اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ
ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ
أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ
۞ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ ٱللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَٰبِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌ أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ
خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحْمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ
معرکہ حق و باطل میں کچھ لوگ کام آئیں گے ، راہ حق میں جان دیں گے ۔ کچھ عزیز ومحبوب مارے جائیں گے ، کچھ شرفاء اور دین دار بھی شہید ہوں گے ، تو جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں اور جو لوگ معرکہ خیر وشر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ، وہ بالعموم پاک نیت اور صاف دل اور صیقل شدہ روح کے مالک ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ اگر اللہ کی راہ میں مارے جائیں تو وہ مردہ نہیں ہیں ۔ درحقیقت وہ زندہ ہیں ۔ یہ جائز نہیں کہ انہیں مردہ کہو ، نہ تو اپنے احساس اور شعور میں انہیں مردہ سمجھو اور نہ ہی زبان سے انہیں مردہ پکارو ۔ وہ تو زندہ ہیں اور اللہ اس پر گواہ ہے ۔ وہ زندہ ہیں یقیناً وہ زندہ !
چشم ظاہر بیں ، دیکھتی ہے کہ بظاہر وہ مرچکے ہیں ۔ کیا یہ سطحی نظر موت وحیات کی حقیقت کا فیصلہ کرسکتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ زندگی عمل ، ارتقاء اور تسلسل کا نام ہے ۔ موت بےکاری ، جمود اور انقطاع سے عبارت ہے ۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کا عمل جاری رہتا ہے ، ان کی شہادت معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہتی ہے ۔ ان کا خون اس نظریہ حیات کو پہنچتا ہے اور اس سے نظریہ حیات نشوونما پاتا ہے ۔ دوسرے افراد اس شہادت سے متاثر ہوتے رہتے ہیں اور یہ تاثر لگاتار قائم رہتا ہے ۔ شہادت کے بعد بھی شہداء فعال اور موثر ہوتے ہیں ۔ ان کا خون پورے معاشرے کی زندگی میں ایک رنگ پیدا کرتا رہتا ہے ۔ اور یہ تسلسل تاقیامت رہتا ہے ۔ یہ ہے زندگی ، بلکہ حیات جاوداں ۔ اس اعتبار سے تو لوگوں کی اس دنیا میں بھی وہ زندہ ہیں ۔
لیکن وہ اپنے رب کے ہاں بھی زندہ ہیں اور وہاں بھی اس طرح زندہ ہیں جیسے یہاں زندہ ہیں۔ رب کے ہاں ان کی زندگی کی کیا کیفیت ہے ؟ اسی طرح ہے جیسے یہاں ہے یا یہ کہ ہمیں اس کیفیت کا پورا شعور نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَدراصل وہ زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ۔ “ ہمارے علم کا دائرہ محدود ہے ۔ اور یہ ایسی زندگی ہے جسے ہم نہیں سمجھ سکتے ۔ لیکن بہرحال وہ ہیں زندہ !
وہ زندہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عام مردوں کی طرح انہیں غسل نہیں دیا جاتا ۔ انہیں ان کے انہی کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے جن میں وہ شہادت پاتے ہیں ۔ غسل سے غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ مردے کا جسم پاک ہوجائے لیکن شہداء پہلے سے پاک ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کے بدن میں روح ہوتی ہے ۔ دنیا میں جو کپڑے انہوں نے پہنے ہوئے تھے قبر میں بھی وہی پہنیں گے کیونکہ بہرحال وہ زندہ ہیں ۔
وہ زندہ ہیں ۔ ان کے خاندان میں اس قتل پر ماتم نہیں ہے۔ ان کے یاروں دوستوں پر یہ جدائی گراں نہیں ہے۔ وہ اس طرح زندہ ہیں کہ اپنے خاندان اور عزیز و اقارب کے امور حیات میں شریک ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ۔ اسی لئے تو پیچھے رہنے والوں پر ان کی جدائی گراں نہیں ہوتی ۔ یہ عظیم واقعہ ، یہ عظیم قربانی نہ انہیں خائف کرتی ہے ، نہ ان کے لئے بوجھ بنتی ہے ۔ وہ زندہ ہیں تو پھر ؟ وہ اپنے رب کے ہاں باعزت طور پر رہ رہے ہیں ۔ ان کو بلند ترین اعزاز دیا جاتا ہے اور ان کی اس قربانی کا پورا پورا بدلہ چکا دیا جاتا ہے ، بلکہ فضل عظیم اس پر مزید ہوتا ہے۔
صحیح مسلم میں روایت ہے ” شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں ، جنت میں جہاں چاہیں اڑتی پھرتی ہیں ، پھر وہ عرش کے نیچے معلق قندیلوں میں آکر بسیرا کرتی ہیں ۔ “ اس کی اطلاع تو رب ذوالجلال کو ہوتی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” تم کیا چاہتے ہو ؟ “ وہ کہتے ہیں ! ہمارے رب ہمیں اور کیا چاہئے ۔ آپ نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا ؟ اللہ تعالیٰ پھر وہی سوال فرماتے ہیں ۔ جب انہیں علم ہوجاتا ہے کہ جب تک وہ کچھ مانگیں گے نہیں جان نہ چھوٹے گی ۔ تب وہ کہتے ہیں ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں دوبارہ دنیا میں لوٹادیں ، ہم آپ کی راہ میں لڑیں ، ایک بار پھر مارے جائیں ۔ اس لئے کہ شہادت کا اجر تو وہ خود دیکھ ہی رہے ہیں ۔ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں !” میں نے لکھ دیا ہے شہداء پھر دنیا میں نہ لوٹائے جائیں۔ “
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ” رسول ﷺ نے فرمایا ! کوئی شخص ایسا نہیں جو ایک بار جنت میں داخل ہوجائے اور پھر وہاں سے نکلنے کی تمنا کرے ۔ اگرچہ اسے تمام دنیا بخش دی جائے ۔ ہاں صرف شہید اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا کو لوٹایا جائے اور ایک مرتبہ پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو ، کیونکہ اسے نظر آتا ہے کہ شہید کی کیا قدر ہے۔ “ (مسلم ، بخاری)
