سورۃ الفرقان (25): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Furqaan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الفرقان کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الفرقان کے بارے میں معلومات

Surah Al-Furqaan
سُورَةُ الفُرۡقَانِ
صفحہ 365 (آیات 56 سے 67 تک)

وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا قُلْ مَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَن شَآءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْحَىِّ ٱلَّذِى لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِۦ ۚ وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۚ ٱلرَّحْمَٰنُ فَسْـَٔلْ بِهِۦ خَبِيرًا وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسْجُدُوا۟ لِلرَّحْمَٰنِ قَالُوا۟ وَمَا ٱلرَّحْمَٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا ۩ تَبَارَكَ ٱلَّذِى جَعَلَ فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَٰجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا وَعِبَادُ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى ٱلْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلْجَٰهِلُونَ قَالُوا۟ سَلَٰمًا وَٱلَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَٰمًا وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا إِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُوا۟ لَمْ يُسْرِفُوا۟ وَلَمْ يَقْتُرُوا۟ وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا
365

سورۃ الفرقان کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الفرقان کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama arsalnaka illa mubashshiran wanatheeran

وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59)

یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن کی زندگی اس عقیدے کی ترجمان تھی۔ یہ عقیدہ ان کے طرز عمل اور ان کی طرز زندگی کے اندر بیٹھ گیا تھا تاکہ اس تربیت کے بعد آئندہ جس معاشرے پر اسلامی حکومت قائم ہو یہ لوگ اس معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی بن جائیں اور دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مکہ میں جنگ شروع کردی جاتی تو ان خونی دشمنیوں کی وجہ سے قریش ہمیشہ کے لئے اس عقیدے سے محروم ہوجاتے اور ان کے اور اسلام کے درمیان ایک مستقل خلیج واقع ہوجاتی۔ جبکہ حکمت الٰہی اور تقدیر الٰہی میں مقدر یہ تھا کہ ہجرت کے بعد اور پھر فتح مکہ کے بعد سب کے سب قریش کو اسلام میں داخل ہونا تھا اور پھر ان میں سے جو لوگ نکلنے تھے ، انہیں بعد کے ادوار میں پورے عالم میں اسلام کے پھیلائو کے لئے بنیاد کا کام سر انجام دیتا تھا۔

لیکن مدینہ میں آغاز جہاد کے باوجود رسالت کی اصل ماہیت اور اس کا خلاصہ یہی تھا کہ رسول نے ” انداز وتبشیر “ کا کام کرنا تھا۔ جہاں تک قتال کا تعلق ہے وہ تو اس لئے جائز رکھا گیا ہے کہ دعوت اسلامی اور انداز اور تبشیر کی راہ میں اگر دنیا کے کسی خطے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کردی گئی ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ اسلام میں جنگ محض اس لئے کی جاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو اسے دور کردیا جائے۔ لہٰذا یہ آیت کہ

وما ارسلنک الا مبشراً و نذیراً (25 : 56) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر صرف مبشر اور نذیر کے طور پر۔ “ جس طرح مکہ میں درست ہے اسی طرح مدینہ کے حالات پر بھی منطبق ہے۔

قل ما اسئلکم علیہ من اجر الامن شآء ان یتخذالی ربہ سبیلاً (25 : 58)

” ان سے کہہ دو کہ ” میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ “ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے کہ لوگ اسلام قبول کرلیں۔ نہ وہ کس سے فیس کے طلبگار ہیں ، نہ نذر و نیاز اور قربانیوں کی آمدن کے رسول طلبگار ہوتے ہیں۔ اسلام میں داخلہ کی رسول اللہ ﷺ نے کوئی فیس مقرر نہ کر رکھی تھی۔ بس چند کلمات ایک شخص ادا کرتا اور دل سے ان پر یقین کرتا۔ یہی اسلام تھا کیونکہ اسلام میں کوئی کاہن نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو مقدس کرنے کی کوئی فیس لیتا ہو۔ نہ وہ اللہ اور لوگوں کے درمیان کوئی دلالل ہوتا ہے جو اپنی دلالی کا کمیشن لیتا ہو۔ اسلام میں دخول کے لئے کوئی رسم ہے ، نہ کوئی راز ہے اور نہ دخول کے وقت کسی کو کوئی خاص رسم ادا کرنی ہوتی ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کس قدر سادہ ، قدرتی اور فطری دین ہے۔ بس ایک عقیدہ ہے جو دل میں داخل ہوجائے۔ انسانی دل اور عقیدہ اسلام کے درمیان کوئی رسمی واسطہ نہیں ہے۔ نہ کوئی کاہن ، نہ کوئی پیرو فقیر۔ رسول کا اجر بس یہی ہے کہ دین حق کسی کے دل میں داخل ہوجائے اور کوئی بندہ اپنے حقیقی رب کے قریب ہوجائے۔

