اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ
وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ
مَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِىَ لَهُۥ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
جن و انس میں سے اکثریت جہنم کے لیے پیدا کی گئی ہے ، اس کے لیے وہ تیار ہو رہے ہیں ، تو ان لوگوں کا یہ انجام کیوں ہے ؟ اس اعلان کے دو پہلو ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کو پیشگی علم تھا کہ وہ یہ مخلوق جہنم کی راہ لے گی اور جہنم تک پہنچے گی۔ ان لوگوں کا عملاً جہنم کی راہ لینا اللہ کے علم سے متاثر نہیں ہوتا۔ اللہ کا علم تو ہر شے پر محیط اور ازلی ہے۔ اللہ کو پیدائش انسان اور عمل انسان سے بھی بہت پہلے معلوم تھا کہ فلاں فلاں یہ راہ لے گا۔ اللہ کا علم وقوع واقعات پر موقوف نہیں ہے بلکہ پہلے سے ذات باری کا حصہ ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ اپنے علم ازلی سے جو ذات باری کے ساتھ ہے لوگوں کو عالم واقعہ میں اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ یہ کریں اور دوسری راہ اختیار نہ کریں بلکہ وہ خود اپنی صلاحیت اور ذات کی وجہ سے خود ایسا کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ فرماتے ہیں " ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ، ان کے پاس آنکھیں ہیں ، مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان کے ساتھ سنتے نہیں "۔
ان کو دل و دماغ اس لیے دئیے گئے تھے کہ وہ انہیں کھولیں اور بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ، جبکہ پورا کائنات میں دلائل ایمان بکھیرے پڑے ہیں ، پھر رسولوں نے جو پیغام دیا اس میں بھی دلائل و معجزات موجود ہیں اگر دل بصیرت رکھتا ہو اور آنکھیں کھلی ہوں تو ہدایت پا سکتے تھے مگر انہوں نے آنکھیں بند کرلیں اور آیات الہیہ کو نہ دیکھا۔ انہوں نے کان بند کرلیے اور پیغمبروں کی دعوت کو نہ سنا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو معطل کرلیا۔ حالانکہ وہ ان کے فائدے کے لیے دی گئی تھیں۔ وہ حیوانات کی طرح غافل رہے لہذا وہ جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں "
وہ لوگ جو ان آیات و نشانات سے غفلت برتتے ہیں جو ان کے ارگرد کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، جو لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے واقعات اور عبرت آموز حادثات دیکھتے ہیں لیکن ان میں ان کو اللہ کا ہاتھ نظر نہیں آتا ، یہ لوگ بیشک جانوروں کی طرح ہیں بلکہ یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے کہ مویشیوں کے بھی کچھ فطری وظائف ہوتے ہیں اور ہر جانور انہیں پورا کرتا ہے۔ رہے جن و انس تو انہیں ایک سوچنے والا دل دیا گیا اور دیکھنے والی آنکھ دی گئی ، سننے والے کان دئیے گئے جب انہوں نے دلوں سے نہ سوچا ، آنکھوں سے نہ دیکھا ، اور کانوں سے نہ سنا اور اس پوری کائنات کی رفتار پر سے غافل ہوکر گزر گئے اور اس کے مقاصد و معانی نہ سمجھے ، ان کی آنکھوں نے ان اشارات کو نہ دیکھا جو یہاں ہیں ، ان کی سماعت پر اس پوری کائنات کی چیخ و پکار نے بھی اثر نہ کیا تو یقینا یہ لوگ اور اس قسم کے دوسرے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ٹھہرے جو کم از کم اپنے فطری وظائف تو سر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ جہنم کے لیے پیدا ہوئے میں اور اللہ کی مشیت کے وسیع دائرے میں اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطالبہ پر جہنم کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ یہ راہ اختیار کریں بلکہ اللہ کو اس کے علم قدیم کے ذریعے اس کا علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے اور بھریں گے اور جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
توحید کے فطری اور کائناتی میثاق کے منظر کو پیش کرنے کے بعد اور اس میثاق سے انحراف کرنے والو کی تمثیل کے بعد جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں آیات الہیہ دی جاتی ہیں اور وہ ان سے نکل بھاگتے ہیں۔ اب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو لوگ محرف اور گمراہ ہیں اور جو دعوت اسلامی کا مقابلہ کرتے ہوئے شرک اور کفر کے نمائندے ہیں ، جو اللہ کے ناموں کو بگاڑ کر غلط استعمال کرتے ہیں اور ان سے اپنے بتوں کو موسوم کرتے ہیں۔
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔
اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے
الحاد کے معنی یہ ہیں کہ کوئی راستی سے منحرف ہوجائے۔ جزیرۃ العرب میں منحرفین مشرکین نے اللہ کے اموں میں انحراف اور تبدیلی کردی تھی اور اللہ کے نام انہوں نے قدرے تغیر کے ساتھ اپنے الہوں اور بتوں کے رکھ دئیے تھے ۔
اللہ کو اللات کرکے بت کا نام رکھ دیا۔ العزیز کو العزی بنا کر ایک دوسرے بت کا نام رکھ دیا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نام کسی اور کے لیے استعمال نہ کرو اور اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ ان ناموں کے ساتھ صرف اللہ کو پکاریں اور الفاظ میں بھی کوئی تحریف اور تبدیلی نہ کریں اور نہ امالہ کریں۔ اور اگر منحرفین ان ناموں کو غلطہ استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہم محفل نہ ہوں۔ وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ عنقریب انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ ان کے ساتھ اللہ حساب و کتاب کرلے گا۔
