سورہ اعراف (7): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ اعراف کے بارے میں معلومات

Surah Al-A'raaf
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
صفحہ 168 (آیات 144 سے 149 تک)

قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِى وَبِكَلَٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَىْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَٰسِقِينَ سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا۟ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا۟ قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
168

سورہ اعراف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ اعراف کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala ya moosa innee istafaytuka AAala alnnasi birisalatee wabikalamee fakhuth ma ataytuka wakun mina alshshakireena

حضرت موسیٰ نے دوسری بار رحمت الہیہ کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اب انہیں خوشخبری مل رہی ہے کہ وہ منتخب روزگار ہیں۔ آپ میرے کلام اور پیغام کے حامل ہیں۔ فرعون سے مطالبہ یہ تھا کہ میری قوم کو رہا کرو ، اب آپ نے اپنی قوم میں کام کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتایا " میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا ہے کہ میری پیغمبری کرے " اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے زمانے کے سب لوگوں میں سے آپ کو رسول بنانے کے لیے منتخب کیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور بعد میں بھی۔ لہذا انتخاب اور اصطفاء سے مراد ہے ، قرائن کے مطابق اس دور کے لوگوں کے مقابلے میں ہے۔ رہی صفت ہم کلامی باری تعالیٰ تو اس صفت میں حضرت موسیٰ منفرد ہیں۔ وہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا کہ آپ وہ ہدایات پکڑیں اور شکر ادا کریں تو یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور راہنمائی اور یہ تذکیر ہے کہ اللہ کے ان انعامات کا جواب ایک ہی ہے یعنی شکر ادا کرنا۔ رسول چونکہ قائد ہوتے ہیں اور قائدین لوگوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں ، اس لئے لوگوں کا بھی فرض بن جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی ہدایات کو لیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یوں ان پر اللہ کے مزید انعامات نازل ہوں گے ، ان کی اصلاح ہوگی اور وہ اللہ سے جڑ کر سرکشی سے بچ جائیں گے۔

اردو ترجمہ

اس کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا: "اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakatabna lahu fee alalwahi min kulli shayin mawAAithatan watafseelan likulli shayin fakhuthha biquwwatin wamur qawmaka yakhuthoo biahsaniha saoreekum dara alfasiqeena

اب چند الفاظ اس رسالت کے مضمون اور طریقہ کار کے بارے میں ہیں کہ یہ رسالت کس طرح دی گئی :

(وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ) " اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی "

روایات اور مفسرین کے درمیان ان تختیوں کے بارے میں اختلافات ہیں ، بعض نے ان کے بارے میں تفصیلات دی ہیں۔ ان تفصیلات کا بیشتر حصہ ان اسرائیلی روایات پر مشتمل ہے جو اسلامی تفاسیر کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ ان روایات میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات مرفوع نہیں ہے۔ چناچہ ہم اس آیت کو پڑھ کر آگے جانے سے رک جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان روایات میں جو تفصیلات ہیں ان سے ان الواح کی حقیقت میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی۔ یہ تختیاں کیسی تھیں ، کس چیز کی بنی ہوئی تھیں۔ ان پر کس انداز کی تحریر درج تھی ، اس کے بارے میں ہمارے پاس تفصیلات نہیں ہیں ، نہ ان کی کوئی ضرورت ہے ، کیونکہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ ان تختیوں میں لکھا ہوا کیا ہے اور کیا تھا ؟ ان میں وہ تمام تفصیلات تھیں جن کا تعلق حضرت موسیٰ کی رسالت سے تھا۔ مثلاً اللہ کا بیان ، اللہ کی شریعت کے احکام ، لوگوں کی اصلاح کے لیے مزید ہدایات ، امت کے حالات اور جن امور کی وجہ سے ان کے اندر بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، یعنی ان کی تاریخ وغیرہ۔

فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا۔ اور اس سے کہا " ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں "

اللہ کی جانب سے اہم حکم یہ تھا کہ آپ نہایت ہی قوت اور عزم سے ان الواح و ہدایات کو لیں اور اپنی قوم کو سختی سے حکم دیں کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں۔ اگرچہ وہ مشکل ہوں اس لیے کہ وہ ان کی اصلاح حال کے لیے نہایت ہی موزوں تھیں اور احسن تھیں۔

