اس صفحہ میں سورہ Al-Furqaan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الفرقان کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَٱلْأَنْعَٰمِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا
أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ ٱلظِّلَّ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَهُۥ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا ٱلشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا
ثُمَّ قَبَضْنَٰهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا
وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ لِبَاسًا وَٱلنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ ٱلنَّهَارَ نُشُورًا
وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ ٱلرِّيَٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً طَهُورًا
لِّنُحْۦِىَ بِهِۦ بَلْدَةً مَّيْتًا وَنُسْقِيَهُۥ مِمَّا خَلَقْنَآ أَنْعَٰمًا وَأَنَاسِىَّ كَثِيرًا
وَلَقَدْ صَرَّفْنَٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا۟ فَأَبَىٰٓ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورًا
وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا
فَلَا تُطِعِ ٱلْكَٰفِرِينَ وَجَٰهِدْهُم بِهِۦ جِهَادًا كَبِيرًا
۞ وَهُوَ ٱلَّذِى مَرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا
وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ مِنَ ٱلْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُۥ نَسَبًا وَصِهْرًا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ ۗ وَكَانَ ٱلْكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِۦ ظَهِيرًا
درس نمبر 159 ایک نظر میں
اس سبق میں مشرکین کے اعتراضات اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے بحث و جدل کے موضوع کو چھوڑ کر اس کائنات کے مشاہد و مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کے دل اور آپ کے احساسات کو اس کائنات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ مشرکین کے لایعنی اعتراضات کی وجہ سے پیدا ہونے والے غبار خاطر کو دور کرنے کے لیے ‘ مناظر کائنات کے ساتھ یہ اتصال اور ان کی طرف یہ توجہ کافی ہے۔ کائنات کی وسعتوں کی یہ سیر آپ کے دل کے سکون اور شرح صدر کے لیے ایک وسیع میدان ہے جس کے مقابلے میں سازشیں کرنے والوں کی چھوٹی چھوٹ سازشیں اور دشمنی کرنے والوں کی بےمقصد دشمنیاں نہایت ہی حقیر نظر آتی ہیں۔
قرآن کریم انسانوں کے دل و دماغ کو ہمیشہ اس کائنات کے مشاہد و حقائق پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور انسانی تدبر اور مشاہدات قدرت کے درمیان ربط پیدا کیا جاتا ہے۔ اور انسان کے ذرائع شعور و ادراک کو جگا کر اس بات کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ ان کے مشاہد اور مناظر کو بالکل ایک جدید احساس کے ساتھ دیکھیں۔ اور مشاہد قدرت اور فطرت کے عجوبوں کی پکار کو سنیں اور ان کی پکار پر لبیک کہیں۔ قرآن انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کائنات کی سیر کرے اور اس کے اندر بکھرے ہوئے دلائل قدرت اور آیات فطرت کو اخذکر لے۔ کیونکہ یہ کائنات دراصل ایک کھلی کتاب ہے اور اس کے صفحات میں صائع کائنات کی کاریگریاں اور صنعت کاریاں ہمارے تدبر کے لیے چشم براہ ہیں۔ قرآن کریم انسان کو حکمدیتا ہے کہ وہ دست قدرت کے ان آثار کو پانے کی کوشش کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی آنکھ کو بینا ‘ احساس کو تیز اور کانوں کو کھلا رکھے اور اپنے ان ذرائع ادراک کے ذریعے غور و تدبر کے موضوعات تلاش کرے۔ اس طرح وہ اتصال با للہ حاصل کرے یعنی اللہ کی صنعت کاریوں کے ذریعے اللہ کی ذات کی معرفت حاصل کرے۔
جب انسان اس کائنات میں کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے زندگی بسر کرے ‘ اس کی روح اور اس کا احساس جاگ رہا ہو۔ اس کی فکر اور اس کی سوچ مربوط ہو ‘ تو اس پر دنیا کی معمولی و ابستگیوں سے ذرا بلند ہوجاتی ہے۔ اور اس کا تصور حیات بلند ہوجاتا ہے اور اس کا احساس بہت تیز ہوجاتا ہے۔ پھر وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس محدود دنیا کے مقابلے میں کائنات کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں۔ پھر اس کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے ‘ یہ فقط ایک ہی ارادے کے نتیجے میں موجود ہے۔ یہ تمام چیزیں ایک ہی ناموس حیات کے اندر بندھی ہوئی ہیں۔ پھر اپنی حرکت میں یہ تمام چیزیں ایک ہی خالق کی طرف متوجہ ہیں۔ اور خود انسان بھی اس کائنات کی مخلوقات میں سے ایک ہے اور یہ بھی دست قدرت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور اس کا پورا ماحول دست قدرت جکڑا ہوا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اور جو کچھ چھو رہا ہے وہ قدرت کی صنعت کاریاں ہیں۔