یہ حکم کہ جو لوگ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ان سے قطع تعلق کرلو صرف اس تاریخی صورت حال تک ہی محدود نہیں جس میں وہ لات اور عزی کے لیے اللہ العزیز کو استعمال کرتے تھے ، یہ اسماء الہی کے تحریف لفظی تک محدود ہے۔ یہ کہ اس کا اطلاق ہر قسم کی لفظی اور معنوی تحریف پر بدستور ہوتا ہے۔ چاہے وہ تحریف کریں یا انحراف کریں۔ وہ تصور الہ میں انحراف کریں مثلا اللہ کے لیے اولاد کے قائل ہوں یا یہ معنوی انحراف کریں کہ اللہ کی مشیت قوانین فطرت میں مقید ہے یا وہ اللہ کے اعمال اور اعمال کی کیفیات کو انسانوں کے اعمال کی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ یا وہ اللہ کو زمین و آسمان اور آخرت کا الہ تو قرار دیتے ہیں لیکن ان کے نزدیک زمین پر اللہ کی سیاسی اور قانونی حکمرانی نہیں ہے۔ اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون سازی کرے۔ لوگ بذات خود یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے لیے قانون سازی کریں اور یہ قانون سازی وہ اپنی عقل ، تجربے اور مفادات کے مطابق کریں۔ لہذا سیاسی اعتبار سے ایسے لوگوں کے نزدیک انسان خود اپنے خدا اور معبود ہیں۔ یا بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے خدا اور الہ ہیں۔ یہ تمام افکار اللہ کی ذات وصفات میں الحاد کے ضمن میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان امور سے اپنے آپ کو بچائیں اور دور رکھیں۔ اور جو لوگ اس قسم کا الحاد کرتے ہیں ان کے لیے یہ وعید ہے کہ انہیں سخت سزا دی جائے گی بوجہ اس الحاد کے۔
تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔
ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔
یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔
یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔
ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف پڑھایا جائے اور ایک علمی مشغلہ ہو ، یہ حق اس لیے بھی نہیں آیا کہ یہ محض وعظ اور نصیحت ہو ، بلکہ یہ اس لیے آیا ہے کہ حق لوگوں کے درمیان فیصلے کردے۔ پہلے وہ لوگوں کے اعتقادی تصورات اور نظریات کے فیصلے کرے کہ کیا عقیدہ درست ہے اور کیا نظریہ غلط ہے۔
چناچہ حق سب سے پہلے تطہیر افکار کا کام کرتا ہے اور لوگوں کی فکری اساس کو درست کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد لوگوں کی اجتماعی زندگی کو اس حق پر استوار کرکے اسے ایک نظام زندگی کی شکل میں قائم کرتا ہے۔ لوگوں کی اجتماعی زندگی اور ان کی سوسائٹی کو حق کے اصولوں پر قائم کرکے ، اس اجتماعی نظام میں حق کے قوانین اور شریعت کو نافذ کرتا ہے۔ چناچہ لوگوں کے اخلاق و عادات ، ان کے رسم و رواج ، ان کے طرز عمل اور سلوک کو سچائی پر ، منظم اور استوار کیا جاتا ہے یہ سب کچھ درست تصورات اور عقائد کی اساس پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے طرز فکر ، ان کے علوام اور ان کی ثقافتی سرگرمیوں کو بھی اس نظام حق پر ترقی دی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ ڈیوٹی جو اس امت کو دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ امت ممتاز اور متعارف ہے اور یہ اس امت کی شناخت ہے۔
غرض اس دین کا مزاح بالکل واضح ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی یا التباس ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ٹھوس مزاج ہے اور یہ بدل ہی نہیں سکتا ، جو لوگ دین میں الحد کی مساعی کرنا چاہتے ہیں وہ بسیار سعی نامسعود کے ساتھ دین کے اس سخت مزاج کو بدل نہیں سکتے۔ یہ لوگ اس سلسلے میں ان تھک مساعی کرتے ہیں ، مسلسل اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ، یہ لوگ ہر قسم کے وسائل و ذرائع کام میں لا کر اس دین کے نقطہ نظر کو بدلنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام تجربات سے استفادہ کرتے ہیں ، اس پوری دنیا میں جو لوگ احیائے اسلام کا کام کرتے ہیں اور جو اس سچائی کو سینے سے لگا کر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ان کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہر حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کو مٹانے کی سعی کرتے ہیں اور انہوں نے تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کی تنظیمیں اور حکومتیں قائم کر رکھی ہیں ، پھر یہ لوگ ان علاقوں پر دین فروش علماء کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہ علماء دین اسلام کی تحریف کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ حرام کو حلال کرتے ہیں اور حلال کو حرام کرتے ہیں ، اللہ کی شریعت کو نرم کرتے ہیں اور ہر قسم کے فسق و فجور کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، اور فحاشی کو رواج دیتے ہیں ، اور فحاشی اور فسق و فجور کو اسلامی عنوانات دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو جدید مادی ترقیات سے متاثر ہوں ، اور جدید نظریات سے مرعوب ہوں اور انہیں اپنے جھولوں میں بٹھا کر ورغلاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اسلام کو اپنی ٹھوس اساس سے ہٹا کر جدید نظریات کا رنگ دیتے ہیں یوں اسلام کے اندر جدید نظریات ، تہذیب جدید کے شعارات اور جدید رسوم اور قوانین اسلام کے نام سے داخل کرتے ہیں۔ یہ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسلامی تہذیب ایک تاریخی خادثہ تھا اور اسے کسی صورت میں بھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ نہ اس حادثے کا اعادہ ممکن ہے۔ یہ لوگ اسلام کی عظمت رفتہ کو رفت و گزشت سے تعبیر کرکے مسلمانوں کے جذبات کو سن کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آج اسلام اگر زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ ایک عقیدے اور مراسم عبودیت تک محدود ہو کر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کا سیاسی اور قانونی نظام نہیں چل سکتا۔ اسلام کے لیے عظمت رفتہ کے قصے کہانیاں ہی بہتر اور کافی و شافی ہیں۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ ممکن ہے کہ اسلام کے اندر اس قدر تغیرات پیدا کیے جائیں کہ وہ جدید دور کے حالات کے تابع ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو لوگوں کی خواہشات اور ان کی واقعی صورت حالات کے مطابق ڈھال لے ، اور عالم اسلام میں یہ لوگ خود جو لادینی نظریات رائج کر رہے ہیں ان کو وہ اسلام قرار دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی ایسی تعبیرات کرتے ہیں جو قدیم قرآن میں متعارف نہ تھیں بلکہ خدا اور جبریل اور مصطفیٰ کو بھی ان کا پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ جس طرح قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اسی طرح اسلامی معاشروں کو بھی بدلنا چاہتے ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ دین اسلام کو ایسے افراد کار ہی نہ ملیں جو اس کے کام کے ہوں۔ عالم اسلام میں یہ لوگ ایسا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں جو جنسی بےراہ روی گندے کے تالاب میں غرق ہو اور لوگ فحاشی اور بدکاری اور بد اخلاقی میں غرق ہوں اور جنہیں دنیاوی عیش و مستی کے سوا کسی اور غرض سے سروکار نہ ہو اور وہ دنیا میں اس قدر غرق ہوں کہ انہیں حق و صلاحیت اور اصل قرآنی ہدایات سننے کے مواقع ہی نہ ہوں ، اس طرح کہ غلطی سے بھی ان کے کانوں تک اسلامی ہدایات نہ پہنچ سکیں۔
