سورہ الحج: آیت 77 - يا أيها الذين آمنوا اركعوا... - اردو

آیت 77 کی تفسیر, سورہ الحج

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱرْكَعُوا۟ وَٱسْجُدُوا۟ وَٱعْبُدُوا۟ رَبَّكُمْ وَٱفْعَلُوا۟ ٱلْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۩

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو، شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo irkaAAoo waosjudoo waoAAbudoo rabbakum waifAAaloo alkhayra laAAallakum tuflihoona

آیت 77 کی تفسیر

یایھا الذین ……النصیر (47)

ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟

٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا اسلوب اظہار مناظر کی شکل میں ہے جو ایک دلنشین انداز ہے۔ شعور پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔

٭ممتاز ترین عبادت کے ممتاز ترین ارکان کے بعد ایک عام حکم جو پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بندگی جو نماز سے زیادہ جامع ہے۔ کیونکہ عبادت میں فرئاض بھی شامل ہیں اور ہر وہ عمل بھی شامل ہے جس کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہے اور اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی تعمل ہو۔ اسی طرح انسانی زنگدی کی تمام حرکات کو عبادت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر یہ حرکات اللہ کی رضامندی کی نیت سے کی جائیں یہاں تک کہ زندگی کے وہ امور جن کا تعلق لذت سے ہے وہ بھی عبادت بن سکتے ہیں اگر ان پر اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ نیت کی جائے کہ یہ نعمتیں استعمال کر کے ہم مزید عبادت اور جہاد کریں گے۔ محض نیت سے ہر چیز عبادت بن سکتی ہے اور محض نیت سے خالص عبادت کھیل بن سکتی ہے۔

٭یہ کہ اسلام خیر ہی خیر ہے ، تمام اچھائی کے کام اسلامی نظام زندگی ہے۔ نماز ، بندگی اور خیر خلاصہ ہے اسلامی نظام کا۔

اب اس اسلام کو عملی دنیا میں نافذ کرنا ہے اور اس میں تم کامیاب اس طرح ہو سکتے ہو کہ خیر کے کام کرو۔ اللہ کی بندگی اور عبادت سے تمہارا تعلق باللہ مضبوط ہوگا اور اچھے کام کرنے سے تمہاری عملی زندگی درست ہوگی۔ اس سے تمہاری اجتماعی زندگی کا رخ ایمان کی راہ پر پڑجائے گا۔ جب امت کی تربیت یوں ہوگئی کہ اس کا تعلق باللہ عبادت کے ذریعہ پختہ ہوگیا۔ اس کی عملی زندگی اللہ کی اطاعت اور عمل خیر کے ذریعے استوار ہوگئی تو تب امت یا امت میں سے کوئی جماعت اس ذمہ داری کے سرانجام دینے کیلئے تیار ہوگی جو اسلامی نظام کے قیام کا واحد طریقہ ہے اور وہ کیا ہے ؟

وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ (22 : 88) ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ یہ نہایت ہی جامع تعبیر ہے ، جہاد کا حق ادا کرو ، اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ذمہ داری بہت ہی بڑی ہے۔ اس کے لئے بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے بہت بڑے تقاضے ہیں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے ، اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرو ، شر و فساد اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ، تمہیں تو تیار ہی جہاد کے لئے اس عظیم ڈیوٹی کے لئے کیا گیا ہے۔ تمام انسانوں میں سے تمہارا انتخاب ہوا ہے۔

ھو اجتبکم (22 : 88) ” اس نے تمہیں چنا ہے “ پھر اللہ نے جو تمہیں چن لیا ہے تو تمہاری ذمہ داری دوسروں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ اب استعفی اور فرار کی تو کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ یہ تو اس امت اور جماعت کے لئے اللہ کی طرف سے اکرام ہے اور چاہئے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کام کو اچھی طرح انجام دیں۔

پھر اللہ کی رحمت بھی اس کے ساتھ شامل ہے۔ کام بھی آسان ہے۔

وما جعل علیکم فی الدین من حرج (22 : 88) ” دین میں تم پر کوئی تنگئی نہیں رکھی گئی۔ “ یہ دین اور اس کے فرائض اس کی عبادات ، اس کے قوانین اور اس کے اخلاق میں انسانی فطرت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور انسان کی فطری قوتوں کو تعمیری کاموں میں لگایا گیا ہے۔ ان کو اس طرح بند نہیں کیا گیا جس طرح گیس کو بند کیا جاتا ہے اور نہ ان قوتوں کو حیوانات کی طرح آزاند چھوڑا گیا ہے۔ پھر یہ دین ایک ایسا منہاج ہے کہ اس کی جڑیں ماضی کی تاریخ میں بیھ دور تک موجود ہیں۔