یہ شہداء کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑیں۔ صرف اللہ کی راہ میں ۔ اس میں کوئی دوسرا نعرہ ، کوئی دوسرا مقصد اور کوئی دوسرا نظریہ شریک نہ ہو ، صرف اس سچائی کے لئے لڑ رہے ہوں ، جسے اللہ نے نازل فرمایا۔ صرف اس نظام زندگی کے لئے جو اس نے وضع فرمایا۔ صرف اس دین کی راہ میں جسے اللہ نے واجب کردیا ہے ۔ صرف اس کی راہ میں ۔ کسی اور راہ میں نہیں ۔ کسی اور جھنڈے تلے نہیں ، نہ کسی اور شعار اور کسی مقصد کی شراکت میں ۔ قرآن وسنت نے اس خلوص نیت پر بہت زور دیا ہے ، یہاں تک کہ مجاہد کے نفس میں کوئی شبہ نہ رہے ، غیر اللہ کا کوئی شائبہ نہ رہے ۔ وہ صرف اللہ ہی کا ہو۔
حضرت موسیٰ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ! رسول ﷺ سے ، ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا ، جو نمائش شجاعت کے لئے یا اظہار حمیت کے لئے یاریا کے لئے لڑتا ہے آیا ان میں سے کون فی سبیل اللہ ہے ۔ رسول ﷺ نے فرمایا ! فی سبیل اللہ صرف وہ ہے جو محض اس لئے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ “
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ! رسول ﷺ سے ، ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا ، جو نمائش شجاعت کے لئے یا اظہار حمیت کے لئے بار بار لڑتا ہے آیا ان میں سے کون فی سبیل اللہ ہے ۔ رسول ﷺ نے فرمایا ! فی سبیل اللہ صرف وہ ہے جو محض اس لئے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ “ (مالک ، امام بخاری ، امام مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ایک شخص جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے ، لیکن اس کے ساتھ اس کی دنیاوی غرض بھی وابستہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا !” اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔ “ اس شخص نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا۔ اور ہر مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا !” اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے ۔ “ (ابوداؤد)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا ! جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتا ہے اور اس جہاد کے لئے وہ صرف اس لئے نکلتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لایا ہے ، رسولوں کی تصدیق کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو ضمانت دی ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کریں گے یا وہ جس مسکن سے جہاد کے لئے نکلتا ہے اسے وہاں واپس کردے گا اور اپنے ساتھ اجر وثواب اور مال غنیمت کا ایک حظہ وافر لے جائے گا ۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۔ اللہ کی راہ میں اسے جو زخم آئے ، قیامت کے دن یہ مجاہد اسی زخمی حالت میں اٹھایا جائے گا ۔ زخم کا رنگ خون کے رنگ جیسا ہوگا اور اس کی بو ، مشک کی طرح ہوگی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۔ اگر مسلمانوں کے لئے یہ بات مشقت نہ بنتی تو میں کبھی اس دستے سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کی راہ میں لڑائی کے لئے نکلتا ہے ۔ لیکن نہ میرے پاس اس قدر گنجائش ہوتی ہے کہ میں تمام لوگوں کے لئے سواری کا بندوبست کروں اور نہ ان میں طاقت طاقت ہوتی ہے کہ وہ میرے پیچھے آسکیں ۔ اور یہ بات ان کے لئے قابل برداشت نہ ہو کہ میں چلا جاؤں اور وہ پیچھے رہیں ۔ اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ میری یہ خواہش ہے کہ میں راہ اللہ میں مارا جاؤں ۔ پھر جنگ کروں اور مارا جاؤں ۔ پھر جنگ کروں اور مارا جاؤں۔ (مالک ، بخاری ، مسلم)
یہ ہیں شہداء وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں ۔ لیکن سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے ہیں ، سوائے اس کے کہ وہ تمام رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں اور سوائے ، اس کے کہ وہ ایمان کے نتیجے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں ، ان کے دل میں کوئی اور داعیہ نہ ہو۔
ایک موقع پر رسول ﷺ نے ایک فارسی مجاہد کو اس بات سے روکا کہ وہ جہاد کے موقع پر اپنی فارسیت کا ذکر کرے یا اپنی قومیت پر کسی قسم کا فخر کرے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ابن ابوعقبہ سے روایت ہے ، وہ اپنے باپ سے روایت فرماتے ہیں (یہ اہل فارس کے آزاد کردہ غلام تھے ) فرماتے ہیں میں جنگ احد میں رسول ﷺ کے ساتھ شریک ہوا ۔ میں نے مشرکین کے ایک آدمی پر ضرب لگائی اور کہا : یہ لو ، اور میں ایک فارسی الاصل غلام ہوں ۔ “ اس پر رسول ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ! تم نے یہ کیوں نہ کہا ! اور میں انصاری غلام ہوں میں ان کی بہن کا بیٹا ہوں اور ان کا آزاد کردہ غلام ہوں۔ “ (ابوداؤد)
رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو پسند نہ فرمایا کہ وہ آپ کی نصرت کے علاوہ کسی اور صفت پر فخر کرے ، یا وہ اس دین کی حمایت ونصرت کے علاوہ کسی اور جھنڈے یا کسی اور نعرے کے لئے جنگ کرے ۔
یہ ہے اسلامی جہاد اور صرف اس جہاد کے نتیجے میں انسان مرتبہ شہادت پر فائز ہوتا ہے ۔ اور اسے وہ زندگی نصیب ہوتی ہے جس پر شہداء فائز ہوتے ہیں ۔
اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے :
تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔
وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو نہ کوئی مصیبت برداشت کی ہو ، پائیدار نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگ مصیبت کے پہلے مرحلے ہی میں انہیں الوداع کہہ دیتے ہیں ۔ آزمائشیں دراصل ایک نفسیاتی امتحان ہوتی ہیں ، جو ایک کارکن اپنے نظریہ حیات کے لئے پاس کرتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے پہلے یہ نظریہ اس کارکن کے لئے عزیز ترازجان ہوجاتا ہے ۔ کارکن نظریہ کی خاطر جب دکھ پائیں گے اور مال خرچ کریں گے تو پھر وہ اس کی قدر کریں گے اور اس کی حفاظت بھی کریں گے ۔
دوسرے لوگ بھی اس نظریے کی قدر تب ہی کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ اس نظریے کو ماننے والے ان پر جان دیتے ہیں اور اس کی وجہ سے آنے والی تمام مصیبتوں کو بخوشی برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے نظریات کے لئے مصیبت اٹھانے والوں کو دیکھ کر عام تماشائی بھی یہ کہیں گے ” وہ نظریہ حیات جس کے لئے یہ لوگ لڑتے ہیں ، کوئی بڑی ہی قیمتی چیز ہے ، اگر وہ قیمتی نہ ہوتی تو یہ لوگ اس قدر عظیم قربانیاں ہرگز نہ دیتے اور ان عظیم مصائب وشدائد پر صبر نہ کرتے۔ “
ایسے حالات میں اس نظریہ حیات کے مخالفین بھی لاجواب ہوجاتے ہیں اور اس کے بارے میں تحقیق شروع کردیتے ، قدر کرنے لگتے ہیں اور خود بخود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جس تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کی امداد اور نصرت آپہنچتی ہے اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔
آزمائش بہت ضروری ہے اس سے نظریاتی لوگوں کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ان کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ مصائب وشداد سے ان کی خفیہ قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔ ذخیرہ شدہ طاقتوں کے لئے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں جن کے بارے میں ، ان مصائب وشدائد سے پہلے مومن کو گمان بھی نہیں ہوتا۔
اسلامی اقدار اور اسلامی تصورات اس وقت پختہ اور سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک انہیں شدائد ومصائب کی بھٹی سے نہ گزاراجائے ۔ یہ مصائب کا نتیجہ ہی ہوتا ہے کہ کارکنوں کی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دلوں سے میل دورہوجاتا ہے ۔
اب سے اہم ، سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ مصائب وشدائد کی حالت میں تمام دنیاوی رابطے کٹ جاتے ہیں ۔ مختلف الاقسام اوہام اور تمنائیں غائب ہوجاتی ہیں ، دل اللہ کے لئے خالی ہوجاتا ہے بلکہ صرف اللہ کا سہارا باقی رہ جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے ، جہاں تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ، بصیرت کے دروازے کھل جاتے ہیں ، مطلع دور تک صاف و شفاف ہوتا ہے ، اللہ کے سوا کوئی شئے نظر نہیں آتی ، اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نظروں میں نہیں جچتی ، اللہ کے سوا کسی کا کوئی اختیار نظر نہیں آتا ، اللہ ہی کی پناہ ہوتی ہے ، اس کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہوتی ۔ اس مقام پر پہنچ کر انسانی روح اس حقیقت کے ساتھ یکجا ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کریم کی یہ آیت نفس انسانی کا ایک حصہ بن جاتی ہے ۔
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
” اور خوشخبری سنائیں ان صبر کرنے والوں کو ، جن پر کبھی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ! ہم تو اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ “ بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں سب کے سب اللہ کے لئے ہیں ۔ ہمارے جسم کے اندر جو طاقتیں ہیں ، بلکہ ہمارا تمام وجود اور ہماری پوری شخصیت اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہے ۔ ہم کو اللہ ہی طرف لوٹنا ہے ۔ تمام باتوں کا مرجع وہی ہے ۔ سر تسلیم خم ہے ۔ ہر معاملے میں سر تسلیم خم ہے !
گویا ہم صحیح تصور اور صحیح عقیدے کے ساتھ ، کائنات کی واحد سچائی اور حقیقت یعنی رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں اور دست بدعا ہیں ۔
یہ ہیں وہ صابرین جنہیں جلیل القدر رسول ﷺ ، انعام واکرام کی خوش خبری دیتا ہے ۔ اس مقام ومرتبے کا اعلان خود رب جلیل کرتا ہے ۔
اللہ کی طرف سے عنایات ہوں گی ۔ یہاں صابرین کے لئے لفظ صلوات استعمال کرکے گویا صابرین کو ان صلوات (عنایات) میں شریک کردیا گیا ، جو اللہ اور اس کے فرشتے نبیوں پر بھیجتے رہتے ہیں ۔ کیا ہی بلند مقام ہے ۔ کیا فیضان رحمت ہے کہ خود اللہ گواہ ہے کہ مصائب میں صبر کرنے والے ہی دراصل صحیح معرفت رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں ۔ غرض ہر بات عظیم اور محیر العقول ہے ۔
تحریک اسلامی کی تیاری اور تربیت کے اس سبق کے آخر تک ہم پہنچ گئے ۔ ذرارک کر جائزہ لیجئے ! مصائب وشدائد ، قتل وشہادت ، جان ومال کا نقصان ، بھوک و افلاس اور خوف وخطر اور دوسری مشکلات کے لئے یہ عظیم تیاری اور تربیت ، پر آشوب اور پر خطر اور عظیم المشقت طویل ترین معرکہ حق و باطل کے لئے یہ عظیم تیاری ۔ یہ سب امور گہرے غور وفکر کے مستحق ہیں۔