الا من شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً (25 : 58) ” بس یہی اجر ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ “ صرف یہی اجر ہی رسول کا۔ رسول کا پاک دل اور رسول کا پاک شعور صرف اسی اجر پر رضای ہوتا ہے کہ ایک بندہ گم کردہ راہ ، اپنے رب کی طرف راہ پا لے۔ رب راضی ہوجائے اور وہ رب کے طریقے پر چل پڑے اور پوری زندگی میں اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے۔

و توکل علی ……بحمدہ (25 : 58) ” اور اے نبی اس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ، اس کے حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ “ اللہ کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے وہ مرنے والی ہے کیونکہ یہ تمام مخلوق رات دن موت کی طرف رواں ہے۔ باقی رہنے والا صرف اللہ ہے وہ ایسا زندہ ہے جو کبھی مرنے والا نہیں ہے۔ اور کسی ایسے زندہ شخص پر بھروسہ کرنا جس نے ایک دن مرنا ہے طویل عمر کے بعد یا قصیر کے بعد ، ایک ایسی ذات پر بھروسہ کرنا ہے جس نے ایک دن گرنا ہے۔ ایک ایسے سایہ کے نیچے آتا ہے جس نے کسی وقت زوال پاتا ہے۔ توکل تو اسی حسی اور زندہ پر کرنا چاہئے جس نے کبھی نہیں مرنا۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور پاکی بیان کرو۔ حمد اور تعریف بھی صرف اللہ کی کرنا چاہئے جو منعم حقیقی اور وہاب حقیقی ہے اور اے پیغمبر آپ ان کفار کی پرواہ نہ کریں جن پر انذار اور تبشیر کا اثر نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا ہے۔

وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیراً (25 : 58) ” اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔ “ وہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب باخبر ہے اس لئے جزاء و سزا دے سکتا ہے اور وہ اس کی طاقت بھی رکھتا ہے کہ اس نے زمین آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہ مسلسل بادشاہت کی کرسی عرش پر متمکن ہ۔

الذی خلق ……خبیراً (25 : 59) ” وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ” عرش “ پر جلوہ فرما ہوا۔ رحمٰن ہے وہ۔ اس سے پوچھو کہ وہ جاننے والا ہے۔ “ وہ ایام جن میں اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، وہ ہمارے زمینی دنوں سے مختلف تھے کیونکہ یہ دن تو نظام شمسی کی تشکیل کے بعد شروع ہوئے۔ ینی زمین و آسمانوں کی پیدائش کے بعد جب اللہ نے زمین کا سورج کے اردگرد چکر مقرر کیا اور خود زمین کا اپنے محور کے اردگرد چکر شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں ہمارے ایام شروع ہوئے۔ اللہ کی تخلیق تو صرف لفظ کن سے ہوتی ہے یعنی اللہ کا حکم ہوجائے تو ہر چیز ہوجاتی ہے۔ رہے یہ چھ دن تو ان کی حقیقت اور مقدار صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ بہت ہی طویل دن ہوں گے اور ان دنوں میں زمین و آسمان مختلف ادوار اور بطوار سے گزر کر موجودہ شکل میں آ کر ن کے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رش پر کیسے متمکن ہوا تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس کائنات پر اللہ کی حکومت اور اقتدار ہے۔ یہاں لفظ (ثم) سے مراد زمانی ترتیب نہیں ہے۔ ینی یہ کہ پہلے تخلیقہوئی اور بعد میں تمکین علی العرش ہوئی۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ ثم یہاں علوشان اور مرتبہ بلند کے معنی میں ہے۔

