واذا قیل ……نفوراً (60)
یہ برخود غلط لوگوں کو جب رحمٰن کی بندگی کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ لوگ نہایت ہی حقارت ، جھنجھلاہٹ کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ رحمٰن کیا ہے ؟
یہ کفر و سرکشی کی بدترین اور مکروہ ترین تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کس قدر جری اور گستاخ ہوگئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی ضد میں اپنے رب کی توہین کے لئے بھی تیار تھے۔ اللہ کے بارے میں بھی وہ یہ انداز گفتگو اختیار کرتے تھے۔ لہٰذا یہ لوگ اگر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں برے الفاظ استعمال کرتے تھے تو ان سے کوئی بعید نہ تھا۔ وہ اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم کا یوں انکار کرتے تھے۔ یوں ظاہر کرتے تھے کہ وہ تو رحمٰن کو نہیں جانتے۔ وہ کون ہوتا ہے۔
وما الرحمٰن (25 : 60) ” رحمٰن کیا ہوتا ہے۔ “ وہ نہایت بےباکی سے کہتے کہ رحمن کو ہم اس کے سوا نہیں جانتے جو یمامہ میں ہے۔ وہ مسلیمہ کذاب کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
ان کی اس بےباکی کا جواب اس انداز میں دیا جاتا ہے کہ اللہ وہ بابرکت ذات ہے کہ اس کی بڑائی ، اس کی برکات اور اس کی عظمتوں پر تو یہ کائنات گواہ ہے۔ اس عظیم کائنات کے ایک ہی مظہر پر ذرا غور کرو۔
آیت 60 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِج قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُق ” مشرکین مکہّ کے لیے اللہ کا لفظ تو معروف تھا مگر رحمن سے وہ واقف نہیں تھے۔ چناچہ وہ حضور ﷺ پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ اللہ کے بجائے آپ رحمن کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ یہ نیا نام ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا ”یعنی ہم آپ ﷺ کے کہنے پر اسے سجدہ کیوں کریں ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے آپ ﷺ کی بات تسلیم کرلی اور آپ ﷺ جیت گئے۔ یہی وہ ضد ہے جسے قرآن میں ”شِقَاق“ کہا گیا ہے۔ اس ضد اور تعصب میں وہ لوگ آپ ﷺ کی مبنی بر حقیقت بات بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔وَزَادَہُمْ نُفُوْرًا ”یعنی اس طرح حق سے ان کی نفرت مزید بڑھ رہی ہے اور ان کے جذبۂ فرار میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