اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍ
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةً قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
آیت 23 قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ یعنی ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ یہ وہی کلمات ہیں جن کے بارے میں ہم سورة البقرۃ آیت 37 میں پڑھ آئے ہیں : فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط یعنی آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے اور ان کے ذریعے سے معافی مانگی تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ وہاں اس ضمن میں صرف اشارہ کیا گیا تھا ‘ یہاں وہ کلمات بتا دیے گئے ہیں۔ اس سارے واقعے میں ایک اہم بات یہ بھی قابل غور ہے کہ قرآن میں کہیں بھی کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتا جس سے یہ ثابت ہو کہ ابلیس نے یہ وسوسہ ابتدا میں اماں حوا علیہ السلام کے دل میں ڈالا تھا۔ اس سلسلے میں عام طور پر ہمارے ہاں جو کہانیاں موجود ہیں ان کی رو سے شیطان کے بہکاوے میں پہلے حضرت حوا آئیں اور پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنیں۔ لیکن قرآن اس امکان کی نفی کرتا ہے۔ آیات زیر نظر کے مطالعے سے تو ان دونوں کا بہکاوے میں آجانا بالکل واضح ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں قرآن مسلسل تثنیہ کا صیغہ استعمال کر رہا ہے۔ یعنی شیطان نے ان دونوں کو ورغلایا ‘ دونوں اس کے بہکاوے میں آگئے اور پھر دونوں نے اللہ سے معافی مانگی اور اللہ نے دونوں کو معاف کردیا۔ حضرت حوا علیہ السلام کے شیطان کے بہکاوے میں آنے والی کہانیوں کی ترویج دراصل عیسائیت کے زیر اثر ہوئی ہے۔ عیسائیت میں عورت کو گناہ اور برائی کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Eve حوا سے لفظ evil ان کے ہاں برائی کا ہم معنی قرار پایا ہے۔ عیسائیت میں شادی کرنا اور عورت سے قربت کا تعلق ایک گھٹیا فعل تصور کیا جاتا تھا ‘ جبکہ تجرد کی زندگی گزارنا اور رہبانیت کے طور طریقوں کو ان کے ہاں روحانیت کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ نتیجتاً ان کے ہاں اس طرح کی کہانیوں نے جنم لیا ‘ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلوانے اور ان کی آزمائشوں اور مصیبتوں کا باعث بننے والی دراصل ایک عورت تھی۔ بہر حال ایسے تصورات اور نظریات کی تائید قرآن مجید سے نہیں ہوتی۔
آیت 24 قَالَ اہْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج۔ ھُبُوط کے بارے میں سورة البقرۃ آیت 36 میں وضاحت ہوچکی ہے کہ یہ لفظ صرف بلندی سے نیچے اترنے کے معنی کے لیے ہی خاص نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔ جس دشمنی کا ذکر یہاں کیا گیا وہ حضرت آدم کے ہبوط ارضی کے وقت سے آج تک شیطان کی ذریت اور آدم علیہ السلام کی اولاد کے درمیان مسلسل چلی آرہی ہے اور قیامت تک چلتی رہے گی۔ اس کے علاوہ اس سے بنی نوع انسان کی باہمی دشمنیاں بھی مراد ہیں جو مختلف افراد اوراقوام کے درمیان پائی جاتی ہیں۔وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ یہ ٹھکانہ اور مال و متاع ابدی نہیں ہے ‘ بلکہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے۔ اب تمہیں اس زمین پر رہنا بسنا ہے اور وہاں رہنے بسنے کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں وہ وہاں پر فراہم کردی گئی ہیں۔
آیت 26 یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا ط۔ عربوں کے ہاں زمانۂ جاہلیت کے غلط رسم و رواج اور نظریات میں سے ایک راہبانہ نظریہ یا تصور یہ بھی تھا کہ لباس انسانی جسم کے لیے خواہ مخواہ کا تکلف ہے اور یہ شرم کا احساس جو انسان نے اپنے اوپر اوڑھ رکھا ہے یہ بھی انسان کا خود اپنا پیدا کردہ ہے۔ اس نظریے کے تحت ان کے مرد اور عورتیں مادر زاد ننگے ہو کر کعبۃ اللہ کا طواف کرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ نفہ ذات self annihiliation کا بہت بڑا مظاہرہ تھا اور یوں اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایک خاص ذریعہ بھی۔ اس طرح کے خیالات و نظریات بعض معاشروں میں آج بھی پائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بعض ملنگ قسم کے لوگ لباس پر عریانی کو ترجیح دیتے ہیں ‘ جبکہ عوام الناس عام طور پر ایسے لوگوں کو اللہ کے مقرب بندے سمجھتے ہیں۔ اس آیت میں در اصل ایسے جاہلانہ نظریات کی نفی کی جا رہی ہے کہ تمہارے لیے لباس کا تصور اللہ کا ودیعت کردہ ہے۔ یہ نہ صرف تمہاری ستر پوشی کرتا ہے بلکہ تمہارے لیے زیب وزینت کا باعث بھی ہے۔ وَلِبَاس التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ط۔ سب سے بہتر لباس تقویٰ کا لباس ہے ‘ اگر یہ نہ ہو تو بسا اوقات انسان لباس پہن کر بھی ننگا ہوتا ہے ‘ جیسا کہ انتہائی تنگ لباس ‘ جس میں جسم کے نشیب و فراز ظاہر ہو رہے ہوں یا عورتوں کا اس قدر باریک لباس جس میں جسم جھلک رہا ہو۔ ایسا لباس پہننے والی عورتوں کے بارے میں حضور ﷺ نے کاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ‘ یعنی جو لباس پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ عورتیں جنت میں داخل ہونا تو درکنار ‘ جنت کی ہوا بھی نہ پاسکیں گی ‘ جبکہ جنت کی ہوا پانچ سو سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوجاتی ہے 1۔ چناچہ لِبَاس التَّقْوٰی سے مراد ایک طرف تو یہ ہے کہ انسان جو لباس زیب تن کرے وہ حقیقی معنوں میں تقویٰ کا مظہر ہو اور دوسری طرف یہ بھی کہ انسانی شخصیت کی اصل زینت وہ لباس ہے جس کا تانا بانا شرم و حیا اور خدا خوفی سے بنتا ہے۔
آیت 27 یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا ط اِنَّہٗ یَرٰٹکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ ط چونکہ ابلیس کو اللہ کی طرف سے قیامت تک چھوٹ ملی ہوئی ہے لہٰذا وہ نہ صرف مسلسل زندہ ہے ‘ بلکہ اس نے اپنی اولاد اور اپنے نمائندوں کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انسانوں کے درمیان پھیلا رکھا ہے۔ یہ جن شیاطین چونکہ غیر مرئی invisible مخلوق ہیں اس لیے وہ ایسی ایسی جگہوں پر ہماری گھات میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے طور طریقوں سے حملہ آور ہوتے ہیں جس کا ہلکا سا اندازہ بھی ہم نہیں کرسکتے۔اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ جیسے گندگی اور مکھی کا فطری ساتھ ہے ایسے ہی شیطان اور منکرین حق کا یارانہ ہے۔ جس دل میں ایمان نہیں ہوگا اور وہ اللہ کے ذکر کے نور سے محروم ہوگا ‘ وہ خانۂ خالی را دیو می گیرد کے مصداق شیطان ہی کا اڈہ بنے گا۔
آیت 28 وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْہَآ اٰبَآءَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ط۔ یہ لوگ جب ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تو اس شرمناک فعل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے کہ ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے اور یقیناً اللہ ہی نے اس کا حکم دیا ہوگا۔ یہ گویا ان کے نزدیک ایک ٹھوس ‘ قرائنی شہادت circumstantial evidence تھی کہ جب ایک ریت اور رسم چلی آرہی ہے تو یقیناً یہ سب کچھ اللہ کی مرضی اور اس کے حکم کے مطابق ہی ہو رہا ہوگا۔
آیت 29 قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بالْقِسْطِقف وَاَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ مسجد اسم ظرف ہے اور یہ ظرف زمان بھی ہے اور ظرف مکان بھی۔ بطور ظرف مکان سجدے کی جگہ مسجد ہے اور بطور ظرف زمان سجدے کا وقت مسجد ہے۔وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط یعنی اللہ کو پکارنے ‘ اس سے دعا کرنے کی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کیا جائے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ آیت 186 میں روزے کے احکام اور حکمتوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ کہ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں ‘ اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں ‘ لیکن انہیں بھی تو چاہیے کہ میرا کہنا مانیں۔۔ اور یہ کہنا ماننا یا اطاعت جزوی طور پر قابل قبول نہیں ‘ بلکہ اس کے لیے اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص البقرۃ : 208 کا معیار سامنے رکھنا ہوگا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہونا ہوگا۔ لہٰذا اس حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ اپنی اطاعت کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اسے پکارو۔ یعنی اس کی اطاعت کے دائرے کے اندر کلی طور پر داخل ہوتے ہوئے اس سے دعا کرو۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں بیشمار اطاعتوں سے سابقہ پڑتا ہے ‘ والدین کی اطاعت ‘ اساتذہ کی اطاعت ‘ الوالامر کی اطاعت وغیرہ۔ تو اس میں بنیادی طور پر جو اصول کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔ یعنی مخلوق میں سے کسی کی ایسی اطاعت نہیں کی جائے گی جس میں خالق حقیقی کی معصیت لازم آتی ہو۔ اللہ کی اطاعت سب سے اوپر اور سب سے برتر ہے۔ اس کی اطاعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے باقی سب اطاعتیں ہوسکتی ہیں ‘ مگر جہاں کسی کی اطاعت میں اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو ایسی اطاعت ناقابل قبول اور حرام ہوگی۔
آیت 30 فَرِیْقًا ہَدٰی وَفَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْہِمُ الضَّلٰلَۃُ ط۔ یعنی جنہوں نے انکار کیا اور پھر اس انکار پر ڈٹ گئے وہ اپنی اس متعصبانہ روش کی وجہ سے ‘ اپنی ضد اور اپنی ہٹ دھرمی کے سبب ‘ اپنے حسد اور تکبر کے باعث گمراہی کے مستحق ہوچکے ہیں۔