سورۃ البقرہ (2): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ البقرہ کے بارے میں معلومات

Surah Al-Baqara
سُورَةُ البَقَرَةِ
صفحہ 45 (آیات 265 سے 269 تک)

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَـَٔاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ ٱلشَّيْطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ
45

سورۃ البقرہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ البقرہ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

بخلا ف اِس کے جو لو گ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو اگر زور کی بار ش ہو جائے تو دو گنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اُس کے لیے کافی ہو جائے تم جو کچھ کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamathalu allatheena yunfiqoona amwalahumu ibtighaa mardati Allahi watathbeetan min anfusihim kamathali jannatin birabwatin asabaha wabilun faatat okulaha diAAfayni fain lam yusibha wabilun fatallun waAllahu bima taAAmaloona baseerun

اس منظر کے بالمقابل ایک دوسرا منظر ہے ، جو اس کے بالکل متضاد ہے ۔ ایک دل ہے جو ایمان سے بھرا ہوا ہے ۔ وہ ایمان کی تروتازگی سے سرشار ہے ۔ وہ اپنے مال کو محض رضائے الٰہی کی خاطر خرچ کرتا ہے ۔ اسے پورا پورا یقین ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کررہا ہے اس کا وہ اجر ضرور پائے گا۔ اور یہ خرچ وہ محض اپنے ایمان اور نظریہ کے تقاضے کے طور پر کرتا ہے ۔ یہ نظریہ اس کے دل کی گہرائیوں میں رچا بسا ہے ۔ ایک طرف یہاں ریاکار دل ہے ، اس کو ایک ایسے پتھر کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے جس پر مٹی کا ایک خفیف سا پردہ ہے۔ اور دوسری جانب ایک ایسا دل ہے جو ایمان سے بھرپور ہے اور اسے ایک سرسبز باغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کی زمین زرخیز ہے اور مٹی گہری ہے جبکہ پتھر پر مٹی کا ایک خفیف سا پردہ تھا ۔ باغ ایک اونچے مقام پر ہے اور مذکورہ چٹان ایک گہرے گڑھے میں ہے ۔ تاکہ یہ دونوں مناظر متناسب اور ہم شکل ہوجائیں ۔ اب اگر اس باغ پر موسلادھار بارش برس جاتی ہے تو اس سے اس کی تروتازگی ختم نہیں ہوتی ۔ جس طرح چٹان پر سے مٹی کی خفیف تہہ بہہ نکلتی ہے ۔ بلکہ بارش اس باغ کو زیادہ سرسبز اور شاداب کردیتی ہے ۔ اسے نئی زندگی عطا کرتی ہے اور اس کی نشوونما ہوتی ہے ۔ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ................ ” اور اس پر زور کی بارش ہوجائے تو دگنا پھل لائے۔ “

یہ بارش اس باغ کو زندہ اور سرسبز کردیتی ہے ۔ جس طرح صدقہ ایک مومن کے دل کو پاک وصاف کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک مومن کا تعلق باللہ مضبوط ہوجاتا ہے۔ دل مومن کی طرح ایک مومن کا مال بھی صاف ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالتے ہیں اور اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ جماعت مسلمہ کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے اور اس سے اجتماعی روابط بڑھتے ہیں ۔ اور اگر وہ بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اس کے لئے کافی ہوجاتی ہے جبکہ مٹی میں پہلے سے نم موجود ہو تو ہلکی بارچ بھی کافی ہوتی ہے۔

یہ ہے ایک مکمل نظارہ ، جس کے مناظر ایک دوسرے کے بالمقابل صاف نظر آتے ہیں جس کی جزئیات باہم متناسب ہیں اور جسے ایک معجزانہ پیرایہ اظہار میں پیش کیا گیا ہے۔ طرز ادا میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اس کے مناظر تمام دلی خلجانات اور تمام غلط تصورات کے علاج کے لئے بالکل واضح ہیں ۔ یہ منظر انسانی وجدان اور انسانی شعور کے سامنے ایک صاف تصویر پیش کرتا ہے ۔ تمام حالات اور تمام محسوسات کو بڑے امتیاز کے ساتھ پیش کرتا ہے ۔ جو انسان کے قلب پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔ اور انسان بڑی آسانی سے راہ ہدایت پالیتا ہے ۔

