سورۃ الفرقان (25): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Furqaan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الفرقان کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الفرقان کے بارے میں معلومات

Surah Al-Furqaan
سُورَةُ الفُرۡقَانِ
صفحہ 362 (آیات 21 سے 32 تک)

۞ وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا ۗ لَقَدِ ٱسْتَكْبَرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا وَقَدِمْنَآ إِلَىٰ مَا عَمِلُوا۟ مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَٰهُ هَبَآءً مَّنثُورًا أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا وَيَوْمَ تَشَقَّقُ ٱلسَّمَآءُ بِٱلْغَمَٰمِ وَنُزِّلَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ تَنزِيلًا ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ لِلرَّحْمَٰنِ ۚ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ عَسِيرًا وَيَوْمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَٰلَيْتَنِى ٱتَّخَذْتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلًا يَٰوَيْلَتَىٰ لَيْتَنِى لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا لَّقَدْ أَضَلَّنِى عَنِ ٱلذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَآءَنِى ۗ وَكَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ لِلْإِنسَٰنِ خَذُولًا وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا مِّنَ ٱلْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ٱلْقُرْءَانُ جُمْلَةً وَٰحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَٰهُ تَرْتِيلًا
362

سورۃ الفرقان کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الفرقان کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqala allatheena la yarjoona liqaana lawla onzila AAalayna almalaikatu aw nara rabbana laqadi istakbaroo fee anfusihim waAAataw AAutuwwan kabeeran

درس نمبر 158 ایک نظر میں

اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔

لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘

ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (25 : 44) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔

وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا

مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔

وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (25 : 21) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔

لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (25 : 21) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔

ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔

یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (25 : 22) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (25 : 23) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (25 : 22) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔

اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔

ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔

وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (25 : 23) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔

اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔

اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (25 : 24) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (25 : 22) کفار نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔

ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (25 : 25) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (25 : 26) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔

اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (81 : 1 تا 3 و 6) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔

اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (82 : اتا 4) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔

اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (84 : 1 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)

اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (56 : 4 تا 6) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔

فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (69 : 13 تا 16) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔

یوم تکون۔۔۔ کالعھن (70 : 8۔ 9) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔

اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (99 : 1۔ 2) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔

یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (101 : 4۔ 5) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔

فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (44 : 10۔ 11) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔

یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (73 : 14) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔

السماء منفطر بہ (73 : 18) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔

کلا اذا دکت الارض دکا (89 : 21) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔

فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (75 : 7 تا 9) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔

فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (77 : 8 تا 10) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔

ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (20 : 105 تا 107) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔

وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (27ـ : 88) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔

و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (18 : 47) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔

یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (14 : 48) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔

یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (21 : 104) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔

غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔

وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (25 : 26) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔

اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔

ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (25 : 27 تا 29) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔

ویوم یعض الظالم علی یدیہ (25 : 27) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔

یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (25 : 27) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔

یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (25 : 28) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی ﷺ کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔

لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (25 : 29) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔

وکان۔۔۔۔ خذولا (25 : 29) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔

یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔

اردو ترجمہ

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہوگا، چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yawma yarawna almalaikata la bushra yawmaithin lilmujrimeena wayaqooloona hijran mahjooran

اردو ترجمہ

اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqadimna ila ma AAamiloo min AAamalin fajaAAalnahu habaan manthooran

اردو ترجمہ

بس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھیریں گے اور دوپہرگزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ashabu aljannati yawmaithin khayrun mustaqarran waahsanu maqeelan

اردو ترجمہ

آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیے جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma tashaqqaqu alssamao bialghamami wanuzzila almalaikatu tanzeelan

اردو ترجمہ

اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہو گی اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہو گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Almulku yawmaithin alhaqqu lilrrahmani wakana yawman AAala alkafireena AAaseeran

