اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَنُخْرِجَنَّكَ يَٰشُعَيْبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَٰرِهِينَ
قَدِ ٱفْتَرَيْنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِى مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَٰتِحِينَ
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَٰسِرُونَ
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَا ۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًا كَانُوا۟ هُمُ ٱلْخَٰسِرِينَ
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَٰفِرِينَ
وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّبِىٍّ إِلَّآ أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا۟ وَّقَالُوا۟ قَدْ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذْنَٰهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
آیت 88 قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاط قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِہِیْنَ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے متکبر سرداروں نے آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ماننے والوں سے کہا کہ اگر تم لوگ ہمارے ہاں امن اور چین سے رہنا چاہتے ہو تو تمہیں ہمارے ہی طور طریقوں اور رسم و رواج کو اپنانا ہوگا ‘ بصورت دیگر ہم تم لوگوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا تم لوگ زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس پھیر لو گے جبکہ ہم تو ان طور طریقوں سے نفرت کرتے ہیں !
آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ اپنے فکرو فلسفہ پر بھروسہ کرتا ہے اور نہ اپنی عقل و استقامت کا سہارا لیتا ہے ‘ بلکہ صرف اور صرف اللہ کی توفیق اور تیسیر پر توکل کرتا ہے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس کے مطابق حضرت شعیب علیہ السلام نے اس طرح فرمایا ‘ حالانکہ ان کے واپس پلٹنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاط عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ط اور ہمارے رب نے تو ہر شے کے علم کا احاطہ کیا ہوا ہے ‘ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے۔
آیت 93 فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ ج فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ یعنی حضرت شعیب علیہ السلام نے امکانی حد تک اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ پھر بھی اگر قوم نہیں مانی تو گویا ان لوگوں نے خود اپنی بربادی کو دعوت دی۔ اب ایسے لوگوں کی ہلاکت پر افسوس کرنے کا جواز بھی کیا ہے۔ لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کے ان الفاظ سے واضح ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام کو اپنی قوم کے انجام پر شدید رنج و غم اور صدمہ تھا اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہنا اپنے دل کی ڈھارس بندھانے کا ایک انداز ہے۔ بہر حال حقیقت یہ ہے کہ نبی اپنی قوم اور بنی نوع انسان کے لیے بہت شفیق ‘ مہربان اور ہمدرد ہوتا ہے اور اپنی قوم پر عذاب آنے پر اسے بہت زیادہ صدمہ ہوتا ہے۔
آیت 94 وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ الآَّ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ یہ اللہ کے ایک خاص قانون کا تذکرہ ہے ‘ جس کے بارے میں ہم سورة الانعام آیات 42 تا 45 میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کسی رسول کو بھیجا جاتا تو اس قوم کو سختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر کے ان کے لیے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کا ماحول پیدا کیا جاتا۔ کیونکہ خوشحالی اور عیش کی زندگی گزارتے ہوئے انسان ایسی کوئی نئی بات سننے کی طرف کم ہی مائل ہوتا ہے ‘ البتہ اگر انسان تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ ضرور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ لہٰذا کسی رسول کی دعوت کے آغاز کے ساتھ ہی اس قوم پر زندگی کے حالات تنگ کردیے جاتے تھے ‘ لیکن اگر وہ لوگ اس کے باوجود بھی ہوش میں نہ آتے ‘ اپنی ضد پر اڑے رہتے ‘ اور رسول کی دعوت کو رد کرتے چلے جاتے ‘ تو ان پر سے وہ سختیاں اور تکلیفیں دور کر کے ان کو غیرمعمولی آسائشوں اور نعمتوں سے نواز دیا جاتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا ڈھیل دینے کا ایک انداز ہے کہ اب اس قوم نے برباد تو ہونا ہی ہے مگر آخری انجام کو پہنچنے سے پہلے ان کی نافرمانی کی آخری حدود دیکھ لی جائیں کہ اپنی اس روش پر وہ کہاں تک جاسکتے ہیں۔ یہ ہے وہ قانون یا اللہ کی سنت ‘ جس پر ہر رسول کے آنے پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ سورة السجدہ میں اس قانون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ اور ہم انہیں مزا چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ یہ رجوع کریں۔ بڑا عذاب تو عذاب استیصال ہوتا ہے جس کے بعد کسی قوم کو تباہ و برباد کر کے نسیاً منسیا کردیا جاتا ہے۔ اس بڑے عذاب کی کیفیت مکی سورتوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا ج الاعراف : 92 ‘ اور سورة ہود : 68 ‘ 95 وہ لوگ ایسے ہوگئے جیسے وہاں بستے ہی نہیں تھے۔ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاط الانعام : 45 پس ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْط الاحقاف : 25 اب صرف ان کے مسکن ہی نظر آ رہے ہیں۔ یعنی عذاب استیصال کے بعد اب ان کی کیفیت یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے عالیشان محل تو نظر آ رہے ہیں ‘ لیکن ان کے مکینوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا۔۔ قانون قدرت کے تحت اس نوعیت کے عذاب الاکبر سے پہلے چھوٹی چھوٹی تنبیہات آتی ہیں تاکہ لوگ خواب غفلت سے جاگ جائیں ‘ ہوش میں آجائیں ‘ استکبار کی روش ترک کر کے عاجزی اختیار کریں اور رجوع کر کے عذاب استیصال سے بچ سکیں۔
آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے گی۔