سورۃ البقرہ: آیت 47 - يا بني إسرائيل اذكروا نعمتي... - اردو

آیت 47 کی تفسیر, سورۃ البقرہ

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اردو ترجمہ

اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya banee israeela othkuroo niAAmatiya allatee anAAamtu AAalaykum waannee faddaltukum AAala alAAalameena

آیت 47 کی تفسیر

بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا ، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں ، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے ، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیرلیا ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے ، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے ، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کردیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے ، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہوگئے۔

انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر یہ فضل وکرم تھے اور وہ دنیا کی افضل ترین قوم تھے ۔ یہ بات انہیں بطور ترغیب سنائی جارہی ہے کہ اب پھر ان کے لئے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے مواقع ہیں ۔ یوں کہ وہ اس نئے قافلہ ایمان میں شامل ہوجائیں ۔ دعوت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ اللہ کے عہد میں دوبارہ داخل ہوجائیں اور اللہ نے ان کے آباء اجداد کو جو فضیلت دی تھی اس کا شکر وہ بھی ادا کریں اور اب مومنین کو جو مقام عنایت ہورہا ہے ، اس میں وہ بھی شریک ہوجائیں۔

لیکن اس ترغیب کے ساتھ ساتھ فضل وکرم اور نعمت عمیمہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ آنے والے دن کی ترہیب و تخویف بھی آتی ہے جس میں لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا ” کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا۔ “

کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص فرداً اپنے اعمال کا صلہ پائے گا ۔ وہاں حساب انفرادی طور پر ہوگا ، ہر کوئی صرف اپنے کئے کا جوابدہ ہوگا ، کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ یاد رہے کہ شخصی مسؤلیت ، دنیا وآخرت میں اسلام کا ایک زریں اور عظیم اصول ہے ، شخصی مسؤلیت کا یہ اصول ، انسان کے آزاد ارادہ اور اختیار تمیزی پر قائم ہے ۔ اور اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی جانبب سے عالمگیر عدل و انصاف ہوگا ۔ یہی وہ اصول ہے ، جو انسان کے اندر ، اس کی ذی شرف ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے ، اور اس سے اس کے دل میں دائمی بیداری کا جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے بےحد مفید ہے ۔ نیز ان سے ان انسانی قدروں میں اضافہ ہوتا ہے ، جن کی بنا پر اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا ہے۔

وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑاجائے گا ۔ “ اس دن جو شخص ایمان اور عمل صالح کا توشہ لے کر نہ آئے اس کے حق میں کوئی سفارش نہ ہوگی ۔ کفر اور معصیت کی معافی کے لئے کوئی فدیہ نہ لیاجائے گا۔ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی ۔ “ اس دن عذاب الٰہی سے انہیں نجات دینے کے لئے کوئی ناصر وی اور نہ ہوگا۔ کوئی نہ ہوگا کو انہیں اس کے عذاب سے نجات دلاسکے ۔ اس آخری فقرے میں لفظ جمع سے سب کو یکجا بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے ، اور جن کی سفارش ایک دوسرے کے بارے میں قبول نہ ہوگی ، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا ، ابتدائے آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ، لیکن آخر میں کلام کا اسلوب خطاب سے غائبین کی طرف چلا گیا ، تاکہ یہ اصول عام ہوجائے اور وہ لوگ جن سے خطاب کیا جارہا ہے وہ اور دوسرے سب لوگ اس میں شامل ہوجائیں۔