اللہ کی اس علوشان اور اقتدار عظیم الشان کے بعد پھر اللہ الرحمٰن بھی ہے اور تم نے جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھو ، جب تم اس سے پوچھو گے تو ایک نہایت ہی خبردار سے پوچھو گے کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔

اردو ترجمہ

اِن سے کہہ دو کہ "میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul ma asalukum AAalayhi min ajrin illa man shaa an yattakhitha ila rabbihi sabeelan

اردو ترجمہ

اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watawakkal AAala alhayyi allathee la yamootu wasabbih bihamdihi wakafa bihi bithunoobi AAibadihi khabeeran

اردو ترجمہ

وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمان کو اور اُن ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی (کائنات کے تخت سلطنت) "عرش" پر جلوہ فرما ہوا رحمٰن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allathee khalaqa alssamawati waalarda wama baynahuma fee sittati ayyamin thumma istawa AAala alAAarshi alrrahmanu faisal bihi khabeeran

اردو ترجمہ

اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں "رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟" یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha qeela lahumu osjudoo lilrrahmani qaloo wama alrrahmanu anasjudu lima tamuruna wazadahum nufooran

واذا قیل ……نفوراً (60)

یہ برخود غلط لوگوں کو جب رحمٰن کی بندگی کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ لوگ نہایت ہی حقارت ، جھنجھلاہٹ کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ رحمٰن کیا ہے ؟

یہ کفر و سرکشی کی بدترین اور مکروہ ترین تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کس قدر جری اور گستاخ ہوگئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی ضد میں اپنے رب کی توہین کے لئے بھی تیار تھے۔ اللہ کے بارے میں بھی وہ یہ انداز گفتگو اختیار کرتے تھے۔ لہٰذا یہ لوگ اگر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں برے الفاظ استعمال کرتے تھے تو ان سے کوئی بعید نہ تھا۔ وہ اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم کا یوں انکار کرتے تھے۔ یوں ظاہر کرتے تھے کہ وہ تو رحمٰن کو نہیں جانتے۔ وہ کون ہوتا ہے۔

وما الرحمٰن (25 : 60) ” رحمٰن کیا ہوتا ہے۔ “ وہ نہایت بےباکی سے کہتے کہ رحمن کو ہم اس کے سوا نہیں جانتے جو یمامہ میں ہے۔ وہ مسلیمہ کذاب کی طرف اشارہ کرتے تھے۔

ان کی اس بےباکی کا جواب اس انداز میں دیا جاتا ہے کہ اللہ وہ بابرکت ذات ہے کہ اس کی بڑائی ، اس کی برکات اور اس کی عظمتوں پر تو یہ کائنات گواہ ہے۔ اس عظیم کائنات کے ایک ہی مظہر پر ذرا غور کرو۔

اردو ترجمہ

بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Tabaraka allathee jaAAala fee alssamai buroojan wajaAAala feeha sirajan waqamaran muneeran

تبرک الذی ……شکوراً (64)

بروج کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے سیاروں کے مدار مراد ہیں۔ وہ عظیم فلکیاتی مدار جو بہت ہی دور رس اثرات اور دور رس اعمال کا مظہر ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم ترین مظہر اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس فقرے کے جواب میں پیش فرمایا ہے کہ (رحمٰن کیا ہوتا ہے) ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم رحمٰن کو کیا سمجھتے ہو۔ ذرا رحمٰن کی اس مخلوق کو سمجھنے کی کوشش کرو تو تمہارا سر چکرا جائے۔ جو فی الحقیقت عظیم ہے۔ انہی بروج کے اندر شمس بھی سرگرداں ہے جو ایک چراغ ہے کیونکہ اسی کی روشنی سے زمین منور ہے اور اسی کی روشنی سے قمر بھی منیر ہے۔ جس کی روشنی لطیف اور خوشگوار ہے۔

