سورہ الحج (22): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Hajj کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الحج کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ الحج کے بارے میں معلومات

Surah Al-Hajj
سُورَةُ الحَجِّ
صفحہ 341 (آیات 73 سے 78 تک)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخْلُقُوا۟ ذُبَابًا وَلَوِ ٱجْتَمَعُوا۟ لَهُۥ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيْـًٔا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ ٱللَّهُ يَصْطَفِى مِنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ ٱلنَّاسِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱرْكَعُوا۟ وَٱسْجُدُوا۟ وَٱعْبُدُوا۟ رَبَّكُمْ وَٱفْعَلُوا۟ ٱلْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۩ وَجَٰهِدُوا۟ فِى ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦ ۚ هُوَ ٱجْتَبَىٰكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَٰهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِى هَٰذَا لِيَكُونَ ٱلرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱعْتَصِمُوا۟ بِٱللَّهِ هُوَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ فَنِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ
341

سورہ الحج کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ الحج کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha alnnasu duriba mathalun faistamiAAoo lahu inna allatheena tadAAoona min dooni Allahi lan yakhluqoo thubaban walawi ijtamaAAoo lahu wain yaslubuhumu alththubabu shayan la yastanqithoohu minhu daAAufa alttalibu waalmatloobu

یایھا الناس ……والمطلوب (27)

یہ عام پکار ہے ، بلند آواز سے اعلان عام ہے۔

یا یھا الناس (22 : 38) اے لوگو ، جب لوگ جمع ہوگئے تو ان کے سامنے ایک مثال ہے۔ ایک عجیب منظر کی شکل میں ۔ یہ کوئی مخصوص مجلس نہیں ہے ، نہ کوئی اتفاقی بات ہے بلکہ لوگوں کو بلایا گیا ہے۔

ضرب مثل فاستمعوا لہ (22 : 8) ” مثال دی جاتی ہے غور سے سنو ، اس کو۔ “ یہ مثال ایک قاچدہ اور اصول مقرر کرتی ہے اور حقیقت بتاتی ہے۔

ان الذین ……اجتمعوالہ (22 : 38)

” جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑکر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ ‘ یعنی اللہ کے سوا تم جن بتوں کو پوجتے ہو ، یا جن اشخاص کی بندگی کرتے ہو ، یا رسومات اور تاقلید کی بندگی کرتے ہو ، جن سے تم نصرت طلب کرتے ہو ، جن سے تم امداد طلب کرتے ہو اور جن سے تم عزت طلب کرتے ہو ، یہ سب کے سب اگر مل جائیں تو ایک مکھی کی تخلیق بھی نہیں کرسکتے۔ مکھی اللہ کی مخلوقات میں سے بہت ہی صغیر و حقیر مخلوق ہے لیکن جن کو یہ الہ اور خدا کہتے ہیں وہ اس پر بھی قادر نہیں۔ اگرچہ وہ سب کے سب ایک دوسرے کی مدد پر جمع ہوجائیں تو اللہ کی مخلوقات میں سے اس نہایت ہی معمولی چیز کو وہ نہیں پیدا کرسکتے۔

جہاں تک مکھی کی تخلیق کا تعلق ہے وہ تو اونٹ اور ہاتھی جیسے بڑے حیوانات کی طرح مشکل اور محال ہے۔ کیونکہ مکھی کے اندر بھی وہی راز حیات ہے جو اونٹ اور ہاتھی کے اندر ہے لہٰذا محض محال ہونے میں تو چھوٹی بڑی مخلوق برابر ہے۔ لیکن قرآن کے معجزانہ انداز بیان نے یہاں مکھی جیسی صغیر و حقیر چیز کو مثال کے لئے منتخب کیا ہے کیونکہ اگر کوئی مکھی کی تخلیق سے عاجز ہے تو اس کی عاجزی بمقابلہ اونٹ یا ہاتھی زیادہ سہولت سے سمجھ میں آتی ہے ، یہ محض تعبیری انداز ہے ورنہ حقیقت تو دونوں کی ایک ہے۔ قرآن کریم کا یہ نہایت انوکھا اسلوب ہے۔