اس منظر کا تعلق چونکہ فکر ونظر سے تھا ۔ اور اس سے اصل غرض وغایت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی جائے اور اس ظاہری دنیا سے آگے اس کے کرشمہ ہائے قدرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے ۔ اس لئے اس کے آخر میں یہ نتیجہ نکالا گیا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ................ ” رہا دوسرا منظر تو احسان جتلانے اور اذیت دینے کی انتہائی تمثیل ہے ۔ اس میں باری تعالیٰ بتاتے ہیں کہ اس قسم کے صدقے اور احسان کو اللہ تعالیٰ کس طرح تباہ وبرباد کردیتے ہیں ، جبکہ صاحب صدقہ اور صاحب احسان اس وقت اس صدقے اور احسان کے فائدے کا زیادہ محتاج ہوتا ہے۔ وہ ضعیف ہوجاتا ہے ۔ جسمانی قوتیں ختم ہوتی ہیں لیکن وہ اس بربادی کا کوئی علاج نہیں کرسکتا ۔ یہ انجام بد کی ایک انتہائی قسم کی بری منظر کشی ہے ۔ اور نہایت ہی موثر اور سبق آموز۔ اس منظر میں امن اور خوشحالی کے بعد مکمل تباہی اور ویرانی ہے ۔

اردو ترجمہ

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ayawaddu ahadukum an takoona lahu jannatun min nakheelin waaAAnabin tajree min tahtiha alanharu lahu feeha min kulli alththamarati waasabahu alkibaru walahu thurriyyatun duAAafao faasabaha iAAsarun feehi narun faihtaraqat kathalika yubayyinu Allahu lakumu alayati laAAallakum tatafakkaroona

یہاں صدقہ کو اپنی حقیقت اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک محسوس شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ................ ” یہ صدقہ گویا ایک باغ ہے جو نہروں سے سیراب ہے ۔ کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا۔ “ اس کی چھاؤں گھنی ہے ، خوشگوار اور تروتازہ ہے ۔ اس میں ہر قسم کے پھل کثرت سے ہیں جس طرح یہ باغ مفید ہے اس طرح صدقہ بھی مفید اور فائدہ بخش اور فرحت بخش تھا ۔ یہ صدقہ دینے والے کے لئے بھی مفید تھا ۔ لینے والے کے لئے بھی مفید تھا اور پورے معاشرے کے لئے بھی مفید تھا ۔ جس کے روحانی فائدے بیشمار تھے اور اس میں خیر و برکت تھی جس کے ذریعہ معاشرے کو مفید غذامل رہی تھی اور جو معاشرے میں اجتماعی نشوونما اور ترقی کا باعث تھا۔

کوئی ایسا بدبخت ہے جو اس قسم کے باغ کا مالک ہو اور جو اس قسم کے اعلیٰ بھائی چارے اور نیکی کا مالک ہو اور پھر وہ ایسے باغ کو احسان جتلانے یا احسان کے بعد اذیت دینے کی افادیت وبلیات کے ذریعے جلا کر خاکستر کردے ، جس طرح ایک آتشی بگولا کسی سرسبز و شاداب باغ کو جھلسا کر خاکستر کردیتا ہے۔

اور پھر یہ عمل کیسے حالات میں ہو ؟ ایسے حالات میں کہ اس باغ کا مالک صاب احتیاج ہو ۔ جسمانی لحاظ سے ضعیف ہوگیا ہو ، عیالدار ہو اور اسے اس باغ کی چھاؤں اور نعمتوں کی اشد ضروت بھی ہو وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ................ ” وہ خود بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے بھی کسی لائق نہ ہوں اور ایسے میں ایک تیز بگولے کی زد میں آجائے جس میں آگ ہو ۔ “ کون ہے جو ایسی صورتحال کو پسند کرے گا ؟ کون ہے جو اگر ایسے انجام کو سمجھ سکتا ہو اور اس سے بچنے کی سعی نہ کرے ؟

كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ................ ” اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے ، شاید تم غوروفکر کرو۔ “

یوں یہ زندہ وتابندہ منظر اسٹیج ہوتا ہے ۔ اس کی ابتدا نہایت خوشی ، خوشگواری اور آرام سے ہوتی ہے ۔ منظر کا آغاز تروتازگی ، فراخ و سرور اور حسن و جمال سے ہوتا ہے ۔ اس کے بعد تباہی کا منظر آتا ہے اور یہ ایک خوفناک منظر ہوتا ہے ۔ ایک بگولا آتا ہے جو اس کی تروتازگی کو پژمردہ کردیتا ہے ۔ جب یہ سب مناظر اسٹیج پر پر آتے ہیں تو انسان کو ایک لاشعوری احساس دلاتے ہیں اور یہ شعور اس قدر پرتاثیر ہوتا ہے کہ ایک باشعور آدمی کو ایک صحیح راہ اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں رہتا ۔ اس سے پہلے کہ انسان کے ہاتھ سے موقعہ جاتا رہے اور اس سے پہلے کہ گھنی چھاؤں والے باغات اور پھلوں سے لدے ہوئے درخت پژمردہ ہوجائیں اور جھلس جائیں ۔ ایک باشعور انسان رد و قبول کا فیصلہ کر ہی لیتا ہے۔

میں یہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ حسین و جمیل انداز کلام اور مربوط اور ہم آہنگ مناظر جن سے اس سبق کا ہر انفرادی منظر تشکیل پاتا ہے اور پھر جس خوش اسلوبی سے ہر ایک انفرادی منظر کو پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ ربط وہم آہنگی صرف ان انفرادی مناظر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہم آہنگی مجموعی طور پر ان تمام مناظر میں بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ تمام مناظر بھی باہم مربوط اور متناسب ہیں ۔ دیکھئے ! ایک زرعی ماحول ہے ۔ ایک دانہ ہے جس سے سات بالیاں اگتی ہیں ۔ ایک چٹان ہے جس پر مٹی کی ایک خفیف تہہ جمی ہوئی ہے ۔ اور اس پر اچانک موسلا دھار بارش ہوجاتی ہے ۔ پھر ایک اونچی جگہ پر ایک باغ ہے جو ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہے ۔ اور دوچند پھل لگا ہوا ہے ۔ یہ باغ کھجوروں اور انگوروں پر مشتمل ہے ۔ کہیں زوردار بارش اور کہیں پھوار ہے ۔ اور پھر ایک بگولا ہے جو اکثر زرعی کھیتوں میں تباہی مچاتا ہے ۔ غرض ایک زرعی ماحول کے تمام قدرتی اجزاء یہاں موجود ہیں اور کوئی ایسا جز غائب نہیں ہے جو موثر ہوسکتا ہو۔

قرآن کریم کے بلیغانہ انداز گفتگو کی یہ ایک اہم خصوصیت ہے کہ وہ انسانی ادراک اور اس زمین کے قدرتی ماحول کے درمیان فاصلے کم کردیتا ہے کیونکہ انسان کا وجود اسی کائنات کے عناصر ترکیبی سے مرکب ہے ۔ انسان اور کائنات میں نباتات کی نشوونما کے درمیان ایک مکمل آہنگی ہے ۔ جس طرح ایک بگولا اس کائنات کی تروتازگی کو جھلس دیتا ہے ، اسی طرح گمراہی انسان کی روحانی دنیا کو نیست ونابود کردیتی ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم ۔ ایک خوبصورت انداز گفتگو جو یقیناً حلیم وخبیر کی جانب سے ہے ۔