حضرت موسیٰ کو اس انداز میں ہدایات لینے کا حکم دینے کے دو مقصد ہیں۔ ایک یہ ، بنی اسرائیل نے ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کی تھی ، ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کرتے کرتے ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، لہذا ان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سختی اور سنجیدگی کی اشد ضرور تھی ، تاکہ وہ ان کے اندر فرائض رسالت اچھی طرح ادا کرسکیں اور پھر فرائض منصب خلافت ادا کرسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ تمام وہ لوگ جو نظریہ حیات کی اساس پر کام کرتے ہوں ان کو اپنے نظریات پر صحیح طرح جم جانا چاہیے۔

اللہ کے نزدیک عقیدہ بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ اس پوری کائنات کے نقطہ نظر سے بھی نظریہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی اس کائنات کے تصرفات اور انسانی تاریخ کے بارے میں انسان کا صاف ستھرا نقطہ نظر ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے بارے میں انسان کے افکار صاف ہونے ضروری ہیں۔ یوں انسان کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی الوہیت کے لیے مخصوص ہو۔ اس کے بعد اس نظریہ پر مبنی ایک ایسا نظام زندگی قائم ہو جو انسانی زندگی کو یکسر تبدیل کردے اور زندگی کے لیے بالکل ایک نیا انداز مقرر کردے۔ وہ نظام ایسا نہ ہو جس کے تحت جاہلیت چلتی ہے ، جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی الوہیت قائم ہوتی ہو۔ غرض پوری زندگی کا ایک ایسا تفصیلی اور جامع نظام جو اس نظریہ حیات پر مبنی ہو۔ ایسے نظام کا قیام ضروری ہے۔ اللہ کے نزدیک واضح عقیدہ اور اس پر مبنی نظام کی بڑی اہمیت ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق ، اس کے اندر انسان کے وجود اور پھر اس انسان کی تاریخ کے بارے اسلامی نظریہ حیات پر انسان کو بڑی سختی سے جم جانا چاہئے۔ انسان کو اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا چاہئے واضح طور پر وہ اپنے نظریات کا اعلان کرے اور دو ٹوک الفاظ میں کرے۔ اس معاملے میں سہل انگاری سے کام نہ لے۔ نرمی اختیار نہ کرے ، رخصتیں تلاش نہ کرے۔ اس لیے کہ یہ بہت ہی اہم اور بنیادی معاملہ ہے۔ اس معاملے کے تقاضے بھی اس قدر مشکل ہیں کہ نرم مزاج ، لچک والے اور رخصتیں تلاش کرنے والے لوگ ان کو پورے نہیں کرسکتے۔

لیکن اسلامی نظریہ حیات پر جمنے اور اسے سختی سے پکڑنے کے معنی یہ بھی نہیں کہ انسان متشدد ، پیچیدہ مزاج اور خشک مزاج ہوجائے۔ اس لیے کہ دین اسلام کی یہ نفسیات نہیں ہیں۔ دین صرف یہ تقاضا کرتا ہے کہ دین کے لیے ایک شخص سنجیدہ ہو ، بات صاف کرتا ہو ، دو ٹوک نظریات رکھتا ہو اور صاف گو ہو۔ یہ باتیں تشدد ، سختی ، خشکی اور بد مزاجی سے الگ ہیں۔ نظریات پر جمنے اور بد مزاجی میں بہرحال فرق ہونا چاہئے۔

حقیقت یہ ہے کہ مصر کی طویل غلامانہ زندگی نے بنی اسرائیل میں ایسی اخلاقی کمزوریاں پیدا کردی تھیں ، جن کے لیے سختی پر مبنی ہدایات ضروری تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کو جس قدر ہدایات بھی دی گئیں ان میں نہایت ہی سختی پائی جاتی ہے۔ تاکہ روایتی سہل انگاری ، کمزور اخلاقی قوت اور بےراہ روی کا علاج کیا جاسکے اور وہ دین کے معاملے میں درست فکر ، صریح آواز اور واضح انداز اختیار کریں۔