یہاں گردش لیل و نہار کے تسلسل کو انسانی مشاہدے کے لئے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دو ایسے مظہر اور معجزات ہیں جو مسلسل ہمارے سامنے دہرائے جا رہے ہیں اور صرف انہی پر اگر انسان غور کرے تو اس کی ہدایت کے لئے یہ کافی و شافی ہیں۔

لمن اراد ان یذکر او ارادشکورا (25 : 62) ” اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہئے۔ “ اگر گردش لیل و نہار کا یہ نظام اس طرح آگے پیچھے نہ ہوتا تو اس کرہ ارض پر حیات انسانی کی بقا ممکن ہی نہ ہوتی۔ نہ انسان ہوتے ، نہ حیوانات ہوتے اور نہ نباتات ہوتے۔ اگر رات اور دن کی موجودہ چوبیس گھنٹے کی مدت میں بھی طوالت کردی جائے تو پھر بھی زندگی گزارنا مشکل ہوجائے۔

کتاب ” سائنس دعوت ایمان دے رہا ہے “ میں ہے :

” یہ کرہ ارض یعنی زمین اپنے محور کے اردگرد چوبیس گھنٹوں میں گھومتی ہے۔ اس کی رفتار ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ صرف سو میل فی گھنٹہ کے حساب سے گردش کرے گی تو ہمارے دن اور رات کا وقت دس گنا زیادہ ہوجائے گا۔ اس حالت میں جس حصے پر سورج چمک رہا ہوگا۔ سورج سب کچھ جلا کر رکھ دے گا اور رات کے وقت زمین پر جو کچھ ہوگا وہ جم کر رہ جائے گا۔ “

لہٰذا بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو صحیح اندازے کے مطابق بنایا۔ اور بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں بروج بنائے اور ایک چراغ اور قمر منیر بنایا اور جس نے رات اور دن کو ایک دور سے کا جانشین بنایا۔ اس میں عبرت ہے اس شخص کے لئے جو نصیحت پکڑنا یا شکر ادا کرنا چاہئے۔

اردو ترجمہ

وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahuwa allathee jaAAala allayla waalnnahara khilfatan liman arada an yaththakkara aw arada shukooran

اردو ترجمہ

رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAAibadu alrrahmani allatheena yamshoona AAala alardi hawnan waitha khatabahumu aljahiloona qaloo salaman

درس نمبر 160 ایک نظر میں

اس سورت کے اس درس چہارم میں عباد الرحمٰن کو ان کے امتیازی اوصاف کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ ان کے کردار کے بنیادی فیچر کیا ہوتے ہیں۔ گو وہ انسانیت کا خلاصہ ہیں اور زمین کا نمک ہیں اور تمام قافلہ رسل کی کشمکش حق و باطل اور انسانی تاریخ کا منتہائے مقصود ہیں۔ گویا وہ باغ انسانیت کا پکا ہوا پھل ہیں۔ کفر ، ناشکری اور اعراض و نافرمانی کے خلاف اہل ہدایت کے طویل جدوجہد کا وہ حاصل ہیں۔

درس سابق کے آخر میں اہل کفر نے رحمٰن کو پہچاننے سے انکار کیا تھا۔ تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا تھا تو یہاں بتایا جاتا ہے کہ تم تو رحمٰن کو نہیں مانتے مگر رحمٰن کے بندوں کو مت دیکھ رہے ہو۔ یہ ہیں وہ لوگ جو رحمٰن کو پہچانتے ہیں۔ یہ ہیں اس ٹائٹل کے مستحق کہ ان کو رحمٰن کا بندہ کہا جاسکے۔ ملاحظہ کرو ذرا ان کی فات ، دیکھو ان کا کردار ، ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے ، اسے پھڑو۔ یہ زندہ مثال کی شکل میں عملاً تمہارے سامنے موجود ہیں۔ ایسی جماعت اور ایسی ہی سوسائٹی ، اسلام وجود میں لانا چاہتا ہے۔ ایسے ہی نفوس اسلام اپنے منہاج تربیت کے ذریعے پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اس کرہ ارض پر اللہ تعالیٰ اہمیت دیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی عنایات ہوتی ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو اللہ کو تمام انسانوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ یہ تو ایسے ہی لوگوں کی دعائوں کی برکت ہے جس سے یہ کائنات قائم ہے۔