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے، تو تم ہرگز اُسے لینا گوارا نہ کرو گے الّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo anfiqoo min tayyibati ma kasabtum wamimma akhrajna lakum mina alardi wala tayammamoo alkhabeetha minhu tunfiqoona walastum biakhitheehi illa an tughmidoo feehi waiAAlamoo anna Allaha ghaniyyun hameedun

انفاق فی سبیل اللہ کے آداب اور نتائج کے بیان کے بعد اب یہاں سیاق کلام ، انفاق فی سبیل اللہ کے دستور کو لے کر اب مزید آگے بڑھتا ہے ۔ انفاق کی حقیقت ، انفاق کا طریقہ کار اور لوازمات کو بیان کیا جاتا ہے۔

اس آیت سے پہلی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے لئے جو قواعد اور اساسات متعین کئے گئے تھے اور جن پر اس کی عمارت اٹھانے کا حکم دیا تھا ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین مال خرچ کیا جائے ۔ اللہ کی راہ میں ردی اور گھٹیا اشیاء خرچ کرنے کا ارادہ ہی نہ کیا جائے جن میں خود مالک کی کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ ایسی اشیاء اگر خود ایسے شخص کو کسی سودے یا بیوپار میں دی جائیں تو وہ ان کے دعوض حقیر قیمت دینے کے لئے بمشکل تیار ہو۔ اللہ غنی بادشاہ ہے ۔ اسے ضرورت نہیں ہے کہ ایسی ردی اشیاء قبول کرے ۔

اللہ کی یہ پکار تمام مسلمانوں کے لئے ہے ۔ وہ جب کبھی ہوئے ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں اور یہ حکم تمام اموال کے لئے ہے جو ان کے ہاتھ آجائیں ۔ وہ تمام اموال جو انہوں نے حلال اور پاکیزہ طریقے سے کمائے ہوں یا وہ اموال ہوں جو ان کے لئے زمین سے پیدا کئے گئے ہوں۔ زرعی اجناس ہوں معدنیات ہوں مثلاپٹرول وغیرہ ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں عمومی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ یعنی وہ اموال جو رسول اللہ ﷺ کے وقت موجود تھے یا وہ جو بعد میں پیدا ہوئے ۔ اس لئے آیت کے الفاظ عام ہیں ۔ ان کا اطلاق ان اموال پر بھی ہوتا ہے جو بعد میں پیدا ہوں ۔ ان تمام پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔ ہاں نصاب زکوٰۃ کا تعین سنت نبوی ﷺ نے کردیا ہے۔ لہٰذا ہر قسم کی پیداوار کو ان اموال پر قیاس کرلیا جائے ۔ جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھے ۔ ہر نئی پیداوار کو ان اجناس پر قیاس کرلیا جائے جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھیں ، اپنی اپنی نوعیت کے مطابق ۔

بعض روایات میں ، اس آیت کا شان نزول بھی بیان ہوا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں یہاں ان کا تذکرہ غیر موزوں نہ ہوگا ۔ کیونکہ ان روایات کے ذریعہ وہ حالاتدوبارہ سامنے آجاتے ہیں ، جن میں ان آیات کا نزول ہوا ۔ ان روایات سے وہ پست معاشرتی صورتحال بھی مستحضر ہوجاتی ہے جس کی اصلاح قرآن کے پیش نظر تھی اور جس کے معیار کی بلندی کے لئے قرآن کریم جدوجہد کررہا تھا۔

