اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا :
آیت نمبر 28 تا 29
چناچہ فرشتوں نے ایسا ہی کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا تھا۔ اور اللہ نے چونکہ انسان کی تخلیق کا ارادہ کرلیا تھا اس لیے انسان مطلوبہ ارادہ کرتے ہی تخلیق ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی روح جو اس فانی جسد خاکی میں پھونکی گئی اور جو لافانی چیز ہے وہ کس طرح اس جسد خاکی کے ساتھ آمیختہ ہوگئی ، جو فانی چیز ہے۔ ایک مومن تو ایسے سوالات نہیں کرتا کیونکہ اس موضوع پر یہ مباحثہ و مذاکرہ ایک عبث کوشش ہے۔ بلکہ اس قسم کے مباحث میں جدل وجدال کرنا محض تضیع اوقات ہوتا ہے ۔ ان موضوعات پر کلام کر کے ہم عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتے ہیں جس میں اس کے اسباب ادراک اور اس کی قوت فیصلہ کام ہی نہیں کرسکتی۔ اس سلسلے میں جو بحثیں اس سے قبل ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں وہ اس جہل پر مبنی ہیں جس میں انسان خود عقل انسانی کی حقیقت کو سمجھنے کے حوالے سے مبتلا ہے۔ عقل انسانی کا یہ مقام ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی حدود سے آگے بڑھ کر ماوراء کے حدود میں دخل دے۔ کیونکہ عقل میں وہ طاقت ہی نہیں ہے کہ اپنے اسباب ادراک کی حدود اور صلاحیت سے آگے بڑھے کیونکہ خالق کائنات کی کیفیت عقل انسانی کی حدود سے باہر ہے۔ لہٰذا اس میدان میں عقل کو لگانا ہی حماقت ہے۔ تخلیق کائنات کے راز معلوم کرنے میں عقل انسانی کو کھپانا ہی بنیادی غلطی ہے۔ عقل اس بات میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی کہ ایک فانی چیز سے ایک خالد اور دائمی حقیقت کے ساتھ کس طرح وابستہ و آمیختہ ہو سکتی ہے۔ ایک چیز ازلی ہے اور دوسری حادث اور نہ اللہ نے عقل انسانی سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے اور اسے ثات کرے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صرف یہ بتایا ہے کہ ایسا ہوا لیکن کسی جگہ یہ نہیں بتایا کہ کیسے ہوا ؟ کیونکر ایسا ہوا ؟ یہ بات تو ثابت ہے کہ انسان مخلوق ہے اور ہمارے سامنے موجود ہے۔ عقل انسانی اس موجود حقیقت کا انکار تو نہیں کرسکتی۔ نہ عقل انسانی خود اس تخلیق کی کیفیت بتا سکتی ہے۔ عقل انسانی کے بس میں صرف یہ بات ہے کہ وہ قرآن کی خبر کی تصدیق کر دے۔ جہاں تک حقیقت تک رسائی کا تعلق ہے تو عقل انسانی ایسا نہیں کرسکتی۔ اور یہ بات ہدایتہً ثابت ہے کہ خود انسان اور عقل انسانی ایک حادث اور مخلوق اور فانی حقائق ہیں اور یہ بھی ثابت ہے کہ کوئی فانی اور مخلوق چیز لافانی ، ازلی اور ابدی حقائق پر کوئی حکم نہیں لگا سکتی۔ کسی شکل و صورت میں بھی نہیں لگا سکتی۔ اس سلسلے میں عقل کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ اس میدان میں جو لانی دکھانے سے باز آجائے اور ایسے میدانوں میں کام کرے جو اس کے لئے کھلے اور محفوظ ہیں۔ مثلاً عام سائنسی میدان۔
میں نے اپنی عادت کے برعکس اس عقلی مسئلے پر یہاں قدرے طویل بحث کردی ہے حالانکہ ظلال القرآن میں ہمارا یہ طریقہ نہیں رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ امور غیب کی نوعیت ایک جیسی ہے اور ان تمام امور غیبیہ کے مسئلے میں ہم ایک ایسا اصولی قاعدہ وضع کرنا چاہتے ہیں کہ انسانی دل و دماغ اور انسانی سوچ اور ایمان اس فائدے پر مطمئن ہوجائیں۔ بہرحال اس کے بعد کیا ہوا ؟
آیت 28 وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ یہاں پھر وہی ثقیل اصطلاح صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ استعمال ہوئی ہے۔ انسانی تخلیق کی ابتدا کے بارے میں ایک نکتہ یہ بھی لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں جہاں بھی تخلیق کے ان ابتدائی مراحل کا ذکر آیا ہے ‘ وہاں لفظ آدم استعمال نہیں ہوا ‘ بلکہ بشر اور انسان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پورے قرآن میں صرف سورة آل عمران کی آیت 59 ایسی ہے جہاں اس ابتدائی تخلیق کے ضمن میں آدم کا ذکر اس طرح آیا ہے : اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ”یقیناً عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اس کو مٹی سے بنایا پھر کہا ہوجا تو وہ ہوگیا۔“
ابلیس لعین کا انکار اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا، لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے واللہ اعلم۔