اولئک یجزون ……ومقاماً (76)
غرفہ کا مفہوم منزل بلند ہے ، جس سے جنت مراد ہے۔ یا یہ جنت کا کوئی خاص مقام ہوگا۔ جیسا کہ بالا خانہ عام افتادہ مکان کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ ہر شخص مسلمانوں کو بالا خانوں میں بٹھاتا ہے اور یہ لوگ بھی چونکہ اللہ کے معزز اور مکرم بندے ہیں اور ان کے لئے عباد الرحمٰن کا ٹائیٹل استعمال ہوا ہے اور ان کی صفات بھی گنوائی گئی ہیں لہٰذا ان کا اس خاص مقام میں تحیہ اور مبارک و سلامت سے استقبال ہوگا۔ اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں صبر کیا۔ اور ان صفات پر رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عباد الرحمٰن کی ان صفات و علامات پر چلنا کارے دارد۔ بڑے صبر اور مصابرت کی ضرورت ہے۔ زندگی کی راہ پر دھوکہ دینے والی مرغوبات ہر طرف سے دامن کش رہتی ہیں۔ اس راہ پر گرنے اور پھسلنے کے مقامات جگہ جگہ موجود ہیں۔ زندگی کی اس طویل شاہراہ پر سیدھا چلنے کے لئے عزم و مصابرت کی ضرورت ہے۔ اس لئے اللہ نے یہاں بما صبروا (25 : 85) کا ذکر فرمایا۔
اور اس جہنم کے بالمقابل جس سے وہ بچنے کی دعا ہر وقت کرتے رہتے ہیں اور جو بہت ہی برا مقام ہے ، ان کے لئے ایک ایسا مقام ہوگا۔ یعنی جنت جو نہایت اچھا مقام ہوگا اور جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔
خلدین فیھا حسنت مستقرا و مقاماً (25 : 89) ” یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور مستقرد مقام کے طور پر وہ بہترین جگہ ہوگی۔ “ یہاں سے انہیں نکلنے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی وہ نہایت سکون وقرار سے وہاں رہیں گے۔
……
عباد الرحمٰن کی تصویر کشی تو ہوچکی۔ بشریت کے نمک اور خلاصہ کی صفات کی تفصیلات تو دے دی گئیں۔ اب یہاں ان لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے کہ اگر اللہ کے یہ بندے نہ ہوں تو اللہ کے نزدیک پوری انسانیت پر کا ہ کے اہمیت بھی نہیں رکھتی۔ رہے مکذبین تو ان کے لئے تو عذاب جہنم کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔
آیت 75 اُولٰٓءِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا ”اللہ تعالیٰ دنیا میں بندوں کو آزماتا رہتا ہے۔ ایک نیک انسان کی زندگی میں ایسے بیشمار مواقع آتے ہیں جب اس کے سامنے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کا راستہ کھلا ہوتا ہے۔ یہ راستہ بےحد پر کشش بھی ہے اور آسان بھی۔ دوسری طرف نیکی اور اللہ کی فرمانبرداری کے راستے پر استقامت کے ساتھ چلنے کے لیے قدم قدم پر انسان کو صبر کرنا پڑتا ہے اور شہوات نفسانی کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے ایک بندۂ مؤمن کی پوری زندگی ہی صبر سے عبارت ہے۔ چناچہ اس کے اس صبر کا بدلہ اسے آخرت میں جنت اور اس کی نعمتوں کی صورت میں دیا جائے گا۔
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات مومنوں کی پاک صفتیں ان کے بھلے اقوال عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی۔ جو بلند تر جگہ ہے اس وجہ سے یہ ان اوصاف پر جمے رہے وہاں ان کی عزت ہوگی اکرام ہوگا ادب تعظیم ہوگی۔ احترام اور توقیر ہوگی۔ ان کے لئے سلامتی ہے ان پر سلامتی ہے ہر ایک دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کرکے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہوگیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ نکلیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں نہ راحتیں فناہوں یہ سعید بخت ہیں جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے ان کے رہنے سہنے راحت وآرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی پاک صاف طیب وطاہر دیکھنے میں خوش منظر رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح وتہلیل کے لئے پیدا کیا ہے اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو ! تم نے جھٹلایا اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہوگیا۔ نہیں اس کا وبال دنیا اور آخرت میں تمہارے ساتھ ساتھ ہے تم برباد ہوگے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ حضرت ابن مسعود ؓ وغیرہ سے مروی ہے قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے الحمدللہ کہ سورة فرقان کی تفسیر ختم ہوئی فالحمدللہ