ابن جریر نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں ” یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، جب کھجوریں توڑنے کا وقت قریب آتا تو وہ اپنے باغوں سے کھجوروں کے ایسے کو شے توڑ لاتے جن کے رنگ پیلے ہوجاتے تھے ، لیکن ابھی پکے نہ ہوتے تھے اور وہ انہیں مسجد نبوی کے دوستونوں کے درمیان لٹکادیتے تھے ، تو فقراء مہاجرین ان سے کھاتے تھے ۔ بعض لوگ ردی قسم کی کھجوریں بھی لاکر ان میں لٹکا دیتے ۔ وہ یہ سمجھتے کہ یہ جائز ہے ۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ................ ” اور خبیث کا ارادہ نہ کرو کہ اس میں سے تم خرچ کرو۔ “ اس حدیث کو براء سے حاکم نے بھی روایت کیا ہے ۔ اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث اگرچہ بخاری اور مسلم کی شرائط کی صحت کے مطابق ہے ۔ لیکن بخاری ومسلم نے اسے روایت نہیں کیا ۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت براء ؓ سے روایت کی ہے ۔ کہتے ہیں یہ ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ ہم کھجوروں کے مالک تھے تو ہر شخص تھوڑی بہت کھجوریں لایا کرتا تھا ، بعض لوگ ناپختہ لاتے تھے اور مسجد میں لٹکاتے تھے ۔ اہل صفہ کے طعام و قیام کا بندوبست کوئی نہ تھا ۔ ان میں سے جو بھی بھوکا ہوجاتا ، وہ آتا اور اپنی لاٹھی کو ان لٹکی ہوئی کھجوروں پر مارتا اور نیم پختہ اور پوری پختہ کھجوروں میں سے جو کچھ گرتا ، وہ کھالیتا۔

لوگوں میں سے بعض ایسے بھی تھے جو مائل بخیر نہ تھے ، وہ ناپختہ اور ردی قسم کی کھجوریں لے آتے ۔ وہ خصوصاً ایساخوشہ لاتے جو ٹوٹ چکا ہوتا تھا اور جس کے دانے ناپختہ ہوتے تھے ، اسے لٹکادیتے تو یہ آیت نازل ہوئی وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ................ ” ایسانہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لئے بری سی بری چیز چھاٹنے کی کوشش کرنے لگو ، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کروگے ۔ الا یہ کہ اسے قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ۔ “ فرمایا : کہ اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہر چیز ہدایہ دے جو وہ خود دے رہا ہے ، تو وہ اسے ہرگز نہ لے ۔ الا یہ کہ اغماض برتے یا حیاچشمی سے کام لے ۔ چناچہ اس کے بعد ہم سے ہر شخص کے بعد جو کچھ ہوتا ، اس میں سے اچھی چیز لاتا۔