اب ذرا ان معبودوں کی کمزوری کی سمت میں ایک قدم اور آگے جائیے۔

وان یسلبھم الذباب شیئالا یستنقذوہ منہ (22 : 38) ” بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ ‘ ان معبودوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر مکھی ان سے کوء چیز چھین کرلے جائے تو یہ اسے نہیں چھڑا سکتے ۔ چاہے بت ہوں ، چاہے اشخاص اور اولیاء ہوں۔ بلکہ بڑے بڑے فرعونوں سے مکھی انگر کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو وہ اسے پکڑ نہیں سکتے۔ یہاں بھی مکھی کو اختیار کیا گیا تاکہ اس صغیر و حقیر چیز کا سایہ ان بتوں پر پڑے اور ان کی بیچاگری اچھی طرح واضح ہوجائے۔ جبکہ اس کے اندر خطرناک بیماری ہوتی ہے اور وہ ہم سے نفیس چیزیں اڑا کرلے جاتی ہے۔ یہ کبھی ہم سے آنکھیں لے لیتی ہے ، کبھی اس کی وجہ کوئی عضو شل ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھار تو آدمی اس بیمار سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ یہ سل ٹائیفائیڈ ، ڈائینٹری اور ہیضے کے جراثیم کی حامل ہے ، لیکن ہم سے وہ چیزیں لے جاتی ہے جو ہم اس سے واپس نہیں لے سکتے۔

قرآن کا معجزانہ انداز کلام اس قسم کے ایک لفظ اور مفہوم کا انتخبا کر کے اس طرح کی فضا پیدا کر یدتا ہے۔ اگر قرآن مجید میں کہتا کہ اگر درندے ان سے کوئی چیز لے جائیں تو یہ چھڑا نہیں سکتے تو اس سے ضعف کے مقابلے میں قوت کا تصور آتا ، حالانکہ درندے مکھی سے زیادہ قیمتی شے نہیں چھین سکتے لیکن مکھی کے لفظ سے ان کی بیچارگی اور حقارت کا تصور زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

مثال کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوتا ہے۔

ضعف الطالب و المطلوب (22 : 38) ” مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ “ تاکہ مکھی کے لفظ سے جو ضعیفی کی فضا بنی ہے وہ ثابت بھی ہوجائے۔ اب فضا تیار ہے ، انسانی سوچ اور فکر میں ان الموں کی حقارت اور بیچارگی بیٹھ گئی ہے ، ایسی فضا میں قرآن اللہ کی قوت کا اعلان کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ انسان نے اللہ کی اس عظیم قوت کا اندازہ نہیں لگایا۔

اردو ترجمہ

اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ma qadaroo Allaha haqqa qadrihi inna Allaha laqawiyyun AAazeezun

ما قدروا اللہ حق قدرہ ط ان اللہ لقوی عزیز (47)

٭لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی کہ وہ اللہ کے ساتھ ایسے عاجز ، حقیر اور بیچارہ چیزوں کو شریک کرتے ہیں ، جو اگر سب کے سب بھی جمع ہوں تو مکھی پیدا نہیں کرسکتے۔

٭انہوں نے اللہ کی کوئی قدر نہ پہنچانی۔ حالانکہ وہ اللہ کے آثار قدرت دیکھتے ہیں ، اس کی عجیب و غریب مخلوق کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ایسے الہوں کو شریک کرتے ہیں جو مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔

٭ انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی کی وہ مدد طلب کرتے ہیں تو ان سے جن میں مدد دینے کی قوت ہی نہیں ہے بلکہ اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے کر بھاگے تو وہ اسے بھی نہیں چھڑا سکتے۔