یہ وہ ہمہ گیر معرکہ ہے جو اس وقت امت کے خلاف اور اس دین کے خلاف چار دانگ عالم میں برپا ہے ، وہ امت جو اس دین سے ہدایت لیتی ہے اور اس کی داعی ہے اور جو اس کا نظام عدل دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ آرائی ہے جس میں دشمنان اسلام ہر قسم کا ہتھیار کام میں لا رہے ہیں۔ بےحد و حساب وسائل اس میں جھونک رہے ہیں۔ اس لیے دشمن اپنی تمام تر قوتوں کو منظر کرکے انہیں وسائل دے کر اور نشر و اشاعت کے تمام ذرائع اور جدید سے جدید ذرائع ابلاغ دے کر میدان میں لایا ہے۔ ان قوتوں کی پشت پر عالمی تنظیمیں اور ادارے ہیں ، اور یہ عالمی کفالت اور ضمانت نہ ہو تو دشمنان اسلام کے یہ ایجنٹ اور یہ ادارے اور حکومتیں اس امت کے داعیوں کے سامنے ایک دن بھی ٹک نہ سکیں۔
لیکن اس ہمہ گیر معرکہ آرائی اور وسیع و عریض مہمات کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین نہایت ہی سخت جان دین ہے۔ یہ امت جو اس دین کے لیے کوشاں ہے ، نہایت ہی سخت جان ہے۔ اپنی قلت تعداد اور اپنے قلت وسائل کے باوجود اور اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ اس وحشیانہ حملے کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے۔
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔
یہ لوگ اس قوت ، اس الہی قوت کو خاطر میں نہیں لاتے ، اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذکورہ بالا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، حالانکہ امت مسلمہ نے اسلام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے وہ اسلام کی قوت پر مجتمع ہے۔ یہ وہ قوت ہے کہ آیات الہیہ کی تکذیب کرنے والے اس کو سمجھ نہیں پا رہے ۔ وہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے کہ اللہ نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے ، اور یہ ڈھیل ایک مقررہ وقت تک ہے ، اور ان کو یہ یقین ہی نہیں ہے کہ اللہ کی تدبیر نہایت ہی مستحکم ہوتی ہے۔ ان دشمنان اسلام نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستیاں گانٹھ رکھی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ان کا راج ہے۔ لیکن یہ لوگ خدا کی قوت کبری کو دیکھ نہیں پا رہے۔ غرض جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ ان کو ڈھیل دئیے رکھتا ہے اور سرکشی اور نافرمانی کے لیے انہیں طویل مہلت دیتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ اللہ کی اسکیم میں پوری طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ تدبیر عام شخص کی نہیں ہوتی کہ اللہ جیسے جبار اور صاحب قوت متین کی تدبیر ہوتی ہے۔ لیکن دشمنان اسلام غافل ہیں اس بات سے کہ آخری انجام ان لوگوں کا ہی ہوگا جو متقین ہیں اور جو حق پر ہیں اور حق کے داعی ہیں اور حق کا نظام عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
قرآن کریم ان آیات میں ان لوگوں کو تنبیہ کر رہا ہے جو اس وقت مکہ میں اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ لیکن یہ آیت مکہ کے لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، ازمنہ مابعد میں بھی امت مسلمہ کے ساتھ اس کے دشمنوں کا یہی سلوک ہے اور ہوگا ، اللہ ان مخالفوں کو مہلت دیتا ہے لیکن اس کی تدبیر مستحکم ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں آنکھیں کھول کر کریں۔ اپنے دل و دماغ سے کام لیں اور اپنے آپ کو جہنمی مخلوق میں شامل نہ کریں۔ اسلام اہل مکہ کو یہ مشورہ دے رہا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں اپنے رویے پر اچھی طرح غور کریں ، کیا وہ دیکھتے نہیں کہ آپ حق کے حامل اور حق کے داعی ہیں۔ نیز اہل مکہ زمین و آسمان کی ساخت اور بادشاہت پر غور کریں۔ کیا اس میں سچائی تک پہنچانے والی آیات و معجزات بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ مہلت جو انہیں دی جا رہی ہے یہ بہت ابدی اور طویل نہیں ہے۔ اللہ کی تدبیر کے وقوع کا وقت بہت ہی قریب ہے۔ وہ کیوں اس قدر غافل ہوگئے ہیں ؟
اسلام یہ کوشش کرتا ہے کہ انسانوں کو مدہوشی سے ہوش میں لائے ، ان کو غفلت کے خواب گراں سے جگائے اور انسان کی فطرت کو ان تہوں کے نیچے سے نکال کر باہر لائے جو اس کے اوپر جمی ہوئی ہیں۔ انسانوں کے شعور کو تازہ کرے۔ قرآن انسان کی شخصیت اور انسانیت کو مخاطب کرتا ہے اور اس کی ان صلاحیتوں کو جگاتا ہے جن کے ذریعہ وہ دعوت اسلام کو قبول کرلیں۔ قرآن کریم محض جامد اور خشک قسم کا مناظرہ نہیں کرتا۔ وہ انسان کی حقیقی شخصیت کو گمراہی کی گہری تہوں کے نیچے سے نکالتا ہے۔
اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْن۔ اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے (جو برا انجام سامنے ٓنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے
قریش کے پاس رسول اللہ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار یہ تھا کہ وہ آپ پر یہ الزام لگاتے کہ آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے اور اس پر دلیل یہ دیتے تھے کہ تم دیکھتے نہیں کہ وہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو عربوں کے معروف اسالیب کلام سے بالکل مختلف ہے۔
