اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ
وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ
وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًا لِّمِيقَٰتِنَا ۖ فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّٰىَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ ۖ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَٰفِرِينَ
آیت 150 وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًالا غَضْبَان ‘ رَحْمٰنکی طرح فعلان کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی آپ علیہ السلام نہایت غضبناک تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزاج بھی جلالی تھا اور قوم کے جرم اور گمراہی کی نوعیت بھی بہت شدید تھی۔ پھرا للہ تعالیٰ نے کوہ طور پر ہی بتادیا تھا کہ تمہاری قوم فتنہ میں پڑچکی ہے لہٰذا ان کا غم و غصہ اور رنج و افسوس بالکل بجا تھا۔قَالَ بِءْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْم بَعْدِیْ ج۔ یہ خطاب حضرت ہارون علیہ السلام سے بھی ہوسکتا ہے اور اپنی پوری قوم سے بھی۔ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ ج یعنی اگر سامری نے فتنہ کھڑا کر ہی دیا تھا تو تم لوگ اس قدر جلد بغیر سوچے سمجھے اس کے کہنے میں آگئے ؟ کم از کم میرے واپس آنے کا ہی انتظار کرلیتے !وَاَلْقَی الْاَلْوَاحَ کوہ طور سے جو تورات کی تختیاں لے کر آئے تھے وہ ابھی تک آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہی تھیں ‘ تو آپ علیہ السلام نے ان تخیتوں کو ایک طرف زمین پر رکھ دیا۔وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِ یَجُرُّہٗٓ اِلَیْہِ ط۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غصے میں حضرت ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں سے پکڑکر اپنی طرف کھینچا اور کہا کہ میں تمہیں اپنا خلیفہ بنا کر گیا تھا ‘ میرے پیچھے تم نے یہ کیا کیا ؟ تم نے قوم کے لوگوں کو اس بچھڑے کی پوجا کرنے سے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ ز میں نے تو ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا ‘ لیکن انہوں نے مجھے بالکل بےبس کردیا تھا۔ اس معاملے میں ان لوگوں نے اس حد تک جسارت کی تھی کہ وہ میری جان کے درپے ہوگئے تھے۔ فَلاَ تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ شماتتِ اَعداء کا محاورہ ہمارے ہاں اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ‘ یعنی کسی کی توہین اور بےعزتی پر اس کے دشمنوں کا خوش ہونا اور ہنسنا۔ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ اب اس طرح میرے بال کھینچ کر آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں۔وَلاَ تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ آپ مجھے ان ظالموں کے ساتھ شمار نہ کیجیے۔ میں اس معاملے میں ہرگز ان کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں تو انہیں اس حرکت سے منع کرتا رہا تھا۔
آیت 151 قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ ز وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا :
آیت 152 اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُہُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَذِلَّۃٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط۔ غضب سے آخرت کا غضب بھی مراد ہے اور قتل مرتد کی وہ سزا بھی جس کا ذکر ہم سورة البقرۃ کی آیت 54 میں پڑھ آئے ہیں۔
آیت 153 وَالَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْم بَعْدِہَا وَاٰمَنُوْٓاز اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِہَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ وہ لوگ جن سے اس غلطی کا ارتکاب تو ہوا مگر انہوں نے اس سے توبہ کر کے اپنے ایمان کی تجدید کرلی ‘ ایسے تمام لوگوں کا معاملہ اس اللہ کے سپرد ہے جو بخشنے والا اور انسانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ البتہ جو لوگ اس جرم پر اڑے رہے ان پر آخرت سے پہلے دنیا کی زندگی میں بھی اللہ کا غضب مسلط ہوا۔ اس کی تفصیل سورة البقرۃ کی آیت 54 کے تحت گزر چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر قبیلہ کے مؤمنین مخلصین کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے ان مجرمین کو قتل کردیں جنہوں نے گوسالہ پرستی کا ارتکاب کیا۔ صرف وہ لوگ قتل سے بچے جنہوں نے توبہ کرلی تھی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سورة المائدۃ میں آیات محاربہ آیات 33 اور 34 میں ہم نے پڑھا کہ اگر ڈاکو ‘ راہزن وغیرہ ملک میں فساد مچا رہے ہوں ‘ لیکن متعلقہ حکام کے قابو میں آنے سے پہلے وہ توبہ کرلیں تو ایسی صورت میں ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ ہوسکتا ہے بلکہ انہیں معاف بھی کیا جاسکتا ہے ‘ لیکن اگر انہیں اسی بغاوت کی کیفیت میں گرفتار کرلیا جائے تو پھر ان کی سزا بہت سخت ہے۔
آیت 155 وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لِّمِیْقَاتِنَا ج وہ لوگ جو آخری وقت تک اس مشرکانہ فعل پر قائم رہے انہیں قتل کردیا گیا۔ اب اس تطہیر purge کے بعد اجتماعی توبہ کا مرحلہ تھا ‘ جس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کے ستر 70 سرکردہ افراد کو ساتھ لے کر کوہ طور پر حاضری کے لیے روانہ ہوگئے۔فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ کوہ طور پر یا اس کے مضافات میں ان لوگوں کے لیے جسمانی کپکپی یا زمینی زلزلے جیسی خوفناک کیفیت پیدا کردی گئی۔قَالَ رَبِّ لَوْ شِءْتَ اَہْلَکْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَ ط اَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ج قوم کے کچھ جاہل لوگوں نے جو حرکت کی تھی انہیں اس کی سزا بھی مل گئی ہے۔ ہم نے اتنا بڑا کفارہ دے دیا ہے کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل بھی کردیا ہے۔ تو کیا ان کی وجہ سے تو پوری قوم کو ہلاک کر دے گا ؟اِنْ ہِیَ الاَّ فِتْنَتُکَط تُضِلُّ بِہَا مَنْ تَشَآءَ وَتَہْدِیْ مَنْ تَشَآءُ ط مگر یہ تیری طرف سے ایک آزمائش ہے ‘ تو گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