وہ تمام اقوام جو ایک طویل عرصے تک غلام رہی ہوں ان کے اندر ایسی ہی اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ غلامی ذلت ، عاجزی ، ڈر ، طاغوت کی غلامی وغیرہ جن کی وجہ سے ایسے لوگ کج فہم ، دھوکہ باز ، سہل انگار اور محنت و مشقت سے بھاگنے والے ہوتے ہیں۔ آج کل ہمارے دور میں جو اقوام بھی غلام رہی ہیں ان کے اندر یہ صفات موجود ہیں کیونکہ غلامی لوگوں کے ضمیر بدل جاتے ہیں۔ ایسے لوگ نظریات سے دور بھاگتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ نظریات کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے۔ جس طرف دنیا چلتی ہے ، یہ لوگ اسی طرف چلتے ہیں اور جدھر کی ہوا ہو انسان اس طرف بڑی آسانی کے ساتھ چل سکتا ہے۔

یہ ہدایات دینے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو یہ بشارت بھی دیتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے نظریہ حیات کو سختی سے تھامے رکھا تو تمہیں زمین کا اقتدار اعلیٰ نصیب ہوگا اور تم فاسقون کے گھروں کے مالک بن جاؤ گے۔ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ " عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا "

آیات کے اس ٹکڑے کا اقرب مفہوم یہ ہے کہ اس سے مراد ارض مقدس ہے جو اس دور میں بت پرستوں کے قبضے میں تھی۔ یہ حضرت موسیٰ کو بشارت تھی کہ تم اس پر قابض ہوگے۔ اگرچہ حضرت موسیٰ کے عہد میں بنی اسرائیل اس میں داخل نہ ہوئے کیونکہ آپ کے دور میں ابھی تک ان کی اخلاقی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی۔ ان کے اخلاق ابھی تک درست نہ تھے کیونکہ وہ جب ارض مقدس کے سامنے آئے تو انہوں نے اپنے نبی سے کہہ دیا " اے موسیٰ ! اس میں تو ایک جبار قوم بستی ہے اور ہم اس وقت تک اس میں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس سے نکل نہیں جاتے۔ ہاں اگر وہ نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہوں گے "

ان میں ایک دو شخص سچے مومن تھے ، انہوں نے اصرار کیا کہ شہر میں داخل ہوجاؤ اور حملہ کردو ، یہ دو شخص در اصل الہ سے ڈرنے والے تھے۔ اس پر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ جواب دیا " ہم تو اس شہر میں ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک یہ قوم وہاں موجود ہے۔ تم اور تمہارا رب جاؤ، لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں انتظار میں "۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل کا مزاج کس قدر بگڑا ہوا تھا۔ وہ کس قدر کج رو تھے اور حضرت موسیٰ ان کی دعوت اور ان کی شریعت کن لوگوں کی اصلاح کے لیے تھی۔ ایسے حالات میں یہ نہایت ہی موزوں ہدایت تھی کہ تورات کی ہدایات کو قوت سے پکڑو اور اپنی قوم سے ان پر سختی سے عمل کراؤ۔

اردو ترجمہ

میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیٹرھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Saasrifu AAan ayatiya allatheena yatakabbaroona fee alardi bighayri alhaqqi wain yaraw kulla ayatin la yuminoo biha wain yaraw sabeela alrrushdi la yattakhithoohu sabeelan wain yaraw sabeela alghayyi yattakhithoohu sabeelan thalika biannahum kaththaboo biayatina wakanoo AAanha ghafileena

اب اس منظر کے آخر میں اور موسیٰ اور رب موسیٰ کے مکالمے کے اختتام پر ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جو متکبر ہیں ، جو اللہ کے معجزات و ہدایات سے منہ موڑتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں اور ان لوگوں کی تصویر کشی بڑے واضح رنگ اور قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے عین مطابق۔

اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کے بارے میں اپنی مشیت کا اعلان فرماتے ہیں جو اس زمین میں بغیر جواز کے تکبر کرتے ہیں اور بڑے بنتے ہیں۔ یہ لوگ کس قسم کے ہوتے ہیں ؟ ایسے کہ چاہے جو معجزانہ استدلال ان کے سامنے پیش کیا جائے وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ ان کو کسی اچھے کام کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک نہیں کہتے ، اگر وہ برائی کا کوئی کام بھی دیکھیں اس کی طرف لپکیں لہذا ایسے لوگوں کا صحیح علاج یہ ہے کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ایسے لوگوں پر کام کیا جائے جو مانتے ہیں ، یہ تو ماننے والے نہیں ، آیات و دلائل جو اس کائنات میں ظاہر و باہر ہیں اور وہ آیات و دلائل جو اللہ کی کتابوں میں ہیں ، اس لیے کہ انہوں نے پہلے سے تکذیب کا فیصلہ کرلیا ہے اور اعراض کا فیصلہ کرلیا ہے۔

قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے ہوں گے ان کی حرکات اور ان کی صفات یہ ہیں : الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۔ جو بغیر کسی حق کے زمین پر بڑے بنتے ہیں۔

اس لیے کہ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے کا حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر خود بڑا بنے۔ بڑائی تو اللہ کی صفت ہے ، اور کبریائی میں اللہ کسی کو شریک نہیں کرتا کیونکہ یہ اللہ کی چادر ہے۔ لہذا کوئی انسان جو اس کرہ ارض پر بڑا بنتا ہے وہ بغیر جواز کے تکبر کرتا ہے اور سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ کوئی اس سرزمین پر قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرلے اور اللہ کے بندوں پر اللہ کے بجائے اپنا اقتدار اعلیٰ استعمال کرے۔ اور لوگوں سے اپنے قوانین پر عمل کرائے۔ اس تکبر اور بڑائی سے تمام دوسری برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ تمام شرارتوں کی بنیاد ہے اور ہر قسم کا فساد اس سے برپا ہوتا ہے اور اس کے بعد دوسری صفات ایسے لوگوں کی یہ آتی ہیں۔ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۔ اگر سیدھا راستہ سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں۔ ان کی یہ فطرت ہے کہ سیدھے راستے کو دیکھ کر ہی اس سے ایک طرف ہوجاتے ہیں اور ٹیڑھے راستے کو دیکھتے ہی اس پر روانہ ہوجاتے ہیں اور یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اور اس کے خلاف وہ نہیں جاسکتے۔ یہ ہے ان کی صفت۔ قرآن کریم اس انداز میں اس کی تعبیر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ کی مشیت نے ایسے لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ سزا یہ ہے کہ ہدایت کے دروازے ان کے لیے بند کردیے گئے ہمیشہ کے لیے۔

اس قسم کے لوگ ہمیں ہر معاشرے میں ملتے رہتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ حق سے اجتناب کرتے ہیں اور باطل کی طرف سخت میلان رکھتے ہیں اور بغیر تدبیر اور بغیر سوچے باطل کی طرف لپکتے ہیں۔ سچائی کا مستقیم راستہ ان کو مشکل اور باطل کا ٹیڑھا راستہ ان کو آسان نظر آتا ہے اور ایسے لوگ اللہ کی آیات و دلائل اور معجزات سے دور بھاگتے ہیں ، ان پر غور و فکر نہیں کرتے ، ان کے ذرائع فہم و ادراک پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور نہ فطرت اور حق کے اشارات ان پر اثر کرتے ہیں۔

سبحان اللہ ، اس عجیب قرآنی ہدایات کی ان جھلکیوں سے اس قسم کے لوگ ممتاز طور پر نظر آتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو اپنے ماحول اور معاشرے میں دیکھتے ہی ایک قاری کہہ اٹھتا ہے۔ ہاں ہاں اس قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ فلاں فلاں شخص ان قرآنی کلمات کا مصداق ہے۔

اس قسم کے لوگوں کو ایسی ایسی تباہ کن اور مہلک سزا دے کر اللہ تعالیٰ ان پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہ وہ سزا و جزا ہے جس کے وہ لوگ ٹھیک طور پر مستحق ہیں جو آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں غفلت برتتے ہیں اور زمین میں بغیر حق اپنی بڑائی جماتے ہیں۔ ان کی روش یہ ہے کہ ہر اس راستے سے ایک طرف ہوجاتے ہیں جو ہدایت کا راستہ ہو اور ہر اس راستے کی طرف لپکتے ہیں جو گمراہی کا راستہ ہو ، ایسے لوگوں کو تو ان کے عمل کی سزا مل رہی ہے اور یہ لوگ اپنے طرز عمل کی جہ سے ہلاکت کے دروازے تک آپہنچے ہیں۔ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ۔ اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہی کرتے رہے " ا

اردو ترجمہ

ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اُس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے کیا لوگ اِس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena kaththaboo biayatina waliqai alakhirati habitat aAAmaluhum hal yujzawna illa ma kanoo yaAAmaloona

ور یہ کہ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا " ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا آخرت کی ہستی کا انکار کیا اور اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے ، کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں۔

حبطت کا لفظ حبوط سے ہے۔ کہتے ہیں حبطت اعمالہم۔ جب وہ زہریلی گھاس چرے اور اس کا پیٹ پھول جائے اور پھر اس سے گیس نکل جائے۔ اس لفظ کو باطل کی قوت کے لیے اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باطل کے اعمال بظاہر بہت ہی پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی جب غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے تو پھر کچھ نہیں رہتا۔

یہ تو مناسب سزا ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی جوابدہی سے انکار کیا لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اعمال کس طرح ختم ہوجاتے ہیں اور برباد ہوجاتے ہیں ؟

نظریاتی اور اعتقادی لحاظ سے تو ہمارا ایمان ہے کہ ان کے اعمال ضائع ہوں گے ، اگرچہ ظاہری حالات ایسے نظر آئیں کہ ان میں ، ان لوگوں کے اعمال کا یہ انجام متوقع نہ نظر آتا ہو۔ لیکن جو کوئی بھی اللہ کی آیات کی تکذیب کرے اور آخرت کی جوابدہی کا یقین نہ رکھے اس کے اعمال آخر کار ضائع اور برباد ہوں گے اور ان کی حیثیت اسی ہوگی جیسے کہ وہ کچھ نہیں ہیں۔

لیکن نظری پہلو سے بھی یہ بات واضح ہے کہ جو لوگ ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں جو اس پوری کائنات کے صفحات میں بکھرے پڑے ہیں اور ان کی تائید میں وہ آیات و دلائل بھی موجود ہیں جو اللہ کے پیغمبروں نے پیش کیے ، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ آخرت کی جوابدہی کا بھی انکار کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کی روح در اصل مسخ شدہ ہے اور ایسے لوگ اس کائنات کے مزاج اور اس کے قوانین سے سرکش ہیں۔ اس کائنات سے ایسے شخص کا کوئی حقیقی رابطہ نہیں ہوتا اور نہ اس قسم کے لوگ اس سچی جدوجہد کی راہ سے ہم آہنگ ہیں۔ ایسے لوگوں کے اعمال چونکہ کائنات کے رخ ، اس کے مقاصد اور اللہ کے قوانین کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ اعمال اگرچہ بظاہر خیرہ کن ہوں بےحقیقت ہیں۔ اگرچہ بظاہر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوں ، اس لئے کہ یہ اعمال ان دائمی مضبوط دواعی اور نظریات پر مبنی نہیں ہوتے جو اس پوری کائنات کی بنیاد ہیں۔ ان اعمال کا ہدف اور نصب العین وہ نہیں ہوتا جو اس پوری کائنات کا ہدف اور نصب العین ہے۔ ان کی مثال اس نہر جیسی ہے جو اپنے سرچشمے سے کٹ گئی ہو اور اس نے جلد یا بدیر لامحالہ خشک ہونا ہے۔