قریش جو یہ پر پیگنڈہ کرتے تھے ، اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بک رہے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضور جس دعوت کے حامل ہیں وہ دعوت حق ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن کریم کو سننے کے لیے بےتاب رہتے تھے اور اپنے آپ کو کنٹرول نہ کرسکتے تھے کہ اس کے سننے سے باز رہیں۔ اس سماع کے ان پر گہرے اثرات پڑتے تھے۔ اخنس ابن شریق ، ابو سفیان ابن حرب اور عمرو ابن ہشام ابوجہل کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ سب سے چھپ چھپ کر قرآن سنتے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ یہ تینوں حضرات چھپ کر قرآن سننے کے لیے آئے۔ اس واقعہ کو فی ظلال القرآن میں ہم ذکر کر آئے ہیں۔ نیز عتبہ ابن ربیعہ کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ اس نے خود حضور ﷺ سے سورة فصلت کی آیات سنیں اور انہوں نے اسے متزلزل کردیا۔ اور یہ واقعات بھی مشہور ہیں کہ یہ لوگ موسم حج میں لوگوں کو قرآن سے دور رکھنے کی تدبیر کرتے۔ ولید ابن مغیرہ لوگوں سے کہتے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام ، دعوت اسلام اور قرآن کی حقانیت میں شک نہ رکھتے تھے بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس دعوت سے مقابلے میں بڑا سمجھتے تھے۔ پھر ان کو یہ خطرہ تھا کہ جب ہم لا الہ الا اللہ مھمد رسول اللہ کا اقرار کرلیں گے تو پھر محمد ہمارے حاکم اور مقتدر اعلی ہوں گے۔ کیونکہ اس کلمے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان انسانوں کی غلامی سے نکل کر اللہ کی غلامی میں آجائیں اور تمام طاغوتی طاقتوں کو ختم کردیں۔
قرآن مجید ایک عجیب اور منفرد کتاب ہے ، اور اس کا اسلوب بھی لوگوں کے اندر مروج اسالیب کلام سے زیادہ منفرد ہے ، اس لیے قریش اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے۔ نیز عربوں میں پیشین گوئی کرنے والوں اور مجنونوں کے درمیان یک رنگی ہوتی تھی ، مثلاً مجذوب لوگ عربوں میں بھی اپنے آپ کو عالم بالا سے متعلق قرار دیتے تھے جو اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے جن کی تاویل وہ حسب منشا کرسکتے تھے ، ان روایات کی وجہ سے قریش حضرت نبی ﷺ کو بھی ایک مجذوب یا مجنون قرار دیتے تھے اور آپ کے کلام کو مجذوب یا مجنون کا کلام کہتے تھے۔
قرآن کریم ان لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا تھا اور یہ مشورہ دیتا تھا کہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں غور و فکر کریں جنہیں وہ خوب جانتے تھے اور ان کو معلوم تھا کہ انہوں نے اس سے قبل کبھی ایسی مجذوبانہ باتیں نہیں کی تھیں۔ پھر وہ خود اس بات کے بھی گواہ تھے کہ آپ سچے اور زمین ہیں جبکہ آپ کی حکمت اور دانائی اور سنجیدگی کے بھی وہ قائل تھے۔ جب حجر اسود کے معاملے میں انہوں نے آپ کو حکم بنایا اور آپ نے جو فیصلہ کیا اس کی وجہ سے وہ ایک بہت ہی عظیم خانہ جنگی سے بچ گئے۔ پھر آپ کے پاس سب لوگ اپنی امانتیں رکھتے۔ اور یہ امانتیں اس وقت تک آپ کے پاس تھیں جب تک آپ مکہ میں تھے اور آپ کے چلے جانے کے بعد آپ کے ابن عم حضرت علی ؓ نے لوگوں تک پہنچائیں۔
قرآن مجید ان لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ حضرت محمد کا ماضی کھلی کتاب ہے ، تم آپ کی زندگی کے بارے میں سب کچھ جانتے ہو ، آخر وہ کیا بات ہے کہ جس کی وجہ سے تم ، آبے کو مجنون کہتے ہو ، آبے جس معیار کا کلام آپ پیش کر رہے ہیں کیا یہ مجنونوں اور پاگلوں کا کام ہوسکتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔
مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ۔ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ، وہ ایک خبردار کرنے والا ہے جو صاف صاف متنبہ کر رہا ہے
آپ کی عقل میں کوئی خلل نہیں ہے وہ تو واضح واضح بات کرنے والا ہے۔ آپ کا کلام مجنون کے کلام سے بالکل مختلف ہے۔ اور آپ کے حالات زندگی مجنونوں کے حالات زندگی سے مختلف ہیں۔
اس عجیب کائنات کے بارے میں یہ ایک دوسری کھڑکی ہے اور اس عظیم اور وسیع و عریض کائنات کو کھلی آنکھوں اور بیدار دل کے ساتھ دیکھنے کی دعوت ہے۔ اگر غور سے اس عظیم کائنات ہی پر نظر ڈال لی جائے تو انسانی فطرت جہالت کے جن دبیز پردوں کے نیچے گم ہے وہ باہر نکل آئے اور انسانی شخصیت کے سامنے حق کی راہیں کھل سکتی ہیں اس کائنات میں تخلیق کی عجیب و غریب کارفرمائیاں اور ایسے کارنامے جو معجز ہیں اور جو قادر مطلق اور وحدہ لاشریک کی ذات پر دال ہیں۔ کیا وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر غور نہیں کرتے ، جبکہ اس کائنات میں بیشمار قابل غور چیزیں ہیں جن پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ، انسانی فکر عاجز رہ جاتی ہے اور عقل ان کاریگریوں کے صناع اور کاریگر کی تلاش میں نکل جاتی ہے۔ اور پھر وہ اس ارادے کو جاننا چاہتی ہے جس نے اس خلق کو پیدا کیا اور اس کے لیے اس نظام کو جاری کیا۔
یہ مخلوقات اس طرح کیوں ہے ؟ اس کے علاوہ اس کائنات کے لیے ہزاروں امکانیات تھے۔ یہ کائنات دوسری طرح کیوں نہ بنی۔ دوسرے طریقوں کو چھوڑ کر کیوں یہ کائنات اس موجودہ طریقے پر چل پڑی اور پھر وہ کون سی قوت ہے جو اسے اس نہج پر چلائے رکھتی ہے۔ اس پوری کائنات میں ایک ہی نظام طبیعت جاری وساری ہے ، یہ کیوں ؟ اگر اس کے پیچھے ایک ہی فعال لما یرید نہیں ہے تو اس پوری کائنات میں جاری وساری اور اس کے پیچھے کیوں ایک ہی ارادہ اور ایک ہی ناموس نظر آتا ہے۔ اور ایک ہی تقدیر اور اندازہ مسلسل چل رہا ہے۔
ایک زندہ جسم ! نہیں بلکہ ایک خلیہ ایک عظیم معجزہ ہے جس کے عجائبات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ اس کا وجود اس کی ترکیب اور اس کے تصرفات اور اس کے اندر پیدا ہونے والی مسلسل تبدیلیاں جو مسلسل اس کے وجود کا تحفظ کرتی ہیں اور اس کے اندر پھر کئی نسلوں تک تجدید نسل کا انتظام۔ پھر تمام نسلوں میں اس کے فرائض کا تعین ، جو شخص اس ایک خلیے کا مطالعہ کرے تو اس کا ضمیر اور اس کی عقل کبھی بھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوسکتی کہ یہ کائنات بغیر کسی الہ اور مدبر کے نہیں چل سکتی یا کوئی عقل کبھی بھی اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ بھی ہوسکتا ہے۔
زندگی کا یہ تسلسل بذریعہ نظام نسل کشی بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کائنات ایک خالق اور مدبر کے قانون کے مطابق چل رہی ہے ورنہ کروڑوں سال کے عرصہ میں وہ کون سی طاقت ہے جو نسل کشی کے لیے مرد اور عورت کا ایک تناسب قائم رکھے ہوئے ہے۔ ایسا دور کیوں نہیں آتا کہ مرد ہی مرد پیدا ہوں صرف عورتیں ہی پیدا ہوں۔ اگر کبھی ایسا واقعہ ہوجائے تو اس دور میں نسل کشی کا خاتمہ ہی ہوجائے۔ سوال یہ ہے کہ نسلاً بعد نسل اس تناسب اور توازن کو کس قوت نے قائم کر رکھا ہے۔
