ایک گروہ کوتو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سر پرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں
آیت 30 فَرِیْقًا ہَدٰی وَفَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْہِمُ الضَّلٰلَۃُ ط۔ یعنی جنہوں نے انکار کیا اور پھر اس انکار پر ڈٹ گئے وہ اپنی اس متعصبانہ روش کی وجہ سے ‘ اپنی ضد اور اپنی ہٹ دھرمی کے سبب ‘ اپنے حسد اور تکبر کے باعث گمراہی کے مستحق ہوچکے ہیں۔