جو لوگ ان ایمانی اقدار اور انسانی تاریخ کے درمیان گہرے رابطے کا ادراک نہیں کرسکتے اور جو لوگ تقدیر کے اس اٹل فیصلے کو نہیں پا سکتے جو ان لوگوں کے حق میں صاد ہوچکا ہے جو ان ایمانی اقدار کے منکر ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ غافل ہیں۔ اور انہی کے بارے میں یہ سزا سنائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی سنت جاریہ اور ناموس کلی کو نہ پا سکیں گے۔ کیونکہ ان کا رخ پھر گیا ہے اور اب ان کے بارے میں آخری فیصلے کا ظہور باقی ہے۔

جن لوگوں کو اس دنیا کی عمر مختصر نے غرے میں ڈال دیا ہے اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آخرت سے غافل لوگ بظاہر اس دنیا میں بڑی کامیابی سے زندگی بسر کر رہے ہیں ، ان کو یہ دھوکہ اس سو جن سے ہوگیا جو کسی جانور کو مسوم گھاس کھانے کی وجہ سے لاحق ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جانور تازہ اور موٹا ہوگیا اور وہ بہت ہی صحت مند ہے۔ حالانکہ در حقیقت وہ مرنے والا ہوتا ہے۔

اس دنیا میں جو اقوام نابود ہوکر مٹ چکی ہیں ، اور ان کی جگہ جو دوسری اقوام آکر آباد ہوگئی ہیں۔ وہ ان سابقہ اقوام سے عبرت نہیں لیتیں۔ وہ اللہ کی اس سنت کو نہیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ کس طرح اس کائنات میں کام کرتی ہے۔ اللہ کی یہ تقدیر اور اس کا نظام جاری وساری ہے۔ اسی میں کسی وقت بھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ اللہ سب لوگوں پر احاطہ کیے ہوئے۔

اردو ترجمہ

موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waittakhatha qawmu moosa min baAAdihi min huliyyihim AAijlan jasadan lahu khuwarun alam yaraw annahu la yukallimuhum wala yahdeehim sabeelan ittakhathoohu wakanoo thalimeena

جس دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دربار میں تھے ، یہ ایک منفرد ملاقات تھی اور ہماری محدود آنکھوں کے لیے ظاہر ہے کہ اس منظر کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں نہ ہماری روح اس منظر کو دیکھ سکتی ہے اور ہماری فکر اور قوت مدرکہ اس کے بارے میں حیران ہے۔ حضرت موسیٰ کی عدم موجودگی میں ان کی قوم نے گمراہی اختیار کرلی۔ وہ دوبارہ مصری بیماریوں میں مبتلا ہوگئے اور بت پرستی کے گڑھے میں گر گئے۔ انہوں نے ایک بولتے ہوئے بچھڑے کے بت کو اپنا الہ بنا لیا اور اس کی عبادت شروع کردی۔

ان حالات میں اب اس قصے کے نویں منظر سے ہم آگے بڑھتے ہیں اور ہمارے سامنے اس کا دسواں منظر آتا ہے۔ نواں منظر بلند عالم بالا میں ہے ، جس کے مناظر میں خوشی اور روشنی کا ماحول ہے ، محبتوں اور بہار کے مکالمات ہمارے سامنے تھے ، لیکن اچانک ایسا منظر نظر آتا ہے کہ لوگ سربلندیوں سے پستیوں میں گرتے ہیں ، وہ صحت مندی کے بعد وہ دوبارہ بیمار بیمار نظر آتے ہیں۔ واضح سوچ کے بجائے خرافات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

۔۔۔۔

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ۔ موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں بیل کی سی آواز نکلتی تھی

یہ ہے بنی اسرائیل کا مزاج ، وہ قدم قدم پر بےراوہ روی اختیار کرتے ہیں۔ وہ ظاہری اور معنوی کسی بھی اعتبار سے بلندی کی طرف نہیں جاتے بلکہ ان کی فطرت میں پستی کی طرف گرنا ہی لکھا ہے۔ جونہی ہدایت و راہنمائی کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے وہ غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں۔