وعباد الرحمن ……سلماً (63)

۔ جن کی چال میں کوئی تکلف اور تصنع نہیں ہوتا۔ نہ کوئی تکبر ، نہ کوئی غرور ہوتا ہے اور نہ ہی سستی اور ڈھیلا پن ہوتا ہے۔ یعنی ان کے چال پروقار ہوتی ہے۔ یہاں چال سے مراد ان کی مجموعی شخصیت ہے ، جس میں انسان کا شعور اور اس کی شخصیت معتدل کا اعتدال شامل ہے ، جس کی وجہ سے انسان کی تمام صفات اور اس کے تمام افعال کے اندر ، اعتدال پیدا ہوجاتا ہے اور ان کے معتدل صفات کی وجہ سے پھر اس شخص کی روش میں بھی ایک اعتدال اور وقار آجاتا ہے۔ یہ شخص مطمئن اور پروقار ہوتا ہے اور ہر قسم کے حلات میں اس کے اندر ایک ٹھہرائو وتا ہے۔

یمشون علی الارض ہونا (25 : 63) کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ زمین پر مردوں کی طرح سر جھکائے ہوئے چلتے ہیں۔ اعضائے جسم کو لٹکائے ہوئے اس طرح چلتے ہیں کہ بس ابھی یہ صاحب زمین پر گرنے والے ہیں۔ بعض لوگ اظہار تقویٰ کی خاطر زمین پر اس طرح چلتے ہیں۔ احادیث میں للہ ﷺ کی چال کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب چلتے تو لڑکھڑا کر چلتے تھے۔ آپ تمام لوگوں سے تیز چلتے تھے۔ آپ کی چال بہت خوبصورت اور سکون کے ساتھ ہوتی ہوتی تھی۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ گویا سورج آپ کے چہرہ مبارک پر چلتا ہے اور میں نے کوئی شخص للہ سے تیز رفتار نہیں دیکھا۔ گویا آپ کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا تا۔ ہم تو ہر معاملے میں پریشان ہوتے تھے لیکن آپ کوئی پرواہ نہ کرتے تھے۔ حضرت عمر ابن الخطاب فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لڑکھڑا کر چلتے تھے۔ یوں نظر آتا تھا کہ شاید آپ کسی نشیبی جگہ پر اتر رہے ہیں۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ آپ اس طرح چلتے تھے جس طرح کوئی شخص اترتا ہے اور چڑھنے والے کی چال بھی اسی رطح ہوتی ہے جس طرح اترنے والے کی چال ہوتی ہے اور اس قسم کی چال وہ لوگ چلتے ہیں جو اولوالعزم ، عالی ہمت اور بہادر ہوتے ہیں (زاد المعاد ، ابن القیم)

یہ لوگ چونکہ سنجیدہ ، پروقار اور راست رد ہوتے ہیں اور ان کے پیش نظر چونکہ ہمیشہ بلند مقاصد ہوتے ہیں۔ اس لیء وہ احمقوں ، نادانوں او بیوقوفوں کی حماقتوں اور نادانیوں میں اپنے آپ کو نہیں الجھاتے۔ اس لئے وہ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثے اور بد کلامی میں حصہ نہیں لیتے۔ اگر کوئی ایسا موقعہ پیش آجائے تو و نہایت ہی خوبصورتی سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہیں۔

واذا خاطبھم ……سلماً (25 : 63) ” اور جاہل ان کو منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ “ یہ بات وہ نہ کسی کمزوری کی وجہ سے اور نہ تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز ہیں۔ بلکہ ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بلند رکھتے ہیں۔ وہ اپنے قیمتی اوقات کو ایسے کاموں میں صرف نہیں کرتے۔ جو شرفاء کے لائق نہیں ہیں۔ وہ فحش گوئی اور بدکلامی سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرتے ہیں اور اپنے اوقات کو اچھے کاموں میں صرف کرتے ہیں۔