اردو ترجمہ

ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا "کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma yaAAaddu alththalimu AAala yadayhi yaqoolu ya laytanee ittakhathtu maAAa alrrasooli sabeelan

اردو ترجمہ

ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya waylata laytanee lam attakhith fulanan khaleelan

اردو ترجمہ

اُس کے بہکائے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad adallanee AAani alththikri baAAda ith jaanee wakana alshshaytanu lilinsani khathoolan

اردو ترجمہ

اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqala alrrasoolu ya rabbi inna qawmee ittakhathoo hatha alqurana mahjooran

(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”

انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔

(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25 : 30) ” اور رسول کہے گا اے میرے رب ‘ میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا “۔ اور رب تعالیٰ تو جانتا تھا کہ ایسا ہوا ہے لیکن یہ فریاد اور انابت الی اللہ کے طور پر دعا ہے اور اللہ کو بھی معلوم ہے اور اللہ اس کی شہادت دے رہا ہے کہ رسول ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے لیکن یہ قوم کا قصور ہے کہ اس نے اس قرآن کو نہ سنا اور نہ اس پر غور کیا۔

چناچہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ تو تمام نبیوں کو پیش آنے والا ایک عام طرز عمل ہے۔ یہ سنت جاریہ ہے اور تمام رسولوں نے ایسی ہی صورت حالات کا مقابلہ کیا۔ تمام انبیاء کو ایسے حالات پیش آئے کہ ان کی اقوام نے قرآن کریم اور ان کی دعوت کے ساتھ مذاق کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا لیکن اللہ کی مدد اپنے رسولوں کے ساتھ شامل رہی اور اللہ نے اپنے رسولوں کو ایسے راستے بتائے کہ وہ اپنے دشمنوں پر غاب ہو کر رہے۔

(وکذلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونصیرا) (25 : 31) ” اے نبی ؐ‘ ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا شمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے “۔ اللہ کی حکمت اچھے انجام تک پہنچنے والی ہے۔ کسی اسلامی تحریک کے مقابلے میں جب مجرم اٹھ کھڑے ہوں اور مخالفت پر کمربستہ ہوجائیں تو اس سے تحریک کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور اس طرح تحریک سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کے درمیان فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ سچی دعوت کے مقابلے میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک سچی دعوت کے حاملین کو مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اور یہ کشمکش ہی دعوت حق کو باطل دعوتوں سے ممیز کرتی ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں سچے پیرو کار چھٹ کر جم جاتے ہیں اور باطل کے حاملین بھاگ جاتے ہیں۔ دعوت کی پشت پر وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو خالص اور مخلص ہوں جو مفادات کے بندے نہیں ہوتے۔ صرف اور صرف دعوت اسلامی ہی ان کا نصب العین ہوتی ہے۔ اور وہ صرف رضائے الہی چاہنے والے ہوتے ہیں۔

