سورۃ البقرہ: آیت 157 - أولئك عليهم صلوات من ربهم... - اردو

آیت 157 کی تفسیر, سورۃ البقرہ

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

اردو ترجمہ

انہیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika AAalayhim salawatun min rabbihim warahmatun waolaika humu almuhtadoona

آیت 157 کی تفسیر

اللہ کی طرف سے عنایات ہوں گی ۔ یہاں صابرین کے لئے لفظ صلوات استعمال کرکے گویا صابرین کو ان صلوات (عنایات) میں شریک کردیا گیا ، جو اللہ اور اس کے فرشتے نبیوں پر بھیجتے رہتے ہیں ۔ کیا ہی بلند مقام ہے ۔ کیا فیضان رحمت ہے کہ خود اللہ گواہ ہے کہ مصائب میں صبر کرنے والے ہی دراصل صحیح معرفت رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں ۔ غرض ہر بات عظیم اور محیر العقول ہے ۔

تحریک اسلامی کی تیاری اور تربیت کے اس سبق کے آخر تک ہم پہنچ گئے ۔ ذرارک کر جائزہ لیجئے ! مصائب وشدائد ، قتل وشہادت ، جان ومال کا نقصان ، بھوک و افلاس اور خوف وخطر اور دوسری مشکلات کے لئے یہ عظیم تیاری اور تربیت ، پر آشوب اور پر خطر اور عظیم المشقت طویل ترین معرکہ حق و باطل کے لئے یہ عظیم تیاری ۔ یہ سب امور گہرے غور وفکر کے مستحق ہیں۔

ذرا دیکھئے ! اللہ ان تمام مصائب اور مشکلات کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف صرف ایک بات ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایات ، اس کی جانب سے رحمت کے مستحق ہیں اور یہ اعلان کہ دنیا میں یہی لوگ ہدایت پر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس موقع پر مؤمنین صابرین کے ساتھ کسی ظفرمندی اور کامرانی کا وعدہ نہیں فرماتے ، کسی خصوصی امداد کا بھی یہاں کوئی اعلان نہیں کیا جاتا ۔ نہ یہاں مال غنیمت کا لالچ دیا جاتا ہے ۔ کچھ بھی نہیں ! صرف اللہ کی رحمت و عنایت کا وعدہ ہوتا ہے اور یہ شہادت دی جاتی ہے کہ وہ یقیناً سچائی اور حق پر ہیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ صابرین کو ایک ایسے کام کے لئے تیار کررہا تھا جو ان کی ذات وحیات سے زیادہ قیمتی ہے ۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہر اس خواہش ورغبت سے پاک کرنا چاہتا ہے ، جس کا تعلق دنیا سے ہو۔ یہاں تک کہ ان کو ہدایت کی گئی کہ جس نصب العین کے لئے وہ کام کررہے ہیں ، جس نظریہ حیات کے لئے وہ جدوجہد کررہے ہیں اور جان تک دینے کو تیار ہیں ، اس کے غلبہ کی خواہش تک دلوں سے نکال دیں ۔ اور صرف رضائے الٰہی اور اطاعت خداوندی کو اپنا منشور قرار دیں ۔ وہ صرف حکم الٰہی کے پابند ہوں۔ وہ آگے بڑھتے چلے جائیں اور ان کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ، اللہ کی رحمت کے حصول اور اس اطمینان کے سوا کچھ نہ ہو ، کہ وہ حق کے لئے نکلے ہیں اور صحیح رستے پر ہیں ۔ یہ ہے صحیح نصب العین ۔ یہ ہے صحیح غرض وغایت اور یہ اور صرف یہ ہے وہ ثمر شیریں جس کے لئے وہ والہانہ دوڑ رہے ہیں ۔ رہی یہ امید کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں انہیں فتح ونصرت حاصل ہوگی ۔ انہیں کرہ ارض پر غلبہ و اقتدار نصیب ہوگا تو یہ تصرف و غلبہ یہ اقتدار واختیار ان کے لئے تو نہیں ہے ، یہ تو اس دعوت اسلامی کا غلبہ ہوگا جس کے وہ حامل ہیں ۔

رہے اہل ایمان مجاہدین ، تو انہیں ایک عظیم اجر دے دیا گیا ، اللہ کی عنایات اور اللہ کی رحمت ہوگی اور انہیں یہ سرٹیفکیٹ دے دیا گیا کہ وہی حق پر ہیں ۔ اور انہیں یہ اجر کس کے بدلے دیا گیا ؟ جان ومال کی قربانی پر اور آمدنیوں پر دیا گیا۔ یہ اللہ کی راہ میں قتل و شہادت پر دیا گیا ہے ۔ لیکن پھر بھی اللہ کے فضل و عنایت کا پلڑا بھاری ہے ۔ یہ عنایت تمام عنایات سے بھاری ہے ۔ فتح ، نصرت اور تمکن فی الارض تمام امور سے یہ عنایت بھاری ہے ۔ نیز یہ اس مسرت سے زیادہ خوش آئند ہے جو فتح ونصرت اور اسلامی انقلاب کے بعد حسرت دل پوری ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ ہے وہ ترتیب جس سے اللہ تعالیٰ نے اسلامی محاذ کو گزارا۔ بنی نوع انسان میں سے ، جو شخص اپنے نفس ، اپنی دعوت اور اپنے دین کو پاک وصاف کرنا چاہتا ہے ، اسے چاہئے کہ وہ تربیت کے اس انداز کو اپنائے۔