انہوں نے بحر قلزم کو معجزانہ طور پر پار کرتے ہی دیکھا کہ ایک قوم بت پرستی میں مشغول ہے تو انہوں نے پیغمبر سے مطالبہ کردیا کہ ہمارے لیے بھی ایسا ہی الہ بنا دیا جائے۔ اس پر حضرت موسیٰ نے انہیں روکا اور ان کے اس خیال کو سختی سے رد کردیا۔ جب حضرت موسیٰ طور پر گئے اور انہوں نے دیکھا کہ ایک سنہری بچھڑا آواز نکال رہا ہے اور اس میں زندگی کے آثار بھی نہیں محض ایک جسد ہے ، یہ سامری کی مصنوعات میں سے ایک عجیب صنعت تھی۔ یہ شخص سامرہ کا رہنے والا تھا ، اس کے بارے میں سورت طلہ میں تفصیلات درج ہیں۔ اس نے اس بچھڑے کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ اس سے بیلوں جیسی آواز نکل رہی تھی۔ جب انہوں نے اسے دیکھا تو ہر طرف سے امنڈ آئے اور جب سامری نے ازروئے شیطنت یہ کہا کہ یہ تمہارے موسیٰ اور تمہارا الہ ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑے۔

اس نے کہا کہ موسیٰ جس الہ کی ملاقات کے لیے گئے ہیں وہ تو یہ رہا۔ موسیٰ نے مقام اور وقت کے تعین میں غلطی کی ہے۔ انہوں نے خصوصاً اس لیے بھی یقین کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزار لیا۔ جب حضرت موسیٰ تیس دنوں کے بعد بھی نہ لوٹے تو سامری نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) غلطی کر گئے ہیں الہ تو یہ رہا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ نے ان کو ایک ایسے رب کی عبادت کی تعلیم دی تھی جو نظر نہیں آتا تھا ، جو رب العالمین تھا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ جسد تو ان میں سے ایک شخص سامری کی صنعت ہے۔ بنی اسرائیل اپنے کردار کا جو نقشہ پیش کر رہے تھے وہ انسانیت کی ایک نہایت ہی بھونڈی تصویر تھی ، قرآن کریم اس تصویر پر تعجب کا اظہار کرکے مشرکین مکہ کو یہ تصور دیتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو ان کی حالت کیا ہے ؟

اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ ۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے۔

اس سے بڑا ظالم کون ہے جو ایک ایسے جسد کی عبادت کرتا ہے جسے خود اس نے بنایا ہو ، حالانکہ خود انسانوں کو اور ان کی مصنوعات کو اللہ بناتا ہے ، حقیقی خالق اللہ ہے۔

ان میں حضرت ہارون موجود تھے ، وہ اس بھونڈی گمراہی سے ان کو نہ روک سکے۔ ان میں بعض عقلاء اور مومنین بھی موجود تھے ، لیکن وہ بھی بتے عقل عوام کے اس ریلے کے ٓگے بند نہ باندھ سکے۔ خصوصاً جبکہ وہ سونے کا بنا ہوا تھا۔

اردو ترجمہ

پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا او ر اُنہوں نے دیکھ لیا کہ در حقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ "اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walamma suqita fee aydeehim waraaw annahum qad dalloo qaloo lain lam yarhamna rabbuna wayaghfir lana lanakoonanna mina alkhasireena

آخر میں جب جوش و خروش ختم ہوا اور لوگوں کے حواس بحال ہوئے اور حقیقت سامنے آگئی اور انہوں نے جان لیا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے اور انہوں نے کھلے شرک کا ارتکاب کرلیا تو وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۔ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے "

سقط فی یدہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کا حیلہ اور تدبیر اس کے سامنے فیل ہوجائے۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ وہ جس گمراہی میں ملوث ہوگئے اب تو وہ اس سے صاف نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ، تو ایسے حالات میں ببے بس ہو کر انہوں نے کہا :" اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے "

اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ان میں اصلاح پذیری کا مادہ بہرحال موجود تھا۔ اور ان کے دل اس قدرت سخت نہ ہوگئے تھے جس طرح بعد میں ہوئے کہ قرآن مجید کو کہنا پڑا کہ وہ پتھر بن گئے یا پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ بہرحال اس وقت جب انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ غلطی پر ہیں اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے سوا ان کے لیے فلاح کا اور کوئی راستہ نہیں ہے تو انہوں نے اس طرح توبہ کی اور اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس دور میں یہ لوگ قابل اصلاح تھے۔

168