اگر دعوت اسلامی کا کام آسان ہوتا اور اس کے سامنے ردعمل واہ واہ کا ہوتا اور داعی کی راہ پر پھول بچھائے جاتے اور کوئی دشمن اور ناقد نہ ہوتا تو ہر کہ دمہ دعوت اسلامی کا حامل ہوجاتا۔ کیونکہ نہ کوئی عناد کرنے والا ہوتا اور نہ کوئی جھٹلانے والا اور پھر دعوت حق اور دعوت باطل کے درمیان کوئی فرق بھی نہ ہوتا اور دنیا میں انتشار اور فتنہ برپا ہو اتا۔ لیکن ہر سچی دعوت کے مقابلے میں اللہ نے دشمن اور مدعی پیدا کردیئے اور اللہ نے داعیوں کے لیے جدوجہد کرنا اور مقابلہ کرنا ضروری قرار دیا اور راہ حق میں قربانی دینا اور مشکلات برداشت کرنا اور راہ قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد وہی کرتا ہے جو سچا ہو۔ مشکلات اور قربانیوں کو وہی شخص برداشت کرتا ہے جو سچا مومن ہو۔ ایسے لوگ جو اپنے آرام اور عیش و عشرت کو دعوت حق کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ اور حیات دنیا کی لذتوں کو خیر باد کہتے ہیں بلکہ وہ اس راہ میں جان تک دے دیتے ہیں اگر دعوت کا تقاضا ہو کہ اب جان دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس عظیم جدوجہد کے لیے وہی لوگ تیار ہوتے ہیں جو مضبوط اور ثابت قدم ہوں جو پکے مومن ہوں۔ پختہ ایمان رکھتے ہوں۔ وہ اس اجر کے زیادہ مشتاق ہوں جو اللہ کے ہاں ہے بجائے اس اجر کے جو لوگوں کے پاس ہے۔ جب یہ صورت حالات پیش آجائے تو پھر سچی دعوت اور جھوٹی دعوت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ایسیحالات میں دعوت اسلامی کی صفوں کی تطہیر ہوجاتی ہے اور مضبوط قوی اور ثابت قدم لوگ چھٹ کر جدا ہوجاتے ہیں اور کمزور لوگ علحدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر دعوت اسلامی ان لوگوں کو لے کر آگے بڑھتی ہے جنہوں نے ثابت قدمی کا انتحان پاس کرلیا ہوتا ہے۔ اور وہی لوگ پھر اس دعوت کے امین اور لیڈرہوت ہیں اور یہی اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ بھاری قیمت ادا کرکے اس نام تک پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ سچائی کیساتھ اس دعوت کا حق بھی ادا کرتے ہیں۔ پختہ ایمان کے ساتھ ‘ تجربے اور آزمائشوں نے ان کو بتادیا ہوتا ہے کہ اس دعوت کو مشکل سے مشکل حالات میں انہوں نے کس طرح لے کر چلنا ہے۔ شدائد اور مشکلات نے ان کی پوری قوت کو حساس بنا لیا ہوتا ہے اور ان کی قوت کا سرچشمہ اور طاقت کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل صورت حالات میں دعوت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔

اس دنیا میں عموما یوں ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ لوگوں کی ایک عظیم تعداد اس میں غیر جانبدار ہو کر تماشادیکھتی ہے۔ یہ تماشا بین آبادی جب دیکھتی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملین اپنے نظریہ اور مقصد کی خاطرعظیم قربانیاں دے رہے ہیں اور بےحدو حساب مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور بڑی ثابت قدمی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی راہ پر جارہے ہیں تو پھر یہ یہ تماشا بین عوام الناس سوچنے لگتے ہیں کہ دعوت اسلامی کے ساتھ ملیں آخرکیوں اس قدر قربانیاں دے رہے ہیں اور مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مقاصد بہت ہی مفید ‘ بہت ہی قیمتی ہوں گے اور وہ جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دے رہے ہیں شاید ان چیزوں سے وہ مقاصد زیادہ قیمتی ہوں۔ اب یہ لوگ دعوت اسلامی کی اصل قدرو قیمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بات عامتہ الناس کی سمجھ میں آجاتی ہے تو وہ پھر فوج درفوج دعوت اسلامی میں داخل ہوتے ہیں اور وہ تماشادیکھنے کے بجائے اب خود تماشا بن جاتے ہیں۔

یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر نبی کے لی مجرمین میں سے ایک دشمن پیدا کیا۔ یہ مجرمین دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر نبی اور ان کے عبد ہر حامل حق ان مجرمین کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کو مشکلات درپیش آتی ہیں اور وہ اپنی راہ میں چلتے ہی جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے لیے کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور ان کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ آخرکار وہ اس انجام تک پہنچیں گے۔ آخر میں ان کو ہدایت اور نصرت مل جاتی ہے۔

وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ انبیاء کے راستے میں مجرمین کا نمودار ہونا ایک طبیعی امر ہے۔ اس لیے کہ دعوت حق ہمیشہ اپے مناسب اور مقرر وقت پر نمودار ہوتی ہے جبکہ کوئی مخصوص سوسائٹی فساد پذیر ہوجاتی ہے یا پوری انسانیت فساد کا شکار ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے قلب و نظر فساد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ لوگوں کے باہم روابط بگڑ جاتے ہیں۔ اس فساد اور بگاڑ کی پشت پر مجرم لوگ ہوتے ہیں ‘ جو ایک طرف فساد کرتے ہیں پھر وہ اس فساد اور بگاڑ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اس فساد کے ہم مسلک اور ہم مشرب ہوتے ہیں۔ ان کی خواہشات اسی فساد زدہ معاشرے میں پوری ہوتی ہیں۔ اور ان کے وجود میں جو فساد اور بگاڑ ہوتا ہے اس کے لیے وجو جوز وہ معاشرے سے نکالتے ہیں کہ بس معاشرہ ہی ایسا ہے۔ اس لیے یہ بالکل طبیعی بات ہے کہ ایسے لوگ انبیاء کی راہ روک کر کھڑے ہوجائیں اور انبیاء کے دور کے بعد ان لوگوں کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انبیاء کی دعوت کو لے کر رکھتے ہیں کیونکہ یہ مجرم دراصل ان کے بگڑے ہوئے وجود کا دفاع ہوتا ہے ‘ اس لیے کہ حشرات میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو پاک و صاف اور خوشبودار اور شفاف ماحول میں زندہ ہی نہیں رہتے ‘ فوراً مرجاتے ہیں اس لیے کہ یہ گندے ماحول میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ بعض کیڑے ایسے ہوتے ہیں جو صاف پانی میں مرجاتے ہیں ‘ کیونکہ وہ صرف گندے اور سڑے ہوئے پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہی حال ان مجرموں کا ہوتا ہے لہٰذا یہ طبیعی امر ہے کہ وہ دعوت حق کے دشمن ہوں اور اس کے مقابلے میں جان دینے کے لیے تیار ہوں اور یہ بھی بالکل طبیعی امر ہے کہ آخر میں دعوت اسلامی کو کامیابی ہو کیونکہ دعوت اسلامی زندگی کی ترقی پذیر لائٹوں پر چلنے والی ہوتی ہے۔ اور اس طرح دعوت اسلامی کو وہ عروج نصیب ہوتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہوتا ہے۔

وکفی بربک ھادیا ونصیرا (25 : 31) ” اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے “۔ اس کے بعد اب کفار کے اعتراضات بابت طریقہ نزول قرآن نقل کیے جاتے ہیں اور ان کی تردید کی جاتی ہے۔

(وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیلا) (25 : 32) ” منکرین کہتے ہیں اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا ؟ “۔۔۔۔۔ ہاں ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے ہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے “۔

قرآن کریم نازل ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایک امت کی تربیت کی جائے۔ ایک نیا معاشرہ وجود میں لایا جائے۔ اس معاشرے میں ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے۔ اور تربیت اس بات کی محتاج ہے کہ انسان کو بار بار تلقین کی جائے اور وہ متاثر ہوتا جائے۔ اور یہ تاثیر اور تاثر ایک مسلسل حرکت کے ذریعہ جاری رہے کیونکہ انقلاب انسانوں کے اندر پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہی اور انسان ایک ایسیذات ہے کہ اسے صرف ایک شب و روز میں تربیت نہیں دی جاسکتی کہ بس اس کے ہاتھ میں ایک نئے نظام پر مشتمل ایک کتاب پکڑا دی جائے۔ اور اس میں جدید معاشرے کے مکمل خدوخال ہوں بلکہ انسانوں کی تربیت یوں ہوتی ہے کہ اسے تدریج کے ساتھ ایک طویل عرصے کے بعد بدلا جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی اس کے اندر آہستہ آہستہ آتی رہتی ہے۔ ہر دن کی غذا کے بعد دوسرے دن وہ زیادہ غذا کے لیے تیار ہوتا ہے اور دوسرے دن کی خوراک وہ پھر بڑی خوشی سے لیتا ہے اور بڑے مزے سے قبول کرتا ہے۔