اس تصور سے انسان کے پردہ احساس پر شعور تقویٰ ‘ شعور محبت اور شعور اعتماد کی ایک امتزاجی کیفیت نمودارہوتی ہے۔ جس سے انسان کی روح سرشارہوتی ہے اور اس کی دنیا معنویت سے بھر جاتی ہے اور انسان کو ایک خاص اندرونی تطہیر ‘ اطمینان اور انس و محبت حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ اس روح ‘ اس مفہوم اور اس تصور کے ساتھ انسان اس کرئہ ارض پر چلتا پھرتا ہے اور آخر کار وہ اللہ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس طرح انسان کی یہ زندگی نہایت ہی خوشگوار تفریحی سفر بن جاتی ہے۔ وہ اللہ کی صنعت کاریوں کی ایک نمائش اور ایک میلے میں گم ہوتا ہی اور وہ ہر وقت اللہ کی اس خوبصورت کائنات کے ایسے دسترخوان پر ہوتا ہے جسطرح طرح کی نعمتیں چنی ہوئی ہیں۔
اس سبق کا آغاز سایہ کی تصویرکشی سے ہوتا ہے۔ دست قدرت اس سائے کو طویل تر کردیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اسے سیکڑا جاتا ہے۔ فیض و ہاط کا یہ عمل نہایت ہی نرمی اور لطف اور غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے۔ پھر ہم رات کے اندھیرے میں اپنی اپنی آرام گاہ کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ پوری کائنات پر سکون اور خاموشی طاری ہوجاتی ہے ۔ پھر ہم دن میں داخل ہوتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب سے زندگی کی تگ و دو شروع ہوجاتی ہے۔ پھر رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں ‘ بادل لاتی ہیں اور بارش برساتی ہیں۔ پھر ہم سمندر میں ہیں ‘ ساتھ ساتھ میٹھے پانی اور کھارے پانی باہم ملے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جو دست قدرت کی صنعت کاری ہے۔ یہ دونوں سمندر اور دونوں پانی آپس میں مل نہیں پاتے۔ پھر عام پانیوں سے ہم مرد کے ساغر حیات کی طرف آجاتے ہیں۔ یہ نطفے کی ایک بوند ہوتی ہے۔ اچانک یہ ایک زندہ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر ایک منظر پر ہم دیکھتے ہیں کہ پوری زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میں ہے۔ زمین و آسمان کے اندر بروج ہیں۔ سراج منیر اور قمر منیر ہیں۔ پھر رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں اور زمانے گزرجاتے ہیں۔
کائنات کی اس سیر کے اندر ہمارا دل زندہ ہوجاتا ہے اور ہماری سوچ مدبر کائنات کی صنعت کاریوں میں گم ہوجاتی ہے ۔ اور انسان کے دل میں اللہ کی قدرت اور تدبیر کے نظارے میں تازہ ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان سوچتا ہے کہ مشرکین کس قدر احمق ہیں کہ وہ اس رب کیساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں اور ایسے چیزوں کی بندگی کرتے جو ان کو نہ نفع پہنچاسکتی ہیں اور نہ ضرر دے سکتی ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ رب تعالیٰ کے بارے میں یہ لوگ کس قدر جاہل ہیں اور اللہ کی ذات پر کس قدر جرات کرتے ہیں اور کفر و انکار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کائنات کے اندر موجود دلائل اور آیات اور شواہد و نشانات کے ان عجوبوں کے ہوتے ہوئے مشرکین کا رویہ نہایت ہی عجیب لگتا ہے۔ اس کائنات کے یہ مناظر اور اللہ کی تخلیق کے یہ نمونے انسانی ہدایت کے لیے کافی و شافی ہیں۔
آیئے ذرا دست قدرت کی ان صنعت کارویں کی سیر کریں جس کا ہر پہلو ہمیں واصل باللہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور جس کی صرف ایک وادی کی سیر ہی ہماری پوری زندگی کے لیے کافی ہے۔
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قبضا یسیرا) (45 : 46)
کشادہ اور لطیف سائے کا تصور ہی ایک کبیدہ خاطر اور تھکے ہوئے انسان کے لیے فرحت بخش ہوتا ہے۔ ایسے سائے میں انسان اپنے آپ کو نہایت ہی پر سکون تصور کرتا ہے۔ انسان کو یوں لگتا ہے کہ ایک نہایت ہی رحیم و کریم دست شفقت انسان کی روح اور جسم کو چھورہا ہے اور زندگی کے آرام اور زخموں پر نہایت ہی آڑام دہ مرہم پٹی ہورہی ہے۔ تھکے ہارے دلوں کو قدرت کا یہ ماحول دست شفقت فراہم کرتا ہے۔ کیا اللہ یہی چاہتا کہ اس کے بندے پر طرح طرح کے الزام لگا کر ‘ اس کے ساتھ مذاق کر کے ‘ اس کے دل کو دکھایا گیا ہے ‘ لہذا اسے قدرتی شفقت کا یہ ماحول فراہم کیا جائے۔ اسے تھوڑی دیر کے لیے اس جاں گسل کشمکش کے ماحول سے نکال کر قدرتی سکون کا ماحول فراہم کیا جائے اور اس زبردست معرکہ آرائی میں آپ ﷺ کے دکھے ہوئے دل کو سکون فراہم کیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ مکی دور ہے اور آپ کو مشرکین مکہ کے جودو انکار ‘ کبروعناد اور مکرو قریب کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک طویل زمانہ گزر گیا ہے۔ آپ کے ساتھی کم ہیں ‘ مشرکین ہر طرف سے پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ اور اہل ایمان کو اس اذیت استہزاء اور دست درازیوں کا جواب دینے کی اجازت نہیں ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ایسے مشکل حالات میں آپ کے دل پر قرآن کریم کا جو ٹکڑا نازل ہوتا تھا وہ بہت ہی آرام دہ مرہم کا کام دیتا تھا۔ یہ دراصل تھکے ماندے مسافر کے لیے وسیع اور گہرا سایہ ہوتا تھا۔ اور کفر و حجود اور عناد اور عصبیت کی گرم لو میں ٹھنڈی اور خوشگوار چھائوں ہوتی تھی۔ سایہ خصوصاً ایک تپتے ہوئے صحراء میں ‘ اس سورت کی روح ‘ موضوع ‘ مضمون اور جدل وجدال کے گرم ماحول میں امن و سکون اور ملجاو ماویٰ فراہم کرتا ہے۔