یہ توازن زمین و آسمان کے نظام میں مکمل طور پر کار فرما ہے۔ صرف اس زندہ مخلوق ہی اندر نہیں ہے۔ ایک ایٹم کی ساخت اور کسی مرکب چیز کی ساخت میں مکمل توازن موجود ہے۔ زندہ اور مردہ تمام مخلوقات کے اندر مکمل توازن موجود ہے۔ اور اگر ایک لمحہ بھر کے لیے یہ توازن بگڑ جائے تو یہ کائنات ڈھیر ہوکر رہ جائے۔ لہذا یہ بہت ہی اہم سوال ہے کہ وہ ذات کون سی ہے جس نے یہ توازن زمین و آسمان میں قائم کر رکھا ہے۔
جزیرۃ العرب کے باشندے جن کو سب سے پہلے اس قرآن نے مخاطب کیا ، وہ علوم و فنون میں اس قدر زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے کہ وہ زمین اور آسمانوں کے نظام میں پائے جانے والے نہایت ہی لطیف توازن پر غور کرسکتے یا اللہ کی پیدا کردہ کسی ایک ہی چیز کا سائنسی تجزیہ کرسکتے۔ لیکن انسانی فطرت اس کائنات کے ساتھ اپنی گہرائیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انسانی فطرت اور کائنات کی فطرت کے درمیان قائم ربط سائنسی مکالمات کا محتاج نہیں ہے۔ ان کے درمیان ایک توازن پایا جاتا ہے۔ ہر انسان جس کا دل کھلا ہوا اور آنکھوں میں بصیرت ہو وہ اس ہم آہنگی کو محسوس کرسکتا ہے اور اس کے اشارات کو قبول کرکے راہ ہدایت لے سکتا ہے۔
جب انسان اپنی فطرت صافی کے ذریعے فطرت کائنات ک کے ان اشارات کو پاتا ہے تو وہ یقین کرلیتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی الہ ضرور ہے اور اس کے احساس پر یہ حقیقت اور یقین اسی طرح چسپاں ہوجاتا ہے کہ کبھی غائب نہیں ہوتا۔ انسان نے اگر کوئی غلطی کی ہے تو اس نے الہ کی صفات میں کی ہے۔ رسولوں کی بعثت کا مقصد زیادہ تر یہی رہا ہے کہ انہوں نے اس لہ کا تعارف کرایا ہے۔ اس کی صفات کا صحیح تصور دیا ہے۔ رہے جدید ملحد ، یعنی سائنٹیفک اشتراکیت کے داعی تو یہ وہ مسخ شدہ لوگ ہیں جن کی فطرت بگڑ چکی ہے بلکہ در اصل وہ فطرت کے منکر ہیں اور ان کی اپنی فکر میں اگر کچھ اشارات پائے جاتے ہیں تو وہ ان کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص جب فضائے آسمان میں قدرے بلند ہوا اور وہاں سے اس نے یہ حیران کن منظر دیکھا کہ زمین اس عظیم فضا کے اندر ایک چھوٹی سی گیند نظر آتی ہے ، اس کی فطرت نے اس وقت اسے آواز دی کہ ذرا سوچو تو سہی ، اس فضا میں اسے کس چیز نے معلق کر رکھا ہے ، لیکن جب وہ زمین پر اترا اور حکومت کی جانب سے تشدد کا خوف اسے لاحق ہوا تو اس نے یہ بیان دیا کہ اسے فضا آسمانی میں خدا نہیں ملا۔ اس شخص نے اپنی فطرت کی آواز اور فطرت کی جانب سے اصرار کو دبا دیا اور آسمان و زمین کے نظام میں اس کے لیے جو سامان عبرت تھا ، اسے نظر انداز کردیا۔
اللہ تعالیٰ انسان سے مخاطب ہے کیونکہ انسان کی تخلیق اسی نے کی ہے۔ وہ اس کی فطرت سے اچھی طرح واقف ہے آخر میں ان کو حادثہ موت سے ڈرایا جاتا ہے ، جو مستقبل کے پردوں میں چھپا ہوا اور بہت قریب ہے اور عالم الغیب میں وہ وقت طے شدہ ہے اگرچہ یہ لوگ اس وقت سے غافل ہیں۔
وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ ۔ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو ؟ پھر آخر پیغمبر کی اس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات ایسی ہوسکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟
ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کا وقت قریب ہے یا دور ہے ، اور کیا وجہ ہے کہ وہ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیںَ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ان کے کوچ کا وقت پردہ غیب میں مستور ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد دہانی ، خصوصا جب وہ کسی بھی وقت میں آسکتی ہے ، انسان کے دل کو جھنجھوڑنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ اس کی یاد سے انسان کے دل کے دروازے ہدایت کے لیے کھل سکتے ہیں اور انسان معاملات کو حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ اللہ اس قرآن کو نازل کرنے والا اور انسان کو پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ موت کا تصور ہر انسان پر اپنا اثر ضرور کرتا ہے لیکن بعض لوگ اس قدر ضدی ہوتے ہیں کہ وہ یہ اثر قبول کرنے کے باوجود انکار کرتے ہیں اور مکابرے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ حدیث رحلت سے بھی متاثر نہیں ہوتے۔ آخر ان پر کیا چیز اثر کرسکتی ہے ؟ یہی تو بات ہے جو دلوں کو پگھلا دیتی ہے اور وہ نرم ہوجاتے ہیں۔ تذکرہ موت کا ٹچ جو انسانی شخصیت کو اس آیت میں دیا گیا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم انسانی شخصیت کے خطاب میں کیا منہاج اختیار کرتا ہے۔ وہ انسانی شخصیت کے ہر پہلو کو مخاطب کرتا ہے۔ وہ ہر زاویہ اور ہر وتر سے اس پر اثرات چھوڑتا ہے۔ قرآن کریم انانی عقل کو مخاطب نہیں کرتا مگر عقل کو مہمل بھی نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انسانی شخصیت کو ہمہ پہلو خطاب کرتا ہے اور اس کے ہر گوشے کو روشن کرتا ہے۔ قرآن کریم خشک بحث و مباحثے کا طریقہ بھی اختیار نہیں کرتا۔ قرآن کریم عقل اور سوچ زندہ کرتا ہے تاکہ انسان فکر کرے ، لیکن اس کی زندگی سرد اور جامد نہ ہو بلکہ حرارت سے پر ہو اور انسانی شخصیت بھرپور انداز میں آگے بڑھے۔ اسلام کی طرف دعوت دینے والوں کو یہی انداز اختیار کرنا چاہئے کیونکہ انسان بہرحال وہی انسان ہے اور اس کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوئی۔ قرآن بھی وہی قرآن ہے اور یہ قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔ انسان کو اللہ نے جو خطاب کیا ہے وہ اسی طرح قائم ہے ، چاہے دنیا جس قدر بھی ترقی کرے اور حالات جس قدر بھی بدل جائیں۔
اب بات قدرے ایک مختصر وقفے کے لیے رک جاتی ہے اور اس وقفے میں اللہ کی اس سنت کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے۔ جو اللہ نے ہدایت و ضلالت کے لیے اسی دنیا میں جاری کی ہوئی ہے۔ یعنی اس قانون کے مطابق کہ جو شخص ہدایت کے لیے جدوجہد کرے گا ، وہ ہدایت پائے گا ، طلب صادق کے ساتھ اور جو شخص منہ موڑے گا اور دلائل ایمان اور اشارات ہدایت کو پکڑنے کی سعی نہ کرے گا ، گمراہ ہوجائے گا۔
یہاں یہ اشاہ ان لوگوں کے حالات کی مناسبت سے کیا جا رہا ہے ، جن کو قرآن خطاب کر رہا تھا اور قرآن کا یہ انداز اور خاص طریق کار ہے کہ قرآن کریم ایک انفرادی واقعہ کے بیان کے بعد اس سے اصول عامہ اخذ کرتا ہے اور اسے بطور اٹل سنت الہیہ پیش کردیتا ہے۔ وہ واقعہ تو انفرادی ہوتا ہے اور وقوع کے بعد حصہ تاریخ بن جاتا ہے لیکن اصول اپنی جگہ رہتا ہے اور بار بار سامنے آتا رہتا ہے۔
