اس صفحہ میں سورہ Al-Ghaafir کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ غافر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ وَيَٰقَوْمِ مَا لِىٓ أَدْعُوكُمْ إِلَى ٱلنَّجَوٰةِ وَتَدْعُونَنِىٓ إِلَى ٱلنَّارِ
تَدْعُونَنِى لِأَكْفُرَ بِٱللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِۦ مَا لَيْسَ لِى بِهِۦ عِلْمٌ وَأَنَا۠ أَدْعُوكُمْ إِلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلْغَفَّٰرِ
لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُۥ دَعْوَةٌ فِى ٱلدُّنْيَا وَلَا فِى ٱلْءَاخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱلْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ
فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُمْ ۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ
فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُوا۟ ۖ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرْعَوْنَ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ
ٱلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدْخِلُوٓا۟ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ ٱلْعَذَابِ
وَإِذْ يَتَحَآجُّونَ فِى ٱلنَّارِ فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ ٱلنَّارِ
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُلٌّ فِيهَآ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ ٱلْعِبَادِ
وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِى ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ ٱلْعَذَابِ
آیت 41 { وَیٰــقَوْمِ مَا لِیْٓ اَدْعُوْکُمْ اِلَی النَّجٰوۃِ وَتَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَی النَّارِ } ”اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں پکار رہا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے دعوت دے رہے ہو آگ کی !“ تم اللہ کے رسول علیہ السلام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہو اور مجھ سے چاہتے ہو کہ میں بھی اس گناہ میں تمہارے ساتھ شریک ہو کر جہنم کا مستحق بن جائوں ‘ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ تم سب میرے ساتھ آئو ‘ میرا راستہ اپنائو ‘ اللہ کے حضور توبہ کرو اور جہنم سے نجات پا کر جنت میں چلے جائو۔
آیت 42 { تَدْعُوْنَنِیْ لِاَکْفُرَ بِاللّٰہِ وَاُشْرِکَ بِہٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ} ”تم مجھے دعوت دے رہے ہو اس بات کی کہ میں اللہ کا کفر کروں اور شریک ٹھہرائوں اس کے ساتھ جس کا مجھے کوئی علم نہیں“ { وَّاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ } ”اور میں تمہیں بلا رہا ہوں اس ذات کی طرف جو زبردست ہے ‘ بخشش کرنے والا ہے۔“
آیت 43 { لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْْٓ اِلَیْہِ لَیْسَ لَہٗ دَعْوَۃٌ فِی الدُّنْیَا وَلَا فِی الْاٰخِرَۃِ } ”بلاشبہ جن معبودوں کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ‘ ان کے لیے کوئی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں“ یہ سب تمہارے خود ساختہ معبود ہیں۔ نہ تو دنیا میں کہیں ان کی رسائی ہے اور نہ ہی آخرت میں انہیں کوئی اختیار ہے۔ { وَاَنَّ مَرَدَّنَآ اِلَی اللّٰہِ } ”اور یہ کہ ہم سب کو لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے“ یاد رکھو ! خواہی نخواہی ہمیں ایک دن حاضر تو اللہ ہی کے حضور ہونا ہے۔ { وَاَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ ہُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ } ”اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہی جہنمی ہیں۔“
آیت 44 { فَسَتَذْکُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ } ”تو عنقریب تم یاد کرو گے یہ باتیں جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔“ میں جانتا ہوں کہ تم میری ان باتوں کو نہیں مانو گے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم موسیٰ علیہ السلام ٰ اور اس کی قوم کے خلاف اپنی ساری چالیں چل کر رہو گے۔ مگر یاد رکھو ! اگر تم نے ایسا کیا تو یقینا تم اپنی تباہی اور بربادی کو دعوت دو گے۔ بہر حال میری یہ باتیں تمہیں اس وقت ضرور یاد آئیں گی جب تمہارا بھیانک انجام تمہارے سامنے آن کھڑا ہوگا۔ { وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } ”اور میں تو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔“ یہ مرد مومن کی تقریر کے اختتامی الفاظ ہیں۔ اس جملے کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ فرعون کے دربار میں کلمہ حق بلند کرنے کے بعد مرد مومن ذہنی طور پر کسی بھی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ اس ”گستاخی“ کے بعد انہیں قتل کردیا جائے گا۔ چناچہ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس خوبصورت جملے پر کیا۔ سورة یٰسٓ میں بھی ایک مرد مومن کی ”حق گوئی و بےباکی“ کا ذکر ہوا ہے ‘ جس نے اپنی قوم کو رسولوں کی پیروی کرنے کا مشورہ دیا تھا اور اپنے ایمان کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا تھا۔ اس ”اعلانِ بغاوت“ کے نتیجے میں اس کو اسی لمحے شہید کردیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اسے جنت میں داخل فرما دیا تھا۔ قرآن حکیم میں اس کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : { قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ۔ } یٰسٓ ”اس نے کہا کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجاتا میرے رب نے جس طرح میری مغفرت فرمائی ہے اور جس طرح مجھے باعزت لوگوں میں شامل کرلیا ہے !“ مومن ِآلِ فرعون نے بھی اپنی شہادت کے امکان کو دیکھتے ہوئے کمال اطمینان سے اپنا معاملہ اللہ کو سونپ دیا۔ { اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ } ”اللہ یقینا اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔“ اسے یقین تھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے۔ وہ جسے چاہے ظلم و زیادتی کا شکار ہونے سے بچا سکتا ہے۔