یہ ایسے حالات میں ایک سخت تنبیہ ہے کہ جہاں سامع خشوع و خضوع کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ لوہا گرم ہے اور ضرب لگا دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں خدا کے اختیارات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اللہ ملائکہ میں سے پیغام لانے والے مقرر کرتا ہے اور انسانوں سے پیغام دینے والے مقرر کرتا ہے اور یہ انتخاب اپنے علم اور قدرت کی وجہ سے کرتا ہے۔

اردو ترجمہ

حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی وہ سمیع اور بصیر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu yastafee mina almalaikati rusulan wamina alnnasi inna Allaha sameeAAun baseerun

اللہ یصطفی من ……الامور (67)

ملائکہ اور رسولوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ صاحب قوت بادشاہ کے دربار سے ملے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ اس عزیز و جابر کے نمائندے ہیں۔ ان کے پاس بادشاہ کے اختیارات ہیں۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو ان بیچارہ بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ توسیع وبصیر ہے ، سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ جو لوگوں کے سامنے ہو وہ بھی جو ان کے پیچھے ہو ، یا ان سے خفیہ ہو اس کو بھی۔ اس کا علم کامل و شامل ہے۔ اس سے کوئی قریب و بعید کی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ تمام باتوں اور مقدموں کا رجوع اور آخری فیصلے کا اختیار اللہ ہی کا ہے۔

ہر قوم کے مناسک ہوتے ہیں اور مشرکین کے یہ مناسک ہیں جو مکھی سے بھی فروتر ہیں اور ان کی بندگی کی رسمیں کس قدر پوچ ہیں۔ امت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو ایک اعلیٰ اور برتر پیغام کے حامل ہو ، اس پیغام کو اور اس دعوت کو غالب کرنے کے لئے عبادات کرو اور جہاد کرو۔

اردو ترجمہ

جو کچھ اُن کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے، اور سارے معاملات اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

YaAAlamu ma bayna aydeehim wama khalfahum waila Allahi turjaAAu alomooru

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو، شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo irkaAAoo waosjudoo waoAAbudoo rabbakum waifAAaloo alkhayra laAAallakum tuflihoona

یایھا الذین ……النصیر (47)

ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟

٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا اسلوب اظہار مناظر کی شکل میں ہے جو ایک دلنشین انداز ہے۔ شعور پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔

٭ممتاز ترین عبادت کے ممتاز ترین ارکان کے بعد ایک عام حکم جو پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بندگی جو نماز سے زیادہ جامع ہے۔ کیونکہ عبادت میں فرئاض بھی شامل ہیں اور ہر وہ عمل بھی شامل ہے جس کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہے اور اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی تعمل ہو۔ اسی طرح انسانی زنگدی کی تمام حرکات کو عبادت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر یہ حرکات اللہ کی رضامندی کی نیت سے کی جائیں یہاں تک کہ زندگی کے وہ امور جن کا تعلق لذت سے ہے وہ بھی عبادت بن سکتے ہیں اگر ان پر اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ نیت کی جائے کہ یہ نعمتیں استعمال کر کے ہم مزید عبادت اور جہاد کریں گے۔ محض نیت سے ہر چیز عبادت بن سکتی ہے اور محض نیت سے خالص عبادت کھیل بن سکتی ہے۔

٭یہ کہ اسلام خیر ہی خیر ہے ، تمام اچھائی کے کام اسلامی نظام زندگی ہے۔ نماز ، بندگی اور خیر خلاصہ ہے اسلامی نظام کا۔

