توحید کے فطری اور کائناتی میثاق کے منظر کو پیش کرنے کے بعد اور اس میثاق سے انحراف کرنے والو کی تمثیل کے بعد جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں آیات الہیہ دی جاتی ہیں اور وہ ان سے نکل بھاگتے ہیں۔ اب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو لوگ محرف اور گمراہ ہیں اور جو دعوت اسلامی کا مقابلہ کرتے ہوئے شرک اور کفر کے نمائندے ہیں ، جو اللہ کے ناموں کو بگاڑ کر غلط استعمال کرتے ہیں اور ان سے اپنے بتوں کو موسوم کرتے ہیں۔
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔
اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے
الحاد کے معنی یہ ہیں کہ کوئی راستی سے منحرف ہوجائے۔ جزیرۃ العرب میں منحرفین مشرکین نے اللہ کے اموں میں انحراف اور تبدیلی کردی تھی اور اللہ کے نام انہوں نے قدرے تغیر کے ساتھ اپنے الہوں اور بتوں کے رکھ دئیے تھے ۔
اللہ کو اللات کرکے بت کا نام رکھ دیا۔ العزیز کو العزی بنا کر ایک دوسرے بت کا نام رکھ دیا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نام کسی اور کے لیے استعمال نہ کرو اور اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ ان ناموں کے ساتھ صرف اللہ کو پکاریں اور الفاظ میں بھی کوئی تحریف اور تبدیلی نہ کریں اور نہ امالہ کریں۔ اور اگر منحرفین ان ناموں کو غلطہ استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہم محفل نہ ہوں۔ وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ عنقریب انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ ان کے ساتھ اللہ حساب و کتاب کرلے گا۔
یہ حکم کہ جو لوگ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ان سے قطع تعلق کرلو صرف اس تاریخی صورت حال تک ہی محدود نہیں جس میں وہ لات اور عزی کے لیے اللہ العزیز کو استعمال کرتے تھے ، یہ اسماء الہی کے تحریف لفظی تک محدود ہے۔ یہ کہ اس کا اطلاق ہر قسم کی لفظی اور معنوی تحریف پر بدستور ہوتا ہے۔ چاہے وہ تحریف کریں یا انحراف کریں۔ وہ تصور الہ میں انحراف کریں مثلا اللہ کے لیے اولاد کے قائل ہوں یا یہ معنوی انحراف کریں کہ اللہ کی مشیت قوانین فطرت میں مقید ہے یا وہ اللہ کے اعمال اور اعمال کی کیفیات کو انسانوں کے اعمال کی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ یا وہ اللہ کو زمین و آسمان اور آخرت کا الہ تو قرار دیتے ہیں لیکن ان کے نزدیک زمین پر اللہ کی سیاسی اور قانونی حکمرانی نہیں ہے۔ اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون سازی کرے۔ لوگ بذات خود یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے لیے قانون سازی کریں اور یہ قانون سازی وہ اپنی عقل ، تجربے اور مفادات کے مطابق کریں۔ لہذا سیاسی اعتبار سے ایسے لوگوں کے نزدیک انسان خود اپنے خدا اور معبود ہیں۔ یا بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے خدا اور الہ ہیں۔ یہ تمام افکار اللہ کی ذات وصفات میں الحاد کے ضمن میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان امور سے اپنے آپ کو بچائیں اور دور رکھیں۔ اور جو لوگ اس قسم کا الحاد کرتے ہیں ان کے لیے یہ وعید ہے کہ انہیں سخت سزا دی جائے گی بوجہ اس الحاد کے۔
آیت 180 وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَاص۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے اعتبار سے اس کے بیشمار نام ہیں۔ ان میں سے کچھ قرآن میں آئے ہیں اور کچھ احادیث میں۔ ایک حدیث جو حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے ‘ اس میں حضور اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام گنوائے ہیں۔ ان ناموں میں اللہ سب سے بڑا اور اہم ترین نام ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب نام اچھے ہیں ‘ ان ناموں کے حوالے سے اس کو پکارا کرو ‘ ان ناموں کے ذریعے سے دعا کیا کرو۔ جیسے یاسَتَّارُ ‘ یَا غَفَّارُ ‘ یَا کَرِیْمُ ‘ یَا عَلِیْمُ۔ ضمنی طور پر یہاں ایک نکتہ نوٹ کرلیں کہ قرآن مجید میں اللہ کے لیے لفظ صفت کہیں استعمال نہیں ہوا ‘ البتہ حدیث میں یہ لفظ آیا ہے۔ قرآن میں اللہ کے لیے اس حوالے سے اسماء نام کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآءِہٖ ط۔ ’ لحد ‘ کہتے ہیں ٹیڑھ کو۔ ’ لحد ‘ بمعنی قبر کا مفہوم یہ ہے کہ قبر کے لیے ایک سیدھا گڑھا کھود کر اس کے اندر ایک بغلی گڑھا کھودا جاتا ہے۔ اس گڑھے کو سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے لحد کہتے ہیں۔ اسمائے الٰہی کے سلسلے میں ’ الحاد ‘ ایک تو یہ ہے کہ ان کا غلط استعمال کیا جائے۔ اللہ کے ہر نام کی اپنی تاثیر ہے ‘ اس لحاظ سے مراقبوں وغیرہ کے ذریعے سے اللہ کے ناموں کی تاثیر سے کسی کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعض نام جوڑوں کی شکل میں ہیں ‘ کسی صفت کے دو رخ ہیں تو اس صفت سے نام بھی دو ہوں گے ‘ جیسے اَلْمُعِزُّ اور اَلْمُذِلُّ ‘ اَلرَّافِعُ اور اَلْخَافِضُ ‘ اَلْحَیُّ اور اَلْمُمِیْتُوغیرہ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے جو اسماء اس طرح کے جوڑوں کی شکل میں ہیں ان میں سے اگر ایک ہی نام بار بار پکارا جائے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے تو یہ بھی الحاد ہوگا۔ مثلاً اَلْمُعِزُّ اور اَلْمُذِلُّ دو نام ایک جوڑے میں ہیں ‘ یعنی وہی عزت دینے والا اور وہی ذلت دینے والا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یَا مُذِلُّ ‘ یَا مُذِلُّ ‘ یَا مُذِلُّکا ورد شروع کر دے تو یہ الحاد ہوجائے گا۔ کیونکہ اے ذلیل کرنے والے ! اے ذلیل کرنے والے ! مناسب ورد نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے تمام نام جب پکارے جائیں تو ہمیشہ جوڑوں ہی کی صورت میں پکارے جائیں۔
اسماء الحسنیٰ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں انہیں جو محفوظ کرلے وہ جنتی ہے وہ وتر ہے طاق کو ہی پسند فرماتا ہے (بخاری وغیرہ) ترمذی میں ہے ننانوے نام اس طرح ہیں دعا (اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الاخالق الباری المصور الغفار القھار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الہسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشھید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدی المعید المحی الممیت الحی القیوم الواجد الواحد الا حد الفرد الصمد القادر المقتدر المقدم الموخر الا ول الاخر الظاہر الباطن الوالی المتعالیٰ البر التواب المنتقم العفو الروف مالک الملک ذوالجلال والا کرام المقسط الجامع الغنی المغنی المانع الضار النافع النور الھادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور)۔ یہ حدیث غریب ہے کچھ کمی زیادتی کے ساتھ اسی طرح یہ نام ابن ماجہ کی حدیث میں بھی وارد ہیں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نام راویوں نے قرآن میں چھانٹ لئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ یاد رہے کہ یہی ننانوے نام اللہ کے ہوں اور نہ ہوں یہ بات نہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے (اللھم انی عبدک ابن عبدک ابن امتک ناصیتی بیدک ماض فی حکمک عدل فی قصاوک اسالک بکل اسم ھولک سمیت بہ نفسک وانزلتہ فی کتابک اوعلمتہ احد امن خقک اواستاثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تجعل القران العظیم ربیع قلبی ونور صدری و جلاء حزنی و ذھاب ہمی)۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں بیشک جو اسے سنے اسے چاہئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ امام ابو حاتم بن حبان بستی بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ امام ابوبکر بن عربی بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، واللہ اعلم۔ اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عزی نام رکھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں انہیں چھوڑو۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں ان سے منہ موڑ لو۔ الحاد کے لفظی معنی ہیں درمیانہ سیدھے راستے سے ہٹ جانا اور گھوم جانا۔ اسی لئے بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں کیونکہ سیدھی کھدائی سے ہٹا کر بنائی جاتی ہے۔