ذرا دیکھئے ! اللہ ان تمام مصائب اور مشکلات کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف صرف ایک بات ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایات ، اس کی جانب سے رحمت کے مستحق ہیں اور یہ اعلان کہ دنیا میں یہی لوگ ہدایت پر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس موقع پر مؤمنین صابرین کے ساتھ کسی ظفرمندی اور کامرانی کا وعدہ نہیں فرماتے ، کسی خصوصی امداد کا بھی یہاں کوئی اعلان نہیں کیا جاتا ۔ نہ یہاں مال غنیمت کا لالچ دیا جاتا ہے ۔ کچھ بھی نہیں ! صرف اللہ کی رحمت و عنایت کا وعدہ ہوتا ہے اور یہ شہادت دی جاتی ہے کہ وہ یقیناً سچائی اور حق پر ہیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ صابرین کو ایک ایسے کام کے لئے تیار کررہا تھا جو ان کی ذات وحیات سے زیادہ قیمتی ہے ۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہر اس خواہش ورغبت سے پاک کرنا چاہتا ہے ، جس کا تعلق دنیا سے ہو۔ یہاں تک کہ ان کو ہدایت کی گئی کہ جس نصب العین کے لئے وہ کام کررہے ہیں ، جس نظریہ حیات کے لئے وہ جدوجہد کررہے ہیں اور جان تک دینے کو تیار ہیں ، اس کے غلبہ کی خواہش تک دلوں سے نکال دیں ۔ اور صرف رضائے الٰہی اور اطاعت خداوندی کو اپنا منشور قرار دیں ۔ وہ صرف حکم الٰہی کے پابند ہوں۔ وہ آگے بڑھتے چلے جائیں اور ان کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ، اللہ کی رحمت کے حصول اور اس اطمینان کے سوا کچھ نہ ہو ، کہ وہ حق کے لئے نکلے ہیں اور صحیح رستے پر ہیں ۔ یہ ہے صحیح نصب العین ۔ یہ ہے صحیح غرض وغایت اور یہ اور صرف یہ ہے وہ ثمر شیریں جس کے لئے وہ والہانہ دوڑ رہے ہیں ۔ رہی یہ امید کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں انہیں فتح ونصرت حاصل ہوگی ۔ انہیں کرہ ارض پر غلبہ و اقتدار نصیب ہوگا تو یہ تصرف و غلبہ یہ اقتدار واختیار ان کے لئے تو نہیں ہے ، یہ تو اس دعوت اسلامی کا غلبہ ہوگا جس کے وہ حامل ہیں ۔
رہے اہل ایمان مجاہدین ، تو انہیں ایک عظیم اجر دے دیا گیا ، اللہ کی عنایات اور اللہ کی رحمت ہوگی اور انہیں یہ سرٹیفکیٹ دے دیا گیا کہ وہی حق پر ہیں ۔ اور انہیں یہ اجر کس کے بدلے دیا گیا ؟ جان ومال کی قربانی پر اور آمدنیوں پر دیا گیا۔ یہ اللہ کی راہ میں قتل و شہادت پر دیا گیا ہے ۔ لیکن پھر بھی اللہ کے فضل و عنایت کا پلڑا بھاری ہے ۔ یہ عنایت تمام عنایات سے بھاری ہے ۔ فتح ، نصرت اور تمکن فی الارض تمام امور سے یہ عنایت بھاری ہے ۔ نیز یہ اس مسرت سے زیادہ خوش آئند ہے جو فتح ونصرت اور اسلامی انقلاب کے بعد حسرت دل پوری ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ ہے وہ ترتیب جس سے اللہ تعالیٰ نے اسلامی محاذ کو گزارا۔ بنی نوع انسان میں سے ، جو شخص اپنے نفس ، اپنی دعوت اور اپنے دین کو پاک وصاف کرنا چاہتا ہے ، اسے چاہئے کہ وہ تربیت کے اس انداز کو اپنائے۔
درس 10 ایک نظر میں
اس سبق میں بعض بنیادی اصولوں کی تصحیح مطلوب ہے ، جن پر اسلامی تصور حیات کی عمارت قائم ہے ۔ اسلام کے ان بنیادی اصولوں کے سلسلے میں مدینہ طیبہ کے یہودی تلبیس کرتے تھے اور حق کو باطل سے ملاتے تھے ، جان بوجھ کر حق چھپاتے تھے ، مسلمانوں کے دلوں میں اضطراب اور ذہنوں میں پراگندگی پیدا کرتے تھے ۔ اس لئے ضروری تھا ان اصولوں کے بارے میں واضح احکام دیئے جائیں ۔ البتہ انداز بیان عمومی ہے اور یہود اور دوسرے مخالفین کے برخلاف بات اصولی طور پر کی گئی اور مسلمانوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے ، جو اس راہ میں ، بالعموم انہیں درپیش ہوسکتے ہیں ۔
صفا اور مروہ کے درمیان طواف کے مسئلے کو بھی لیا گیا ہے ۔ دور جاہلیت میں اس سعی کے ساتھ چونکہ بعض غیر اسلامی اور شرکیہ تصورات وابستہ تھے ، اس لئے وضاحت کردی گئی کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہیں لہٰذا سعی جائز ہے ۔ تحویل قبلہ سے بھی اس کی مناسب واضح ہے ۔ نیز بیت اللہ کے حج اور دوسرے شعائر کو چونکہ اسلامی نظام نے قائم رکھا ہے ، اس لئے یہ مناسب تھا کہ ان امور کے سلسلے میں اسلامی نظام اپنی پالیسی واضح کرے ۔
یہودی اللہ کی تعلیمات وہدایات کو چھپاتے تھے ۔ یہاں ان کی سخت مذمت کی جاتی ہے ۔ البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، صدبار اگر توبہ شکستی بازآ، لیکن اگر وہ اپنی روش پر قائم رہتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں تو ان پر لعنت کی بارش ہوگی اور دردناک عذاب ان کا منتظر ہے ۔ اللہ کی وحدانیت کا بیان اور اس پر تکوینی دلائل ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے شدید وعید ہے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ان تابعین اور مبتوعین کے تعلق کا ایک منظر بھی پیش کیا گیا ہے جو قیامت میں اس وقت سامنے آئے گا جب یہ لوگ عذاب الٰہی دیکھیں کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے بریت کا اظہار کریں گے لیکن بےسود ۔
جو لوگ محض دنیاوی اغراض ومناصب کے لئے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام چھپاتے ہیں ، انہیں سخت تنبیہ کی گئی ہے ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ آخرت میں ذلت ، حقارت اور اللہ تعالیٰ کا شدید غضب تمہارے لئے تیار ہے ۔