قرآن کریم اس سایہ کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ دست قدرت اسے لمبا کرتا جاتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ غیرمحسوس طور پر لمبا ہوتا جاتا ہے۔ پھر نہایت ہی نرمی اور غیر محسوس طور پر اسے لپیٹا جاتا ہے۔
الم تر الی ربک کیف مد الظل (25 : 35) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے۔ “
ثم قبضنہ الینا قبضاً یسیرا (25 : 36) ” پھر ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف لپیٹتے چلے جاتے ہیں۔ “ سایہ کیا چیز ہے۔ کوئی جسم جب سورج کی شعاعوں کے سامنے حائل ہوتا ہے تو وہ ایک خفیف قسم کا اندھیرا پیدا کرتا ہے۔ جوں جوں زمین سورج کے سامنے حرکت کرتی ہے۔ یہ سایہ بھی حرکت کرتا رہتا ہے۔ اس کی وضع اور اس کی شکل بدلتی رہتی ہے۔ اس کی شکل و صورت کو سورج کی شعاعیں روشنی اور حرارت سے متعین کرتی ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ سکڑتا اور پھیلتا ہے۔ اس وجہ سے انسان کو خوشی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس کی روح کے اندر لطیف و شفاف بیداری پیدا ہوتی ہے اور نفس انسانی دست قدرت کی لطیف صنعت کاری کو اچھی طرح دیکھ سکتا ہے۔ سورج اور سائے کا یہ منظر جب غائب ہونے پر آتا ہے تو یہ سایہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب یہ طوالت کی آخری حد تک پہنچتا ہے تو یہ سایہ سورج کے غروب کے ساتھ ہی غائب ہوجاتا ہے۔ یہ کہاں چلا گیا کیا ایک یہ دست قدرت ہے جس نے اسے لپیٹ اور سمیٹ لیا۔ ایک ہمہ گیر سایہ چھا گیا اور اس کے اندر آہستہ آہستہ اب رات کی تاریکی نمودار ہونا شروع ہوگئی۔ یہ ہے صنعت دست قدرت کی ۔ انسان ہے کہ قدرت کے ان آثار و علامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے اردگرد قدرت کے شواہد پھیلے ہوئے ہیں لیکن اس کی کند عقل ان آثار کو نہیں پا رہی ہے۔
ولو شاء لجعلہ ساکنا (25 : 35) ” اگر اللہ چاہتا تو اسے دائمی بنا دیتا۔ “ لیکن اللہ نے ایسا نہ چاہا۔ کیونکہ اس کائنات کی تنظیم ہی اس طرح کی گئی ہے۔ اس نظم و نسق کا تقاضا ہے کہ ہم روز اس سائے کو یوں دیکھتے رہیں کہ اس کا مدو جزر یوں ہی جاری رہے۔ اگر اس کے اندر ذرا بھی تدبیلی کردی جائے اور اس سایہ کو ساکن بنا دیاج ائے تو اس پوری کائنات کے آثار ہی بدل جائیں۔ اگر زمین ایک جگہ رکی ہوئی ہوتی تو یہ سایہ بھی رکا ہوتا ہے۔ اس کا مدو جزر تو ختم ہوجاتا ۔ اگر زمین کی یہ حرکت نرم ہوتی تو اس سائے کے آثار بھی سست رفتار ہوتے اور اگر زمین کی حرکت تیز ہوتی تو سایوں کا مدو جزر بھی تیز ہوجاتا۔ یہ زمین کی ایک متعین حرکت ہے جو سایوں کو یہ مظاہر عطا کرتی ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور وہ آثار پیدا کرتی ہے جو ہمارے لئے مفید ہیں اور جن کے خواص کو ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
یہ گردش زمین اور گردش ظلال اور ان کا مدو جزر تو ہم رات دن دیکھتے ہیں اور غفلت میں گزر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں از سر نو اس طرف متوجہ فرماتا ہے۔ یہ قرآن کریم کے انداز بیان کا ایک مخصوص طریقہ ہے کہ وہ انسانی ضمیر کے اندر ایک مردہ تاثر کو زندہ کردیتا ہے۔ ہمارے اندر انفعالیت جگاتا ہے اور ہمیں اپنے ماحول کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ہمارے احساسات کو جگاتا ہے ، ہمارے شعور کو تیز کرتا ہے تاکہ ہم ان مشاہد اور آیات بینات کی تہہ پر غور کریں۔ یوں ہمارے دل اس کائنات میں تدبر کے عادی ہوجائیں کیونکہ یہ کائنات بہت ہی عظیم اور عجیب ہے۔
سائے کا یہ منظر رات پر آ کر ختم ہوتا ہے۔ جب سائے طویل ہوتے ہیں تو رات چھا جاتی ہے۔ رات کے پس پردہ انسانیت آرام و سکون حاصل کرتی ہے اور پھر دن جس میں لوگ زندگی کی تگ و دو میں داخل ہوتے ہیں۔
وھو الذی ……نشوراً (47)