اب اس اسلام کو عملی دنیا میں نافذ کرنا ہے اور اس میں تم کامیاب اس طرح ہو سکتے ہو کہ خیر کے کام کرو۔ اللہ کی بندگی اور عبادت سے تمہارا تعلق باللہ مضبوط ہوگا اور اچھے کام کرنے سے تمہاری عملی زندگی درست ہوگی۔ اس سے تمہاری اجتماعی زندگی کا رخ ایمان کی راہ پر پڑجائے گا۔ جب امت کی تربیت یوں ہوگئی کہ اس کا تعلق باللہ عبادت کے ذریعہ پختہ ہوگیا۔ اس کی عملی زندگی اللہ کی اطاعت اور عمل خیر کے ذریعے استوار ہوگئی تو تب امت یا امت میں سے کوئی جماعت اس ذمہ داری کے سرانجام دینے کیلئے تیار ہوگی جو اسلامی نظام کے قیام کا واحد طریقہ ہے اور وہ کیا ہے ؟

وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ (22 : 88) ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ یہ نہایت ہی جامع تعبیر ہے ، جہاد کا حق ادا کرو ، اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ذمہ داری بہت ہی بڑی ہے۔ اس کے لئے بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے بہت بڑے تقاضے ہیں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے ، اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرو ، شر و فساد اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ، تمہیں تو تیار ہی جہاد کے لئے اس عظیم ڈیوٹی کے لئے کیا گیا ہے۔ تمام انسانوں میں سے تمہارا انتخاب ہوا ہے۔

ھو اجتبکم (22 : 88) ” اس نے تمہیں چنا ہے “ پھر اللہ نے جو تمہیں چن لیا ہے تو تمہاری ذمہ داری دوسروں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ اب استعفی اور فرار کی تو کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ یہ تو اس امت اور جماعت کے لئے اللہ کی طرف سے اکرام ہے اور چاہئے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کام کو اچھی طرح انجام دیں۔

پھر اللہ کی رحمت بھی اس کے ساتھ شامل ہے۔ کام بھی آسان ہے۔

وما جعل علیکم فی الدین من حرج (22 : 88) ” دین میں تم پر کوئی تنگئی نہیں رکھی گئی۔ “ یہ دین اور اس کے فرائض اس کی عبادات ، اس کے قوانین اور اس کے اخلاق میں انسانی فطرت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور انسان کی فطری قوتوں کو تعمیری کاموں میں لگایا گیا ہے۔ ان کو اس طرح بند نہیں کیا گیا جس طرح گیس کو بند کیا جاتا ہے اور نہ ان قوتوں کو حیوانات کی طرح آزاند چھوڑا گیا ہے۔ پھر یہ دین ایک ایسا منہاج ہے کہ اس کی جڑیں ماضی کی تاریخ میں بیھ دور تک موجود ہیں۔

ملۃ ابیکم ابرھیم (22 : 88) ” قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ “

یہ دین تو توحید کا سرچشمہ ہے اور اس کا سرا حضرت ابراہیم سے ملتا ہے۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ اس کی جڑیں زمین پر نہ ہوں اور اس کی تاریخ کے اندر بھی کوئی بڑا خلا (GAP) نہیں ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کی رسالتوں میں تھا اور نام بھی اس کا تاریخی ہے کہ حضرت ابراہیم نے تمہیں مسلمان کا نام دیا ہے اور اس ملت کا نا ملت اسلامیہ رکھا ہے۔

اسلام کا مفہوم ہی یہ ہے کہ چہرے ، نیت اور اعمال سب کو خدا کی طرف موڑ دو ۔ لہٰذا امت مسلمہ کا روزل اول سے ایک ہی نظریہ ، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی قبلہ ہے۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی سلسلہ ، ایک ہی نظام اور ایک ہی پیغام ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو سب سے آخر میں یہ امانت دی گئی اور حکم دیا گیا کہ یہ پیغام تمام انسانیت تک پہنچانا ہے۔

لیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھدآء علی الناس (22 : 88) ” تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ “ تو رسول امت پر گواہ ہے یعنی وہ اس کے لئے نظام وضع کرے گا ، صحیح و غلط اور نیک و بد کی تمیز سکھائے گا ، اور یہی فریضہ یہ امت دوسرے لوگوں کے حوالے سے ادا کرے گی۔ یہ امت گویا پوری انسانیت کی نگراں ہے۔ اس امت کی شرعی قدریں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس کی تربیت اور اس کی سوچ بھی اس لائن پر ہے۔ یہ امت ، امت مسلمہ نہ ہوگی اگر وہ تمام انسانیت کی نگرانی نہ کرے اور اپنا اصلی فریضہ نہ ادا کرے۔