دونوں روایات قریب المفہوم ہیں ۔ دونوں مدینہ طیبہ میں فی الواقع موجود صورتحال کا نقشہ کھینچ رہی ہیں ۔ یہ دونوں احادیث تاریخ کے ایک ورق کے بالمقابل ایک دوسرا ورق دکھاتی ہیں ، جس کے اوپر انصار مدینہ فیاضانہ دادوہش کے انمٹ نشان چھوڑدیتے ہیں ۔ نیز یہ احادیث بتاتی ہیں کہ ایک ہی جماعت کے اندر بعض افراد نہایت ہی عجیب اور بلند مقام کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دوسرے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی تربیت اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں درجہ بلند کے راستے پر ڈالا جائے ، جس طرح بعض انصار کے معاملے میں یہ ضرورت پیش آئی ، انہیں اللہ کے راستے میں ردی اموال کو خرچ کرنے سے منع کیا جائے ۔ ایسے اموال کہ خود اگر انہیں پیش کئے جائیں تو وہ انہیں قبول نہ کریں ۔ الا یہ کہ رد کرنے میں حیا مانع ہو اور اگر کوئی لین دین ہو تو اس میں وہ اغماض برت جائیں ۔ یعنی قیمت میں کمی کرنے کے معاملے میں ۔ حالانکہ وہ جس ذات باری کے سامنے ہدیہ پیش کررہے ہیں وہ باری تعالیٰ ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ آیت کا خاتمہ اس فقرے پر ہوتا ہے ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ................ ” تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بےنیاز ہے اور بہترین اوصاف سے متصف ہے ۔ “ یعنی وہ اس بات سے مطلقاً بےنیاز ہے کہ اس کی راہ میں کوئی دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ اگر کوئی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو خود اپنے مفاد کے لئے کرتا ہے ۔ تو بس اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ بہترین چیز خرچ کرے اور بطیب خاطر کرے نیز وہ حمید ہے ۔ وہ پاکیزہ چیزیں قبول کرتا ہے اور ان کی تعریف کرتا ہے ۔ ان پر جزا دیتا ہے اور اچھی جزا۔ غرض اس مقام پر یہ ان دونوں صفات کے ذکر سے انسانی دل اس طرح دہل جاتے ہیں ، جس طرح انصار کے دل دہل گئے تھے جن کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جو مال تم نے کمائے ہیں ، ان میں سے بہترین حصہ راہ اللہ میں خرچ کرو ۔ “ ورنہ اللہ کو اس ردی چیز کی ضرورت نہیں جس کو تم چھانٹ کر بطور صدقہ خرچ کرتے ہو ، حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جو تمہاری تعریف اس صورت میں کرتا ہے کہ تم اس کی راہ میں پاکیزہ چیزیں خرچ کرو اور اس رضامندی کی وجہ سے وہ پھر تمہیں اچھی جزا بھی دیتا ہے ۔ درآں حالیکہ یہ مال اسی نے تمہیں دیا ہے ۔ اصل داتا تو وہی ہے وہ تو بطور اعزاز تمہیں اس فیاضی پر جزا دیتا ہے ، اس لئے کہ تم جو کچھ دیتے ہو وہ اسی نے تو تمہیں عطا کیا ہے ۔ کس قدر شاندار تفہیم ہے یہ ! کیا عجب انداز ترغیب ہے ! یہ ایک عجیب اسلوب تربیت ہے جو قرآن کریم نے اختیار کیا ہے ۔

حقیقت یہ تھی اور ہے کہ اللہ کی راہ میں انفاق نہ کرنا ، یا ردی اور بےکار چیز بارگاہ الٰہی میں پیش کرنا ، اپنے اندر بعض برے تصورات لئے ہوتے ہیں ۔ ایسے شخص کو دراصل ان اعمال پر اللہ تعالیٰ کے ہاں جو اجر مقرر ہے اس پر پورا یقین نہیں ہوتا یا ایسے شخص کو تنگ دستی کا خوف لاحق ہوتا ہے ، جو کبھی بھی ان لوگوں کو لاحق نہیں ہوتا جن کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے ، جن کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ ہوتا ہے ۔ انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ ہر چیز کا انجام آخرکار اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان کے مقابلے میں ان تصورات کی حقیقت کھول کر رکھ دی ، یہ بات عیاں کردی اور اچھی طرح سمجھادیا کہ نفس انسانی کے اندر یہ تصورات کہاں سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور انسانی دلوں میں ان کو بار بار جگانے والی وہ قوت کون سی ہے ؟ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قوت شیطانی قوت ہے۔

اردو ترجمہ

شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alshshaytanu yaAAidukumu alfaqra wayamurukum bialfahshai waAllahu yaAAidukum maghfiratan minhu wafadlan waAllahu wasiAAun AAaleemun

شیطان تمہیں فقر اور تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے ۔ اس وجہ سے تمہارے نفوس کے اندر حرص ، بخل پیدا کرتا ہے ۔ شیطان تمہیں فحاشی کا حکم دیتا ہے ۔ عربی زبان میں فحاشی ہر اس معصیت کو کہتے ہیں ، جس میں انسان حد سے تجاوز کرجائے ۔ اگرچہ زیادہ تر اس کا استعمال ایک خاص معصیت میں ہوتا ہے ۔ تاہم یہ لفظ عام ہے ۔ تنگدستی کا یہ خوف ہی تھا ، جس کی وجہ سے ایام جاہلیت میں اقوام عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے جو ایک قسم کی فحاشی تھی ۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کا جذبہ انہیں سود خوری پر آمادہ کرتا تھا ۔ جو ایک قسم کی فحاشی تھا ۔ نیز یہ خوف کہ انفاق فی سبیل اللہ سے وہ تنگدست ہوجائیں گے بجائے خود فحاشی ہے ۔