رات تمام چیزوں اور تمام زندہ مخلوق کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہر چیز نے رات کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ لوگ رات کے پردے میں چھپ جاتے ہیں۔ یوں رات اس کے لئے لباس ہوجاتی ہے۔ رات میں مکمل سکون ہوتا ہے۔ ہر چیز کی حرکت رک جاتی ہے۔ انسان حیوانات اور پرندے تک سو جاتے ہیں۔ پھر مزید یہ کہ سونے کے بعد اس دنیا کے ساتھ انسان کا وہ احساس قائم نہیں رہتا جو جاگتے میں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ اسے سبات یعنی موت جیسے سکون سے تعبیر کیا۔ اس کے بعد صبح نمودار ہوتی ہے اور زمین کے اوپر پھر حرکت شروع ہوتی ہے۔ اس طرح گویا مرنے کے بعد ہر چیز دوبارہ جی اٹھتی ہے۔ اس لئے اسے نشور اسے تعبیر کیا گیا۔ گویا چوبیس گھنٹے کے اس زمینی دورے میں انسان موت وحیات کا ایکم ختصر نمونہ پیش کرتا ہے اور جب سے اللہ نے زمین ، آسمان کو پیدا کیا ہے ، زمین کا یہ دور اپنے محور کے گرد جاری ہے۔ اس میں ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آیا۔ یہ زمین انسانوں کو لے کر چلتی ہی رہتی ہے ، لیکن انسان ہیں کہ غافل ہیں اور وہ زمین کی اس حرکت کے بارے میں سوچنے ہی نہیں جبکہ اللہ کی جو شان اس زمین کو چلاتی ہے وہ ایک لحظہ کے لئے غافل نہیں ہو سکتی اور نہ اللہ کو نیند آتی ہے۔
اب ذرا دوسرا منظر یہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری لے کر آتی ہیں۔
وھو الذی ارسل ……اناسی کثیراً (49)
اس دنیا کی ہر زندگی پانی پر قائم ہے یا بارش کا پانی ہے اور یا دریائوں اور ندی نالوں پر نہریں قائم کر کے سطح زمین کو پانی دیا جاتا ہے۔ پھر ان پانیوں میں سے جو زمین کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ وہ چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا کنوئوں کی صورت میں نکالا جاتا ہے۔ لیکن ہے یہ بھی بارش کا پانی۔ لیکن جن لوگوں کی سیرابی کا تعلق صرف بارش ہی پر ہے۔ وہ اللہ کی اس رحمت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو بارش کی شکل میں برستی ہے۔ وہ تو رات اور دن بارش پر آس لگائے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی زندی بارش پر قائم ہوتی ہے۔ وہ ان ہوائوں کے انتظار میں ہوتے ہیں جو رحمت بھرے بادل چلا کر لاتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں آتی ہیں تو ان کے لئے یہ بشارت ہوتی ہیں۔ ان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بارشیں اللہ کی رحمت ہیں۔ ایسے لوگوں کا دل اگر اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہوتا ہے تو وہ اللہ کی اس رحمت کا بہت زیادہ احساس کرتے ہیں۔
یہاں پانی کے ساتھ طہارت اور طہور کے مفہوم کو نمایاں کیا گیا ہے۔
وانزلنا من السمآء ماء طھوراً (25 : 38) ” پھر ہم نے آسمانوں سے پاک پانی نازل کیا۔ “ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے اندر راز حیات ہے۔
لنحی بہ بلدۃ میتا و نسقیہ مما خلقنا انعاماً و انا سی کثیراً (25 : 39) ” تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعہ زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔ “ یہاں زندگی پر طہارت کا ایک پر تو پڑتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی منشا ہی یہ ہے کہ انسانی زندگی پاک و صاف ہو ، اور پھر یہ بارش زمین کے چہرے کو بھی دھلا کر صاف کردیتی ہے اور اسی ماء طہور سے زندگی پیدا ہوتی ہے اور انسانوں ، حیوانوں اور تمام زندہ چیزوں کی حیات قائم ہے۔
نزول ماء کے ساتھ نزول قرآن پر بھی ایک تبصرہ۔ پانی کے نزول سے زمین کے چہرہ کی صفائی مطلوب ہے اور قرآن کے نزول سے انسانی روح کی صفائی اور کمال مطوب ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ جسم و جان کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے تو یہ لوگ نزول بارش کا انتظار کرتے ہیں لیکن رحانی تطہیر کے لئے نزول قرآن کو یہ برداشت نہیں کرتے اور اس کے لئے وہ ایک دوسرے کو بشارت نہیں دیتے۔
ولقد صرفنہ ……کبیراً (52)
ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (25 : 50) ” اس قرآن کو ہم پھیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ سبق لیں۔ “ مختلف سورتوں کی شکل میں۔ متعدد اور متنوع اسالیب بیان میں۔ متعدد قطعات کی شکل میں اور اسی کے ذریعہ ہم نے ان کے شعور اور ان کی قوت مدرکہ کو مخاطب کیا۔ ان کی روح اور ان کے اذہان کو مخاطب کیا اور ان کے نفوس کے اندر اسے ہر طرح داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے ابلاغ کا ہر حربہ استعمال کیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں تو صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ وہ حقیقت اور سچائی کا شعور تو خود ان کے نفوس اور ان کی فطرت کے اندر موجود ہے اور انہوں نے حقیقت کے اس شعو رکو اس لئے دبا دیا ہے کہ خواہشات نفسانیہ کو انہوں نے الہ بنا دیا ہے۔ اس لئے اب ان کا رویہ یہ ہوگیا ہے۔