امت مسلمہ نے جب تک اسلامی نظام زندگی کو اپنے ہاں اپنی زندگی وں میں نافذ کئے رکھا ، وہ پوری دنیا کی نگران رہی۔ جب اس امت نے شریعت کے نظام سے انحرامف کیا اور اپنے فرئاض ادا کرنے ترک کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے مقام قیادت سے ہٹا کر دوسروں کا دم چھلا بنا دیا اور اب وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گی جب تک وہ اسلامی نظام کی حامل نہیں ہوتی۔

یہ فریضہ وہ تب تک ادا نہیں کرسکتی جب تک اس کے لئے تیاری نہ کرے اور تیاری کا نسخہ لالہ بتاتے ہیں۔ یہ کہ نماز پڑھو ، یہ کہ زکوۃ دو اور یہ کہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرو۔

فاقیموا الصلوۃ ……النصیر (22 : 88) ” پس نماز قائم کرو ، زکوۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جائو۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “

٭نماز ایک فانی اور کمزور انسان کا رابطہ اس ذات کے ساتھ استوار کرتی ہے جو قوی ہے اور مقتدر قوت ہے۔

٭ زکوۃ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کے افراد کے درمیان صلہ رحمی کا قیام ہے۔ حاجات اور ضروریات میں افراد جماعت کی کفالت کا انتظام ہے تاکہ فساد پیدا نہ ہو۔

٭ اور اللہ پر بھروسہ وہ مضبوط رسی ہے جس کو کبھی ہاتھ نہ چھوڑنا چاہئے۔

یہ ہیں وہ سامان جنگ جن کے ذریعہ یہ امت وہ فریض شہادت علی الناس ادا کرسکتی ہے۔ جس کے لئے اسے اٹھایا گیا تھا اور ان اخلاقی اسلحہ کے علاوہ امت کے لئے عمومی ہدایت ہے کہ وہ حد استقامت تک روایتی زمینی اسلحہ بھی جمع کرسکتی ہے۔ قرآن اس سے غافل نہیں رہا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ اس قوت ، اس فوجی تربیت اور اس ساز و سامان کے جمع کرنے پر زور دیتا ہے جو امت مسلمہ کا واحد اسلحہ ہے اور کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ رابطہ ، صلاح اور اصلاح اور نظر بلند اور سر بلندی۔

اسلامی نظام کے پیش نظر اصل مقصد یہ ہے کہ انسانیت کو اس کمال تک پہنچایا جائے جو اس زمین میں حاصل کرنا ممکن ہو۔ اسلام یہاں محض جانوروں کی طرح حیوانی ترقی پر زور نہیں دیتا بلکہ روحانی ترقی پر بھی زور دیتا ہے۔

انسانیت کی بلند اقدار انسان کی مادی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں لیکن وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف مادی ضروریات تک محدود نہیں رکھتیں اور یہی اسلام کا مطالبہ ہے امت مسلمہ سے کہ دنیا کی قیادت اسلام کے جامع نظام کی روشنی میں کی جائے۔ صدق اللہ العظیم

اردو ترجمہ

اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wajahidoo fee Allahi haqqa jihadihi huwa ijtabakum wama jaAAala AAalaykum fee alddeeni min harajin millata abeekum ibraheema huwa sammakumu almuslimeena min qablu wafee hatha liyakoona alrrasoolu shaheedan AAalaykum watakoonoo shuhadaa AAala alnnasi faaqeemoo alssalata waatoo alzzakata waiAAtasimoo biAllahi huwa mawlakum faniAAma almawla waniAAma alnnaseeru
341