درس 10 ایک نظر میں

اس سبق میں بعض بنیادی اصولوں کی تصحیح مطلوب ہے ، جن پر اسلامی تصور حیات کی عمارت قائم ہے ۔ اسلام کے ان بنیادی اصولوں کے سلسلے میں مدینہ طیبہ کے یہودی تلبیس کرتے تھے اور حق کو باطل سے ملاتے تھے ، جان بوجھ کر حق چھپاتے تھے ، مسلمانوں کے دلوں میں اضطراب اور ذہنوں میں پراگندگی پیدا کرتے تھے ۔ اس لئے ضروری تھا ان اصولوں کے بارے میں واضح احکام دیئے جائیں ۔ البتہ انداز بیان عمومی ہے اور یہود اور دوسرے مخالفین کے برخلاف بات اصولی طور پر کی گئی اور مسلمانوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے ، جو اس راہ میں ، بالعموم انہیں درپیش ہوسکتے ہیں ۔

صفا اور مروہ کے درمیان طواف کے مسئلے کو بھی لیا گیا ہے ۔ دور جاہلیت میں اس سعی کے ساتھ چونکہ بعض غیر اسلامی اور شرکیہ تصورات وابستہ تھے ، اس لئے وضاحت کردی گئی کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہیں لہٰذا سعی جائز ہے ۔ تحویل قبلہ سے بھی اس کی مناسب واضح ہے ۔ نیز بیت اللہ کے حج اور دوسرے شعائر کو چونکہ اسلامی نظام نے قائم رکھا ہے ، اس لئے یہ مناسب تھا کہ ان امور کے سلسلے میں اسلامی نظام اپنی پالیسی واضح کرے ۔

یہودی اللہ کی تعلیمات وہدایات کو چھپاتے تھے ۔ یہاں ان کی سخت مذمت کی جاتی ہے ۔ البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، صدبار اگر توبہ شکستی بازآ، لیکن اگر وہ اپنی روش پر قائم رہتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں تو ان پر لعنت کی بارش ہوگی اور دردناک عذاب ان کا منتظر ہے ۔ اللہ کی وحدانیت کا بیان اور اس پر تکوینی دلائل ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے شدید وعید ہے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ان تابعین اور مبتوعین کے تعلق کا ایک منظر بھی پیش کیا گیا ہے جو قیامت میں اس وقت سامنے آئے گا جب یہ لوگ عذاب الٰہی دیکھیں کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے بریت کا اظہار کریں گے لیکن بےسود ۔

جو لوگ محض دنیاوی اغراض ومناصب کے لئے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام چھپاتے ہیں ، انہیں سخت تنبیہ کی گئی ہے ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ آخرت میں ذلت ، حقارت اور اللہ تعالیٰ کا شدید غضب تمہارے لئے تیار ہے ۔

آخر میں نیکی اور بدی کا اسلامی معیار بتایا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح ہی وہ اصول ہیں ، جن سے اسلامی تصور حیات درست ہوتا ہے ۔ نیکی سے مراد کوئی ظاہری شکل و صورت نہیں ہے نہ صرف شرق وغرب کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنا اصول تقویٰ میں سے ہے ۔ نیکی تو شعور وعمل اور شعور عمل میں اللہ سے پختہ رابطے کا نام ہے ۔ یہ بیان دراصل تحویل قبلہ کے مباحث سے ملحق ہے۔

اس تمام بحث کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بات اسی ایک مضمون یعنی معرکہ حق و باطل کے اردگرد گھومتی ہے ۔ ذہن انسانی میں حق و باطل کی کشمکش ہے ۔ اسلامی اقدار کا تعین ہورہا ہے اور تصور حیات کی وضاحت ہورہی ہے اور بیرونی سازشوں اور مکروفریب اور ذہنی پراگندی پیدا کرنے والے مخالفین کے اعتراضات اور پروپیگنڈے کا جواب دیا گیا ہے۔

آیت 157 اُولٰٓءِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ قف ان پر ہر وقت اللہ کی عنایتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے اور رحمت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعتا ہدایت کو اختیار کیا ہے۔ اور جو ایسے مرحلے پر ٹھٹک کر کھڑے رہ جائیں ‘ پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائیں ‘ پیٹھ موڑ لیں تو گویا وہ ہدایت سے تہی دامن ہیں۔

امیر المومنین حضرت عمربن خطاب ؓ فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میرے خاوند حضرت ابو سلمہ ایک روز میرے پاس حضور ﷺ کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا (اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا) یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کرلیا جب حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے آیت (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑلی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابو سلمہ سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے ؟ جب میری عدت گذر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ آنحضور ﷺ تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور حضور ﷺ سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی کوشش ظاہر کی، میں نے کہا حضور ﷺ یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اول تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ حضور ﷺ کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہوجائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ نے فرمایا سنو ایسی بےجا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا حضور ﷺ مجھے کوئی عذر نہیں چناچہ میرا نکاح اللہ کے نبی ﷺ سے ہوگیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول ﷺ عطا فرمایا فالحمد للہ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے، مسند احمد میں حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گذر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا، ابن ماجہ میں ہے حضرت ابو سنان فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابو طلحہ خولانی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہ کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور انا للہ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔

آیت 157 - سورۃ البقرہ: (أولئك عليهم صلوات من ربهم ورحمة ۖ وأولئك هم المهتدون...) - اردو