حضرت موسیٰ نے دوسری بار رحمت الہیہ کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اب انہیں خوشخبری مل رہی ہے کہ وہ منتخب روزگار ہیں۔ آپ میرے کلام اور پیغام کے حامل ہیں۔ فرعون سے مطالبہ یہ تھا کہ میری قوم کو رہا کرو ، اب آپ نے اپنی قوم میں کام کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتایا " میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا ہے کہ میری پیغمبری کرے " اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے زمانے کے سب لوگوں میں سے آپ کو رسول بنانے کے لیے منتخب کیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور بعد میں بھی۔ لہذا انتخاب اور اصطفاء سے مراد ہے ، قرائن کے مطابق اس دور کے لوگوں کے مقابلے میں ہے۔ رہی صفت ہم کلامی باری تعالیٰ تو اس صفت میں حضرت موسیٰ منفرد ہیں۔ وہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا کہ آپ وہ ہدایات پکڑیں اور شکر ادا کریں تو یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور راہنمائی اور یہ تذکیر ہے کہ اللہ کے ان انعامات کا جواب ایک ہی ہے یعنی شکر ادا کرنا۔ رسول چونکہ قائد ہوتے ہیں اور قائدین لوگوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں ، اس لئے لوگوں کا بھی فرض بن جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی ہدایات کو لیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یوں ان پر اللہ کے مزید انعامات نازل ہوں گے ، ان کی اصلاح ہوگی اور وہ اللہ سے جڑ کر سرکشی سے بچ جائیں گے۔
آیت 144 قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَبِکَلاَمِیْ ز۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا امتیازی مقام تھا ‘ جیسے سورة النساء میں فرمایا : وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا ۔فَخُذْ مَآ اٰتَیْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ یعنی یہ الواح جو ہم آپ علیہ السلام کو دے رہے ہیں انہیں لے لو اور ان میں جو احکام لکھے ہوئے ہیں ان کا حق ادا کرو۔
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ حضرت موسیٰ ؑ کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے حضرت محمد ﷺ تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابراہیم ؑ ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں واللہ اعلم۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پالینے کے بعد کا ہے۔ واللہ اعلم۔