قرآن کریم زندگی کا ایک مکمل نظام لے کر آیا ہے اور قرآن کریم نے انسانوں کی تربیت کے لیے بھی ایک فطری منہاج اختیار کیا۔ یہ منہاج اس ذات کی طرف سے تھا جس نے انسان کو پیدا کیا تھا اس لیے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا گیا تاکہ وہ جماعت مسلمہ کی حقیقی اور زندہموجود ضروریات کو پورا کرتا چلاجائے۔ کیونکہ یہ جماعت آہستہ آہستہ تعمیر ہورہی تھی۔ وہ اپنی استعداد کے مطابق ‘ اپنی قوت کے مطابق ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ ٹھیک ٹھیک اللہ کے حقیقی منہاج تربیت کے مطابق۔ چناچہ قرآن مجید کو بیک وقت منہاج تربیت اور نظام زندگی کی تشکیل کے لیے اتارا گیا۔ اس لیے اس کا متفرق نزول لازمی تھا۔ یہ محض کوئی علمی ثقافتی اور ادبی کتاب نہ تھی کہ مکمل شکل میں اسے تصنیف کر کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا۔ اور لوگ اسے پڑھتے رہتے اور مزے لیتے رہتے۔ اور پس اس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی۔ بلکہ یہ تو حرف حرف ‘ کلمہ اور ایک ایک حکم کے طور پر آیا۔ اس کی ہر آیت حکم الیوم (آرڈر آف دی ڈے) کے طور پر آئی۔ مسلمان حکم پاتے اور ان پر عمل کرتے۔ جیسا کہ ایک فوجی احکام لیتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اس حکم کو لیتا ہیسمجھتا ہے اور نافذ کردیتا ہے۔ خود بھی اس کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور معاشرے کو اس میں غرق کردیتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ قرآن متفرق طور پر نازل ہوا ہے ‘ تاکہ رسول کے قلب کے اندر اچھی طرح جاگزیں ہو۔ حضور ﷺ سے پہلے خود اس پر ثابت قدم ہوجائیں اور ایک ایک جز کے بعد اس کا دوسرا جز آئے اور اس پر عمل ہوتا رہے۔

کذلک لنثبت بہ فوء دک ورتلنہ ترتیلا (25 : 32) ” ہاں ایسا ہی کہا گیا تاکہ ہم اس کو اچھی طرح ہمارے ذہن نشین کرتے رہیں اور ہم نے اسے ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی “۔ ترتیل کا مفہوم یہاں اللہ کی حکمت کے مطابق آگے پیچھے نازل کرنا ہے ‘ اللہ کے علم کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق اور اللہ کی اس حکمت کے مطابق جس کی رو سے اللہ جانتے تھے کہ لوگوں کے اندر کس قدر احکام و ہدایات قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔

قرآن کریم نے اپنے پے درپے منہاج نزول کے ذریعہ ان لوگوں کی تربیت کے میدان میں معجزات دکھائے۔ لوگ اس کے نزول سے دن بدن تاثرات لیتے رہے۔ اور ان کے اخلاق کی تشکیل آہستہ آہستہ ہوتی رہی۔ بسبب مسلمانوں نے قرآن مجید کا منہاج تربیت فراموش کردیا اور قرآن مجید کو انہوں نے محض علم و ثقافت کے طور پر پڑھنا شروع کردیا اور قرآن کو ایک ایسی کتاب تصور کرلیا جسے فقط پڑھا جاتا ہے ‘ اس کے مطابق معاشرے کو ڈھالنا ضروری نہیں ہے ‘ اس کی کیفیات میں ڈوبنا ضروری نہیں ہے اور نہ اس کے مطابق نظام زندگی قائم کرنا ضروری ہے تو مسلمانوں نے اس قرآن سے نفع لینا ترک کردیا اور قرآن نے ان کو نفع دینا چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں نے وہ منہاج تربیت ہی ترک کردیا جو ان کے لیے علیم وخبیر نے قرآن میں منضبط کیا تھا۔ یعنی یہ کہ اسے ایک ایک کر کے عمل میں لایا جائے۔

