آیت ” نمبر 22۔
اب یہ دھوکہ تمام ہوا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے آگیا ۔ شیطان نے ان کو اللہ کی اطاعت سے پھیر کر اللہ کی معصیت میں مبتلا کردیا اور یہ سب کچھ اس نے گہری سازش اور دھوکے سے کیا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو دنیا میں اتار دیا ۔ آیت ” (فدلھما بغرو) (7 : 22) ” اس نے دھوکہ دے کر یہ مقصد حاصل کیا ۔ “
اب انہیں اس بات کا شعور ہوا کہ ان کے جسم میں شرمگائیں بھی ہیں ۔ یہ شرمگاہیں پہلے ان کی نظروں سے اوجھل تھیں ۔ چناچہ انہوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ان کو اپنی شرمگاہوں پر رکھنا شروع کردیا ۔ ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شرمگاہوں سے مراد وہ جسمانی حصے ہیں جن کے ظاہر ہونے سے انسان فطرتا شرمندہ ہوتا ہے اور ان مقامات کو صرف وہی شخص ننگا اور ظاہر کرسکتا ہے جس کی فطرت ‘ کسی جاہلی سوسائٹی کی وجہ سے فساد پذیر ہوچکی ہو ۔
آیت ” فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَن تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَأَقُل لَّکُمَا إِنَّ الشَّیْْطَآنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(22)
تب ان کے رب نے انہیں پکارا ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا ‘ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “
ان دونوں نے اللہ کی جانب سے آنے والی یہ جواب طلبی سنی کیونکہ انہوں نے نصیحت کو بھلا دیا اور نافرمانی کی ۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے آنے والی اس ندا کی کیفیت کیا تھی ؟ ویسی ہی طرح پہلی مرتبہ اللہ نے انہیں خطاب کیا تھا ‘ جس طرح فرشتوں کو خطاب کیا تھا ۔ جس طرح ابلیس کو خطاب کیا تھا ۔ یہ سب امور غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں ہم صرف گمان رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ کرتا ہے ۔
اس پکار کے مقابلے میں ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی اس منفرد مخلوق انسان کی شخصیت کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ وہ بھول بھی جاتا ہے اور اس سے غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہے اور یہ کہ اس میں ایسی کمزوریاں بھی ہیں جن کے راستے سے شیطان اس پر انداز ہوتا ہے ۔ نیز یہ کہ یہ انسان نہ ہمیشہ غلطی پر ہوتا ہے اور نہ ہمیشہ صحیح راستے پر ہوتا ہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی اور لغزش کا ادراک کرلیتا ہے اور اس ادراک کے بعد وہ طلب مغفرت کرتا ہے اور نادم ہوجاتا ہے ۔ واپس ہو کر توبہ کرتا ہے اور شیطان کی طرح معصیت اصرار نہیں کرتا ۔ وہ اپنے رب سے معصیت پر معاونت طلب نہیں کرتا ۔
فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ ط اپنی عریانی کا احساس ہونے کے بعد وہ جنت کے درختوں کے پتوں کو آپس میں سی کر یا جوڑ کر اپنے اپنے ستر کو چھپانے کا اہتمام کرنے لگے۔
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں " حضرت آدم ؑ کا قد مثل درخت کھجور کے بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہوگئی، بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے اے درخت مجھے چھوڑ دے درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم مجھ سے بھاگ رہا ہے ؟ کہنے لگے یا اللہ شرمندگی ہے، شرمسار ہوں، گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں، درخت کا پھل کھالیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہوگئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، حضرت آدم مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم مجھ سے بھاگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں یا اللہ مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا کیا وہ تجھے کافی نہ تھا ؟ آپ نے جواب دیا بیشک کافی تھا لیکن یا اللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔ چناچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گذری کھانے پینے کو ترس گئے، پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے آگئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضا چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے، حضرت آدم اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔ مروی ہے کہ حضرت آدم نے جب درخت کھالیا اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی، یہ سنتے ہی حضرت جواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔ حضرت آدم نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی، انہوں نے دعا کی جو قبول ہوئی۔ قصور معاف فرما دیا گیا فالحمد اللہ !