آخر میں نیکی اور بدی کا اسلامی معیار بتایا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح ہی وہ اصول ہیں ، جن سے اسلامی تصور حیات درست ہوتا ہے ۔ نیکی سے مراد کوئی ظاہری شکل و صورت نہیں ہے نہ صرف شرق وغرب کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنا اصول تقویٰ میں سے ہے ۔ نیکی تو شعور وعمل اور شعور عمل میں اللہ سے پختہ رابطے کا نام ہے ۔ یہ بیان دراصل تحویل قبلہ کے مباحث سے ملحق ہے۔
اس تمام بحث کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بات اسی ایک مضمون یعنی معرکہ حق و باطل کے اردگرد گھومتی ہے ۔ ذہن انسانی میں حق و باطل کی کشمکش ہے ۔ اسلامی اقدار کا تعین ہورہا ہے اور تصور حیات کی وضاحت ہورہی ہے اور بیرونی سازشوں اور مکروفریب اور ذہنی پراگندی پیدا کرنے والے مخالفین کے اعتراضات اور پروپیگنڈے کا جواب دیا گیا ہے۔
اس آیت کی شان نزول میں متعدد روایات منقول ہیں ۔ اسلام نے مہاجرین وانصار کے سابقون الاولون کے دلوں میں جس قسم کا تصور حیات پیدا کیا تھا اس کی نوعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سب سے زیادہ موضوع اور اس وقت نفیساتی منطق کے مطابق کتب حدیث کی وہ روایت ہے جس میں کہا گیا ہے :” بعض مسلمان حج وعمرہ کے موقع پر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے کراہت محسوس کرتے تھے ۔ کیونکہ جاہلیت کے زمانے میں ان پہاڑیوں کے درمیان وہ اس لئے سعی کرتے تھے کہ یہ مقامات دو بتوں ، اساف ونائلہ کے استھان تھے ۔ اس لئے اسلام آنے کے بعد اب مسلمان اس سعی میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے اور اسے زمانہ جاہلیت کا ایک فعل تصور کرنے لگے تھے ۔ “
امام بخاری (رح) نے محمد ابن یوسف ، سفیان ، عاصم بن سلیمان کے سلسلے سے روایت نقل کی ہے ۔ سلیمان کہتے ہیں : میں نے حضرت انس ؓ سے صفاو مروہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا :” ہم سمجھتے تھے کہ یہ دورجاہلیت کی رسومات ہیں ۔ جب اسلام کا ظہور ہوا تو ہم نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا ترک کردی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی ” صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ “
امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اساف بت صفا پر تھا ، اور نائلہ مروہ پر اور وہ انہیں بوسہ دیا کرتے تھے ۔ اس لئے اسلام کے بعد مسلمانوں نے ان کے درمیان سعی کرنے میں کراہت محسوس کی اور اسی پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
روایات میں اس آیت کے نزول کی تاریخ متعین نہیں ہے ، البتہ راجع صورت یہ ہے کہ تحویل قبلہ کے سلسلہ میں جو آیات نازل ہوئیں یہ ان کے بعد نازل ہوئی ہے ۔ اگرچہ اس دور میں مکہ مکرمہ دارالحرب بن گیا تھا ، لیکن اس کے باوجود بعض مسلمان انفرادی طور پر حج اور عمرہ کرسکتے تھے ۔ ایسے ہی لوگوں نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کو جاہلیت کی ایک رسم سمجھا ہوگا۔ ان کے دلوں میں طویل تعلیم و تربیت کے نتیجے میں ایمانی تصور حیات جاگزیں ہوچکا تھا۔ اور اس کی برکت سے وہ جاہلیت کے ہر فعل اور ہر رسم و رواج کو شک اور کراہیت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ وہ جاہلیت کے ہر کام کے بارے میں اس قدر حساس ہوگئے تھے کہ جاہلیت کے دور میں کئے جانے والے ہر فعل کو کرتے ہوئے ڈرتے تھے ، مبادا کہ اسلام نے اسے ترک کرنے کا حکم دیا ہو ۔ مسلمانوں نے مختلف مواقع پر اپنے اس احساس کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔
اسلام کی دعوت نے ان لوگوں کے دلوں کو خوب جھنجھوڑ دیا تھا اور یہ دعوت ان کے دلوں کی گہرائیوں تک اترچکی تھی اور اس دعوت نے ان کے دلوں میں ایک عظیم نفسیاتی اور شعوری انقلاب برپا کردیا تھا ۔ وہ اپنی ہر بات کو کراہیت سے دیکھتے تھے بلکہ وہ ماضی کو ترک کرچکے تھے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ دورجاہلیت ان کی زندگی کا ایک باب تھا جسے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرچکے ہیں ۔ ان کا ماضی اب ان سے کوئی تعلق ہے ، نہ ان کا ماضی سے کوئی واسطہ ہے ۔ ان کے خیال میں ان کا ماضی ایک قسم کی ناپاکی اور گندگی تھا جسے اب چھونا بھی جائز نہ تھا۔
اس برگزیدہ قوم کی زندگی کے آخری دور کو ذرا غور سے پڑھا جائے ، تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان پاک نفوس پر اس اسلامی نظریہ حیات کا کیا ہی عجیب اثر ہوگیا تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور ان سے ہر قسم کی آلودگی کو جھاڑ دیا ۔ اور ان کے وجود کے ذرات کو جدید طرز پر مرتب کردیا بعینہ اس طرح جس طرح بجلی کا ایک جھٹکا دینے سے کسی مادے کے اجزاء اپنی سابقہ کیمیاوی شکل بدل دیتے ہیں اور ایک بالکل نئی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔
یہ ہے اسلام یعنی جاہلیت سے پوری طرح باہر نکل آنا ، اور جاہلیت کے تمام امور کو پوری طرح حرام اور ناپسندیدہ سمجھنا ۔ ہر اس ناپسندیدہ حرکت سے باہر آنا جو جاہلیت ہوتی تھی ۔ ہر اس شعور کو دل و دماغ سے نکال دینا جو جاہلیت کے دور میں ذہنوں پر حاوی ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ مومن کا جام صبونئے تصور حیات اور اس کے تمام لوازمات کے لئے خالی ہوجائے ۔
