سورہ اعراف (7): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ اعراف کے بارے میں معلومات

Surah Al-A'raaf
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
صفحہ 161 (آیات 82 سے 87 تک)

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَلَا تَقْعُدُوا۟ بِكُلِّ صِرَٰطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ وَإِن كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنكُمْ ءَامَنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَطَآئِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ فَٱصْبِرُوا۟ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ
161

سورہ اعراف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ اعراف کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ "نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama kana jawaba qawmihi illa an qaloo akhrijoohum min qaryatikum innahum onasun yatatahharoona

آیت 82 وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ الاّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْج اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ ان کے پاس کوئی معقول جواب تو تھا نہیں ‘ شرم و حیا کو وہ لوگ پہلے ہی بالائے طاق رکھ چکے تھے۔ کوئی دلیل ‘ کوئی عذر ‘ کوئی معذرت ‘ جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو وہ حضرت لوط علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے گھر والوں کو شہر بدر کرنے کے درپے ہوگئے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اس مقامی قوم سے تعلق رکھتی تھی ‘ اس لیے وہ آخر وقت تک اپنی قوم کے ساتھ ملی رہی۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیٹیوں کو لے کر عذاب آنے سے پہلے وہاں سے نکل گئے۔

اردو ترجمہ

آخر کار ہم نے لوطؑ اوراس کے گھر والوں کو بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faanjaynahu waahlahu illa imraatahu kanat mina alghabireena

اردو ترجمہ

بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waamtarna AAalayhim mataran faonthur kayfa kana AAaqibatu almujrimeena

آیت 84 وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًاط فانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ یہ پتھروں کی بارش تھی اور ساتھ شدید زلزلہ بھی تھا جس سے ان کی بستیاں الٹ کر بحیرۂ مردار کے اندر دفن ہوگئیں۔ قوم لوط علیہ السلام اہل مکہ سے زمانی اور مکانی لحاظ سے زیادہ دور نہیں تھی ‘ اس قوم کے قصے اہل عرب کی تاریخی روایات کے اندر موجود تھے۔ چناچہ اہل مکہ اس قوم کے حسرتناک انجام سے خوب واقف تھے۔

اردو ترجمہ

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waila madyana akhahum shuAAayban qala ya qawmi oAAbudoo Allaha ma lakum min ilahin ghayruhu qad jaatkum bayyinatun min rabbikum faawfoo alkayla waalmeezana wala tabkhasoo alnnasa ashyaahum wala tufsidoo fee alardi baAAda islahiha thalikum khayrun lakum in kuntum mumineena

آیت 85 وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق اسی قوم سے تھا ‘ اس لیے آپ علیہ السلام کو ان کا بھائی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی کا نام ’ قطورا ‘ تھا۔ ان سے آپ علیہ السلام کے کئی بیٹے ہوئے ‘ جن میں سے ایک کا نام مدین تھا جو اپنی اولاد کے ساتھ خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل پر آباد ہوگئے تھے۔ یہ علاقہ ان لوگوں کی وجہ سے بعد میں مدین ہی کے نام سے معروف ہوا۔ مدین کا علاقہ بھی اس زمانے کی بین الاقوامی تجارتی شاہراہ پر واقع تھا۔ یہ شاہراہ شمالاً جنوباً فلسطین سے یمن کو جاتی تھی۔ اس لحاظ سے اہل مدین بہت خوشحال لوگ تھے۔ نتیجتاً ان میں بہت سی کاروباری اور تجارتی بد عنوانیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ لہٰذا ان کی اصلاح کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا۔قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗط قَدْ جَآءَ تْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَ ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلاَحِہَاط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اہل مدین چونکہ کاروباری لوگ تھے لہٰذا ان کے ہاں جو خاص خرابی اجتماعی طور پر پیدا ہوگئی تھی وہ ماپ تول میں کمی کی عادت تھی۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قبل زمانہ کی جن تین اقوام کا ذکر قرآن میں آیا ہے ‘ یعنی قوم نوح ‘ قوم ہود اور قوم صالح ان میں سوائے شرک کے اور کسی خرابی کی تفصیل نہیں ملتی۔ یعنی اس زمانے تک انسانی تمدن اتنا سادہ تھا کہ ابھی اعمال کی خرابیاں اور گندگیاں رائج نہیں ہوئی تھیں۔ تب تک انسان فطرت کے زیادہ قریب تھا ‘ اس لیے وہ پیچیدگیاں جو تمدن کے پھیلنے کے ساتھ بڑھتی ہیں اور وہ بدعنوانیاں جو اس پیچیدہ زندگی کی وجہ سے پھیلتی ہیں وہ ابھی ان اقوام کے افراد میں پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جنسی برائیاں سب سے پہلے قوم لوط میں اور مالی بدعنوانیاں سب سے پہلے اہل مدین میں پیدا ہوئیں۔

اردو ترجمہ

اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala taqAAudoo bikulli siratin tooAAidoona watasuddoona AAan sabeeli Allahi man amana bihi watabghoonaha AAiwajan waothkuroo ith kuntum qaleelan fakaththarakum waonthuroo kayfa kana AAaqibatu almufsideena

آیت 86 وَلاَ تَقْعُدُوْا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ یعنی وہ لوگ راہزنی بھی کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھتہ بھی وصول کرتے تھے۔ ان حرکات سے بھی حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں منع کیا۔

اردو ترجمہ

اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا، تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wain kana taifatun minkum amanoo biallathee orsiltu bihi wataifatun lam yuminoo faisbiroo hatta yahkuma Allahu baynana wahuwa khayru alhakimeena
161