ان کا اثر نہیں ہوتا ۔ اس طرح شیطان نے ان کو بہکایا اور انکی شرمگاہیں جو ایک دوسرے پوشیدہ تھیں انکو ان پر ظاہر کردیا گیا اور یہ تھا اس کا اصل مقصد انکی شرمگاہیں تھیں اور انکو کسی دوسری مادی چیز سے چھپانے کی ضرورت تھی ۔ شیطان نے ان پر اپنی اسکیم ظاہر نہ کی تھی البتہ وہ انکی خواہشات کی راہ سے داخل ہوگیا ۔ اس نے کہا ” تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں فرشتے نہ بنا جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔ “
یوں شیطان انسانی خواہشات کے ساتھ کھیلا ۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے یاطویل عرصے تک عمر پائے اور اسے خلود نصیب ہو ۔ اور اس کو ایسی سلطنت ملے جو محدود زندگی سے آگے ہو۔
بعض قراءتوں میں (ملکین ) لفظ ل کی زیر کیساتھ آیا ہے ۔ (ملکین) جس کے معنی دو بادشاہ کے ہوتے ہیں ۔
سورة طہ کی آیت آیت ” ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک الایبلی “۔ (20 : 120) ” کیا میں خلود کا درخت نہ بتاؤں اور ایسی بادشاہت جو ختم ہونے والی نہ ہو ۔ “ اس صورت میں شیطان نے انہیں دائمی عمر اور دائمی حکومت کا لالچ دیا ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی خواہشات میں سرفہرست ہیں۔ جنسی خواہش کی اصل حقیقت بھی یہ ہے کہ جنسی تعلق واتصال کے ذریعے ایک انسان خلود ہی چاہتا ہے یعنی اسکی اولاد ہو اور نسلا بعد نسل وہ زندہ رہے اور اگر ملکین پڑھیں تو مراد یہ ہوگی کہ دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور انسان کی جسمانی ضروریات سے فارغ ہوجاؤ گے اور ملائکہ کی طرح زندگی بھی دائمی ہوگی لیکن پہلی قرات اگرچہ مشہور قرات نہیں ہے ‘ سورة طہ کی آیت سے زیادہ موافق ہے اور اس سورة میں شیطان کا دھوکہ بھی انسانی خواہشات کی حدود کے اندر رہتا ہے ۔
شیطان لعین چونکہ جانتا تھا کہ اللہ نے ان کو بصراحت اس درخت سے منع کردیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب سے ممانعت کی وجہ سے ان کے دل میں کھٹکا موجود ہے ۔ اور قوت مدافعت ان کے اندر پائی جاتی ہے ۔ اس لئے اس وسوسہ اندازی میں وہ انسانی خواہشات اور کمزوریوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ ناصح مشفق بن کر اور قسمیں اٹھا کر کہتا ہے
آیت ” وَقَاسَمَہُمَا إِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ (21)
” اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ “
آدم اور ان کی بیوی اللہ کی اس تنبیہ کو بھول جاتے ہیں کہ شیطان انکا دشمن ہے ۔ یہ بھول ان کی شخصی خواہش اور شیطان کی قسموں کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ تم احکام الہیہ کی اطاعت کرو چاہے کسی حکم کی علت سمجھو یا نہ سمجھو ۔ یہ دونوں یہ بھی بھول گئے کہ اللہ کی تقدیر اور حکم کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اگر اللہ نے ان کے لئے خلود نہیں لکھا اور دائمی حکومت نہیں لکھی تو یہ مقصد کس طرح حاصل ہو سکتا ہے ۔ ؟
آیت ” نمبر 22۔
اب یہ دھوکہ تمام ہوا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے آگیا ۔ شیطان نے ان کو اللہ کی اطاعت سے پھیر کر اللہ کی معصیت میں مبتلا کردیا اور یہ سب کچھ اس نے گہری سازش اور دھوکے سے کیا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو دنیا میں اتار دیا ۔ آیت ” (فدلھما بغرو) (7 : 22) ” اس نے دھوکہ دے کر یہ مقصد حاصل کیا ۔ “
اب انہیں اس بات کا شعور ہوا کہ ان کے جسم میں شرمگائیں بھی ہیں ۔ یہ شرمگاہیں پہلے ان کی نظروں سے اوجھل تھیں ۔ چناچہ انہوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ان کو اپنی شرمگاہوں پر رکھنا شروع کردیا ۔ ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شرمگاہوں سے مراد وہ جسمانی حصے ہیں جن کے ظاہر ہونے سے انسان فطرتا شرمندہ ہوتا ہے اور ان مقامات کو صرف وہی شخص ننگا اور ظاہر کرسکتا ہے جس کی فطرت ‘ کسی جاہلی سوسائٹی کی وجہ سے فساد پذیر ہوچکی ہو ۔
آیت ” فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَن تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَأَقُل لَّکُمَا إِنَّ الشَّیْْطَآنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(22)
تب ان کے رب نے انہیں پکارا ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا ‘ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “
ان دونوں نے اللہ کی جانب سے آنے والی یہ جواب طلبی سنی کیونکہ انہوں نے نصیحت کو بھلا دیا اور نافرمانی کی ۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے آنے والی اس ندا کی کیفیت کیا تھی ؟ ویسی ہی طرح پہلی مرتبہ اللہ نے انہیں خطاب کیا تھا ‘ جس طرح فرشتوں کو خطاب کیا تھا ۔ جس طرح ابلیس کو خطاب کیا تھا ۔ یہ سب امور غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں ہم صرف گمان رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ کرتا ہے ۔
اس پکار کے مقابلے میں ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی اس منفرد مخلوق انسان کی شخصیت کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ وہ بھول بھی جاتا ہے اور اس سے غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہے اور یہ کہ اس میں ایسی کمزوریاں بھی ہیں جن کے راستے سے شیطان اس پر انداز ہوتا ہے ۔ نیز یہ کہ یہ انسان نہ ہمیشہ غلطی پر ہوتا ہے اور نہ ہمیشہ صحیح راستے پر ہوتا ہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی اور لغزش کا ادراک کرلیتا ہے اور اس ادراک کے بعد وہ طلب مغفرت کرتا ہے اور نادم ہوجاتا ہے ۔ واپس ہو کر توبہ کرتا ہے اور شیطان کی طرح معصیت اصرار نہیں کرتا ۔ وہ اپنے رب سے معصیت پر معاونت طلب نہیں کرتا ۔