اس صفحہ میں سورہ Al-Hijr کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الحجر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالَ يَٰٓإِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ
قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَٰلٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ
وَإِنَّ عَلَيْكَ ٱللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ
إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ
إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ
قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ
لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍ لِّكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُومٌ
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍ وَعُيُونٍ
ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ
وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَٰبِلِينَ
لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ
۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ
وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ
آیت 34 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌآدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندہ درگاہ ہوچکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ !
آیت 38 اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ یعنی روز قیامت تک تم زندہ رہو گے۔ ویسے تو جنوں کی عمریں انسانوں سے کافی زیادہ ہوتی ہوں گی مگر ایسا کوئی جن بھی نہیں ہے جو اس ابتدائی تخلیق کے وقت سے لے کر آج تک زندہ ہو ‘ ماسوائے اس ایک جن کے جس کا نام عزازیل ہے۔ باقی اس کی اولاد اور ذریت اپنی جگہ ہے۔
آیت 39 قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ابلیس اپنی اس گمراہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہا ہے۔لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ کہ میں اولاد آدم کے لیے زمین میں دنیا کی رونقوں اور اس کی آرائش و زیبائش کو اس حد تک پرکشش بنا دوں گا کہ وہ اس میں گم ہو کر آپ کو اور آپ کے احکام کو بھول جائیں گے۔ اس طرح میں ان سب کو آپ کے سیدھے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔
آیت 40 اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ مخلَصین لام کی زبر کے ساتھ سے مراد وہ بندے ہیں جنہیں اللہ خاص اپنے لیے چن لے یعنی اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے۔ اللہ کے ایسے بندوں کے بارے میں شیطان کا اعتراف ہے کہ ان پر میرا زور نہیں چلے گا۔
آیت 41 قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌیعنی میرے اور تمہارے درمیان یہ معاملہ طے ہوگیا تمہیں مہلت دے دی گئی۔ مجھ تک پہنچنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ تم اولاد آدم کو اس راستے سے بہکانے کے لیے اپنا زور آزما لو۔
آیت 42 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌیعنی صرف ”مُخلَصین“ ہی کی تخصیص نہیں ہے بلکہ کسی انسان پر بھی تجھے اختیار نہیں ہوگا۔اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ جو لوگ ”غاوین“ میں سے ہوں گے ‘ خود ان کے اندر سرکشی ہوگی ‘ وہ خود اپنی نفس پرستی کی طرف مائل ہو کر تیری پیروی کریں گے ‘ ان کو لے جا کر تو گمراہی کے جس گڑھے میں چاہے پھینک دے اور جہنم کی جس وادی میں چاہے ان کو گرا دے ‘ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن میرے کسی فرمانبردار بندے پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
آیت 43 وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ جو لوگ بھی تیری پیروی کریں گے ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔
آیت 44 لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌجہنم کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے والے جنوں اور انسانوں کو مخصوص کردیا گیا ہے۔ ممکن ہے دروازوں کی یہ تقسیم و تخصیص گناہوں کی نوعیت کے اعتبار سے ہو۔ واللہ اعلم !اہل جہنم کے ذکر کے بعد اب اہل جنت کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ موازنے اور فوری تقابل simultaneous contrast کا یہ انداز و اسلوب قرآن میں ہمیں جگہ جگہ ملتا ہے۔
اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ یہاں تم ہر طرح سے امن میں رہو گے تمہیں کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔
آیت 47 وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں سورة الاعراف آیت 43 میں بھی آچکا ہے۔ اہل ایمان کی آپس کی رنجشیں کدورتیں اور شکایتیں ختم کر کے ان کے دلوں کو ہر قسم کے تکدر سے پاک کردیا جائے گا۔ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ جب کسی سے ناراضگی ہو تو آدمی آنکھیں چار نہیں کرتا لیکن اہل جنت کے دل چونکہ ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف ہوں گے ‘ اس لیے وہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں گے۔
آیت 48 لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ اہل جنت کو جنت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکالے جانے کا کھٹکا نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی ہوگی۔
آیت 50 وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ یقینا میں غفور اور رحیم ہوں مگر دوسری طرف میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نڈر اور نچنت بھی نہ ہوجائے ‘ بلکہ میرے بندوں کو ہر وقت ”بین الخوف و الرجا“ کی کیفیت میں رہنا چاہیے۔ وہ میری رحمت اور مغفرت کی امید بھی رکھیں اور میرے عذاب سے ڈرتے بھی رہیں۔
آیت 51 وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ یہ واقعہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہم سورة ہود کے ساتویں رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