وھو الذی ارسل ……اناسی کثیراً (49)
اس دنیا کی ہر زندگی پانی پر قائم ہے یا بارش کا پانی ہے اور یا دریائوں اور ندی نالوں پر نہریں قائم کر کے سطح زمین کو پانی دیا جاتا ہے۔ پھر ان پانیوں میں سے جو زمین کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ وہ چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا کنوئوں کی صورت میں نکالا جاتا ہے۔ لیکن ہے یہ بھی بارش کا پانی۔ لیکن جن لوگوں کی سیرابی کا تعلق صرف بارش ہی پر ہے۔ وہ اللہ کی اس رحمت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو بارش کی شکل میں برستی ہے۔ وہ تو رات اور دن بارش پر آس لگائے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی زندی بارش پر قائم ہوتی ہے۔ وہ ان ہوائوں کے انتظار میں ہوتے ہیں جو رحمت بھرے بادل چلا کر لاتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں آتی ہیں تو ان کے لئے یہ بشارت ہوتی ہیں۔ ان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بارشیں اللہ کی رحمت ہیں۔ ایسے لوگوں کا دل اگر اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہوتا ہے تو وہ اللہ کی اس رحمت کا بہت زیادہ احساس کرتے ہیں۔
یہاں پانی کے ساتھ طہارت اور طہور کے مفہوم کو نمایاں کیا گیا ہے۔
وانزلنا من السمآء ماء طھوراً (25 : 38) ” پھر ہم نے آسمانوں سے پاک پانی نازل کیا۔ “ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے اندر راز حیات ہے۔
لنحی بہ بلدۃ میتا و نسقیہ مما خلقنا انعاماً و انا سی کثیراً (25 : 39) ” تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعہ زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔ “ یہاں زندگی پر طہارت کا ایک پر تو پڑتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی منشا ہی یہ ہے کہ انسانی زندگی پاک و صاف ہو ، اور پھر یہ بارش زمین کے چہرے کو بھی دھلا کر صاف کردیتی ہے اور اسی ماء طہور سے زندگی پیدا ہوتی ہے اور انسانوں ، حیوانوں اور تمام زندہ چیزوں کی حیات قائم ہے۔
نزول ماء کے ساتھ نزول قرآن پر بھی ایک تبصرہ۔ پانی کے نزول سے زمین کے چہرہ کی صفائی مطلوب ہے اور قرآن کے نزول سے انسانی روح کی صفائی اور کمال مطوب ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ جسم و جان کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے تو یہ لوگ نزول بارش کا انتظار کرتے ہیں لیکن رحانی تطہیر کے لئے نزول قرآن کو یہ برداشت نہیں کرتے اور اس کے لئے وہ ایک دوسرے کو بشارت نہیں دیتے۔
آیت 48 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ج ”بادلوں کے آگے آگے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے گویا باران رحمت کی نوید سناتے جاتے ہیں۔وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوْرًا ”بارش کا پانی پاک بھی ہے اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ جب یہ پانی برستا ہے تو سب سے پہلے فضا کی آلودگی کو صاف کرتا ہے۔ پھر زمین کی بہت سی آلودگیوں کو سمندر میں بہا لے جاتا ہے۔ سمندر کے پانی سے بخارات کی صورت میں بالکل صاف اور ہر آلودگی سے پاک پانی پھر سے فضا میں پہنچ کر بادل کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ cycle چلتا رہتا ہے۔
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کردیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کردیتی ہیں بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کردیتی ہیں بعض بادلوں کو پانی سے بھردیتی ہیں اور انہیں بوجھل کردیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی میں فاعل کے ہے یا مبالغہ کے لئے مبنی ہے یا متعدی کے لئے۔ یہ سب اول لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں واللہ اعلم۔ حضرت ثابت بنانی ؒ کا بیان ہے کہ میں حضرت ابو العالیہ ؒ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے، آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کی توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کردیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ حضرت سعید بن میسب رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ بیر بضاعہ سے وضو کرلیں ؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں گندگی اور کتوں کے گوشت پھینکے جاتے ہیں آپ نے فرمایا پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ امام شافعی اور امام احمد نے اسے وارد کی ہے۔ امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ عبد الملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید نے کہا بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج کڑک اور بجلی میٹھا کردیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے یا سمندر میں لولو اور موتی پیدا ہوتے ہیں یعنی فی البر بر و فی البحر در زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔ پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کردیتے ہیں وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہوجاتی ہے جیسے فرمان ہے آیت (فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ 39) 41۔ فصلت :39) علاہ مردہ زمین کے زندہ ہوجانے کے یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ اللہ وہی ہے جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ اور آیت میں ہے کہ اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے اس میں بھی حکمت وحجت ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کم وبیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے برسائے جہاں سے چاہے پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کردی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔ ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ سے کہا کہ بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے وہ یہ ہے آپ ان سے جو چاہیں دریافت فرمالیں اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر میں اتنے اتنے قطرے برساؤ ہم تعمیل ارشاد کرتے ہیں۔ بارش جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کو رسول خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا سنو ! میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہوگئے اور بہت سے کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ بارش ہم پر برسی ہے وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