یہ تو تھا ان کا دن لوگوں کے ساتھ وہ اس طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ رہی ان کی رات تو اس میں وہ خدا کا خوف کرتے اور اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔ اللہ کی بڑائی کا شعور ان کو ہوتا تھا اور اللہ کے عذاب سے وہ ڈرتے تھے۔

اردو ترجمہ

جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena yabeetoona lirabbihim sujjadan waqiyaman

اردو ترجمہ

جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena yaqooloona rabbana isrif AAanna AAathaba jahannama inna AAathabaha kana gharaman

والذین ……ومقاماً (66)

اللہ کے بندوں کی نمازوں کی تعبیر یہاں ارکان نماز سجود و قیام سے کی گئی تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ راتوں کو جب تمام مخلوق سوتی ہے تو وہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ وہ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور راتوں کو وہ فرحت بخش اور لذیذ نیند ترک کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس میٹھی اور لذیذ نیند سے اللہ کے سامنے قیام و سجود میں زیادہ لذدت آتی ہے۔ ان کا جسم ان کی روح اور ان کی سوچ اللہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے لوگ غفلت کی نیند سوتے ہیں اور وہ رکوع و سجود میں مشغول ہیں۔ لوگ زمین پر لیٹے ہیں اور وہ آسمان اور بلندیوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور ذوالجلال والا اکرام کے ساتھ لو لگائے ہوئے ہیں۔

لیکن انہوں نے قیام و سجود کی محض صورت اور شکل ہی نہیں بنائی ہوئی ہوتی ، اس قیام اور سجود اور عالم بالا کی طرف اپنی سوچ متوجہ کرنے ساتھ ساتھ ان کے دل میں خدا کا خوف اور تقویٰ بھی پایا جاتا ہے۔ ان کو یہ خوف دامن گیر ہے کہ کسی طرح وہ عذاب جہنم سے نجات پا لیں۔ وہ ہر وقت دعا کرتے ہیں۔

ربنا ……ومقاماً (25 : 66) ” اے ہمارے رب ، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے ، اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے ، وہ تو بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے۔ “ انہوں نے جہنم کی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن جہنم کے وجود پر ایمان لائے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم نے جہنم کی جو تصویر کھینچی ہے انہیں اس پر پورا پورا یقین ہے۔ اس لئے ان کو جو خوف لاحق ہے اور جو یہ کہتے ہیں کہ جہنم بہت بڑا ٹھکانا ہے ، یہ ان کے پختہ یقین کا ثبوت ہے اور ان کے گہرے تصدیق کی وجہ سے ہے۔

وہ اپنے رب کی طرف نہایت ہی خضوع او خشوع کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں تاکہ رب کریم مہربانی کر کے جہنم کے عذاب کو ان سے پھیر دے۔ صرف عبادت اور قیام و سجود ہی سے وہ مطمئن نہیں ہوجاتے۔ وہ اس قدر حساس متقی ہیں کہ اپنی عبادت پر تکیہ نہیں کرتے۔ وہ عبادت کو قلیل سمجھتے ہیں۔ اس لئے نجات کے لئے اسے پورا ضامن نہیں سمجھتے۔ چناچہ وہ اس عبارت کے ساتھ ساتھ اللہ کے فضل و کرم کے بھی طلبگار ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم ہی سے عذاب الٰہی ٹل سکتا ہے۔

انداز کلام سے جہنم کی نقشہ کشی یوں ہوتی ہے کہ وہ ایک زندہ بلا ہے۔ ہر شخص اس کے منہ میں ہے۔ ہر شخص کو و پکار رہی ہے ، ہر شخص کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے ، ہاتھ آگے بڑھا چڑھا کر لوگوں کو اپنے قبضے میں لیتی جاتی ہے ۔ دور اور قریب سب اس کی پہنچ میں ہیں اور اس کے خوف کے مارے اللہ کے یہ بندے رات دن اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس سے ڈر ڈر کر اللہ سے پناہ مانگتے ہیں عاجزی کرتے ہیں اور درخواستیں اور فریادیں کرتے ہیں کہ ای اللہ بچائیو ، یہ تو کھائے جا رہی ہے۔