فابی اکثر الناس الاکفوراً (25 : 50) ” مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ “ حضور اکرم کی ذمہ داری تو ایک بھاری ذمہ داری ہے آپ نے پوری انسانیت کو درست کرنا ہے جبکہ انسانوں کی اکثریت ذاتی خواہشات کی بندہ بن گئی ہے اور باوجود اس کے کہ دلائل ایمان ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس نے کفر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ولو شئلا لبعثنا فی کل قریۃ نذیراً (25 : 51) ” اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑا کرتے۔ “ اس طرح مشقت بٹ جاتی۔ ذمہ داریاں کم ہوجائیں لیکن اللہ نے تمام کائنات کی ہدایت کے لئے ایک ہی بندے کو بھیجا۔ آپ خاتم الرسل ہیں اور آپ کے ذمہ یہ کام لگایا گیا ہے کہ آپ تمام لوگوں اور تمام بستیوں کو خبردار کریں اور ان کو اللہ کی آخری رسالت کی طرف متوجہ ریں اور یوں اللہ نے یہ چاہا کہ تمام انسانیت اس آخری رسالت پر جمع ہوجائے اور لوگ مختلف رسولوں کی باتیں سن کر اختلاف کا شکار نہ ہوجائیں اور اس کے بعد نبی آخر الزمان کو قرآن دیا تاکہ وہ لوگوں کی ہدایت کے لئے جدوجہد کریں۔
فلا تطع الکفرین و جاھدھم بہ جہاد کبیراً (25 : 52) ” پس اے نبی تم کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔ “ اس قرآن کے اندر بڑی قوت اور گرفت ہے۔ گہری تاثیر ہے اس قدر جاذبیت ہے کہ جس کا کوئی سننے والا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کی یہ کشش دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ انسانی روح اور شعور کے اندر زلزلہ برپا ہوجاتا ہ۔ لوگ قرآن کریم کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے تمام تدابیر اختیار کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے۔
قریش کے سردار عوام الناس کو کہتے تھے۔
لاتسمعوا الھذا القرآن و الغوافیہ لعلکم لغلبون ” اس قرآن کو نہ سنو اور جہاں یہ پڑھا جا رہا ہو وہاں شور مچائو شاید کہ اس طرح تم غالب ہو جائو۔ “ ان کے اس قول سے قریش اور ان کے متبین کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی اثر آفربینیوں نے بہت پریشان تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے متبعین صبح و شام قرآن کریم سے سحر زدہ ہوجاتے تھے۔ ایک ایک آیت ، دو دو آیات یا دو دو سورتیں جو حضرت محمد ﷺ پڑھتے ۔ لوگوں کے دل ان کی طرف کھچ جاتے تھے اور ان کا دماغ مسحور ہوجاتا تھا۔
رئوساء قریش جو اپنے متبعین کو یہ حکم دیتے تھے ، کیا وہ خود قرآن کی تاثیر سے محفوظ تھے۔ اگر خود انہوں نے قرآن مجید کی بےپناہ تاثیر کو محسوس نہ کیا ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کہتے اور نہ وہ اپنی صفوں میں اس قدر خوف پھیلاتے۔ ان کی اس ہدایت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی تاثیر کا کیا عالم تھا۔
ابن اسحاق ، حمد ابن مسلم ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ابوسیان ابن ابو جہل ابن ہشام اور احسن ابن شریق ، ابن عمر ابن وھب ثقفی بنی زہرہ کے حلیف ایک رات نکلے کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام سنیں۔ حضور اکرم رات کے وقت اپنے گھر پر نماز پڑھا کرتے تھ۔ ان میں سے ہر شخص اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا اور قرآن کریم سنتا رہا۔ ہر شخص دوسرے کے بارے میں نہ جانتا تھا۔ وہ رات گئے تک قرآن کریم سنتے رہے ۔ جب صبح طلوع ہوئی تو یہ لوگ لوٹنے لگے۔ راستے میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دور سے کو ملامت کیا اور ایک دوسرے سے کہا۔ یہ حرکت دوبارہ نہ کرو۔ اگر تمہیں تمہارے نادانوں نے دیکھ لیا تو تم خود ان کے دلوں میں بات ڈال دو گے۔ پھر یہ لوگ چلے گئے جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر شخص پھر اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا۔ پھر یہ لوگ رات کو کلام الٰہی سنتے رہے۔ صبح فجر نمودار ہوئی تو پھر بکھر گئے۔ راستے میں پھر انہوں نے ایک دور سے کو دیکھ لیا۔ پھر انہوں نے ایک دور سے کو وہی کہا جو اگلی رات انہوں نے کہا تھا۔ اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر تینوں اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے۔ ساری رات سنتے رہے۔ جب فجر نمودار ہوئی تو پھر یہ لوگ بکھر گئے لیکن راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی۔ اب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا اب تو پختہ عہد کرنا ہوگا کہ پھر ہم یہ حرکت نہ کریں گے۔ چناچہ عہد کے بعد یہ لوگ جدا ہوئے۔ دوسرے دن صبح احنس ابن شریق نے اپنی عصالی۔ وہ سب سے پہلے ابوسفیان کو اس کے گھر میں ملا۔ اس نے اسے کہا ابو حنظلہ بتائو۔ تم نے محمد ﷺ سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے کہا ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے بھی ان سے بعض ایسی چیزیں سنیں ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں۔ بعض ایسی باتیں بھی سنی ہیں جن کا مفہوم میں نہیں سمجھتا اور نہ میں یہ سمجھا ہوں کہ ان کا مقصد کیا ہے۔ احنس نے کہا میری رائے بھی وہی ہے جس پر تم نے حلف اٹھایا ہے۔ وہاں سے نکل کر یہ شخص ابوجہل کے پاس آیا۔ اس کے گھر میں داخل ہوا اور کہا ابو الحکم بتائو محمد ﷺ سے تم نے جو کچھ سنا ، اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ ابوجہل نے کہا میں نے کیا سنا ہے ؟ بات یہ ہے کہ ہمارا اور بنی عبد مناف کے درمیان عزت اور شرف پر جھگڑا رہا۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم نے بھی مقابلے میں دستر خوان بچھائے۔ انہوں نے لوگوں کو تحفے دیئے اور ہم نے بار شتر تحفے دیئے۔ انہوں نے داد و دہش کی تو ہم نے بھی داد و دہش کی ۔ یہاں تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ کاندھے ملا کر یوں چلے کہ جس طرح دو مقابل کے گھوڑے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ اب انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ ہم سے نبی آگیا ہے۔ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے ، ان کے مقابلے میں ہم نبی کہاں سے لائیں۔ خدا کی قسم ، ہم اس پر کبھی بھی ایمان نہ لائیں گے اور ہرگز ہم اس کی تصدیق نہ کریں گے۔ اس پر احنس ابن شریق اسے چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ تھا عالم قرآن کریم کے اثرات کا۔ یہ لوگ ان اثرات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ پختہ عہد کرتے تھے کہ آئندہ مت سنو ورنہ لیڈر شپ کو خطرہ ہے۔ اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ ہم لوگ کلام الٰہی سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو لوگ ٹوٹ پڑیں گے ان پر تو جادر جیسا اثر ہوتا ہے۔
قرآن کریم درحقیقت نہایت ہی سادہ فطری حقائق بیان کر رہا تھا۔ یہ سچائی تیر کی طرح دل میں اترتی تھی۔ جب انسانی دل و دماغ اس اصلی جانے تک پہنچ جاتے تھے تو اس سرچشمے کا جوش پھر تمتمانہ تھا۔ اثرات کے فوارے چھوٹ جاتے تھے اس میں قیامت کے مناظر عبرت اموز قصص اس کائنات کے مشاہد ، ہلاک شدہ اقوام کی عبرت آموز داستانیں اور انکے کھنڈرات کے مناظر ، قرآن کے تشخص مفہومات اور تمثیل واقعات اور دلال و آیات تھے ، ان سے دل دہل جاتے تھے۔ بعض اوقات صرف ایک سورت پڑھنے سے انسانی شخصیت کے اندر تزلزل پیدا ہوجاتا اور ایسے انسانی نفوس اس سے مفتوح ہوتے چلے جاتے تھے جو چٹان کی طرح مضبوط ہوتے تھے۔ اگر قرآن کے سوا لشکر جرار بھی ایسے نفوس کو فتح کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔
اس لئے یہ بات کوئی تعجب انگیز نہیں ہے کہ اللہ نبی ﷺ حکم دے کہ آپ کافروں کی اطاعت نہ کریں اور دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے قدم نہ ڈگمگائیں اور اس قرآن کو لے کر کفار کے مقابلے میں عظیم جدوجہد کریں۔ کیونکہ آپ کے پاس قرآن کریم کی وہ قوت ہے جس کے مقابلے میں طاقتور سے طاقتور انسان نہیں ٹھہر سکتا۔ جس کے خلاف کوئی مجادلہ کارگر نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے خلاف کوئی قوت کارگر ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد روئے سخن اس کائنات کے مناظر کی طرف پھرجاتا ہے۔ چناچہ ہوائوں کے منظر ، پاک و صاف پانی کے منظر ، سمندروں میں میٹھے اور کھارے پانی اور ان کے درمیان پائے جانے والے قدرتی پردے کے مناظر بیان کئے جاتے ہیں۔
وھو الذی ……محجوراً (54)
یعنی وہ ذات جس نے وہ سمندروں کو چلا رکھا ہے ، ایک میٹھا ہے اور دوسرا نمکین اور کھارا ہے ، دونوں ایک جگہ باہم ملے ہئے ہیں لیکن وہ باہم مخلوط نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان قدرت نے ایک پردہ قائل کردیا ہے۔ دونوں کی فطرت ایسی بنا دی ہے کہ وہ باہم مل ہی نہیں سکتے۔ کڑوے سمندروں کے اوپر میٹھے پانی کی نہریں ہیں۔ میٹھے پانی کی ایک نہر سطح سمندر کے اوپر چلتی ہے۔ اس کے برعکس کم ہی ہوتا ہے۔ یعنی میٹھے سمندر پر کڑوے پانی کی نہر نہیں بہتی۔ اس دقیق انتظام کی وجہ سے سمندر کا کڑوا پانی صاف اور میٹھے پانی کے اوپر نہیں آتا۔ حالانکہ کڑوا سمندر بہت بڑا اور گہرا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں میٹھی نہر چھوٹی ہوتی ہے لیکن اس میٹھی نہر سے انسانوں ، جانوروں اور نباتات کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ میٹھے اور کڑوے پانیوں کی یہ جولائی محض اتفاق سے نہیں ہوتی بلکہ خلاق کائنات نے بوقت تخلیق ان کو اس طرح پیدا کیا اور اس سے خلاق کے پیش نظر کچھ مقاصد تھے۔ اللہ نے قوانین قدرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ کڑوے پانی ، ان نہروں کی راہ نہ روکیں اور نہ یہ سمندر خشکی پر چڑھ آئیں۔ یہاں تک کہ سمندر کے حالات مدو جزو میں بھی یہ میٹھا پانی اور کڑوے سمندر ایک دو سے جدا رہتے ہیں حالانکہ مدو جزر میں سمندر کا پانی بہت ہی اونچا ہوجاتا ہے۔