ایک طرف شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور فحشاء پر آمادہ کرتا ہے ، جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ تمہیں مغفرت کا یقین دلاتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ پر وہ تمہیں اجر عطا کرے گا وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلا ................ ” لیکن اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ “

یہاں لفظ مغفرت کو پہلے لایا گیا ہے ، اس لئے کہ کہ فضل وکرم مغفرت کے بعد ہوتا ہے ۔ اور اس فضل وکرم میں اس سرزمین پر وسائل رزق بھی شامل ہیں یعنی بطور جزائے انفاق فی سبیل اللہ اس دنیا میں بھی رزق فراواں ہوگا ۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ................ ” اللہ بہت بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ “

وہ اپنی وسعت اور فراخ دستی سے عطا کرتا ہے ، وہ تمام دلی خلجانات کو بخوبی جانتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کے تمام میلانات اور رجحانات سے بھی واقف ہے ، اس لئے وہ فقط مال ہی عطا نہیں کرتا ، فقط مغفرت ہی نہیں کرتا بلکہ وہ حکمت ودانشمندی بھی عطا کرتا ہے۔ اور دانشمندی اور حکمت سے انسان میں توازن اور اعتدال پیدا ہوتا ہے ۔ انسان اسباب اور مقاصد کے ادراک سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں انسان ہر چیز کو ماہیت کے مطابق مقام عطا کرتا ہے ۔ اور وہ تمام فیصلے فہم و فراست کے ساتھ سوچ سمجھ کر کرتا ہے ۔

اردو ترجمہ

جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں، جو دانشمند ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yutee alhikmata man yashao waman yuta alhikmata faqad ootiya khayran katheeran wama yaththakkaru illa oloo alalbabi

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ................” جس کو چاہتا ہے ، حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔ “

اسے میانہ روی دی گئی اور اعتدال نصیب ہوا ، اس لئے وہ انتہاپسندی اور حد سے تجاوز سے محفوظ ہوگیا ۔ اسے تمام چیزوں کے اسباب ونتائج سمجھائے گئے۔ اس لئے وہ ان اشیاء کی قدروقیمت کے تعین میں غلطی نہیں کرتا ، اسے روشن بصیرت دی گئی ، اس لئے وہ حرکات و سکنات اور اعمال وافعال میں سے صالح اور صائب کا انتخاب کرتا ہے اور یہ ایک ایسی دولت ہے جو مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے ۔

وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الألْبَابِ................ ” ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں ۔ “ غرض وہی لوگ سبق لیتے ہیں صاحب بصیرت ہیں اور عقلمند ہیں ۔ ایسے لوگ سبق کو یاد بھی کرتے ہیں ، بھول بھی جاتے ہیں ۔ ایک دفعہ اگر متنبہ ہوجائیں تو پھر غفلت نہیں کرتے ۔ اگر کسی واقعہ سے عبرت پکڑیں تو پھر گمراہی کے راستے پر نہیں پڑتے ۔ یہ سب کام عقل کے فرائض میں شمار ہوتے ہیں ۔ عقل کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ راہ ہدایت اور اس کے نشانات کو پالے ۔ وہ معقول روش اختیار کرے اور لہو ولعب کی بےمقصد زندگی نہ گزارے ۔

یہ حکمت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے پسند کرتا ہے ، اسے عطا کردیتا ہے ، یہ حکمت و دانائی اللہ کی مشیئت پر موقوف ہے ۔ اسلامی تصور حیات کا یہ اصل الاصول ہے ۔ یہاں ہر چیز کا مرجع اللہ جل شانہ کی بااختیار مشیئت ہے ۔ ہاں اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے ایک دوسرا بھی اصول بیان کیا ہے ۔ وہ یہ کہ جو شخص بھی راہ ہدایت کی تلاش کا ارادہ کرے اور اس کے لئے پوری جدوجہد کرے تو اللہ کبھی بھی اسے راہ ہدایت سے محروم نہیں کرتا بلکہ وہ اس سلسلے میں اس متلاشی کی پوری پوری اعانت کرتا ہے۔

