سورہ اعراف (7): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ اعراف کے بارے میں معلومات

Surah Al-A'raaf
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
صفحہ 167 (آیات 138 سے 143 تک)

وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَٰطِلٌ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ قَالَ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ ۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ
167

سورہ اعراف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ اعراف کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی کہنے لگے، "اے موسیٰؑ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں" موسیٰؑ نے کہا "تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wajawazna bibanee israeela albahra faataw AAala qawmin yaAAkufoona AAala asnamin lahum qaloo ya moosa ijAAal lana ilahan kama lahum alihatun qala innakum qawmun tajhaloona

آیت 138 وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ بنی اسرائیل خلیج سویز کو عبور کر کے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے تھے۔فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّہُمْ ج۔ بتوں کا اعتکاف کرنے سے مراد بتوں کے سامنے پوری توجہ اور یکسوئی سے بیٹھنا ہے جو بت پرستوں کا طریقہ ہے۔ بت پرستی کے اس فلسفے پر ڈاکٹر رادھا کرشنن 1888 ء تا 1975 ء نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن ساٹھ کی دہائی میں ہندوستان کے صدر بھی رہے۔ انہوں نے اپنی تصنیفات کے ذریعے ہندوستان کے فلسفے کو زندہ کیا۔ یہ برٹرینڈرسل 1872 ء تا 1970 ء کے ہم عصر تھے اور یہ دونوں اپنے زمانے میں چوٹی کے فلسفی تھے۔ برٹرینڈ رسل ملحد تھا جبکہ ڈاکٹر رادھا کرشنن مذہبی تھا۔ اتفاق سے ان دونوں نے کم و بیش 90 سال کی عمر پائی۔ بت پرستی کے بارے میں ڈاکٹر رادھا کرشنن کے فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جو کسی دیوی یا دیوتا کے نام کے بت بناتے ہیں تو ہم ان بتوں کو اپنے نفع یا نقصان کا مالک نہیں سمجھتے ‘ بلکہ ہمارا اصل مقصد ایک مجسم چیز کے ذریعے سے توجہ مرکوز کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ تصوراتی انداز میں ان دیوتاؤں کے بارے میں مراقبہ کرنا اور پوری توجہ کے ساتھ ان کی طرف دھیان کرنا بہت مشکل ہے ‘ جبکہ مجسمہ یا تصویر سامنے رکھ کر توجہ مرکوز کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اسی انسانی کمزوری کو علامہ اقبال نے اپنی نظم شکوہ میں اس طرح بیان کیا ہے ؂خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر !بہر حال بنی اسرائیل نے اس بت پرست قوم کو اپنے بتوں کی عبادت میں مشغول پایا تو ان کا جی بھی للچانے لگا اور انہیں ایک مصنوعی خدا کی ضرورت محسوس ہوئی۔قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ ط۔ اس قوم کی حالت دیکھ کر بنی اسرائیل کا بھی جی چاہا کہ ہمارے لیے بھی کوئی اس طرح کا معبود ہو جس کو سامنے رکھ کر ہم اس کی پوجا کریں۔ چناچہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اپنی اسی خواہش کا اظہار کر ہی دیا۔ جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سخت ڈانٹ پلائی :قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ تم کتنی بڑی نادانی اور جہالت کی بات کر رہے ہو !

اردو ترجمہ

یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna haolai mutabbarun ma hum feehi wabatilun ma kanoo yaAAmaloona

اردو ترجمہ

پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala aghayra Allahi abgheekum ilahan wahuwa faddalakum AAala alAAalameena

اردو ترجمہ

اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith anjaynakum min ali firAAawna yasoomoonakum sooa alAAathabi yuqattiloona abnaakum wayastahyoona nisaakum wafee thalikum balaon min rabbikum AAatheemun

تقریباً یہی الفاظ سورة البقرۃ آیت 49 میں بھی گزر چکے ہیں۔

اردو ترجمہ

ہم نے موسیٰؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی موسیٰؑ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا کہ "میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WawaAAadna moosa thalatheena laylatan waatmamnaha biAAashrin fatamma meeqatu rabbihi arbaAAeena laylatan waqala moosa liakheehi haroona okhlufnee fee qawmee waaslih wala tattabiAA sabeela almufsideena

آیت 142 وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً یعنی کوہ سینا طور پر طلب کیا۔ عام طور پر اس طرح کہنے سے دن رات ہی مراد ہوتے ہیں ‘ لیکن عربی محاورہ میں رات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔وَّاَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ج۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور پر چلہ مکمل کیا ‘ جس کے دوران آپ نے لگاتار روزے بھی رکھے۔ ہمارے ہاں صوفیاء نے چلہ کاٹنے کا تصور غالباً یہیں سے لیا ہے۔

اردو ترجمہ

جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ "اے رب، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں" فرمایا "تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا" چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰؑ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا "پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walamma jaa moosa limeeqatina wakallamahu rabbuhu qala rabbi arinee anthur ilayka qala lan taranee walakini onthur ila aljabali faini istaqarra makanahu fasawfa taranee falamma tajalla rabbuhu liljabali jaAAalahu dakkan wakharra moosa saAAiqan falamma afaqa qala subhanaka tubtu ilayka waana awwalu almumineena

فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا جَلَا یَجْلُو جَلَاءً کے معنی ہیں ظاہر کرنا ‘ روشن کرنا۔ اس سے تجلّی باب تفعل ہے ‘ یعنی کسی چیز کا خود روشن ہوجانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی تھی جو پہاڑ پر ڈالی گئی جس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا۔وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج تجلئ باری تعالیٰ کے اس بالواسطہ مشاہدے کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کرسکے۔ پہاڑ پر تجلی کا پڑنا تھا کہ آپ علیہ السلام بےہوش ہو کر گرپڑے۔فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سوال کی جسارت پر توبہ کی اور عرض کیا کہ اے اللہ ! میں تجھے دیکھے بغیر سب سے پہلے تجھ پر ایمان لانے والا ہوں۔

167