کتاب ” سائنس دعوت ایمان دیتی ہے “ کے مصنف کہتے ہیں :” چاند ہم سے دو صد چالیس ہزار میل دور ہے۔ مد جو دو مرتبہ پیدا ہوتا ہے ہمیں چاند کے وجود کا لطیف احساس دلاتا ہے۔ مد کی وجہ سے بعض مقامات پر سطح سمندر ساٹھ قدم بلند ہوجاتی ہے بلکہ زمین کی بالائی سطح بھی دو متربہ باہر کی طرف چاند کی اس کشش کی وجہ سے کئی انچ باہر نکلتی ہے لیکن ہمیں تمام چیزیں ایسی منظم نظر آتی ہیں کہ ہمیں اس قوت کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ جس نے اس عظیم سمندر کو کئی قدم بلند کردیا ہے اور زمین کی سطح جو ہمیں بہت مضبوط نظر آئی تو اسے بھی کئی انچ دہرا کردیا ہے۔ “
” سیارہ مریخ کا ایک اپنا چاند ہے۔ یہ چھوٹا چاند ہے۔ یہ مریخ سیچھ ہزار میل دور ہے۔ اگر ہمارا یہ چاند ہم سے پچاس ہزار میل دور ہوتا بمقابلہ اس بعید دوری کے جو اس وقت ہم سے ہے ، تو مدو جزر کا عمل اس قدر شدید ہوتا کہ سمندر کے نیچے جو زمین ہے وہ دن میں دو مرتبہ اس مدو جزر کے عمل سے دوچار ہو کر اپنے تمام پہاڑوں کو اپنی جگہ سے زائل کردیتی۔ یہ عمل اسی طرح جاری رہنے سے دنیا میں سے تمام خشکی ختم ہوجاتی اور زمین پر ایک عظیم اضطراب ہمیشہ رہتا۔ نیز ہوا کے اندر مدو جزر کے عمل کے نتیجے میں سخت آندھیاں آتی رہتیں اور اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ اپنی کا یہ مدو جزر خشکی کو دھو لے گیا ہے تو پھر ہمیں یہ فرض کرنا ہوگا کہ اب پوری زمین کے اوپر پانی ڈیڑھ میل تک چڑھ گیا ہے۔ اس صورت میں زندگی کا اگر کوئی مکان ہوتا تو وہ سمندر کی گہرائیوں میں ہوتا اور یہ بھی محض وجود حیات کا احتمال ہے۔ “
لیکن اس کائنات کو ایک مدبر کائنات نے اس طرح بنایا ہے کہ سمندر کے اندر بھی میٹھا اور کھارا پانی ایک دوسرے پر دست درازی نہیں کرسکتے۔ اور ان کے طبیعی مزاج اور ان کی ساخت کے اندر یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملیں ۔ یہ ہے کام صانع حکیم کا جس نے اس کائنات کو منظم کیا ہے ، ایک خاص قانون قدرت کے مطابق چلایا ہے۔
اب سمندر اور نہروں کے پانیوں سے روئے سخن ماء حیات کی طرف۔ ذرا اس نطفے کا مطالعہ کرو جس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔
وھو الذی ……قدیراً (54)
اس پانی ہی سے جنین پیدا ہوتے ہیں۔ اگر جنین مرد ہوں تو وہ نسب ہوں گے اور اگر مادہ ہوں تو سسرال ہوں گے۔ مادہ کو صر اس لئے کہا گیا کہ قرابت کی جگہ عورت ہوتی ہے (یعنی عورت کے ذریعہ قرابت داری پیدا ہوتی ہے) آسمان کے پانی سے جو مخلوقات پیدا ہوتی ہے اس کے مقابلے میں یہ انسانی مخلوق بہت ہی عجیب ہے۔ کیونکہ مرد کے پانی کے ایک قطرے کے اندر جو ہزار باخلیے ہوتے ہیں ان میں سے ایک کے ساتھ رحم مادر کے اندر پایا جانے والا چھوٹا سا انڈا متحد ہوجاتا ہے اور اس سے پھر یہ پیچیدہ مخلوق پیدا ہوتی ہے جس کا نام انسان ہے۔ جس قدر زندہ کائنات اور مخلوقات ہے ان میں سے یہ مخلوق عجیب ترین مخلوق ہے۔
یہ انڈے اور یہ خلیے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں لکین پھر عجیب طریقے سے یہ نر اور مادہ بن جاتے ہیں۔ اس کا راز بھی انسان ابھی تک معلوم نہیں کرسکا۔ نہ آج تک ہمارا علم اس کو پا سکا ہے کہ نر اور مادہ بننے کے اسباب کیا ہیں کیونکہ ہزار باخلیوں کے درمیان کسی ایسے خلیے کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکا اور نہ اس میں ایسی خصوصیات دریافت کی جاسکی ہیں کہ وہ مرد ہوگا یا عورت ہوگی۔ اور نہ عورت کے انڈے کے اندر کوئی ایسی خصوصیات دریافت کی جاسکی ہیں کہ فلاں خصوصیات ہوں تو مرد ہوگا اور فلاں خصوصیات ہوں تو عورت پیدا ہوگی۔
وکان ربک قدیرا (25 : 53) ” اور تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے۔ “ یہ ہے اللہ کی قدرت جس کے بعض پہلوئوں کا انکشاف دور جدید میں ہوچکا ہے جس سے مزید عجائبات آشکار ہوتے ہیں۔
اگر انسان اس پانی کے بارے میں تحقیقات کرتا چلا گیا جس سے انسان کی تخلیق ہوئی تو اس کا سر چکرا جائے گا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس پانی کے اندر پائے جانے والے یہ جرثومے جو نہایت درجہ چھوٹے اور باریک ہیں۔ یہ ہر جنس کی مکمل ترین خصوصیت اپنے اندر لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کے اندر والدین اور ان کے خاندان کے قریبی لوگوں کے خواص بھی پوری طرح موجود ہوتے ہیں اور یہ خصوصیات مذکر جنین اور مونث جنین کی طرف اس طرح خود بخود منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں جس طرح دست قدرت نے ان کے لئیمنصوبہ بندی کرلی ہوتی ہی۔ تخلیق اعتبارت بھی اپنے رجحان کے اعتبار سے بھی اور اپنی طرز زندگی کے اعتبار سے بھی۔ کتاب ” یہ انسان اکیلا نہیں کھڑا ہے “ کا تھوڑی دیر کے لئے مطالعہ کیجیے۔ مصنف ان نہایت ہی چھوٹے ذروں کے اندر پائے جانے والے موروثی جینز کے بارے میں لکھتے ہیں :