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ................ ” جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے ، اور یقینا ًاللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ “ (69 : 29) اس لئے ہر وہ شخص جو راہ ہدایت اختیار کرنا چاہتا ہے ، پوری طرح مطمئن رہے کہ مشیئت ایزدی اس کا حصہ ضرور کرے گی اور اسے راہ ہدایت کے ساتھ ساتھ حکمت ودانشمندی بھی عطا ہوگی اور اسے اس کے ساتھ ساتھ خیر کثیر بھی عطاء ہوگی۔

ذرا رکئے ! اس سے قبل کہ ہم اس آیت پر غور وخوص ختم کردیں ۔ ایک دوسری اور اہم حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ ذرا غو رکیجئے ، شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے ۔ اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے ۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔

انسان کے سامنے صرف دو راستے ہیں ، کوئی تیسراراستہ نہیں ہے ۔ ایک اللہ کا راستہ ہے اور ایک شیطان کا راستہ ہے ۔ وہ یا تو اللہ کے وعدہ کی طرف کان لگائے اور یا شیطان کی پکار پر لبیک کہے گا ۔ اور یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کی راہ پر گامزن نہیں اور اللہ کی پکار نہیں سن رہا ہے ، وہ شیطان کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے ورغلانے میں آگیا ہے ۔ صرف ایک ہی طریق زندگی ہے ، یعنی حق کا راستہ ۔ وہ منہج ، وہ نظام جسے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا۔ اس کے علاوہ جو بھی راستہ ہے وہ شیطان کا راستہ ہے اور اس کی انتہاء شیطان تک ہے ۔ وہ شیطان تک پہنچتا ہے۔

قرآن کریم اس حقیقت کو بار بار بیان کرتا ہے ۔ بار بار اس کی تاکید کرتا ہے ۔ اس لئے کہ جو شخص اسلامی طریقہ حیات کو ترک کرکے شیطانی نظام زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، اس کے لئے کوئی ایسا دعویٰ کرنے کی گنجائش نہ رہے کہ وہ کسی طرح بھی راہ ہدایت پر ہے ۔ اس میں اب نہ کوئی شبہ کی گنجائش ہے اور نہ اس میں کوئی پوشیدگی ہے ۔ ایک جانب اللہ ہے اور دوسری طرف شیطان ہے ۔ ایک طرف خدائی طریق حیات ہے اور دوسری جانب شیطانی طریقہ کار ہے ۔ ایک طرف اللہ کی راہ ہے دوسری جانب شیطان کی راہ ہے ۔ جو چاہے جس راستے کا اختیار کرلے ۔

لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَا مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ................ ” اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے ۔ “ (42 : 8) کوئی بات پوشیدہ نہ ہو ۔ کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو ۔ یا گمراہی ہے یا صراط مستقیم ہے ۔ یہ راہ راست ہی حق اور سچائی ہے اور یہی واحد راہ ہے ۔ اس راہ کے علاوہ جس قدر راہیں ہیں وہ سب باطل ہیں اور ضلالت کی راہیں ہیں ۔

اس اہم نکتے کے بعد ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں ۔ یعنی صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ ۔ جو شخص بھی اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرے اللہ کو اس کا پوری طرح علم ہے ۔ وہ صدقہ ہو یا نذر ہو ۔ وہ خفیہ ہو یا اعلانیہ ہو ، وہ اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور علم الٰہی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس فعل پر بھی اجر دیتا ہے اور اس فعل کے پس منظر میں جو نیت اور ارادہ پنہاں ہوتا ہے ، اس پر بھی اجر ملتا ہے۔

45