نبی ﷺ کے مخالفین جو نکتہ اعتراض اٹھاتے تھے۔ جو نئے نئے اعتراضات کرتے تھے جو مطالبات کرتے تھے۔ یہ قرآن اپنے منہاج نزول متفرق کے ذریعے ایک ایک کا تشفی بخش جواب دے دیتا تھا۔

(ولا یاتونک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفسیرا) (25 : 33) ” اور جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات لے کر آئے اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی “۔ یہ لوگ باطل طریقے سے مجادلہ کرتے تھے اور اللہ ان کے جواب میں حق اتار تا تھا جو باطل کا سر کچل کر رکھ دیتا تھا۔ کیونکہ قرآن مجید کی غرض وغایت ہی یہ تھی کہ دنیا میں حق جم جائے۔ محض بحث و مباحثے میں کامیابی مقصود نہ تھی بلکہ حق کو دنیا میں قوت دینا ‘ واضح کرنا اور غالب کرنا مقصود تھا۔

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کی قوم کے درمیان ہر قسم کے مجادلے میں آپ ﷺ کی مدد کرے گا۔ کیونکہ آپ ﷺ حق پر ہیں اور حق کے ساتھ اللہ آپ ﷺ کی امداد کرتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ تو اللہ کی بنائی ہوئی حجت بالغہ کے مقابلے میں ان کا مجادلہ اور مباحثہ کس طرح ٹھہر سکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے پاس رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی سچائی تھی جو ایک گولے کی طرح باطل کے سر پر لگتی تھی اور اسے کچل کر رکھ دیتی تھی۔

یہ بات اب اس مضمون پر ختم ہوتی ہے کہ کس طرح وہ قیامت کے دن جہنم رسید کیے جائیں گے۔ کیونکہ وہ حق کا انکا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف مجادلے میں اور مقابلے میں وہ الٹی منطق استعمال کرتے تھے ‘ اس لیے قیامت میں بھی انہیں منہ کے بل الٹا گرایاجائے گا۔

(الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واضل سبیلا) (25 : 34) ” جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ‘ انکا موقف بہت برا ہے اور ان کی راہ حد درجہ غلط “۔ حشر کے دن ان کی حالت کو ذرا دیکھئے ‘ منہ کے بل اٹھیں گے نہایت ہی توہین آمیز انداز میں۔ اس لیے کہ دنیا میں یہ تکبر کی وہ سے منہ پھیرتے تھے ۔ ان کا یہ منظر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو کہ یہ لوگ اس وقت آپ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں لیکن ان کا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ اور اس کا ایک منظر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ مجردیہ منظر ہی ان کی اکڑ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور یہ لوگ ایسے مناظر سے ڈر کر متاثر بھی ہوتے تھے مگر پھر بھی حجت کر کے اپنے اوپر اس برے انجام کو لازم کرتے تھے اور اس عناد کی وجہ سے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔

اب روئے سخن ان سابق اقوام کی طرف پھرجاتا ہے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاک کردیئے گئے۔

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakathalika jaAAalna likulli nabiyyin AAaduwwan mina almujrimeena wakafa birabbika hadiyan wanaseeran

اردو ترجمہ

منکرین کہتے ہیں "اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟" ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqala allatheena kafaroo lawla nuzzila AAalayhi alquranu jumlatan wahidatan kathalika linuthabbita bihi fuadaka warattalnahu tarteelan
362