ملۃ ابیکم ابرھیم (22 : 88) ” قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ “

یہ دین تو توحید کا سرچشمہ ہے اور اس کا سرا حضرت ابراہیم سے ملتا ہے۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ اس کی جڑیں زمین پر نہ ہوں اور اس کی تاریخ کے اندر بھی کوئی بڑا خلا (GAP) نہیں ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کی رسالتوں میں تھا اور نام بھی اس کا تاریخی ہے کہ حضرت ابراہیم نے تمہیں مسلمان کا نام دیا ہے اور اس ملت کا نا ملت اسلامیہ رکھا ہے۔

اسلام کا مفہوم ہی یہ ہے کہ چہرے ، نیت اور اعمال سب کو خدا کی طرف موڑ دو ۔ لہٰذا امت مسلمہ کا روزل اول سے ایک ہی نظریہ ، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی قبلہ ہے۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی سلسلہ ، ایک ہی نظام اور ایک ہی پیغام ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو سب سے آخر میں یہ امانت دی گئی اور حکم دیا گیا کہ یہ پیغام تمام انسانیت تک پہنچانا ہے۔

لیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھدآء علی الناس (22 : 88) ” تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ “ تو رسول امت پر گواہ ہے یعنی وہ اس کے لئے نظام وضع کرے گا ، صحیح و غلط اور نیک و بد کی تمیز سکھائے گا ، اور یہی فریضہ یہ امت دوسرے لوگوں کے حوالے سے ادا کرے گی۔ یہ امت گویا پوری انسانیت کی نگراں ہے۔ اس امت کی شرعی قدریں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس کی تربیت اور اس کی سوچ بھی اس لائن پر ہے۔ یہ امت ، امت مسلمہ نہ ہوگی اگر وہ تمام انسانیت کی نگرانی نہ کرے اور اپنا اصلی فریضہ نہ ادا کرے۔

امت مسلمہ نے جب تک اسلامی نظام زندگی کو اپنے ہاں اپنی زندگی وں میں نافذ کئے رکھا ، وہ پوری دنیا کی نگران رہی۔ جب اس امت نے شریعت کے نظام سے انحرامف کیا اور اپنے فرئاض ادا کرنے ترک کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے مقام قیادت سے ہٹا کر دوسروں کا دم چھلا بنا دیا اور اب وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گی جب تک وہ اسلامی نظام کی حامل نہیں ہوتی۔

یہ فریضہ وہ تب تک ادا نہیں کرسکتی جب تک اس کے لئے تیاری نہ کرے اور تیاری کا نسخہ لالہ بتاتے ہیں۔ یہ کہ نماز پڑھو ، یہ کہ زکوۃ دو اور یہ کہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرو۔

فاقیموا الصلوۃ ……النصیر (22 : 88) ” پس نماز قائم کرو ، زکوۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جائو۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “

٭نماز ایک فانی اور کمزور انسان کا رابطہ اس ذات کے ساتھ استوار کرتی ہے جو قوی ہے اور مقتدر قوت ہے۔

٭ زکوۃ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کے افراد کے درمیان صلہ رحمی کا قیام ہے۔ حاجات اور ضروریات میں افراد جماعت کی کفالت کا انتظام ہے تاکہ فساد پیدا نہ ہو۔

٭ اور اللہ پر بھروسہ وہ مضبوط رسی ہے جس کو کبھی ہاتھ نہ چھوڑنا چاہئے۔

یہ ہیں وہ سامان جنگ جن کے ذریعہ یہ امت وہ فریض شہادت علی الناس ادا کرسکتی ہے۔ جس کے لئے اسے اٹھایا گیا تھا اور ان اخلاقی اسلحہ کے علاوہ امت کے لئے عمومی ہدایت ہے کہ وہ حد استقامت تک روایتی زمینی اسلحہ بھی جمع کرسکتی ہے۔ قرآن اس سے غافل نہیں رہا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ اس قوت ، اس فوجی تربیت اور اس ساز و سامان کے جمع کرنے پر زور دیتا ہے جو امت مسلمہ کا واحد اسلحہ ہے اور کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ رابطہ ، صلاح اور اصلاح اور نظر بلند اور سر بلندی۔

