یہاں صدقہ کو اپنی حقیقت اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک محسوس شکل میں پیش کیا گیا ہے۔
جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ................ ” یہ صدقہ گویا ایک باغ ہے جو نہروں سے سیراب ہے ۔ کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا۔ “ اس کی چھاؤں گھنی ہے ، خوشگوار اور تروتازہ ہے ۔ اس میں ہر قسم کے پھل کثرت سے ہیں جس طرح یہ باغ مفید ہے اس طرح صدقہ بھی مفید اور فائدہ بخش اور فرحت بخش تھا ۔ یہ صدقہ دینے والے کے لئے بھی مفید تھا ۔ لینے والے کے لئے بھی مفید تھا اور پورے معاشرے کے لئے بھی مفید تھا ۔ جس کے روحانی فائدے بیشمار تھے اور اس میں خیر و برکت تھی جس کے ذریعہ معاشرے کو مفید غذامل رہی تھی اور جو معاشرے میں اجتماعی نشوونما اور ترقی کا باعث تھا۔
کوئی ایسا بدبخت ہے جو اس قسم کے باغ کا مالک ہو اور جو اس قسم کے اعلیٰ بھائی چارے اور نیکی کا مالک ہو اور پھر وہ ایسے باغ کو احسان جتلانے یا احسان کے بعد اذیت دینے کی افادیت وبلیات کے ذریعے جلا کر خاکستر کردے ، جس طرح ایک آتشی بگولا کسی سرسبز و شاداب باغ کو جھلسا کر خاکستر کردیتا ہے۔
اور پھر یہ عمل کیسے حالات میں ہو ؟ ایسے حالات میں کہ اس باغ کا مالک صاب احتیاج ہو ۔ جسمانی لحاظ سے ضعیف ہوگیا ہو ، عیالدار ہو اور اسے اس باغ کی چھاؤں اور نعمتوں کی اشد ضروت بھی ہو وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ................ ” وہ خود بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے بھی کسی لائق نہ ہوں اور ایسے میں ایک تیز بگولے کی زد میں آجائے جس میں آگ ہو ۔ “ کون ہے جو ایسی صورتحال کو پسند کرے گا ؟ کون ہے جو اگر ایسے انجام کو سمجھ سکتا ہو اور اس سے بچنے کی سعی نہ کرے ؟
كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ................ ” اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے ، شاید تم غوروفکر کرو۔ “
یوں یہ زندہ وتابندہ منظر اسٹیج ہوتا ہے ۔ اس کی ابتدا نہایت خوشی ، خوشگواری اور آرام سے ہوتی ہے ۔ منظر کا آغاز تروتازگی ، فراخ و سرور اور حسن و جمال سے ہوتا ہے ۔ اس کے بعد تباہی کا منظر آتا ہے اور یہ ایک خوفناک منظر ہوتا ہے ۔ ایک بگولا آتا ہے جو اس کی تروتازگی کو پژمردہ کردیتا ہے ۔ جب یہ سب مناظر اسٹیج پر پر آتے ہیں تو انسان کو ایک لاشعوری احساس دلاتے ہیں اور یہ شعور اس قدر پرتاثیر ہوتا ہے کہ ایک باشعور آدمی کو ایک صحیح راہ اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں رہتا ۔ اس سے پہلے کہ انسان کے ہاتھ سے موقعہ جاتا رہے اور اس سے پہلے کہ گھنی چھاؤں والے باغات اور پھلوں سے لدے ہوئے درخت پژمردہ ہوجائیں اور جھلس جائیں ۔ ایک باشعور انسان رد و قبول کا فیصلہ کر ہی لیتا ہے۔
میں یہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ حسین و جمیل انداز کلام اور مربوط اور ہم آہنگ مناظر جن سے اس سبق کا ہر انفرادی منظر تشکیل پاتا ہے اور پھر جس خوش اسلوبی سے ہر ایک انفرادی منظر کو پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ ربط وہم آہنگی صرف ان انفرادی مناظر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہم آہنگی مجموعی طور پر ان تمام مناظر میں بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ تمام مناظر بھی باہم مربوط اور متناسب ہیں ۔ دیکھئے ! ایک زرعی ماحول ہے ۔ ایک دانہ ہے جس سے سات بالیاں اگتی ہیں ۔ ایک چٹان ہے جس پر مٹی کی ایک خفیف تہہ جمی ہوئی ہے ۔ اور اس پر اچانک موسلا دھار بارش ہوجاتی ہے ۔ پھر ایک اونچی جگہ پر ایک باغ ہے جو ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہے ۔ اور دوچند پھل لگا ہوا ہے ۔ یہ باغ کھجوروں اور انگوروں پر مشتمل ہے ۔ کہیں زوردار بارش اور کہیں پھوار ہے ۔ اور پھر ایک بگولا ہے جو اکثر زرعی کھیتوں میں تباہی مچاتا ہے ۔ غرض ایک زرعی ماحول کے تمام قدرتی اجزاء یہاں موجود ہیں اور کوئی ایسا جز غائب نہیں ہے جو موثر ہوسکتا ہو۔