” ہر خلیہ خوادہ مذکر ہو یا مونث ، وہ کرو موزومز اور جینز پر مشتمل ہوتا ہے۔ کروموزوم عضوی مادے کا ابتدائی یونٹ ہوتا ہے اور یہ جینز کو منتقل کرنے کا کام کرتا ہے جبکہ جینز موروثی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ کرو موزم ایک گٹھلی ہوت یہیں ، جس کے اندر تمام جینز موجود ہوتے ہیں ۔ جینز ہی وہ فیکٹر ہیں جو وجود میں آنے والے اس انسان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ سیٹو پلازم وہ عجیب کیمیاوی مرکب ہے جو ان دونوں پر چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ یہ سیٹو پلازم پروٹو پلازم مادہ ہوتا ہے جو خلئے کی گٹھلی کے اوپر چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ یہ جینز اس قدر باریک اور اس قدر جامع ہوتے ہیں کہ ان کے اندر تمام انسانوں کے انفردای خصائص نفسیاتی حالات ان کے رنگ اور ان کی جنس کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ اس قدر باریک ہوتی ہیں کہ اگر تمام دنیا کے انسانوں یک جینز کو ایک جگہ جمع کردیا جائے اور اسے ایک جگہ رکھ دیا جائے تو حجم میں ایک ” انگشانہ “ کے برابر ہوگا۔ “
” مائیکرو سکوپ میں نظر آنے والے یہ نہایت ہی باریک جینز ہی دراصل تمام انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی کنجی ہیں اور ان کو کنٹرول کرتے ہیں۔ انگشانہ جس کے اندر کئی بلین افراد کے جینز سماتے ہیں یقینا ایک مختصر جگہ ہے لیکن یہ طے شدہ حقیقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ “
ایک جنین ، اپنے تغیر و تبدل کی مختلف صورتوں میں سے گزر کر جب نطفے سے کسی ایک جنس کی مشابہ شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر ایک طویل تاریخ کی کہانی پنہاں ہوتی ہے۔ یہ کہانی جینز ، سیٹو پلازم کے ذرات کے ملاحظہ سے قلم بند ہوچکی ہے۔
” سائنس دانوں کے ہاں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جینز وہ چھوٹے سے چھوٹے ذرات ہیں جو مائیکرو سکوپ کے ذریعے دیکھے جاسکتے ہیں اور یہ تمام زندہ مخلوقات کے خلیوں کے اندر موجود ہوتے ہیں ، ان کے اندر اس مخلوق کی تصویر ، اس کا ڈھانچہ اور سب خصوصیات درج ہوتی ہیں۔ مثلاً کسی پودے کے خلئے کے اندر اس کی جڑیں ، اس کاتنا ، اس کے پتے ، اس کے تمام پھول ، اس کے تمام پھل سب کے سب موجود ہوتے ہیں۔ ہر حیوان کی شکل ، کھال ، بال اور پر سب شامل ہوتے ہیں اور اس میں انسان بھی شامل ہے۔ “
میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کے عجائبات کے بارے میں اسی قدر جاننا بھی کافی ہے کہ خالق کائنات نے کس قدر خصوصیت ودیعت فرماتی ہیں۔
وکان ربک قدیراً (25 : 53) ” اور تیرا رب بڑی قدرت والا ہے۔ “
اس فضائے تخلیق اور تخلیق کے اندر پھر تقدیر اور اس منظر کے سامنے کہ آسمانوں سے پانی برسنا ہے اور اس سے اور پھر انسانی نطفے کے پانی سے کیا کچھ پیدا ہوتا ہے اور کیا کیا خصوصیات کن کن جینز میں رکھی گئی ہیں کہ ایک خلیے سے ایک مرد تشکیل پاتا ہے اپنے تمام موروثی خصائص کے ساتھ ، اور پھر ایسے ہی ایک خلیے سے ایک عورت پیدا ہوتی ہے اپنے تمام خصائص کے ساتھ۔ ایسے قادر مطلق کی قدرت کی بوقلمونیوں کو دیکھتے ہوئے بھی جو لوگ غیر اللہ کی بندگی کرتے ہیں وہ نہایت ہی عجیب و غریب ہیں۔ فطرت سلیمہ اس بات سے اباء کرتی ہے کہ ایسا فعل کوئی معقول انسان کرسکتا ہے ۔ چناچہ اس مسئلے کو یہاں لیا جاتا ہے۔
ویعبدون ……ظھیراً (55)
” یہ کہ کافر اپنے رب کے مقابلے میں ، ہر باغی کا مددگار بنا ہوا ہے۔ “ یعنی تمام کافر جن میں مشرکین مکہ بھی شامل ہیں ، وہ اپنے اس رب کے خلاف محاذ میں شامل ہو کر برسر پیکار ہیں جبکہ اللہ نے ان کو اور تمام دوسرے کافروں کو پیدا کیا ہے۔ یہ کس طرح اللہ کے خلاف ، محاذ میں شامل ہو کر اللہ کے ساتھ جنگ کرسکتے ہیں ؟ انسان ، یہ کمزور مخلوق خالق کائنات کے خلاف کس طرح جنگ کرسکتا ہے ؟ یا اللہ کے خلاف محاذ آرائیکس طرح کرسکتا ہے ؟ مقصد یہ ہے کہ یہ کافر اللہ کے دین کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اللہ نے جو منہاج حیات دیا ہے وہ اس کے خلاف برسر جنگ ہیں۔ البتہ انداز بیاں یوں اختیار کیا ہے کہ ان کافروں کی یہ جنگ اور محاذ آرائی نہایت ہی مکروہ نظر آئے۔ یوں کہ دیکھوں فلاں اپنے مالک آقا اور خالق کے خلاف لڑ رہا ہے۔
اور وہ جب اللہ کے رسول ، آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں تو وہ گویا اللہ کا انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کی جنگ بھی اللہ کے خلاف ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو مطمئن فرماتا ہے اور ان کے بار خاطر کو کم کرتا ہے ، غبار خاطر کو دور کرتا ہے اور حضور اکرم کو یہ احساس اور شعور دلاتا ہے کہ آپ فقط تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اپنا فریضہ ادا کردیں اور اس سلسلے میں کافر جو دشمنی اور جو عناد کرتے ہیں ، اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اللہ پر توکل کریں ، اللہ خود ان کفار سے نمٹ لے گا۔ یہ دراصل اللہ کے دشمن ہیں اور اللہ اپنے بندوں کے جرائم سے اچھی طرح واقف ہے۔