ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ حکم فرماتے تھے کہ صرف اہل اسلام پر صدقہ کیا جائے ۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ................“ تو آپ نے حکم دیا کہ جس دین کے پیروکار بھی تم سے سوال کریں انہیں صدقہ دیا کرو۔
دل اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ اللہ کی مخلوق میں سے یہ بات کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کردے ۔ اگرچہ وہ خود رسول ﷺ خود ہوں۔ ہدایت دینا یا گمراہ کرنا اللہ وحدہ کی ذات کا کام ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں کا خالق ہے ۔ دلوں پر صرف اللہ کی حکمرانی ہے ۔ صرف اللہ ہی دلوں کو موڑسکتا ہے ۔ وہی ہے جو دلوں کو حکم دے سکتا ہے ۔ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ وہ پیغام اچھی طرح پہنچادے ۔ رہی ہدایت تو یہ صرف اللہ کا کام ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت نصیب کردے کیونکہ وہی ہدایت دینے کا مستحق ہے ۔ ہدایت دینا صرف اللہ کا استحقاق ہے ۔ انسان سے اس استحقاق کو لے لینا ، محض اس لئے ہے کہ ایک مومن طلب ہدایت کے لئے صرف اللہ کی طرف رجوع کرے اور وہ صرف اللہ ہی سے دلائل اخذ کرے ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس استحقاق کو صرف خاصہ خدا قرار دینے کے بعد اب ایک داعی کے لئے یہ جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ گمراہ لوگوں کے ساتھ نفرت کرے یا ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دلی تنگی محسوس کرے ۔ اس لئے کہ وہ انہیں مسلسل دعوت دیتا رہے گا ۔ ان کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرے گا اور اس بات کا انتظار کرے گا کہ کب اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ راہ راست پر آجائیں ؟ کب انہیں توفیق بخشتا ہے کہ وہ اس سمت قدم اٹھائیں اور اپنے اللہ کو پہچانیں۔
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ............... ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔ ہدایت تو اللہ ہی ہے جسے چاہتا ہے بخشتا ہے ۔ “ لہٰذا تم انہیں کھلے دل کے ساتھ دعوت دو اور ان کے لئے سینہ کھول دو ۔ ان پر اپنی رحمت اور حسن عمل کا فیضان کرو ۔ اس کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اور ان کے لئے مددگار ثابت بنو جہاں تک وہ تمہاری امداد کے محتاج ہوں ۔ انہیں حکم دیتے رہو کہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور اس امداد کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔
یہاں آکر ہم ان بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں جن کے آفاق وسیع اور روشن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے دل و دماغ کو ان بلندیوں تک پہنچادیتے ہیں اور ان پر ان کے دلوں کو مستحکم کردیتے ہیں ۔ اسلام نہ صرف یہ کہ مذہبی آزادیوں کا اصول متعین کرتا ہے ، نہ صرف یہ کہ وہ دینی امور میں جبر وتشدد کا ہی قلع قمع کرتا ہے بلکہ وہ اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہنی رواداری کی ایسی فضا قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایات پر مبنی ہے اور وہ یہ اصول طے کرتا ہے کہ بلا امتیاز مذہب و عقیدہ ، معاشی تعاون اور معاشی امداد کے دروازے تمام لوگوں پر کھلے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ امت مسلمہ کے ساتھ حالت جنگ میں نہ ہوں۔ وہ یہ یقین دلاتا ہے کہ ایسے حالات میں غیر مسلموں پر خرچ کرنے والوں کا اجر بھی عنداللہ محفوظ ہے ، بشرطیکہ یہ انفاق فی سبیل اللہ محض رضائے الٰہی کے لئے ہو۔ انسانیت کی یہ ایک ایسی سربلندی ہے جس سے ایک جست میں وہ ایک مقام بلند تک پہنچ جاتی ہے اور یہ مقام بلند اسے صرف اسلام کے طفیل ہی نصیب ہوسکتا ہے اور صرف وہی لوگ اس مقام بلند کی حقیقت پاسکتے ہیں ۔ جو صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔
وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلأنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لا تُظْلَمُونَ
” اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلائی ہے ۔ آخر تم اسی لئے خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کروگے ، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا ۔ اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔ “
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی شان کی جو جھلک دکھائی ہے ، وہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل ایمان جب خرچ کرتے ہیں تو وہ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ............... ” تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ “ ایک مومن کی صفت بس یہی ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ وہ یہ ہے کہ صرف وہ رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرتا ہے ۔ وہ خواہشات نفسانیہ یا کسی غرضب اور مطلب براری کے لئے نہیں خرچ کرتا۔ وہ یوں انفاق فی سبیل اللہ نہیں کرتا کہ انفاق کرے اور پھر کان لگا کر بیٹھ جائے اور سنے کہ لوگ کیا کہتے ہیں ۔ وہ اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ وہ اپنے انفاق کے ذریعہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوجائے ۔ ان پر اپنی برتری ثابت کرے اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑ ثابت کرے ۔ وہ اس لئے نہیں خرچ کرتے کہ ان سے صاحبان اقتدار لوگ راضی ہوں یا وہ انہیں اس کا کوئی بدلہ دیں ۔ وہ تو صرف رضائے الٰہی کی لئے خرچ کرتے ہیں ۔ خالص اللہ کے لئے ۔ اس لئے دل مومن اس مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو ضرور قبول فرمائیں گے ۔ نیز اسے پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دے گا ۔ اسے یہ اطمینان بھی ہوتا ہے کہ اللہ نہ صرف یہ کہ اسے پورا پورا اجر دے گا بلکہ اس پر مزید انعام بھی ہوگا ۔ اسے پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ کی مخلوق پر احسان اور انفاق کے نتیجے میں اللہ کی جانب سے وہ احسان اور بھلائی کا مستحق ہے ۔ چناچہ اسی دادوہش کی وجہ سے اس کا تزکیہ نفس ہوتا ہے ۔ اس کے اخلاق پاکیزہ ہوتے ہیں ۔ اور اس کی شخصیت بلند ہوجاتی ہے ۔ جب تک وہ اس جہاں میں زندہ ہوتا ہے رہی جزائے آخرت تو وہ بہرحال اعلیٰ و افضل ہوتی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ خیرات وصدقات کے مصارف میں سے خصوصاً ایک مصرف کا ذکر فرماتے ہیں ۔ مومنین میں سے ایک گروہ کی تصویر پیش کی جاتی ہے جو صاف و شفاف ہے ۔ شریفانہ اور باوقار ہے ۔ اس تصویر کو دیکھ کر انسانی شعور میں طلاطم برپا ہوتا ہے ۔ اس تصویر کو دیکھ کر دل مومن حرکت میں آتا ہے اور نفس انسانی ایسی شخصیات کا ادراک کرلیتا ہے جو کسی جانب سے ، کسی قسم کی امداد حاصل کرنے کو پسند نہیں کرتیں ۔ اس لئے ان کی عزت نفس کو کسی طرح بھی ٹھیس نہ لگے ۔ اور وہ طلب حاجت نہیں کرتیں ۔ مبادا کہ انہیں حقیر سمجھ لیا جائے ۔ اس لئے وہ دست سوال دراز کرنے پر آمادہ نہیں ہوپاتیں ۔ اور نہ وہ اس سلسلے میں اظہار مطلب کرتی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
آیت 272 لَیْسَ عَلَیْکَ ہُدٰٹہُمْ ان کو ہدایت دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے ‘ آپ ﷺ پر ذمہّ داری تبلیغ کی ہے۔ ہم نے آپ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاََنْفُسِکُمْ ط اس کا اجر وثواب بڑھا چڑھا کر تم ہی کو دیا جائے گا ‘ سات سو گنا ‘ چودہ سو گنا یا اس سے بھی زیادہ۔وَمَا تُنْفِقُوْنَ الاَّ ابْتِغَآءَ وَجْہِ اللّٰہِ ط تبھی تمہیں اس قدر اجر ملے گا۔ اگر ریاکارانہ خرچ کیا تھا تو اجر کا کیا سوال ؟ وہ تو شرک بن جائے گا۔وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُوْنَ تمہاری ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔اب واضح کیا جا رہا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کا سب سے بڑھ کر حق دار کون ہے۔
