آیت نمبر 34 تا 35
اب اس کا حسد ، بغض اور شرارت کا مزاج سامنے آتا ہے۔
آیت 34 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌآدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندہ درگاہ ہوچکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ !
ابدی لعنت پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