آیت 45 { فَوَقٰــٹـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا } ”تو بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے“ یہاں پر ہُ کی ضمیر کا مرجع مومن ِآلِ فرعون بھی ہوسکتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد مومن آلِ فرعون ہے کہ اللہ نے اسے فرعون کے انتقام کا نشانہ بننے سے بچالیا ‘ لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ مراد ہیں۔ چونکہ اس بات کا آغاز فرعون کی اس قرارداد سے ہوا تھا جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کرنے کی اجازت کے لیے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کی تھی۔ اس لیے زیادہ قرین ِقیاس یہی ہے کہ اس پوری تفصیل کے اختتام پر آیت زیر مطالعہ میں فرعون کے مذکورہ منصوبے کی ناکامی پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ مومن ِآلِ فرعون کی اس تقریر کے بعد دربار کا ماحول ایسا نہ رہا کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کے قتل کی قرارداد پاس ہوسکتی۔ چناچہ فرعون اور اس کے درباری اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکے اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ { وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ } ”اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے۔“
آیت 46{ اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا } ”آگ ہے جس پر وہ پیش کیے جاتے ہیں صبح وشام۔“ یہ قرآن مجید کی دوسری آیت ہے جس سے عذاب قبر سے متعلق دلیل ملتی ہے نیز ملاحظہ ہو : سورة الفرقان کی آیت 69 کی تشریح۔ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُقف اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ } ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی اُس دن کہہ دیا جائے گا کہ داخل کر دو فرعون کی قوم کو شدید ترین عذاب میں۔“ اس آیت کے مفہوم کے مطابق آلِ فرعون کو شدید ترین عذاب میں تو قیام قیامت کے بعد داخل کیا جائے گا ‘ لیکن اس سے پہلے قبر کی زندگی کے دوران صبح وشام انہیں آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ -۔ عذابِ قبر کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے فرمودات بہت واضح ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ 1 ”قبریا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا“۔ منکرین حدیث البتہ عذاب قبر کی نفی کرتے ہیں۔ در اصل قبر کا معاملہ ایک دوسرے جہان کا معاملہ ہے جو عالم غیب ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ قبر سے مراد وہ مخصوص گڑھا نہیں جہاں میت کو دفن کیا جاتا ہے ‘ بلکہ اس سے مراد عالم برزخ ہے۔ سورة المُطفِّفِین میں عالم برزخ کی دو کیفیات عِلِّیِیْناور سِجِّیْنکا ذکر ملتا ہے۔ اس عالم میں انسان نیم شعوری کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی خوش قسمت ”عِلِّیِیْن“ میں ہے تو وہاں جنت کی کھڑکی کھلی ہوتی ہے اور وہ جنت کی ٹھنڈی ہوائوں کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ”سِجِّیْن“ میں جہنم کی کھڑکی میں سے آگ کی لپٹ آرہی ہوتی ہے۔
آیت 47 { وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا } ”اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے“ { اِنَّا کُنَّا لَـکُمْ تَبَعًا فَہَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ } ”ہم تو تمہاری پیروی کرتے تھے ‘ تو کیا تم لوگ ہم سے آگ کے عذاب کا کوئی حصہ کم کروا سکتے ہو ؟“ دنیا میں تو تمہارا ہر جگہ حکم چلتا تھا۔ تو اگر یہاں پر بھی تمہارا کچھ اختیار ہے تو ہمارے عذاب میں کچھ کمی کروا دو۔ آخر ہم تمہاری پیروی کر کے ہی اس حال کو پہنچے ہیں۔
آیت 48 { قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُلٌّ فِیْہَآ } ”وہ بڑے بننے والے کہیں گے کہ ہم سبھی اس کے اندر پڑے ہوئے ہیں“ یعنی ابوجہل اور عتبہ بن ابی معیط جیسے بڑے بڑے سردار اپنی بےبسی اور بےچارگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے یوں معذرت کریں گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ } ”اللہ نے تو اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کردیا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری فیصلہ ہوچکا ہے اور ہم تم سب چونکہ مجرم تھے اس لیے اس عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں۔
آیت 49 { وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ } ”اور کہیں گے وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے داروغوں فرشتوں سے ‘ آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بس ایک دن ہی عذاب میں تخفیف کر دے۔“