سورۃ الفرقان: آیت 29 - لقد أضلني عن الذكر بعد... - اردو

آیت 29 کی تفسیر, سورۃ الفرقان

لَّقَدْ أَضَلَّنِى عَنِ ٱلذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَآءَنِى ۗ وَكَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ لِلْإِنسَٰنِ خَذُولًا

اردو ترجمہ

اُس کے بہکائے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad adallanee AAani alththikri baAAda ith jaanee wakana alshshaytanu lilinsani khathoolan

آیت 29 کی تفسیر

آیت 29 لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَ نِیْ ط ذکر کے پہنچ جانے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے پوری بات سنادی تھی اور دوسرے یہ کہ میری زندگی کے فلاں لمحے میں پیغامِ حق میرے دل کے تاروں کو چھیڑنے لگا تھا اور اس کی حقانیت میرے دل کی گہرائیوں میں اترنے لگی تھی۔ جیسے سورة النساء میں فرمایا گیا : وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے ایسی بات کہیے جو ان کی روح کی گہرائیوں میں اتر جائے۔ چناچہ مذکورہ شخص اپنی ایسی ہی کیفیت کا اعتراف کرے گا کہ اس نصیحت ‘ یاد دہانی اور ہدایت کا ابلاغ میرے دل تک ہوچکا تھا ‘ لیکن افسوس کہ میرے ساتھی نے مجھے پھر سے گمراہ کردیا۔وَکَان الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا ”اور شیطان تو انسان کو آخر دغا دینے والا ہے۔“شیطان انسان کے ساتھ بڑا ہی بےوفائی کرنے والا اور آخر کار اسے اکیلا چھوڑ جانے والا ہے۔

آیت 29 - سورۃ الفرقان: (لقد أضلني عن الذكر بعد إذ جاءني ۗ وكان الشيطان للإنسان خذولا...) - اردو