تحریک اسلامی کی تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلمانوں کے دل و دماغ میں یہ شعور اچھی طرح رچ بس گیا اور وہ اچھی طرح پختہ کار ہوگئے ، تب اسلام نے دورجاہلیت کے شعائر میں سے ، بعض مناسب شعائر کو باقی رکھنے کا اعلان فرمایا۔ اور اس سے پہلے ان شعائر کا رشتہ دورجاہلیت سے کاٹ دیا اور اس کے اسلام کے نظام میں ، اس طرح پیوست کردیا ، جس طرح نگینہ انگشتری میں پیوست ہوجاتا ہے ۔ اب ان چیدہ شعائر پر ایک مسلمان اس لئے عمل پیرا نہیں ہوتا تھا کہ دور جاہلیت میں وہ ان پر عمل کرتا تھا ، بلکہ وہ انہیں اسلام کا ایک شعار جدید تصور کرتا تھا۔ جس کا اصل اسلام میں ہوتا تھا جس کی جڑیں اسلامی نظام زندگی سے آبیاری حاصل کرتی تھیں ۔
اسلام کے ٹھوس اور عمیق نظام تربیت کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن مجید خاص اس مسئلے کے بارے میں اس طرح بات شروع کرتا ہے کہ وہ صفا ومروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ یقیناً صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں ہیں ۔ “ گوبتایا جاتا ہے کہ ان کے درمیان جو شخص بھی سعی کرے گا وہ اللہ کے شعائر میں سے ایک فریضہ ادا کرے گا۔ وہ ان کے درمیان جو سعی کرے گا اس سے غرض اطاعت حکم خداوندی ہے ۔ اس سعی اور دور جاہلیت کی سعی کے درمیان اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا ۔ اب اس کا آساف ونائلہ اور جاہلیت کے دوسرے بتوں سے کوئی ربط وعقیدت نہیں ہے ، بلکہ تعلق صرف اللہ اور رسول سے ہے ۔
لہٰذا اب اس طواف وسعی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ کوئی گناہ کی بات نہیں ہے ، بات وہ پرانی بات نہیں رہی ، نقطہ نظر وہ پرانا نقطہ نظر نہیں رہا ہے فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ” لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج وعمرہ کرے ، اس کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں ہے کہ وہ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کرے ۔ “
حج میں عرب جن مناسک پر عمل کیا کرتے تھے ان میں سے اکثر کو اسلام نے علی حالہ برقرار رکھا ہے ۔ صرف ان چیزوں کو ترک کروایا جن کی نسبت سے بتوں کی طرف تھی یا جو جاہلیت کے اوہام پر مبنی تھیں اور ان کی کوئی حقیقت نہ تھی ۔ جن شعائر کو بحال رکھا گیا ان کا ربط بھی اسلام کے جدید تصور حیات نے قائم کردیا اور یہ کہا کہ یہ وہ شعائر ہیں جن پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عمل کیا (تفصیلات آئندہ بیان حج میں ملاحظہ ہوں)
حج اور عمرہ کے مناسک ایک ہی ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمرہ میں عرفہ پر وقوف فرض نہیں ہے ، نیز حج کے لئے جو میقات (وہ مقامات جن سے آگے بغیر نیت نہیں جاسکتا) مقرر ہیں وہ عمرہ کے لئے نہیں ہیں ، لیکن حج اور عمرہ دونوں میں سعی بین الصفا والمروۃ ضروری ہے ۔ اور شعائر اللہ میں سے ہے۔
آیت کا اختتام اس فقرے پر ہوتا ہے کہ جو شخص بھی برضا ورغبت مطلقاً نیکی کا کوئی بھی کام کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے :
وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ” اور جو شخص بھی برضا ورغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا ، اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے ۔ “
اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سعی بھی دراصل بھلائی ہے ۔ اس اشارے سے دلی کراہیت دور ہوجاتی ہے ، دل ان کی ادائیگی پر آمادہ ہوجاتا ہے ، اس امر پر مطمئن ہوجاتا ہے کہ اللہ تو اس سعی کا شمار نیکی میں کرے گا۔
پھر اس نیکی پر جزائے خیر بھی دیتا ہے اور وہ نیتوں کا مالک ہے اور قلب کی ہر شعوری حرکت سے باخبر ہے ۔
اب ذرا رکیے ! اور اس حکیمانہ انداز بیان پر دوبارہ ایک نگاہ ڈالئے فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ ” اللہ قدر کرنے والا ہے۔ “ مقصد یہ ہے کہ اللہ بھلائی سے راضی ہوتا ہے ۔ اس کا اجر دیتا ہے ، ثواب دیتا ہے ۔ لفظ ” شاکر “ سے صرف ایک خاص مفہوم ہی نہیں نکلتا بلکہ وہ ایک خاص سایہ عاطفت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے ۔ یہ لفظ رضائے کامل کا پرتو ہے ۔ گویا ذات باری بندے کے نیک اعمال کی قدر کرتی ہے ، تو پھر اب بندے کا فرض کیا ہے کہ وہ بارگاہ خداوند میں شکربجالائے ؟ اس کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی مہربانی کے جواب میں مزید شکر ادا کرے ۔ اس کی بےحد تعریف کرے ، قرآن کے طرز تعبیر کا یہ ایک خاص اسلوب ہے ، جو انسانی شعور واحساس کو شبنم کے تازہ قطروں کی طرح تازگی ، حسن اور ملائمت عطا کرتا ہے۔
صفا ومروہ کے درمیان سعی کی فرضیت کے بعد اب ان لوگوں کی مذمت ہے جو اللہ کی نازل کردہ تعلیمات وہدایات کو چھپاتے ہیں ۔ یہ وہ یہودی ہیں جن کے بارے میں اس سورت میں طویل بحث ، اس سے پہلے ہوچکی ہے ۔ یہاں دوبارہ اس بحث کے چھیڑنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ اور فرضیت حج کے سلسلے میں انہوں نے بحث و تکرار شروع کررکھی تھی ۔ ابھی تک وہ ختم نہیں ہوئی ۔
