اب حضرت موسیٰ کے جذبات ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور آپ معذرت کو معقول سمجھ لیتے ہیں ، اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مغفرت اور شفقت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ۔ تب موسیٰ نے کہا " اے رب ، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما ، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے "
آیت 151 قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ ز وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا :