آیت ” نمبر 85 تا 93۔
یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔
آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85)
” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “
یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی کلمہ اور شعار رہا ہے ۔ ہر پیغمبر اس سے دعوت کا آغاز کر کے پھر دوسری تفصیلات میں جاتا ہے ۔
آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ “۔ (7 : 85)
” تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف راہنمائی آگئی ہے ۔ “
سیاق کلام میں اس طرح شہادت اور راہنمائی کا ذکر نہیں ہے جس طرح قصہ صالح میں شہادت کا ذکر موجود ہے۔ قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرنے کا ذکر نہیں ہوگا لیکن یہاں اس آیت میں معجزے کی طرف اشارہ موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی دوسرے انبیاء کی طرح کوئی معجزہ پیش کیا تھا ۔ اس معجزے کے نتیجے میں اپنی قوم سے آپ کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ناپ اور تول میں کمی بیشی نہ کریں اور فساد فی الارض کے تمام طریقوں سے بچیں نیز راہ زنی اور ڈاکہ زنی جیسے برے افعال سے باز رہیں ۔ اور اہل دین کو محض انکی دین داری کی وجہ فتنے میں نہ ڈالیں۔
آیت ” فَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (85) وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (86)
لہذا وزن اور پیمانے پورے کرو ‘ لوگوں کو انکی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ‘ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اگر تم واقعی مومن ہو ‘ اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ تمہیں بہت کردیا اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ “
اس نہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مشرک قوم تھی ۔ وہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت نہ کرتی تھی ‘ وہ اللہ اقتدار الی میں اللہ کے بندوں کو شریک کرتی تھی ۔ یہ لوگ اپنے معاملات میں اللہ کے عادلانہ قانون کی پیروی نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے باہم معاملات طے کرنے کے لئے خود اپنی جانب سے قواعد گھڑ رکھے تھے ۔ شاید اسی معاملے میں وہ شرک کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ بیع وشری کے معاملات میں وہ بدمعاملہ تھے اور اس کے علاوہ فساد فی الارض ‘ رہزنی اور ڈاکہ زنی کے معاملات بھی ان میں عام تھے ۔ علاوہ ازیں جو لوگ دین دار اور پاکباز تھے انکو بھی وہ ستاتے تھے اور اللہ کی سیدھی راہ سے انہیں روکتے تھے ۔ اللہ کی راہ میں ہر قسم کی استقامت کو وہ ناپسند کرتے تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ غلط راہوں پر چلیں جس میں ان کے مالی مفادات تھے اور اسلامی نظام کو ترک کردیں جس میں ان کا نقصان تھا ۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) دعوت کا آغاز ہی اس کلمہ سے کرتے ہیں کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کرو ‘ اس کے اقتدار اعلیٰ کو دنیا میں قائم کرو اور زندگی کے تمام امور میں اس کے دین اور حکم کو نافذ کرو ۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) اس اصولی اور بنیادی بات سے اپنی دعوت کا آغاز کرتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کے تمام معاملات کا دارومدار اسی اصول پر ہے اور انسان کے اخلاق اور اس کا باہمی طرز عمل اسی قاعدے اور سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور جب تک یہ اصول قائم و استوار نہ ہو ‘ انسان کا کوئی عمل قائم و استوار نہیں رہ سکتا ۔
اللہ وحدہ کی بندگی کی دعوت اور اپنی پوری زندگی کو توحید کے جادہ مستقیم پر قائم کرنے کی دعوت اور شریعت الہیہ کے نفاذ اور فساد فی الارض کو چھوڑنے کی دعوت کے ساتھ ساتھ ان کو حضرت شعیب (علیہ السلام) اس طرف بھی متوجہ فرماتے ہیں کہ تم پر اللہ کا جو فضل وکرم ہے اور اس نے جو انعامات تم پر کیے ہیں ان پر اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ ” یاد کرو وہ زمانہ جب تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کردیا ۔ “ ۔۔۔۔۔ اگر تم ان انعامات پر شکر ادا نہیں کرتے اور بدستور آمادہ فساد رہنے پر مصر ہو تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ “
حضرت شعیب (علیہ السلام) چاہتے ہیں کہ ان کی قوم عدل و انصاف اور وسعت قلبی کا رویہ اختیار کرے ۔ ان لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالے جو ایمان لا کر اللہ کی ہدایت کے پیروکار بن گئے ہیں اور جن کو اللہ نے اپنے دین کی طرف ہدایت کردی ہے ۔ یہ لوگ ہر طرف سے ان لوگوں کی راہ روکنے کی کوشش نہ کریں ۔ نہ ان پر زندگی کے دروازے بند کریں اور نہ انکو ڈرائیں دھمکائیں ۔ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اہل ایمان اور اہل کفر کی اس کشمکش میں کم از کم غیر جانبدار ہو کر نتائج کا انتظار کریں ۔
آیت 85 وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق اسی قوم سے تھا ‘ اس لیے آپ علیہ السلام کو ان کا بھائی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی کا نام ’ قطورا ‘ تھا۔ ان سے آپ علیہ السلام کے کئی بیٹے ہوئے ‘ جن میں سے ایک کا نام مدین تھا جو اپنی اولاد کے ساتھ خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل پر آباد ہوگئے تھے۔ یہ علاقہ ان لوگوں کی وجہ سے بعد میں مدین ہی کے نام سے معروف ہوا۔ مدین کا علاقہ بھی اس زمانے کی بین الاقوامی تجارتی شاہراہ پر واقع تھا۔ یہ شاہراہ شمالاً جنوباً فلسطین سے یمن کو جاتی تھی۔ اس لحاظ سے اہل مدین بہت خوشحال لوگ تھے۔ نتیجتاً ان میں بہت سی کاروباری اور تجارتی بد عنوانیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ لہٰذا ان کی اصلاح کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا۔قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗط قَدْ جَآءَ تْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَ ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلاَحِہَاط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اہل مدین چونکہ کاروباری لوگ تھے لہٰذا ان کے ہاں جو خاص خرابی اجتماعی طور پر پیدا ہوگئی تھی وہ ماپ تول میں کمی کی عادت تھی۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قبل زمانہ کی جن تین اقوام کا ذکر قرآن میں آیا ہے ‘ یعنی قوم نوح ‘ قوم ہود اور قوم صالح ان میں سوائے شرک کے اور کسی خرابی کی تفصیل نہیں ملتی۔ یعنی اس زمانے تک انسانی تمدن اتنا سادہ تھا کہ ابھی اعمال کی خرابیاں اور گندگیاں رائج نہیں ہوئی تھیں۔ تب تک انسان فطرت کے زیادہ قریب تھا ‘ اس لیے وہ پیچیدگیاں جو تمدن کے پھیلنے کے ساتھ بڑھتی ہیں اور وہ بدعنوانیاں جو اس پیچیدہ زندگی کی وجہ سے پھیلتی ہیں وہ ابھی ان اقوام کے افراد میں پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جنسی برائیاں سب سے پہلے قوم لوط میں اور مالی بدعنوانیاں سب سے پہلے اہل مدین میں پیدا ہوئیں۔
خطیب الانبیاء شعیب علیہ اسلام مشہور مؤرخ حضرت امام محمد بن اسحاق ؒ فرماتے ہیں یہ لوگ مدین بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ حضرت شعیب میکیل بن نیشجر کے لڑکے تھے ان کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور اس بستی کا نام بھی یہی تھا یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے کے راستے میں آتا ہے۔ آیت قرآن ولما و رد ماء مدین میں شہر مدین کے کنویں کا ذکر موجود ہے اس سے مراد ایکہ والے ہیں جیسا کہ انشاء اللہ بیان کریں گے۔ آپ نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آچکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑو لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور کرو کچھ یہ خیانت ہے فرمان ہے آیت (ویل للمطففین) ان ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے (ویل) ہے۔ اللہ اس بدخصلت سے ہر ایک کو بچائے۔ پھر حضرت شعیب ؑ کا اور وعظ بیان ہوتا ہے۔ آپ کو بہ سبب فضاحت عبارت اور عمدگی وعظ کے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