اہل کتاب ، خود اپنی کتاب کے ذریعہ سے یہ جانتے تھے کہ رسول ﷺ کی رسالت برحق ہے ۔ اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ ﷺ جن احکامات کی تبلیغ کرتے ہیں وہ برحق ہیں اور من جانب اللہ ہیں ۔ اس کے باوجود وہ ان احکامات کو چھپاتے تھے جو اللہ نے ان کے لئے ان کی کتاب میں نازل کئے تھے ۔ بس ان لوگوں اور ہر دور میں ان جیسے لوگوں کا کردار یہ رہا ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ حق اور سچائی کو چھپاتے ہیں ، خواہ اس حق پوشی کی کوئی معقول وجہ بھی نہ ہو ۔ ایسے لوگ مختلف ادوار میں مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں ، جو حق و صداقت کا علم رکھتے ہیں مگر پھر بھی اظہار حق کے وقت خاموش رہتے ہیں ۔ انہیں وہ اقوال وآیات یقین کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں جن میں اس سچائی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ہے ، اللہ کی کتاب میں سے کئی آیات سے وہ ایک طرف ہوجاتے ہیں ، ان کا اظہار نہیں کرتے ، ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ، انہیں چھپاکر اس حقیقت سے پہلو تہی کرجاتے ہیں جس کی وہ آیات حامل ہوتی ہیں ۔ وہ ان آیات کو لوگوں کے سمع واحساس سے دور رکھتے ہیں ، چاہے کسی وجہ سے بھی وہ ایسا کرتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے ہم زندگی کے مختلف مراحل میں دوچار ہوتے ہیں رہتے ہیں اور حقائق دین میں سے مختلف اور بیشمار حقائق میں یہ صورتحال پیش آتی رہتی ہے۔
” یقین کرو اللہ بھی ایسے لوگوں پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں ۔ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ (159) “
گویا وہ لعنت کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور ان پر ہر طرف سے لعنت کی بارش ہورہی ہوگی اور اللہ کے بعد ہر لعنت کرنے والا ان پر لعنت برسا رہا ہوگا۔
لعنت کا مفہوم ہے قہر وغضب سے دھتکارنا ۔ اللہ کی لعنت یہ ہوگی کہ وہ انہیں اپنی رحمت سے باہر نکال دے اور پھر ہر طرف سے لعنت کرنے والے ان کا پیچھا کررہے ہوں گے ۔ یو وہ درگاہ الٰہی سے بھی راندہ ہوں گے اور مسلمانوں کی طرف سے بھی دھتکارے جائیں گے ۔ إِلا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے ، اسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معاف کروں گا۔ میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “
اس تنبیہ وتہدید کے باوجود قرآن کریم توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اس سے وہ روشنی پاتے ہیں اور رشتہ امل ٹوٹنے نہیں پاتا ۔ اس طرح دل نور کے سرچشمے کی طرف کھنچتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔ اللہ کی عفو و درگزر کی امید باقی رہتی ہے ۔ اس لئے جو چاہے ، جس وقت بھی چاہے صدق نیت سے ، اس دارالامن میں داخل ہوجائے۔
سچی توبہ کی نشانی کیا ہوگی ؟ عمل میں تبدیلی اور اصلاح ، صاف صاف بات کرنا ، حق کا اعتراف کرنا ، اور حق کے تقاضے پورے کرنا ۔ اور جو لوگ توبہ کرلیں وہ یقیناً اللہ کی رحمت سے بہرہ ور ہوں گے ، ان کی توبہ قبول ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اور میں بڑا درگز کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “ یقیناً ایسا ہوگا کیونکہ ، بات کرنے والوں میں اللہ تعالیٰ سب سے صادق القول ہے ۔
اور جو لوگ اپنی غلط روش پر مصر ہوتے ہیں اور مہلت اور فرصت کو غنیمت نہیں سمجھتے تو وہ یقیناً اپنے اس انجام کو پہنچیں گے جس کی وعید اللہ نے اس سے قبل ان سے فرمائی ہے ۔ اور اب زیادہ تفصیل وتاکید سے کہا جاتا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (161) خَالِدِينَ فِيهَا لا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ (162)
” اور جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت میں جان دی ، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔ “
کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے اس کھلے دروازے کو ، خود اپنے اوپر بند کردیا ، انہوں نے فرصت کو غنیمت نہ جانا اور موقع ہاتھ سے چلا گیا اور کتمان حق ، اور کفر وضلالت پر اصرار کیا : أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ” ان پر اللہ ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت۔ “ یہ ہمہ جہت لعنت ہوگی ، کسی صورت میں بھی وہ اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے ۔ نہ کسی سینے میں ان کے لئے رحم ہوگا ۔
قرآن کریم نے ہمہ جہت لعنت کے سوا ان کے لئے کسی عذاب کا تذکرہ نہیں کیا ، بلکہ کہا ہے کہ اس عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی۔ نہ کوئی تاخیر ہوگی اور انہیں کسی قسم کی کوئی مہلت نہ دی جائے گی یہ ایک ایسا عذاب ہے جس سے تمام دوسرے عذاب کم ہوں گے ، دھتکارنے ، پرے پھینک دینے اور اظہار لاتعلقی کا عذاب۔ کوئی ان پر رحم کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی آنکھ انہیں قبول نہ کرے گی ، کسی زبان پر ان کے لئے سلام تک نہ ہوگا۔ ہر طرف سے لعنت ، دھتکار اور قطع تعلق ، انسانوں کی طرف سے بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ، زمین پر بھی اور آسمانوں پر بھی ، ہر جگہ اور ہر طرف سے ۔ یہ ہے وہ دردناک اور توہین آمیز عذاب۔
اس کے بعد سیاق کلام توحید کی طرف پھرجاتا ہے ، ایمانی تصور حیات کی بنیاد عقیدہ توحید پر رکھی جاتی ہے ۔ کائنات سے ایسے مشاہد پیش کئے جاتے ہیں ، جو عقیدہ توحید پر ناقابل تردید دلائل پیش کرتے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ ان پر تنقید ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قیامت کے دن یہ لوگ کس قدر ذلیل و خوار ہوں گے ، جب عذاب الٰہی سامنے ہوگا ، تابع متبوع سے ۔ متبوع تابع سے تبرّیٰ کررہا ہوگا ، لیکن کوئی معذرت بھی انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکے گی ۔ ان کی پشیمانی ان کے لئے مفید نہ ہوگی نہ انہیں اس کی وجہ سے نار جہنم سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔
(اور اس حقیقت کو پہچاننے کے لئے کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں ، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے ہیں دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ۔ بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق کو پھیلاتا ہے ۔ ہواؤن کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر کر کھے گئے ہیں بیشمار نشانیاں ہیں مگر (وحدت خداوندی پر دلالت کرنے والے ان کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی ) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے ۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔ کاش جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سوجھنے والا ہے وہ آج ان ظالموں کو سوجھ جائے گا ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے ۔ جب وہ سزا دے گا اس کیفیت یہ ہوگی کہ وہی پیشوا اور راہ نما ، جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی ، اپنے اپنے پیروؤں سے بےتعلقی ظاہر کریں گے مگر سزا پاکر رہیں گے ۔ اور ان کے سارے اسباب ووسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری کا اظہارکر رہے ہیں ، ہم ان سے بیزار ہوکر دکھا دیتے ۔ یوں اللہ ان لوگوں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کررہے ہیں ، ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے ، مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔
ایمانی تصورحیات وحدت الوہیت کے اصول پر قائم ہے ۔ رسول ﷺ کے وقت اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں کوئی تنازع نہ تھا ۔ البتہ ذات باری ، صفات باری اور مخلوق و خالق کے باہمی تعلق کے بارے میں اختلاف رائے ضرور تھا ۔ کوئی بھی اللہ کے وجود کے بارے میں اختلاف نہ کرتا تھا۔ ایسا کبھی نہ ہوا کہ انسانی فطرت نے کبھی وجود باری کو بھلادیا ہو۔ یا انسان کسی خدا کا قائل نہ رہا ہو۔ یہ تو اس دورجدید کی بیماری ہے جب اذہان میں ایسے افکار اگ آئے ، جن کا تعلق زندگی کے شجرہ طیبہ سے نہیں ہے ، جو فطرت کے عین خلاف ہیں ، جن کے نتیجے میں انسان نے سرے سے وجود باری کا بھی انکار کردیا ۔ یقیناً یہ اوپرے افکار ہیں اور موجودات وکائنات میں ان کی کوئی جڑ موجود نہیں ہے ۔ ایک وقت ضرور آئے گا جب یہ افکار سرے سے ناپید ہوجائیں گے اور ان کا کوئی نام ونشان بھی نہیں رہے گا ۔ کائنات کی تشکیل وتکوین اور اس کی ساخت ان افکار کی متحمل نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کو فطرت کائنات مسترد کرتی ہے اور یہ لوگ اس لئے ناقابل برداشت ہیں کہ ان کے افکار کی جڑیں فطرت کائنات میں نہیں ہیں ۔
عقیدہ توحید انسان کے نظریہ حیات میں ایک ضروری تصحیح ہے ، اسلامی نظام حیات کے لئے تو خشت اول ہے ۔ اس لئے قرآن حکیم بار بار عقیدہ توحید کا بیان مختلف پیرایوں میں کرتا ہے ۔ یہی وہ بنیاد اور اساس ہے جس پر اسلام کا اخلاقی نظام اور اس کی اجتماعی تنظیم استوار ہوئی ۔ یعنی اس کائنات میں وحدت ربوبیت کا تصور وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌتمہارا اللہ ایک ہی ہے لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ” اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ رحمان ہے رحیم ہے ۔ “
تاکید اور بار بار تاکید ، یعنی وحدانیت الٰہ کی اس تاکید کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معبود ایک ہوجاتا ہے جس کی تمام مخلوق بندگی کرتی ہے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتی ہے ۔ وہ سمت ایک متعین ہوجاتی ہے جس سے پوری مخلوق اپنے اخلاق اور اپنے طرز عمل کے اصول اور طریقے اخذ کرتی ہے اور وہ ماخذ اور منبع بھی متعین ہوجاتا ہے ۔ جس سے انسان شریعت و قانون کے اصول اخذ کرتا ہے۔ اور وہ واحد نظام حیات بھی متعین ہوجاتا ہے جو انسان کے تمام اصول حیات میں متصرف ہوتا ہے۔
جیسا کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے ۔ یہاں امت مسلم کو کو اس عظیم رول کے لئے تیار کیا جاتا ہے جو اسے کرہ ارض پر ادا کرنا ہے ۔ اس مناسبت سے یہاں اس حقیقت کا پھر ذکر کردیا جاتا ہے ۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں باربار کیا جاتا ہے ۔ جو قرآن مجید کا وہ سایہ دار درخت ہے جس کی جڑیں دورتک زمین میں گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں عقل و شعور کے آسمان پر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ بلکہ وہ اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہیں ۔ اس حقیقت کا ذکر یہاں مقرر کردیا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تمام قانون سازی اور ضابطہ بندی میں سے پیش نظر رکھا جائے ۔ کیا ہے وہ حقیقت ؟ وہ ہے توحید الٰہی۔ پھر یہاں اللہ تعالیٰ کی صفات رحمٰن رحیم کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ تما تشریعات وضابطہ بندیوں کا ماخذ اور سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی یہ گہری اور عمومی صفت ، صفت رحمت ہے ۔