مستحق صدقات کون ہیں حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرما دیا ہر سائل کو دو ، گو وہ کسی مذہب کا ہو (ابن ابی حاتم) حضرت اسماء والی روایت آیت (لاینھاکم اللہ الخ) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لئے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا) 45۔ الجاثیہ :15) اور اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں، حسن بصری فرماتے ہیں ایماندار کا ہر خرچ اللہ ہی کیلئے ہوتا ہے گو وہ خود کھائے پئے، عطا خراسان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب تم نے اپنی مرضی سے مولا اور رضائے رب کیلئے دیا تو لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اور کیسے ہی اعمال کا کرنے والا ہو، یہ مطلب بھی بہت اچھا ہے، حاصل یہ ہے کہ نیک نیتی سے دینے والے کا اجر تو اللہ کے ذمہ ثابت ہوگیا ہے۔ اب خواہ وہ مال کسی نیک کے ہاتھ لگے یا بد کے یا غیر مستحق کے، اسے اپنے قصد اور اپنی نیک نیتی کا ثواب مل گیا۔ جبکہ اس نے دیکھ بھال کرلی پھر غلطی ہوئی تو ثواب ضائع نہیں جاتا اسی لئے آیت کے آخر میں بدلہ ملنے کی بشارت دی گئی، اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آیا کہ ایک شخص نے قصد کیا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا، لے کر نکلا اور چپکے سے ایک عورت کو دے کر چلا آیا، صبح لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ آج رات کو کوئی شخص ایک بدکار عورت کو خیرات دے گیا، اس نے بھی سنا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر اپنے جی میں کہا آج رات اور صدقہ دوں گا، لے کر چلا اور ایک شخص کی مٹھی میں رکھ کر چلا آیا، صبح سنتا ہے کہ لوگوں میں چرچا ہو رہا ہے کہ آج شب ایک مالدار کو کوئی صدقہ دے گیا، اس نے پھر اللہ کی حمد کی اور ارادہ کیا کہ آج رات کو تیسرا صدقہ دوں گا، دے آیا، دن کو پھر معلوم ہوا کہ وہ چور تھا تو کہنے لگا، اللہ تیری تعریف ہے زانیہ عورت کے دئیے جانے پر بھی، مالدار شخص کو دئیے جانے پر بھی اور چور کو دینے پر بھی، خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے تیرے تینوں صدقے قبول ہوگئے۔ شاید بدکار عورت مال پا کر اپنی حرام کاری سے رک جائے اور شاید مالدار کو عبرت اصل ہو اور وہ بھی صدقے کی عادت ڈال لے اور شاید چور مال پا کر چوری سے باز رہے۔ پھر فرمایا صدقہ ان مہاجرین کا حق ہے جو دنیوی تعلقات کاٹ کر ہجرتیں کرکے وطن چھوڑ کر کنبے قبیلے سے منہ موڑ کر اللہ کی رضامندی کیلئے پیغمبر ﷺ کی خدمت میں آگئے ہیں، جن کے معاش کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو انہیں کافی ہو اور وہ سفر کرسکتے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی حاصل کریں ضرب فی الارض کے معنی مسافرت کے ہیں جیسے آیت (اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ) 5۔ المائدہ :106) اور (يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ) 73۔ المزمل :20) میں ان کے حال سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان کے لباس اور ظاہری حال اور گفتگو سے انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے مسکین وہی نہیں جو دربدر جاتے ہیں کہیں سے دو ایک کھجوریں مل گئیں کہیں سے دو ایک لقمے مل گئے، کہیں سے دو ایک وقت کا کھانا مل گیا بلکہ وہ بھی مسکین ہے جس کے پاس اتنا نہیں جس سے وہ بےپرواہ ہوجائے اور اس نے اپنی حالت بھی ایسی نہیں بنائی جس سے ہر شخص اس کی ضرورت کا احساس کرے اور کچھ احسان کرے اور نہ وہ سوال کے عادی ہیں تو انہیں ان کی اس حالت سے جان لے گا جو صاحب بصیرت پر مخفی نہیں رہتیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ) 48۔ الفتح :29) ان کی نشانیاں ان کے چہروں پر ہیں اور فرمایا (وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ) 47۔ محمد :30) ان کے لب و لہجہ سے تم انہیں پہچان لو گے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مومن کی دانائی سے بچو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، سنو قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ) 45۔ الحجر :75) بالیقین اس میں اہل بصیرت کیلئے نشانیاں ہیں، یہ لوگ کسی پر بوجھل نہیں ہیں، کسی سے ڈھٹائی کے ساتھ سوال نہیں کرتے نہ اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں، جس کے پاس ضرورت کے مطابق ہو اور پھر بھی وہ سوال کرے وہ چپک کر مانگنے والا کہلاتا ہے، حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لے کر چلے جانے والے ہی مسکین نہیں بلکہ حقیقتاً مسکین وہ ہیں جو باوجود حاجت کے خودداری برتیں اور سوال سے بچیں، دیکھو قرآن کہتا ہے آیت (لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا) 2۔ البقرۃ :273) یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مروی ہے، قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کو ان کی والدہ فرماتی ہیں تم بھی جا کر رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگ لاؤ جس طرح اور لوگ جا کرلے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب گیا تو حضور ﷺ کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے کہ جو شخص سوال سے بچے گا اللہ بھی اسے سوال سے بچا لے گا، جو شخص بےپرواہی برتے گا اللہ اسے فی الواقع بےنیاز کر دے گا، جو شخص پانچ اوقیہ کے برابر مال رکھتے ہوئے بھی سوال کرے وہ چمٹنے والا سوالی ہے، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ ہمارے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ ایک اونٹنی غلام کے پاس ہے وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمت کی ہے پس میں تو یونہی سوال کئے بغیر ہی چلا آیا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ حضرت ابو سعید کا ہے اس میں ہے کہ آپ نے مجھ سے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے، ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ چالیس درہم کے تقریباً دس روپے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس کے پاس بےپرواہی کے لائق ہو پھر بھی وہ سوال کرے، قیامت کے دن اس کے چہرہ پر اس کا سوال زخم نہ ہوگا اس کا منہ نچا ہوا ہوگا، لوگوں نے کہا حضرت ﷺ کتنا پاس ہو تو ؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت کا سونا، یہ حدیث ضعیف ہے، شام میں ایک قریشی تھے جنہیں معلوم ہوا کہ حضرت ابوذر ضرورت مند ہیں تو تین سو گنیاں انہیں بھجوائیں، آپ خفا ہو کر فرمانے لگے اس اللہ کے بندے کو کوئی مسکین ہی نہیں ملا ؟ جو میرے پاس یہ بھیجیں، میں نے تو نبی ﷺ سے سنا ہے کہ چالیس درہم جس کے پاس ہوں اور پھر وہ سوال کرے وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے اور ابوذر کے گھرانے والوں کے پاس تو چالیس درہم بھی ہیں، چالیس بکریاں بھی ہیں اور غلام بھی ہیں۔ ایک روایت میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چالیس درہم ہوتے ہوئے سوال کرنے والا الحاف کرنے والا اور مثل ریت کے ہے۔ پھر فرمایا تمہارے تمام صدقات کا اللہ کو علم ہے اور جبکہ تم پورے محتاج ہوگئے، اللہ پاک اس وقت تمہیں اس کا بدلہ دے گا، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ پھر ان لوگوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں جو ہر وقت اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں، انہیں اجر ملے گا اور ہر خوف سے امن پائیں گے، بال بچوں کے کھلانے پر بھی انہیں ثواب ملے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے سال جبکہ آپ حضرت سعد بن ابی وقاص کی عیادت کو گئے تو فرمایا ایک روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع والے سال فرمایا تو جو کچھ اللہ کی خوشی کیلئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تیرے درجات بڑھائے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بیوی کو کھلائے پلائے اس کے بدلے بھی، مسند میں ہے کہ مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، حضور ﷺ فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں، ابن عباس سے بھی یہی مروی ہے، حضرت جبیر فرماتے ہیں حضرت علی کے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری، یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے، اطاعت الٰہی میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بےغم ہیں۔