جو لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں ، وہ کیوں گمراہ ہوتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ نہ ہدایت کی فکر کرتے ہیں اور نہ واقعات و مسائل پر تدبر کرتے ہیں اور جو شخص آیات الہیہ سے غفلت کرتا ہے اور ان پر تدبر نہیں کرتا اسے اللہ گمراہ کردیتا ہے اور جسے اللہ نے اپنی سنت کے مطابق گمراہ کردیا پھر وہ ہدایت نہیں پا سکتا اور نہ اس کے لیے کوئی ہادی بن سکتا ہے۔
من یضلل اللہ فلا ھادی لہ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کردے اس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے۔ اور جس شخص پر اللہ ضلالت مسلط کردے ، اپنی سنت جاریہ کے مطابق تو وہ ہمیشہ کے لیے گمراہ ہوجاتا ہے اور وہ ہدایت کے معاملے میں مادر زاد اندھا ہوجاتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ؟
و یذرھم فی طغیانہم یعمھون۔ اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔
ان لوگوں کو اللہ نے اس تاریکی میں چھوڑ کر ، ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ، کیونکہ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے خود اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔ انہوں نے اپنے دلوں کو معطل کردیا تھا۔ اپنے اعضائے مدرکہ سے کام لینا بند کردیا تھا۔ انہوں نے اس دنیا کی تخلیق کے عجائبات پر غور نہ کیا اس کائنات کے رازوں کو پانے کی سعی نہ کی۔ خصوصاً ہر ایک پیدا کردہ چیز کی حقیقت اور اس کے راز جس کی طرف سابقہ آیات میں اشارہ کیا گیا تھا ، انہوں نے اس حقیقت کی شہادت کو قبول نہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انسان نے اس کائنات میں نظر دوڑائی اسے اس کے عجائبات نظر آئے۔ جب بھی اس نے آنکھیں کھولیں اسے کوئی نہ کوئی دلیل نظر آئی۔ جب بھی انسان نے اپنی ذات اور اپنے ماحول کا مطلاعہ کیا۔ اسے اپنی تخلیق کا اعجاز معلوم ہوا ، اسے اپنے ماحول کی ہر مخلوق ایک اعجاز نظر آئی ، لیکن جب انسان نے اپنے آپ کو اندھا کرلیا تو وہ اندھا ہوگیا اور اللہ نے بھی اسے اندھیرے میں چھوڑ دیا اور اس کے بعد جب اس نے سرکشی شروع کردی تو اللہ نے اسے اس میں ڈھیل دی۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکت تک پہنچ جاتا ہے۔ " اور اللہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے "
تفسیر آیات 187 تا 188:۔ یہ لوگ جو اپنے ماحول سے غافل ہیں ، اپنے ماحول سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ پردہ غیب میں مستور قیامت کب برپا ہوگی۔ ان لوگوں کا سوال اسی طرح ہے کہ ایک شخص کی بینائی اس قدر کمزور ہو کہ وہ اپنے قدموں میں کچھ نہ دیکھ سکتا ہو مگر خواہش یہ رکھتا ہو کہ وہ دور افق اعلی میں بھی کچھ دیکھے۔
۔۔۔
عقیدہ آخرت اور اس میں میزان کا قیام اور سزا و جزا کا واقع ہونا یہ مشرکین مکہ کے لیے ایک انوکھا نظریہ تھا حالانکہ یہ عقیدہ دین ابراہیمی کا اساسی عقیدہ تھا اور مشرکین مکہ کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم سے ملتا تھا۔ یہی عقیدہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے دین میں بھی ایک اساسی نظریہ تھا۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد زمانے گزر گے اور وہ اسلام کے ان اصولوں سے دور چلے گئے جو دین ابراہیم اور دین اسماعیل کے اساسی عقائد تھے۔ ایک ایسا دور بھی آیا کہ ان کے تصور ہی سے عقیدہ آخرت مٹ گیا۔ یہ عقیدہ انہیں اب عجیب و غریب نظر آنے لگا تھا اور ان کے شعور زندگی سے بالکل متضاد سا ہوگیا تھا۔ چناچہ جب وہ حضور کی زبان سے دعوت سنتے اور اس میں آپ ان کو بعث و نشر کے بارے میں بتاتے اور حساب و کتاب کے حالات ان کے سامنے رکھتے تو انہیں یہ بات نہایت ہی عجیب و غریب اور بعید الوقوع نظر آتی۔ ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے ان کے اس تعجب کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
قال الذین کفرو ۔۔۔۔ البعید ( سورة سبا) منکرین حق لوگ کہتے ہیں۔ " ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارا جسم ذرہ ذرہ منتشر ہوچکا ہوگا اس وقت تم نئے سرے پیدا کردئیے جاؤگے ؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہوگیا ہے۔ نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں "۔
اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ کوئی امت پوری انسانی کی قیادت اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک اس کے نظام فکر میں عقیدہ بعث بعد موت اچھی طرح پختہ نہ ہوچکا ہو ، اور امت مسلمہ کا فریضۃ بہرحال یہی ہے کہ وہ پوری دنیا کی قیادت کرے۔ لہذا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو ایک محدود زندگی تصور کرے ، جو اس محدود دنیا کے چھوٹے سے کرے پر ہے۔ عقیدہ آخرت کے بغیر اس قسم کی امت کا پیدا کرنا ممکن نہ تھا جس کے سامنے اس قدر عظیم نصب العین ہو۔
عقیدہ آخرت انسانی تصور میں وسعت پیدا کرتا ہے ، نفس انسانی میں کشادگی آجاتی ہے ، زندگی جس کے تسلسل کے بارے میں انسان کی شخصیت کے اندر تمنا پائی جاتی ہے ، وہ تمنا پوری ہوتی ہے اور پھر امت مسلمہ کے ذمہ جو فراض ہیں ان کی ادائیگی کے لیے یہ عقیدہ ضروری ہے۔ پھر اس عقیدے کی وجہ سے انسان کے سفلی جذبات اور محدود دنیاوی خواہشات پر بھی کنٹرول ہوتا ہے۔ نیز اس سے انسان کا دائرہ حرکت وسیع ہوجاتا ہے اور انسان کو دنیا کے محدود نتائج مایوس نہیں کرسکتے اور نہ اسے دردناک قربانیاں اپنے مقصد کے حصول سے روک سکتی ہے نیکی کے کاموں اور دعوت اسلامی کے پھیلانے اور بھلائی کی طرف لوگوں کی قیادت کرنے میں وہ کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ اگرچہ اس کی جدوجہد کے فوری نتائج اس کی منشا کے خلاف ہوں اور اس کی راہ میں دردناک رکاوٹیں ہوں۔ یہ شعور اور یہ اوصاف ہر اس فرد اور جماعت کے لیے ضروری ہیں جس کے کاندھوں پر یہ عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہو۔
آخرت کا عقیدہ دو تصورات کے درمیان ایک دو راہا ہے۔ ایک تصور حیوانی تصور ہے ، جو احساس کے حدود کے اندر محدود ہے۔ دوسرا تصور ایک انسانی تصور ہے جو اس دنیا کو ایک وسیع دائرے کے اندر دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا ہے وہ حیوانی تصور کے ساتھ یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتی۔
یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں امت مسلمہ کے لیے عقیدہ آخرت کے یقین کو ایک اساسی عقیدہ قرار دیا گیا ہے۔ دین اسلام نے عقیدہ آخرت کو نہایت ہی گہرا ، نہایت ہی وسیع اور نہایت ہی واضح شکل میں پیش کیا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مسلمان کے شعور اور عمل میں عالم آخرت ، اس محدود دنیا کے مقابلے میں زیادہ گہرائی تک ، زیادہ وسعت کے ساتھ اور زیادہ واضح طور پر بیٹھا ہوا ہے۔ حالانکہ مسلمان بہرحال اس جہان میں رہ رہے ہیں ، اور یہی وہ خوبی تھی جس کی وجہ سے امت مسلمہ نے انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دیا اور یہ قیادت راشدہ تھی جسے اسلامی اور عالمی تاریخ نے خوب سمجھا۔
سورة اعراف میں اس موضوع پر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے اور یہ سوال نہایت ہی تعجب انگیزی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مشرکین نے فی الواقعہ عقیدہ آخرت کو ایک انوکھی بات سمجھا۔ ان کا سوال یہ بتاتا ہے کہ وہ وقوع قیامت کو مضحکہ خیز سمجھتے تھے اور اسے بالکل بعید از امکان سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یہ سوال کیا۔
یسئلونک عن الساعۃ ایان مرساھا۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟
قیامت ایک غیب ہے اور اس کا علم اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے ، اپنی مخلوق میں سے کسی کو اللہ نے قیام قیامت کی اطلاع نہیں دی کہ وہ کب ہوگی۔ اس کے باوجود مشرکین رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ قیامت کب ہوگی ؟ یہ سوال یا تو بطور امتحان تھا ، یا تعجب کرنے والے شخص کا سوال تھا جو کسی بات کو عجیب و غریب سمجھتا ہو یا ایک ایسے شخص کا سوال تھا جو مسئول الیہ کی توہین کرنا چاہتا ہو اور حقارت کے ساتھ یہ سوال کر رہا ہوں۔
ایان مرساھا کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کی کشتی کب لنگر انداز ہوگی اور قیامت کب واقع ہوکر رک جائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ بہراحال ایک بشر تے۔ آپ علم غیب کے مدعی نہ تے۔ آپ کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ غیبی امور عالم الغیب کے سپرد کردیں۔ اور لوگوں کو یہ بتا دیں کہ یہ موضوع الوہیت کے خصائص کے ساتھ متعلق ہے۔ آپ ایک بشر ہیں اور آپ بشریت کے دائرے سے باہر کسی چیز کے مدعی نہیں ہیں۔ نہ بشریت کے حدود سے باہرجانا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ رب کی جانب سے سکھایا ہوا ہے اور اللہ کی مرضی ہے کہ وہ رسول کو کیا بتائے اور کیا نہ بتائے۔
قل انما علمھا عند ربی لا یجلیہا لوقتھا الا ھو۔ کہو " اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے۔ اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا "
کیونکہ قیامت کا علم اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور اس کا علم لوگوں کو تب ہوگا جب اس کے وقوع کا آغاز ہوگا ، کسی دوسرے پر اس کا انکشاف نہیں کیا گیا۔
اس کے بعد لوگوں کی توجہ اس کے وقت وقوع کے بجائے اس کی حقیقت اور ماہیت کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے اور یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ ایک عظیم اور ہولناک واقعہ ہوگا اور اس کا بوجھ نہایت ہی بھاری ہوگا ، اس کا بوجھ زمین و آسمان کی موجودہ نظر آنے والی کائنات میں بہت ہی بھاری ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اچانک واقعہ ہوگی اور اس سے غافل لوگ اپنی غفلت میں مارے جائیں گے۔
ثقلت فی السموات والارض لا تاتیکم الا بغتۃ۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا۔ وہ تم پر اچانک آجاے گا۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ تمہارا سب اہتمام اس پہلو سے ہو کہ تم اس کی تیاریاں کرو اور جب وہ اچانک آئے تو تم اس کے لیے تیار ہو۔ کیونکہ جب وہ اچانک آئے گی تو اس کو قت کوئی احتیاط اور کوئی قوت کام نہ دے گی ، اس وقت تم جو احتیاطی تدابیر کروگے ، وہی کام آسکیں گی ، وہی قوت کام آئے جو تم نے اس وقت تیار کی ہو۔ اس وقت عمر کافی ہے اور فرصت کے کافی اوقات تمہارے پاس ہیں۔ لہذا ابھی سے اس کے لیے تیاریاں شروع کردو اور ایک منٹ بھی ضائع نہ کرو ممکن ہے کہ اگلے ہی منٹ میں قیامت ہو۔
اس کے بعد ان لوگوں کے سوال پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے اس قسم کا سوال کرتے ہیں یہ لوگ رسالت کی نوعیت اور رسول کی حقیقت سے نابلد ہیں۔ نیز یہ لوگ اللہ عظیم کی بادشاہت کی حقیقت سے بھی لاعلم ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ رب عظیم کے سامنے اللہ کے پیغمبر کس قدر با ادب ہوتے ہیں۔
یسئلونک کانک حفی عنہا۔ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں ، گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو۔
گویا حضور دائماً اسی کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں یا آپ کی ڈیوٹی یہ ہے کہ آپ قیامت کے وقوع کی گھڑی کا کھوج لگائیں۔ ظاہر ہے کہ حضور رب تعالیٰ سے ان موضوعات کے بارے میں پوچھتے ہی نہیں جو الہ العالمین کا مخصوص دائرہ ہے۔
قل انما علمھا عند اللہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ کیونکہ اللہ نے اسے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور اس کی اطلاع کسی کو نہیں دی۔
ولکن اکثر الناس ۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے۔ ۔۔
یہ صرف قیامت کے وقوع کی گھڑی کی بات نہیں ہے۔ یہ ہر غیبی امر کے متعلق اصولی بات ہے۔ علم غیب صرف اللہ کو ہے اور علم غیب میں سے کچھ بات اگر اللہ چاہے تو کسی کو بتا دیتا ہے اور جس قدر چاہے بتا دیتا ہے ، جس وقت چاہتا ہے بتا دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ بعض اوقات لوگ ایک کام کرتے ہیں اور ان کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کے لیے مفید ہوگا لیکن آخر کار وہ ان کے لیے مضر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ ایک کام مضرت کے لیے کرتے ہیں لیکن انجام کار وہ ان کے لیے مفید ہوتا ہے۔ کبھی وہ کسی کام کو ناپسند کرتے ہوئے مجبورا کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے مفید ہوتا ہے اور کبھی وہ کسی کام کو بہت ہی دلچسپی سے محبوب رکھتے ہوئے کرتے ہیں لیکن وہ ان کے لیے مضر ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔
و عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم و عسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم ۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے خیر ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو محبوب رکھو اور وہ تمہارے لیے شر ہو۔ جس شاعر نے یہ کہا ہے اس کی بھی یہی مراد ہے۔
الا من یرینی غایتی قبل مذھبی
ومن ابن والغایات بعد المذاھب
کون ہے جو مجھے میرے مرنے سے پہلے میری منزل بتا سکے قبل اس کے کہ میں سفر کروں ایسا کب ہوسکتا ہے ؟ انجام تو سفر کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے۔
اس شعر میں غیب مستور کے بارے میں انسانی موقف کو بیان کیا گیا ہے ، انسان کا علم جس قدر وسیع ہو اور وہ تعلیم کے میدان میں چاہے جس قدر ترقی بھی کرلے تو اس کے سامنے غیب کا دروازہ بند ہے اور عالم غیب کے سامنے پردے گرے ہوئے ہیں ، اس کی انسانیت کی حدود اسے یہ بات یاد دلاتے رہیں گے کہ اس کی انسانیت کے سامنے غیب کی دنیا محبوب ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی کیا شان ہے اور آپ کو اللہ کے ساتھ جو قرب ہے وہ بھی اپنی جگہ پر ہے۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ عالم غیب کے دروازے پر آپ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں کیونکہ آپ کو غیب کا علم نہیں ہے اور آپ کو راستوں پر چلنے سے پہلے منزل کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ، کوئی بھی اپنے افعال کے انجام سے باخبر نہٰں ہے۔ اس طرح کہ اگر وہ کسی فعل کے انجام کو جانتا ہو کہ وہ اچھا ہوگا تو وہ اس کو کر گزرے اور یا وہ یہ جانتا ہو کہ اس فعل کا انجام برا ہوگا ، تو اس سے رک جائے۔ انسان تو سوچ کر ایک کام کرتا ہے مگر اس کا انجام اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اللہ کی تقدیر ہو۔
قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭوَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْر ِ ٻ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ ڔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔
اے نبی ، ان سے کہو کہ " میں اپنی ذات کے لی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا "
یہ ایک اہم اعلان ہے اور اس کے ساتھ ہی اسلام کا نظریہ توحید بالکل صاف و شفاف ہوکر سامنے آگیا ہے اور وہ ہر قسم کے شرک کے معمولی شائبے سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ذات باری اپنے خصائص میں منفرد ہوگئی ہے اور اس کے خصائص میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں رہا ہے۔ اگرچہ وہ شریک حضرت محمد ﷺ ہی کیوں نہ ہوں۔ جو اللہ کے حبیب ہیں اور اللہ کے برگزیدہ ہیں۔ غیب کے دروازے پر آپ کا راستہ بھی بند ہے ، پوری انسانیت کا علم اس دروازے پر رک جاتا ہے۔ جہاں دوسرے انسان یہاں آکر رک جاتے ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے فرائض بھی یہاں پہنچ کر محدود ہوجاتے ہیں۔
ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یومنون۔ میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ، ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔
رسول اللہ ﷺ تو محض خبردار کرنے والے اور خوشخبری سنانے والے ہیں۔ لیکن آپ کی نذارت و بشارات سے وہی لوگ مستفید ہوسکتے ہیں جو اپنے دلوں میں ایمان رکھتے ہوں ، اہل ایمان ہی اس دعوت کی حققت کو سمجھتے ہیں جس کے آپ حامل ہیں۔ وہی سمجھتے ہیں کہ اس دعوت کے پیچھے کیا آنے والا ہے۔ اہل ایمان در اصل بشریت کا خلاصہ ہیں اور رسول اللہ ﷺ اہل ایمان کا خلاصہ ہیں۔
یہ فقرہ اس شخص کے لیے مفید ہوسکتا ہے جس کا دل کھلا ہو ، جس کا دماغ روشن ہو اور قبولیت حق کے لیے تیار ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے خزانوں کے دروازے اس شخص کے لیے کھلتے ہیں جو مومن ہو ، اس کا پھل وہی شخص چکھ سکتا ہے ، جو مومن ہو اور اس کے اسرار تک رسائی اہل ایمان ہی کی ہوسکتی ہے۔ بعض صحابہ کرام سے مروی ہے کہ اللہ ہمیں قرآن دینے سے قبل ایمان دیتا تھا۔ یہ ایمان ہی تھا جس کے ذریعے ان کو قرآن کا وہ ذوق دیا گیا جس کی مثال نہیں ہے ، اور وہ اس کے معانی اور مقاصد کا وہ ادراک رکھتے تھے جس سے تمام دوسرے لوگ محروم ہیں اور یہ قرآن ہی تھا جس کے ذریعے انہوں نے انسانی تاریخ میں معجزات اور حیران کن کارناموں کا ایک ذخیرہ چھوڑا اور یہ عظیم کارنامے انہوں نے تاریخ کے نہایت ہی مختصر دور میں سر انجام دئیے۔
یہ منفرد گروہ قرآن کریم کی مٹھاس کا صحیح ذوق رکھتا تھا۔ ان کی آنکھیں اس کی روشنی میں دیکھتی تھیں ، وہ اس کے دلائل کو پاتے تھے اور خارق العادۃ پاتے تھے۔ لیکن مخاطبین محمد کے صرف وہی لوگ تھے جن کو حلاوت ایمان نصیب ہوتی تھی۔ یہ قرآن ہی تھا کہ جس کی کشش نے ان کی ارواح کو ایمان کی طرف کھینچا۔ لیکن اس ایمان ہی کی وجہ سے ان پر قرآن کے راز بھی کھلتے گئے۔
یہ لوگ قرآن میں زندہ رہے ، قرآن کے لیے زندہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گروہ منفرد رہا اور کبھی ایسے لوگ دوبارہ پیدا نہ ہوسکے ، یعنی اس قدر کثیر گروہ ، اس قدر نئی جدت کے ساتھ پوری اسلامی بلکہ انسانی تاریخ میں کبھی پیدا نہ ہوسکا ، ہاں چند افراد ، منفرد لوگ کبھی کبھار اسلامی تاریخ میں ضرور پیدا ہوتے رہے۔
وہ ایک طویل عرصے تک قرآن کے لیے وقف ہوگئے تھے۔ وہ قرآن کے چشمہ صافی ہی سے سیراب ہوتے رہے اور اس میں انہوں نے کوئی انسانی کلام یا ہدایت شامل نہ کی۔ الا یہ کہ حضور اکرم کے اقوال و احادیث ان کے لیے ہادی ہے۔ آپ کے اقوال بھی بہرحال قرآن ہی کا حصہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کا یہ گروہ بےمثال رہا۔
جو لوگ وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے کیا تو ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ وہی انداز اختیار کریں جو انہوں نے کیا۔ وہ اس قرآن میں زندہ رہیں اور ایک طویل عرصہ وہ اس میں گم ہوجائیں اور وہ تمام انسانی تحریروں کو چھوڑ کر صرف قرآن کا مطالعہ کریں۔ صرف اسی صورت میں وہ وہی بن سکتے ہیں جو وہ تھے۔ (دیکھیے نشانات راہ باب اول)