اس کے بعد قرآن کریم ایک ایک کرکے اللہ کے ان انعامات کا تذکرہ کرتا ہے جو ان پر ہوتے رہے ہیں اور یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ان انعامات کے مقابلے میں کیا طرز عمل اختیار کیا ؟ کس طرح انہوں نے انکار کیا ، کفر کیا اور راہ راست سے ہٹ گئے ؟ فرعون کی غلامی اور اس کے دردناک مظالم سے انہیں نجات دینا ان احسانات میں سے چونکہ عظیم ترین احسان تھا ، اس لئے یہاں سب سے پہلے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک ‘ بلکہ پندرہویں رکوع کی پہلی دو آیات بھی شامل کر لیجیے ‘ یہ دس رکوعوں سے دو آیات زائد ہیں کہ جن میں خطاب کل کا کل بنی اسرائیل سے ہے۔ البتہ ان میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے ‘ جس میں انہیں نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کی پرزور دعوت دی گئی ہے ‘ جبکہ بقیہ نو رکوع اس فرد قرارداد جرم پر مشتمل ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد کی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ یہ احسان و اکرام کیا ‘ تم پر یہ فضل کیا ‘ تم پر یہ کرم کیا ‘ تمہیں یہ حیثیت دی ‘ تمہیں یہ مقام دیا اور تم نے اس اس طور سے اپنے اس مشن کی خلاف ورزی کی جو تمہارے سپرد کیا گیا تھا اور اپنے مقام و مرتبہ کو چھوڑ کر دنیا پرستی کی روش اختیار کی۔ ان نو رکوعوں میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا تو ایک بہت بڑا حصہّ اس کے خدوخال features سمیت آگیا ہے ‘ لیکن اصل میں یہ امت مسلمہ کے لیے بھی ایک پیشگی تنبیہہ ہے کہ کوئی مسلمان امت جب بگڑتی ہے تو اس میں یہ اور یہ خرابیاں آجاتی ہیں۔ چناچہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث بھی موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَاءِ یْلَ حَذْوَ النَّعْلَ بالنَّعْلِ 7”میری امت پر بھی وہ سب حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے ‘ بالکل ایسے جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔“ ایک دوسری حدیث میں جو حضرت ابوسعید خدری رض سے مروی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل ہوا ہے : لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ سَلَکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَکْتُمُوْہُ قُلْنَا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی ؟ قَالَ : فَمَنْ ؟ 8”تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے ‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے“۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہود و نصاریٰ کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو اور کس کی ؟“ترمذی کی مذکورہ بالا حدیث میں تو یہاں تک الفاظ آتے ہیں کہ : حَتّٰی اِنْ کَانَ مِنْھُمْ مَّنْ اَتٰی اُمَّہٗ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِیْ اُمَّتِیْ مَنْ یَصْنَعُ ذٰلِکَ یعنی اگر ان میں کوئی بدبخت ایسا اٹھا ہوگا جس نے اپنی ماں سے علی الاعلان زنا کیا تھا تو تم میں سے بھی کوئی شقی ایسا ضرور اٹھے گا جو یہ حرکت کرے گا۔ اس اعتبار سے ان رکوعوں کو پڑھتے ہوئے یہ نہ سمجھئے کہ یہ محض اگلوں کی داستان ہے ‘ بلکہ : ؂ ّ َ ”خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں گفتہ آید در حدیث دیگراں“کے مصداق یہ ہمارے لیے ایک آئینہ ہے اور ہمیں ہر مرحلے پر سوچنا ہوگا ‘ دروں بینی کرنی ہوگی کہ کہیں اسی گمراہی میں ہم بھی تو مبتلا نہیں ؟دوسرا اہم نکتہ پہلے سے ہی یہ سمجھ لیجیے کہ سورة البقرۃ کی آیات 47۔ 48 جن سے اس چھٹے رکوع کا آغاز ہو رہا ہے ‘ یہ دو آیتیں بعینہٖ پندرہویں رکوع کے آغاز میں پھر آئیں گی۔ ان میں سے پہلی آیت میں تو شوشے بھر کا فرق بھی نہیں ہے ‘ جبکہ دوسری آیت میں صرف الفاظ کی ترتیب بدلی ہے ‘ مضمون وہی ہے۔ یوں سمجھئے کہ یہ گویا دو بریکٹ ہیں اور نو 9 رکوعوں کے مضامین ان دو بریکٹوں کے درمیان ہیں۔ اور سورة البقرۃ کا پانچواں رکوع جو ان بریکٹوں سے باہر ہے ‘ اس کے مضامین بریکٹوں کے اندر کے سارے مضامین سے ضرب کھا رہے ہیں۔ یہ حساب کا بہت ہی عام فہم سا قاعدہ ہے کہ بریکٹ کے باہر لکھی ہوئی رقم ‘ جس کے بعد جمع یا تفریق وغیرہ کی کوئی علامت نہ ہو ‘ وہ بریکٹ کے اندر موجود تمام اقدار values کے ساتھ ضرب کھائے گی۔ تو گویا اس پورے معاملے میں ہر ہر قدم پر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت موجود ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اس حصے میں بعض آیات ایسی آگئی ہیں جن سے کچھ لوگوں کو مغالطہ پیدا ہوا یا جن سے کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر فتنہ پیدا کیا کہ نجات اخروی کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان ضروری نہیں ہے۔ اس فتنے نے ایک بار اکبر کے زمانے میں ”دینِ الٰہی“ کی شکل میں جنم لیا تھا کہ آخرت میں نجات کے لیے صرف خدا کو مان لینا ‘ آخرت کو مان لینا اور نیک اعمال کرنا کافی ہے ‘ کسی رسول پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ یہ فتنہ صوفیاء میں بھی بہت بڑے پیمانے پر پھیلا اور ”مسجد مندر ہکڑو نور“ کے فلسفے کی تشہیر کی گئی۔ یعنی مسجد میں اور مندر میں ایک ہی نور ہے ‘ سب مذاہب اصل میں ایک ہی ہیں ‘ سارا فرق شریعتوں کا اور عبادات کی ظاہری شکل کا ہے۔ اور وہ رسولوں سے متعلق ہے۔ چناچہ رسولوں کو بیچ میں سے نکال دیجیے تو یہ ”دینِ الٰہی“ اللہ کا دین رہ جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا جو ہندوستان میں اس وقت اٹھا جب سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کا اقتدار چوٹی climax پر تھا۔ یہ فتنہ جس مسلمان حکمران کا اٹھایا ہوا تھا وہ ”اکبر اعظم“ اور ”مغل اعظم“ کہلاتا تھا۔ اس کے پیش کردہ ”دین“ کا فلسفہ یہ تھا کہ دین محمدی ﷺ کا دور ختم ہوگیا نعوذ باللہ ‘ وہ ایک ہزار سال کے لیے تھا ‘ اب دوسرا ہزار سال الف ثانی ہے اور اس کے لیے نیا دین ہے۔ اسے ”دین اکبری“ بھی کہا گیا اور ”دینِ الٰہی“ بھی۔ سورة البقرۃ کے اس حصے میں ایک آیت آئے گی جس سے کچھ لوگوں نے اس ”دینِ الٰہی“ کے لیے استدلال کیا تھا۔ہندوستان میں بیسویں صدی میں یہ فتنہ پھر اٹھا جب گاندھی جی نے ”متحدہ وطنی قومیت“ کا نظریہ پیش کیا۔ اس موقع پر مسلمانوں میں سے ایک بہت بڑا نابغہ genius انسان ابوالکلام آزاد بھی اس فتنے کا شکارہو گیا۔ گاندھی جی اپنی پراتھنا میں کچھ قرآن کی تلاوت بھی کرواتے ‘ کچھ گیتا بھی پڑھواتے ‘ کچھ اپنشدوں سے ‘ کچھ بائبل سے اور کچھ گروگرنتھ سے بھی استفادہ کیا جاتا۔ متحدہ وطنی قومیت کا تصور یہ تھا کہ ایک وطن کے رہنے والے لوگ ایک قوم ہیں ‘ لہٰذا ان سب کو ایک ہونا چاہیے ‘ مذہب تو انفرادی معاملہ ہے ‘ کوئی مسجد میں چلا جائے ‘ کوئی مندر میں چلا جائے ‘ کوئی گُردوارے میں چلا جائے ‘ کوئی کلیسا ‘ سنیگاگ یا چرچ میں چلا جائے تو اس سے کیا فرق واقع ہوتا ہے ؟ اس طرح کے نظریات اور تصورات کا توڑ یہی ہے کہ یوں سمجھ لیجیے کہ پانچویں رکوع کی سات آیات بریکٹ کے باہر ہیں اور یہ بریکٹوں کے اندر کے مضمون سے مسلسل ضرب کھا رہی ہیں۔ چناچہ ان بریکٹوں کے درمیان جتنا بھی مضمون آ رہا ہے وہ ان کے تابع ہوگا۔ گویا جہاں تک محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا معاملہ ہے وہ ہر مرحلے پر مقدر understood سمجھا جائے گا۔ اب ہم ان آیات کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔آیت 47 یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ ‘ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ اس کی وضاحت گزشتہ رکوع میں ہوچکی ہے ‘ لیکن یہاں آگے جو الفاظ آ رہے ہیں بہت زوردار ہیں :وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ “عربی نحو کا یہ قاعدہ ہے کہ کہیں ظرف کا تذکرہ ہوتا ہے یعنی جس میں کوئی شے ہے لیکن اس سے مراد مظروف ہوتا ہے یعنی ظرف کے اندر جو شے ہے۔ یہاں بھی ظرف کی جمع لائی گئی ہے لیکن اس سے مظروف کی جمع مراد ہے۔ ”تمام جہانوں پر فضیلت“ سے مراد ”جہان والوں پر فضیلت“ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں تمام اقوام عالم پر فضیلت عطا کی۔ عالم انسانیت کے اندر جتنے بھی مختلف گروہ ‘ نسلیں اور طبقات ہیں ان میں فضیلت عطاکی۔

بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر جو نعمت الٰہیہ انعام کی گئی تھی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان میں سے رسول ہوئے ان پر کتابیں اتریں انہیں ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر مرتبہ دیا گیا جیسے فرمایا آیت (وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ) 44۔ الدخان :32) یعنی انہیں ان کے زمانے کے (اور لوگوں پر) ہم نے علم میں فضیلت دی۔ اور فرمایا آیت (وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ :20) یعنی موسیٰ ؑ نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر انعام کی گئی ہے تم میں اس نے پیغمبر پیدا کئے تمہیں بادشاہ بنایا اور وہ دیا جو تمام زمانے کو نہیں دیا۔ تمام لوگوں پر فضیلت ملنے سے مراد ان کے زمانے کے تمام اور لوگ ہیں اس لئے کہ امت محمدیہ ان سے یقینا افضل ہے اس امت کی نسبت فرمایا گیا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے لئے بنائی گئی ہو تم بھلائیوں کا حکم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ مسانید اور سنن میں مروی ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں تم سترویں امت ہو اور سب سے بہتر اور بزرگ ہو اس قسم کی اور بہت سی احادیث کا ذکر انشاء اللہ آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) کی تفسیر میں آئے گا اور کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں پر خاص قسم کی فضیلت مراد ہے جس سے ہر قسم کی فضیلت لازم نہیں آتی رازی نے یہی کہا ہے مگر یہ غور طلب بات ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت اور تمام امتوں پر ہے اس لئے کہ انبیاء کرام انہی میں سے ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس میں بھی غورو خوض کی ضرورت ہے اس لئے کہ اس طرح کے اطلاق کے اجتماعی اعزاز کو اگلے لوگوں پر بھی ہوتا ہے۔ اور حقیقت میں اگلے انبیاء ان میں شمار نہ تھے جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ﷺ اور آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو ان سب کے بعد ہوئے لیکن تمام مخلوق سے افضل تھے اور جو تمام اولاد آدم کے سردار ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، دعا (صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ)۔

آیت 47 - سورۃ البقرہ: (يا بني إسرائيل اذكروا نعمتي التي أنعمت عليكم وأني فضلتكم على العالمين...) - اردو