سورہ اعراف: آیت 131 - فإذا جاءتهم الحسنة قالوا لنا... - اردو

آیت 131 کی تفسیر, سورہ اعراف

فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اردو ترجمہ

مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faitha jaathumu alhasanatu qaloo lana hathihi wain tusibhum sayyiatun yattayyaroo bimoosa waman maAAahu ala innama tairuhum AAinda Allahi walakinna aktharahum la yaAAlamoona

آیت 131 کی تفسیر

جب انسانی فطرت جادۂ مستقیم سے منحرف ہوجاتی ہے تو اسے نظر نہیں آتا کہ اس کائنات کو دست قدرت چلا رہا ہے۔ ان کو اللہ کا نظام قضا و قدر نظر نہیں آتا جس کے تحت تمام چیزیں پیدا ہو رہی ہیں اور تمام واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جب یہ فطرت اس حد تک خراب ہوجائے تو پھر وہ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس قدرت کا ادراک نہیں کرسکتی۔ حالانکہ یہ قوانین قدرت مستقلاً یہاں رواں دواں ہیں۔ ایسے لوگ پھر کائنات کے واقعات کی تفسیر اور تشریح انفرادی واقعہ کے طور پر کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ اس واقعہ کا کسی کلی اصول کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ ایسے لوگ دفتر خرافات لئے ہوئے بےآب وگیاہ وادیوں میں سرگرداں پھرتے رہتے ہیں۔ کسی اصول پر متفق نہیں ہوتے اور یہ کسی ایک راہ و رسم کے قائل نہیں ہوتے ، ان کی سوچ منطقی نہیں ہوتی۔ خروشیف جیسے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ " طبیعت " ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مادہ کس طرح ان کے خلاف جا رہا ہے۔ لیکن وہ (فعال لما یرید) کا قائل ہی نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ بعض لوگ اصول الدین کا انکار کرتے ہوئے اور خدا اور خدا کی غیبی قدرت کا انکار کرکے بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔

فرعون اور اس کے ساتھی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کی ایسی تشریح کرتے تھے کہ اگر دنیا کے حالات اچھے ہوں تو کہتے کہ بس یہ ہمارا حسن کار کردگی ہے اور ہم اس سکے مستحق ہیں۔ اور اگر حالات خراب ہوں تو وہ کہتے کہ یہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے ہوئے ہیں ، یعنی ان سے بدشگونی لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ بدشگونی کیا چیز ہے۔ اس کے لئے یہاں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ وطیرہ ہے۔ اس کے لغوی معنی پرندے کا اڑنا ہیں۔ اہل جاہلیت کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی تھی کہ اس کائنات میں سنت الہیہ جاری ہے اور قدرت کے بعض ضوابط کے مطابق یہاں واقعات رونما ہوتے ہیں ، وہ ظاہری حالات کو دیکھ کر اور بت پرستی کے زیر اثر بعض عجیب توہمات پر یقین رکھتے تھے۔ اگر کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرتا تو کسی پرندے کے گھونسلے کے قریب جاتا اور گھونسلے سے پرندے کو اڑاتا۔ اگر پرندہ اس کے دائیں جانب سے اڑتا تو اسے " سانح " کہتے۔ اس سے وہ خوش ہوتے اور اس کام کو کر گزرتے ۔ اگر پرندہ بائیں جانب سے اڑتا تو اسے وہ " بارح " کہتے اور اسے بدشگونی سمجھ کر اس کام سے باز آجاتے۔ تو اسلام نے اس خرافاتی سوچ کو کالعدم کردیا۔ اور اس کی جگہ غور و فکر کا سائنٹیفک انداز دیا۔ اور نتائج کو اللہ کے سنن جاریہ پر چھوڑ دیا کہ نتائج جو بھی نکلیں گے وہ اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق ظاہر ہوں گے۔ اسلام نے تمام معاملات کو سائنسی اور علمی انداز پر چھوڑ دیا جس میں اہمیت انسان کے ارادے اور اس کی نیت ، اس کی حرکت اور اس کی جدوجہد کو دی گئی۔ اور اللہ کے دائرہ قضا و قدر پر اللہ کی مشیت محیط ہے۔

(اَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) " حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ، مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے "

اس دنیا میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ان کا سبب واحد یہ ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے واقع ہوتے ہیں اور اللہ ہی کے ہاں سے ان کو اچھی بات نصیب ہوتی ہے جس میں ان کے لئے آزمائش ہے اور اللہ ہی کی طرف سے ان پر مصائب آتے ہیں اور یہ بھی آزمائش کے لیے ہیں۔ و نبلوکم بالشر والخیر فتنۃ والینا ترجعون " اور ہم خیر و شر میں مبتلا کرکے انہیں آزمائیں گے اور یہ آزمائش بڑا فتنہ ہے اور تم ہماری جانب لوٹوگے " انسان پر جو مشکلات آتی ہیں وہ اس کی شامت اعمال ہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے اور اکثر تو ایسے ہیں جو سرے سے تقدیر الٰہی کے قائل ہی نہیں ہیں وہ اپنے نظریات کا اظہار سائنٹیف سوچ کے لفظ سے کرتے ہیں اور بعض اسے " قدرت کا عدم تعاون " کہتے ہیں مثلاً اشتراکی لوگ لیکن یہ سب حضرات حقیقت سے جاہل اور لا علم ہیں

آیت 131 فَاِذَا جَآءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ہٰذِہٖ ج وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ط اَلَآ اِنَّمَا طآءِرُہُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ جب ان کے حالات قدرے بہتر ہوتے یعنی فصلیں وغیرہ ٹھیک ہوجاتیں ‘ خوشحالی آتی اور ان کو آسائش حاصل ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ ہماری محنت ‘ منصوبہ بندی اور کوشش کا نتیجہ ہے ‘ یہ ہمارا استحقاق ہے۔ اور جب ان کو فصلوں میں نقصان ہوتا یا کسی اور قسم کے مالی نقصانات کا انہیں سامنا کرنا پڑتا تو وہ اس سب کچھ کی ذمہ داری حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں پر ڈال دیتے کہ ہمارا یہ نقصان ان کی نحوست کی وجہ سے ہوا ہے۔

آیت 131 - سورہ اعراف: (فإذا جاءتهم الحسنة قالوا لنا هذه ۖ وإن تصبهم سيئة يطيروا بموسى ومن معه ۗ ألا إنما طائرهم عند الله...) - اردو