اسلامی نظام کے پیش نظر اصل مقصد یہ ہے کہ انسانیت کو اس کمال تک پہنچایا جائے جو اس زمین میں حاصل کرنا ممکن ہو۔ اسلام یہاں محض جانوروں کی طرح حیوانی ترقی پر زور نہیں دیتا بلکہ روحانی ترقی پر بھی زور دیتا ہے۔

انسانیت کی بلند اقدار انسان کی مادی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں لیکن وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف مادی ضروریات تک محدود نہیں رکھتیں اور یہی اسلام کا مطالبہ ہے امت مسلمہ سے کہ دنیا کی قیادت اسلام کے جامع نظام کی روشنی میں کی جائے۔ صدق اللہ العظیم

آیت 77 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ”یہاں صرف اصطلاحی رکوع اور سجدہ ہی مراد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے کا حکم ہے۔ اسی طرح ”عبادت“ کے حکم میں بھی ”مکمل بندگی“ کا مفہوم پنہاں ہے۔ ؂ زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !وَافْعَلُوا الْخَیْرَ ”یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ واعْبُدُوْا بندگی کرو ! کے حکم میں تو گویا سب کچھ آگیا۔ اب اس کے بعد مزید نیک کام کون سے ہیں ؟ دراصل ”فعل خیر“ سے یہاں مراد خدمت خلق ہے۔ اس حکم سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدمت خلق میں لگا دو ! اور خدمت خلق صرف بھوکے کو کھانا کھلانے تک ہی محدود نہیں بلکہ سب سے بڑی خدمت خلق یہ ہے کہ لوگوں کی عاقبت سنوارنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ اس حکم میں یہ بھی شامل ہے کہ اے اللہ کے بندو ! ایمان و عمل کے جو حقائق تم پر منکشف ہوگئے ہیں ان سے دوسرے لوگوں کو بھی روشناس کراؤ ‘ تاکہ وہ جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ”سیاق وسباق کے اعتبار سے یہ بہت اہم بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے ایمان کے دعوے دارو ! کہیں تم یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ ایمان کا اقرار کرلیا تو بس اب فلاح ہی فلاح ہے۔ بس کلمہ پڑھ لیا اور کامیابی ہوگئی۔ نہیں ایسا نہیں ! ع ”یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے !“ تم لوگوں نے اس شہادت گاہ میں قدم رکھا ہے تو اب اس کے تقاضے پورے کرو گے تو تب کامیابی ہوگی۔ اگر تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ بس ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اب بیٹھے بٹھائے ہمیں جنت مل جائے گی تو یہ تمہارا اپنا خیال ہے ‘ تمہاری اپنی دل خوش کن تمنا wishful thinking ہے۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا گیا : تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ ط البقرہ : 111 ”یہ ان کی تمنائیں ہیں۔“امام شافعی رح کی رائے ہے کہ سورة الحج کی اس آیت کی تلاوت پر سجدۂ تلاوت کرنا چاہیے ‘ جبکہ امام ابوحنیفہ رح کے نزدیک یہ آیت سجدہ نہیں ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ آیات سجدہ پر سجدۂ تلاوت کرنا امام ابوحنیفہ رح کے نزدیک واجب جبکہ امام شافعی رح کے نزدیک مستحب ہے۔