جب وہ اللہ کے سامنے ہاتھ باندھ کر ، نہایت ہی خوف سے اور نہایت ہی گھبراہٹ سے دعا کرتے ہیں تو انداز کلام ماحول کے اندر ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔

ان عذابھا کان غراماً (25 : 65) ” بیشک اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔ “ یعنی ایسا عذاب ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ پھر کبھی چھوڑتا نہیں۔ نہ کم ہوتا ہے اور نہ ختم ہنے کا نام لیتا ہے۔ یہی وصف ہے جہنم اک جو ان بندوں کو خائف کر رہا ہے اور وہ ہر وقت اس سے ڈرے سہمے رہتے ہیں۔

اردو ترجمہ

وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innaha saat mustaqarran wamuqaman

اردو ترجمہ

جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena itha anfaqoo lam yusrifoo walam yaqturoo wakana bayna thalika qawaman

پھر یہ بندے اعتدال و میانہ روی کا نمونہ ہیں۔ ان کی زندگی نہایت ہی متوازن ہے۔

والذین ……قواماً (67)

یہ اسلام کی بنیادی خصوصیت ہے ، جسے وہ ایک مسلم فرد اور ایک مسلم جماعت کی زندگی کے اندر ایک حقیقت کی شکل میں پیدا کرت ا ہے۔ اسلام اس خصوصیت کو اپنے نظام تربیت و اخلاق اور نظام معیشت و قانون دانوں میں پیش نظر رکھتا ہے۔ چناچہ اسلامی نظام کے ہر جز کو مدار توازن اور اعتدال پر ہے۔

باوجود اس کے کہ اسلام ایک فرد کو انفرادی مخصوص ملکیت رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اسلام ایک مسلم فرد کو کھلی چھٹی نہیں دیتا کہ وہ ” اپنی “ دولت کو جس طرح چاہے خرچ کرے۔ جبکہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فرد کو مکمل آزادی ہے کہ وہ اپنی انفرادی دولت کو جس طرح چاہے خرچ کر دے۔ اسی طرح تمام غیر مسلم اقوام کے ہاں بھی یہی اصول ہے کہ ایک شخص اپنی انفرادی ملکیت کو جس طرح چاہے ، خرچ کر دے۔ اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ لیکن ایک مسلمان انفرادی دولت خرچ کرنے میں بھی اس بات کا پابند ہے کہ اسراف اور کنجوسی کے درمیان جد اعتدال پر قائم رہے۔ اسراف کی وجہ سے جان ، مال اور معاشرے سب کی تباہی ہے اور کنجوسی بھی اسی طرح جان ، مال اور معاشرے کا نقصان ہے کہ ایک شخص اپنے مال سے فائدہ نہیں اٹھاتا ۔ کیونکہ اگر کوئی مال سے نفع اٹھاتا ہے اور خرچ کرتا ہے تو اس سے دوسرے کی آمدن ہوتی ہے اس لئے کہ مال تو ایک اجتماعی ذریعہ ہے جس سے پوری سوسائٹی کو فائدہ ملتا ہے اور اسراف اور کنجوسی دونوں سے معاشرے اور اجتماعی اقتصادیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر مال کو روک دیا جائے تو کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور اگر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو دوسروں کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے اور پھر اس سے اخلاقی فساد بھی پیدا ہوتا ہے۔

چناچہ اسلام سوسائٹی کے اس پہلو کی بھی اصلاح کرتا ہے اور اعتدال اور توازن کو ایک مسلم شخصیت کا حصہ بنا دیتا ہے اور اس کا تعلق ایمان سے جوڑ دیتا ہے۔

وکان بین ذلک قواماً (25 : 68) ” بلکہ اس کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال قائم رہتا ہے۔ “

……

وکان بین ذلک قواماً (25 : 68) ” بلکہ اس کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔ “

اور پھر عباد الرحمٰن کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے اور کسی زندہ جان کو قتل نہیں کرتے۔ وہ زنا نہیں کرتے۔ شرک ، قتل اور زنا اسلام میں اکبر الکبائر گناہ اور جرائم ہیں۔ جو شخص یہ گناہ کرے گا وہ ضرور سزا کا مستوجب ہوگا۔

365