قرآن کریم کے بلیغانہ انداز گفتگو کی یہ ایک اہم خصوصیت ہے کہ وہ انسانی ادراک اور اس زمین کے قدرتی ماحول کے درمیان فاصلے کم کردیتا ہے کیونکہ انسان کا وجود اسی کائنات کے عناصر ترکیبی سے مرکب ہے ۔ انسان اور کائنات میں نباتات کی نشوونما کے درمیان ایک مکمل آہنگی ہے ۔ جس طرح ایک بگولا اس کائنات کی تروتازگی کو جھلس دیتا ہے ، اسی طرح گمراہی انسان کی روحانی دنیا کو نیست ونابود کردیتی ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم ۔ ایک خوبصورت انداز گفتگو جو یقیناً حلیم وخبیر کی جانب سے ہے ۔
آیت 266 اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ لا اہل عرب کے نزدیک یہ ایک آئیڈیل باغ کا نقشہ ہے ‘ جس میں کھجور کے درخت بھی ہوں اور انگور کی بیلیں بھی ہوں ‘ پھر اس میں آب پاشی کا قدرتی انتظام ہو۔لَہٗ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ لا وَاَصَابَہُ الْکِبَرُ وَلَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآءُص فَاَصَابَہَآ اِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ط یعنی ایک انسان ساری عمر یہ سمجھتا رہا کہ میں نے تو نیکیوں کے انبار لگائے ہیں ‘ میں نے خیراتی ادارے قائم کیے ‘ میں نے فاؤنڈیشن بنائی ‘ میں نے مدرسہ قائم کیا ‘ میں نے یتیم خانہ بنادیا ‘ لیکن جب اس کا نامہ اعمال پیش ہوگا تو اچانک اسے معلوم ہوگا کہ یہ تو کچھ بھی نہ تھا۔ ع جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا ! بس باد سموم کا ایک بگولا آیا اور سب کچھ جلا گیا۔ اس لیے کہ اس میں اخلاص تھا ہی نہیں ‘ نیت میں کھوٹ تھا ‘ اس میں ریاکاری تھی ‘ لوگوں کو دکھانا مقصود تھا۔ پھر اس کا حال وہی ہوگا جس طرح کہ وہ بوڑھا اب کف افسوس مل رہا ہے جس کا باغ جل کر خاک ہوگیا اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہیں۔ وہ خود بوڑھا ہوچکا ہے اور اب دوبارہ باغ نہیں لگا سکتا۔ اس شخص کی مہلت عمر بھی ختم ہوچکی ہوگی اور سوائے کف افسوس ملنے کے اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا۔
کفر اور بڑھاپا صحیح بخاری شریف میں ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب نے ایک دن صحابہ سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا اللہ زیادہ جاننے والا، آپ نے ناراض ہو کر فرمایا تم جانتے ہو یا نہیں ؟ اس کا صاف جواب دو ، حضرت ابن عباس نے فرمایا امیرالمومنین میرے دل میں ایک بات ہے آپ نے فرمایا بھتیجے کہو اور اپنے نفس کو اتنا حقیر نہ کرو، فرمایا ایک عمل کی مثال دی گئی ہے، پوچھا کون سا عمل ؟ کہا ایک مالدار شخص جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کرتا ہے پھر شیطان اسے بہکاتا ہے اور وہ گناہوں میں مشغول ہوجاتا ہے اور اپنے نیک اعمال کو کھو دیتا ہے، پس یہ روایت اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس میں بیان ہو رہا ہے کہ ایک شخص نے ابتداء اچھے عمل کئے پھر اس کے بعد اس کی حالت بدل گئی اور برائیوں میں پھنس گیا اور پہلے کی نیکیوں کا ذخیرہ برباد کردیا، اور آخری وقت جبکہ نیکیوں کی بہت زیادہ ضرورت تھی یہ خیال ہاتھ رہ گیا، جس طرح ایک شخص ہے جس نے باغ لگایا پھل اتارتا ہو، لیکن جب بڑھاپے کے زمانہ کو پہنچا چھوٹے بچے بھی ہیں آپ کسی کام کاج کے قابل بھی نہیں رہا، اب مدار زندگی صرف وہ ایک باغ ہے اتفاقاً آندھی چلی پھر برائیوں پر اتر آیا اور خاتمہ اچھا نہ ہوا تو جب ان نیکیوں کے بدلے کا وقت آیا تو خالی ہاتھ رہ گیا، کافر شخص بھی جب اللہ کے ہاں جاتا ہے تو وہاں تو کچھ کرنے کی طاقت نہیں جس طرح اس بڈھے کو، اور جو کیا ہے وہ کفر کی آگ والی آندھی نے برباد کردیا، اب پیچھے سے بھی کوئی اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا جس طرح اس بڈھے کی کم سن اولاد اسے کوئی کام نہیں دے سکتی، مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا یہ بھی تھی (اللھم اجعل اوسع رزقک علی عند کبر سنی و انقضاء عمری) اے اللہ اپنی روزی کو سب سے زیادہ مجھے اس وقت عنایت فرما جب میری عمر بڑی ہوجائے اور ختم ہونے کو آئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے یہ مثالیں بیان فرما دیں، تم بھی غور و فکر تدبر و تفکر کرو، سوچو سمجھو اور عبرت و نصیحت حاصل کرو جیسے فرمایا (آیت وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون) ان مثالوں کو ہم نے لوگوں کیلئے بیان فرما دیا۔ انہیں علماء ہی خوب سمجھ سکتے ہیں۔