سورة حج کو دوسجدوں کی فضلیت حاصل ہے اس دوسرے سجدے کے بارے میں دو قول ہیں۔ پہلے سجدے کی آیت کے موقعہ پر ہم نے وہ حدیث بیان کردی ہے جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا " سورة حج کو دو سجدوں سے فضیلت دی گئی جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ پڑھے ہی نہیں "۔ پس رکوع سجدہ عبادت اور بھلائی کا حکم کرکے فرماتا ہے۔ امت مسلمہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت اپنے مال، جان اور اپنی زبان سے راہ اللہ میں جہاد کرو اور حق جہاد ادا کرو۔ جیسے حکم دیا ہے کہ اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اسی نے تمہیں برگزیدہ اور پسندیدہ کرلیا ہے۔ اور امتوں پر تمہیں شرافت و کرامت عزت و بزرگی عطا فرمائی۔ کامل رسول اور کامل شریعت سے تمہیں سربرآوردہ کیا، تمہیں آسان، سہل اور عمدہ دین دیا۔ وہ احکام تم پر نہ رکھے وہ سختی تم پر نہ کی وہ بوجھ تم پر نہ ڈالے جو تمہارے بس کے نہ ہوں جو تم پر گراں گزریں۔ جنہیں تم بجا نہ لاسکو۔ اسلام کے بعد سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ تاکید والا، رکن نماز ہے۔ اسے دیکھئے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہوں تو چار رکعت فرض اور پھر اگر سفر ہو تو وہ بھی دو ہی رہ جائیں۔ اور خوف میں تو حدیث کے مطابق صرف ایک ہی رکعت وہ بھی سواری پر ہو تو اور پیدل ہو تو، روبہ قلبہ ہو تو اور دوسری طرف توجہ ہو تو، اسی طرح یہی حکم سفر کی نفل نماز کا ہے کہ جس طرف سواری کا منہ ہو پڑھ سکتے ہیں۔ پھر نماز کا قیام بھی بوجہ بیماری کے ساقط ہوجاتا ہے۔ مریض بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹے لیٹے ادا کرلے۔ اسی طرح اور فرائض اور واجبات کو دیکھو کہ کس قدر ان میں اللہ تعالیٰ نے آسانیاں رکھی ہیں۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے میں یک طرفہ اور بالکل آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں۔ جب آپ نے حضرت معاذ اور حضرت ابو موسیٰ ؓ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو فرمایا تھا تو خوشخبری سنانا، نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا اور بھی اس مضمون کی بہت سی حدیثیں ہیں۔ ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ تمہارے دین میں کوئی تنگی وسختی نہیں۔ ابن جریر ؒ فرماتے ہیں ملتہ کا نصب بہ نزع خفض ہے گویا اصل میں کملتہ ابیکم تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ الزموا کو محذوف مانا جائے اور ملتہ کو اس کا مفعول قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ اسی آیت کی طرح ہوجائے گا دینا قیما الخ، اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے، ابراہیم ؑ سے پہلے۔ کیونکہ ان کی دعا تھی کہ ہم دونوں باپ بیٹوں کو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو مسلمان بنادے۔ لیکن امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں یہ قول کچھ جچتا نہیں کہ پہلے سے مراد حضرت ابراہیم ؑ کے پہلے سے ہو اس لئے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اس امت کا نام اس قرآن میں مسلم نہیں رکھا۔ " پہلے سے " کے لفظ کے معنی یہ ہیں کہ پہلی کتابوں میں ذکر میں اور اس پاک اور آخری کتاب میں۔ یہی قول حضرت مجاہد ؒ وغیرہ کا ہے اور یہی درست ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس امت کی بزرگی اور فضیلت کا بیان ہے ان کے دین کے آسان ہونے کا ذکر ہے۔ پھر انہیں دین کی مزید رغبت دلانے کے لئے بتایا جارہا ہے کہ یہ دین وہ ہے جو ابراہیم خلیل اللہ ؑ لے کر آئے تھے پھر اس امت کی بزرگی کے لئے اور انہیں مائل کرنے کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ تمہارا ذکر میری سابقہ کتابوں میں بھی ہے۔ مدتوں سے انبیاء کی آسمانی کتابوں میں تمہارے چرچے چلے آرہے ہیں۔ سابقہ کتابوں کے پڑھنے والے تم سے خوب آگاہ ہیں پس اس قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلم ہے اور خود اللہ کا رکھا ہوا ہے۔ نسائی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ " جو شخص جاہلیت کے دعوے اب بھی کرے (یعنی باپ دادوں پر حسب نسب پر فخر کرے دوسرے مسلمانوں کو کمینہ اور ہلکا خیال کرے) وہ جہنم کا ایندھن " ہے۔ کسی نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو ؟ اور نمازیں بھی پڑھتا ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اگرچہ وہ روزے دار اور نمازی ہو۔ یعنی مسلمین، مومنین اور عباد اللہ۔ سورة بقرہ کی آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 21 ۙ) 2۔ البقرة :21) کی تفسیر میں ہم اس حدیث کو بیان کرچکے ہیں۔ پھر فرماتا ہے ہم نے تمہیں عادل عمدہ بہتر امت اسلئے بنایا ہے اور اس لئے تمام امتوں میں تمہاری عدالت کی شہرت کردی ہے کہ تم قیامت کے دن اور لوگوں پر شہادت دو۔ تمام اگلی امتیں امت محمد ﷺ کی بزرگی اور فضیلت کا اقرار کریں گی۔ کہ اس امت کو اور تمام امتوں پر سرداری حاصل ہے اس لئے ان کی گواہی اس پر معتبر مانی جائے گی۔ اس بارے میں کہ اس کے رسولوں نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچایا ہے، وہ تبلیغ کا فرض ادا کرچکے ہیں اور خود رسول ﷺ امت پر شہادت دیں گے کہ آپ نے انہیں دین پہنچا دیا اور حق رسالت ادا کردیا۔ اس بابت جتنی حدیثیں ہیں اور اس بارے کی جتنی تفسیر ہے وہ ہم سب کی سب سورة بقرہ کے سترھویں رکوع کی آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا01403) 2۔ البقرة :143) کی تفسیر میں لکھ آئے ہیں۔ اس لئے یہاں اسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں وہیں دیکھ لی جائے۔ وہیں حضرت نوح ؑ اور ان کی امت کا واقعہ بھی بیان کردیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اتنی بڑی عظیم الشان نعمت کا شکریہ تمہیں ضرور ادا کرنا چاہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ جو اللہ کے فرائض تم پر ہیں انہیں شوق خوشی سے بجا لاؤ خصوصا نماز اور زکوٰۃ کا پورا خیال رکھو۔ جو کچھ اللہ نے واجب کیا ہے اسے دلی محبت سے بجالاؤ اور جو چیزیں حرام کردیں ہیں اس کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ پس نماز جو خالص رب کی ہے اور زکوٰۃ جس میں رب کی عبادت کے علاوہ مخلوق کے ساتھ احسان بھی ہے کہ امیر لوگ اپنے مال کا ایک حصہ فقیروں کو خوشی خوشی دیتے ہیں۔ ان کا کام چلتا ہے دل خوش ہوجاتا ہے۔ اس میں بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے بہت آسانی ہے حصہ کم بھی ہے اور سال بھر میں ایک ہی مرتبہ۔ زکوٰۃ کے کل احکام سورة توبہ کی آیت زکوٰۃ (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 60؀) 9۔ التوبہ :60) کی تفسیر میں ہم نے بیان کردئے ہیں وہیں دیکھ لئے جائیں۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اللہ پر پورا بھروسہ رکھو، اسی پر توکل کرو، اپنے تمام کاموں میں اس کی امداد طلب کیا کرو، ہر وقت اعتماد اس پر رکھو، اسی کی تائید پر نظریں رکھو۔ وہ تمہارا مولیٰ ہے، تمہارا حافظ ہے ناصر ہے، تمہیں تمہارے دشمنوں پر کامیابی عطا فرمانے والا ہے، وہ جس کا ولی بن گیا اسے کسی اور کی ولایت کی ضرورت نہیں، سب سے بہتر والی وہی ہے سب سے بہتر مددگار وہی ہے، تمام دنیا گو دشمن ہوجائے لیکن وہ سب قادر ہے اور سب سے زیادہ قوی ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت وہیب بن ورد سے مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم اپنے غصے کے وقت تو مجھے یاد کرلیا کر۔ میں بھی اپنے غضب کے وقت تجھے معافی فرما دیا کروں گا۔ اور جن پر میرا عذاب نازل ہوگا میں تجھے ان میں سے بچا لونگا۔ برباد ہونے والوں کے ساتھ تجھے برباد نہ کروں گا۔ اے ابن آدم جب تجھ پر ظلم کیا جائے تو صبروضبط سے کام لے، مجھ پر نگاہیں رکھ، میری مدد پر بھروسہ رکھ میری امداد پر راضی رہ، یاد رکھ میں تیری مدد کروں یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تو آپ اپنی مدد کرے۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں بھلائیوں کی توفیق دے اپنی امداد نصیب فرمائے آمین) واللہ اعلم۔

آیت 77 - سورہ الحج: (يا أيها الذين آمنوا اركعوا واسجدوا واعبدوا ربكم وافعلوا الخير لعلكم تفلحون ۩...) - اردو