جن و انس میں سے اکثریت جہنم کے لیے پیدا کی گئی ہے ، اس کے لیے وہ تیار ہو رہے ہیں ، تو ان لوگوں کا یہ انجام کیوں ہے ؟ اس اعلان کے دو پہلو ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کو پیشگی علم تھا کہ وہ یہ مخلوق جہنم کی راہ لے گی اور جہنم تک پہنچے گی۔ ان لوگوں کا عملاً جہنم کی راہ لینا اللہ کے علم سے متاثر نہیں ہوتا۔ اللہ کا علم تو ہر شے پر محیط اور ازلی ہے۔ اللہ کو پیدائش انسان اور عمل انسان سے بھی بہت پہلے معلوم تھا کہ فلاں فلاں یہ راہ لے گا۔ اللہ کا علم وقوع واقعات پر موقوف نہیں ہے بلکہ پہلے سے ذات باری کا حصہ ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ اپنے علم ازلی سے جو ذات باری کے ساتھ ہے لوگوں کو عالم واقعہ میں اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ یہ کریں اور دوسری راہ اختیار نہ کریں بلکہ وہ خود اپنی صلاحیت اور ذات کی وجہ سے خود ایسا کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ فرماتے ہیں " ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ، ان کے پاس آنکھیں ہیں ، مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان کے ساتھ سنتے نہیں "۔
ان کو دل و دماغ اس لیے دئیے گئے تھے کہ وہ انہیں کھولیں اور بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ، جبکہ پورا کائنات میں دلائل ایمان بکھیرے پڑے ہیں ، پھر رسولوں نے جو پیغام دیا اس میں بھی دلائل و معجزات موجود ہیں اگر دل بصیرت رکھتا ہو اور آنکھیں کھلی ہوں تو ہدایت پا سکتے تھے مگر انہوں نے آنکھیں بند کرلیں اور آیات الہیہ کو نہ دیکھا۔ انہوں نے کان بند کرلیے اور پیغمبروں کی دعوت کو نہ سنا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو معطل کرلیا۔ حالانکہ وہ ان کے فائدے کے لیے دی گئی تھیں۔ وہ حیوانات کی طرح غافل رہے لہذا وہ جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں "
وہ لوگ جو ان آیات و نشانات سے غفلت برتتے ہیں جو ان کے ارگرد کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، جو لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے واقعات اور عبرت آموز حادثات دیکھتے ہیں لیکن ان میں ان کو اللہ کا ہاتھ نظر نہیں آتا ، یہ لوگ بیشک جانوروں کی طرح ہیں بلکہ یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے کہ مویشیوں کے بھی کچھ فطری وظائف ہوتے ہیں اور ہر جانور انہیں پورا کرتا ہے۔ رہے جن و انس تو انہیں ایک سوچنے والا دل دیا گیا اور دیکھنے والی آنکھ دی گئی ، سننے والے کان دئیے گئے جب انہوں نے دلوں سے نہ سوچا ، آنکھوں سے نہ دیکھا ، اور کانوں سے نہ سنا اور اس پوری کائنات کی رفتار پر سے غافل ہوکر گزر گئے اور اس کے مقاصد و معانی نہ سمجھے ، ان کی آنکھوں نے ان اشارات کو نہ دیکھا جو یہاں ہیں ، ان کی سماعت پر اس پوری کائنات کی چیخ و پکار نے بھی اثر نہ کیا تو یقینا یہ لوگ اور اس قسم کے دوسرے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ٹھہرے جو کم از کم اپنے فطری وظائف تو سر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ جہنم کے لیے پیدا ہوئے میں اور اللہ کی مشیت کے وسیع دائرے میں اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطالبہ پر جہنم کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ یہ راہ اختیار کریں بلکہ اللہ کو اس کے علم قدیم کے ذریعے اس کا علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے اور بھریں گے اور جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ یعنی جب انسان ہدایت سے منہ موڑتا ہے اور ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے تو نتیجتاً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ اس کے بعد ان کے دل تفقہ سے یکسر خالی ہوجاتے ہیں ‘ ان کی آنکھیں انسانی آنکھیں نہیں رہتیں اور نہ ان کے کان انسانی کان رہتے ہیں۔ اب ان کا دیکھنا حیوانوں جیسا دیکھنا رہ جاتا ہے اور ان کا سننا حیوانوں جیسا سننا۔ جیسے کتا بھی دیکھ لیتا ہے کہ گاڑی آرہی ہے مجھے اس سے بچنا ہے۔ جبکہ انسانی دیکھنا تو یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو دیکھے ‘ اس کی حقیقت کو سمجھے اور پھر درست نتائج اخذ کرے۔ اسی فلسفے کو علامہ اقبال ؔ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا !چنانچہ علامہ اقبال کہتے ہیں ع دیدن دگر آموز ‘ شنیدن دگر آموز ! یعنی دوسری طرح کا دیکھنا سیکھو ‘ دوسری طرح کا سننا سیکھو ! وہ دیکھنا جو دل کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ سننا جو دل سے سنا جاتا ہے۔ لیکن جب ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ہوگئی اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے گئے تو اب ان کا حال یہ ہے کہ یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بد تر اس لیے کہا گیا ہے کہ چوپایوں کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی کم تر سطح پر کیا ہے ‘ جبکہ انسان کا تخلیقی مقام بہت اعلیٰ ہے ‘ لیکن جب انسان اس اعلیٰ مقام سے گرتا ہے تو پھر وہ نہ صرف شرف انسانیت کو کھو دیتا ہے بلکہ جانوروں سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ یہی مضمون ہے جو سورة التین میں اس طرح بیان ہوا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ یعنی انسان کو پیدا کیا گیا بہترین اندازے پر ‘ بلند ترین سطح پر ‘ یہاں تک کہ اپنے تخلیقی معیار کے مطابق وہ مسجود ملائک ٹھہرا ‘ لیکن جب وہ اس مقام سے نیچے گراتو کم ترین سطح کی مخلوق سے بھی کم ترین ہوگیا۔ پھر اس کی زندگی محض حیوانی زندگی بن کر رہ گئی ‘ حیوانوں کی طرح کھایا پیا ‘ دنیا کی لذتیں حاصل کیں اور مرگیا۔ نہ زندگی کے مقصد کا ادراک ‘ نہ اپنے خالق ومالک کی پہچان ‘ نہ اللہ کے سامنے حاضری کا ڈر اور نہ آخرت میں احتساب کی فکر۔ یہ وہ انسانی زندگی ہے جو انسان کے لیے باعث شرم ہے۔ بقول سعدی شیرازی ؔ زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شر مندگی !
اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا ؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔ پس اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا چناچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا مبارک ہو اس کو یہ تو جنت کی چڑیا ہے نہ برائی کی نہ برائی کا وقت پایا آپ نے فرمایا کچھ اور بھی ؟ سن اللہ تعالیٰ نے جنت کو اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کردیا ہے حالانکہ ابھی تو وہ اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں انہیں اسی لئے مقرر کردیا ہے درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہوجائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں اندھے بہرے گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گذار دیتے ہیں اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہوگئے سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھین اندھی ہوگئی ہیں۔ رحمان کے ذکر سے منہ موڑ نے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔ چوپائے بھی تو اپنے حواس کو دنیا کے کام میں لاتے ہیں اسی طرح یہ بھی فکر عقبیٰ سے، ذکر رب سے، راہ مولا سے غافل، گو نگے اور اندھے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ01701) 2۔ البقرة :171) یعنی ان کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو اس کے پیچھے چلا رہا ہے جو درحقیقت سنتی ونتی خاک بھی نہیں ہاں صرف شوروغل تو اس کے کان میں پڑتا ہے۔ چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا ؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کردیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو وہ اللہ کے اطاعت گذار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