یایھا الناس انا ۔۔۔۔ علیم خبیر (49 : 13) “ لوگو ، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے ”۔
اے لوگو ، مختلف اقوام اور مختلف رنگ کے لوگو ! مختلف اقوام و قبائل کے لوگو ! تمہاری اصلیت تو ایک ہے۔ لہٰذا آپس میں اختلافات نہ کرو ، آپس میں جھگڑے نہ کرو اور الگ الگ راہوں پر نہ چلو۔ اے لوگو ، تمہیں جو پکار رہا ہے وہ تو وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ تمہیں اس نے ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ وہ تمہیں بتاتا ہے کہ اس نے کیوں تم کو اقوام وقبائل میں تقسیم کیا ہے ؟ یہ اس لیے نہیں کہ تم ایک دوسرے کے گلے کاٹو اور جنگیں لڑو ، یہ تو محض تعارف اور جوڑ کے لئے ہے ، رہا زبان اور رنگ کا اختلاف ، طبیعت اور مزاج کا اختلاف ، قابلیت اور استعداد کا اختلاف تو یہ ایسے اختلافات اور ایسی رنگا رنگی ہے جن کی وجہ سے نزاع اور جنگ بلا جواز ہے بلکہ ان چیزوں کو باہم ذمہ داریاں سر انجام دینے کے لئے موجب تعاون ہونا چاہئے ۔ نیز ان اختلافات کے ذریعہ سوسائٹی کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اللہ کے ترازو میں تو رنگ و نسل ، زبان اور وطن کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ اسلام میں تو واحد میزان میں تمام قدروں کو لایا جاتا ہے اور اسی کے مطابق حسن و قبح کے اصولوں کا تعین کیا جاتا ہے وہ یہ ہے۔
ان اکرمکم عند اللہ اتقکم (49 : 13) “ تم میں سے عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ” ۔ اور معزز درحقیقت ہے ہی وہی شخص جو اللہ کے نزدیک معزز ہے۔ اللہ اپنے علم اور خبرداری کی بنا پر تمہارا وزن کرتا ہے۔
ان اکرمکم عند اللہ اتقکم (49 : 13) “ تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ”۔ اور معزز درحقیقت ہے ہی وہی شخص جو اللہ کے نزدیک معزز ہے۔ اللہ اپنے علم اور خبرداری کی بنا پر تمہارا وزن کرتا ہے۔
ان اللہ علیم خبیر (49 : 13) “ اے شک اللہ علیم وخبیر ہے ”۔
یوں تمام امتیازات ختم کر دئیے جاتے ہیں ، تمام جھوٹی قدریں ختم کردی جاتی ہیں۔ ایک ہی پیمانہ ایک ہی قدر کے ساتھ رہ جاتا ہے کہ انسانیت کی میزان اور خدا خوفی کی قدر اور ان کے سوا سب کچھ ہیچ۔
یوں اس کرۂ ارض پر یہ سب نزاع اور جھگڑے مٹ جاتے ہیں اور وہ تمام گھٹیا مقاصد اور اہداف ختم کر دئیے جاتے ہیں جن کے اوپر لوگ اس طرح جھپٹتے ہیں جس طرح کتے ہڈی پر۔ اس طرح لوگوں کے درمیان الفت و محبت کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں۔ اللہ سب کا الٰہ قرار پاتا ہے۔ تمام ایک ہی اصل سے پیدا ہوتے ہیں اور ایک ہی انسانی جھنڈا رہ جاتا ہے۔ جس کے نیچے تمام لوگ کھڑے رہ جاتے ہیں یعنی اللہ ۔۔۔۔۔ میں اور اسلام نے یہ جھنڈا واحد انسانی جھنڈا ، آج سے چودہ سو سال قبل اس لیے بلند کیا ہے تا کہ انسانیت کو رنگ ، نسل ، قوم اور وطن کے شیطانی جھنڈوں سے نجات دی جاسکے۔ رنگ کی عصبیت ، نسل کی عصبیت ، زمین کی عصبیت ، قبیلے کی عصبیت اور خاندان کی عصبیت سے نجات دی جائے۔ یہ سب عصبیتیں جاہلیت سے نکلی ہیں اور جاہلیت کے فروغ کے لئے ہیں۔ یہ مختلف رنگوں اور لباسوں میں آتی ہیں اور یہ مختلف ناموں سے آتی ہیں لیکن یہ سب ننگی جاہلیت کی اقسام ہیں۔ ان پر کوئی اسلامی لباس نہیں ہے۔
اسلام نے عصبیت جاہلیت کی تمام اقسام کے خلاف جہاد کیا تا کہ وہ اپنا عالمی انسانی نظام رب العالمین کے جھنڈے کے نیچے ، نہ نسل کے جھنڈ کے نیچے قائم کرے۔ یہ سب کھوٹے جھنڈے ہیں اسلام ان کو نہیں پہچانتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے ، جو لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرتے ہیں۔ وہ اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ اللہ کے لئے یہ بات بہت آسان ہے کہ تمہیں گبریلے سے ہلکا کر دے۔ (البزار) اور عصبیت جاہلیہ کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا “ اسے چھوڑ دو یہ گندہ ہے ”۔ (مسلم)
یہ ہے وہ اصول جس پر اسلامی نظام قائم ہے جو ایک عالمی انسانی نظام ہے اور جو عالمی انسانی سوسائٹی بناتا ہے۔ اسلام نے یہ سوسائٹی اور نظام آج سے چودہ سو سال قبل قائم کیا جبکہ انسانیت ابھی تک اس کی نقل اتارنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ انسانیت نے ابھی تک اس معاشرے کی طرف اسلام کے صراط مستقیم سے چلنا نہیں شروع کیا۔ یعنی اللہ رب العالمین کے جھنڈے کے نیچے کھڑی ہو کر۔ یہی وہ واحد جھنڈا ہے عقیدۂ توحید کا جھنڈا جس کے نیچے پوری انسانیت کھڑی ہو سکتی ہے۔
آیت 13 { یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی } ”اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے“ تم میں سے چاہے کوئی مومن ہے یا کوئی کافر و مشرک لیکن تم سب آدم علیہ السلام اور حوا کی ہی اولاد ہو۔ { وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا } ”اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔“ ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کی بنا پر اگر تمام انسان ایک رنگ اور ایک جیسی شکل و صورت کے حامل ہوتے تو ان کی پہچان مشکل ہوجاتی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے اور پھر انہیں رنگ ‘ نسل زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ کروڑوں ‘ اربوں انسانوں کی پہچان اور تعارف میں کسی سطح پر کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ یہاں دراصل اس اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ انسانوں کے درمیان رنگ و نسل کا فرق اوراقوام و قبائل میں ان کی تقسیم ‘ اعلیٰ و ادنیٰ کی تمیز و تفریق کے لیے نہیں بلکہ ان کی باہمی جان پہچان اور تعارف کے لیے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوادع میں اس مضمون کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی : یَا اَیُّھَا النَّاسُ ! اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَ بَاکُمْ وَاحِدٌ‘ اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیِّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی 1”لوگو ! آگاہ ہو جائو ‘ یقینا تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار ! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر۔ اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔“ ایچ جی ویلز 1866 ء۔ 1946 ء اپنی کتاب ”A Concise History of the World“ میں حضور ﷺ کے خطبہ مبارک کے یہ الفاظ نقل کرنے کے بعد گھٹنے ٹیک کر آپ ﷺ کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ چناچہ عیسائی ہونے کے باوجود اس نے لکھا ہے : ”اگرچہ انسانی اخوت ‘ مساوات اور حریت کے وعظ تو دنیا میں پہلے بھی بہت کہے گئے تھے اور ایسے وعظ ہمیں مسیح ناصری کے ہاں بھی بہت ملتے ہیں ‘ لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محمد ﷺ ہی تھے جنہوں نے تاریخ انسانی میں پہلی بار ان اصولوں پر ایک معاشرہ قائم کیا۔“ H.G.Wells کے اس تبصرے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ حضور ﷺ کا بہت بڑا مداح تھا ‘ بلکہ اس نے اپنی اسی کتاب میں حضور ﷺ کی شخصیت پر بہت رکیک حملے بھی کیے ہیں۔ اس حوالے سے اس کا انداز سلمان رشدی ملعون سے ملتا جلتا ہے ‘ لیکن اپنے تمام تر تعصب کے باوجود اسے حضور ﷺ کے حوالے سے تاریخ کی یہ عظیم حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔ مقامِ افسوس ہے کہ بعد کے ایڈیٹرز نے مصنف کے اس اعترافی بیان کو مذکورہ کتاب سے خارج کردیا ہے۔ اس لیے مذکورہ اقتباس کی تصدیق کے خواہش مند حضرات کو کسی لائبریری سے اس کتاب کا کوئی پرانا ایڈیشن تلاش کرنا پڑے گا۔ { اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰٹکُمْ } ”یقینا تم میں سب سے زیادہ با عزت اللہ کے ہاں وہ ہے جو تم میں سب سے بڑھ کر متقی ہے۔“ { اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} ”یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔“
نسل انسانی کا نکتہ آغاز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے یعنی حضرت آدم سے ان ہی سے ان کی بیوی صاحبہ حضرت حوا کو پیدا کیا تھا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی پھیلی۔ شعوب قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو شعوب میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے بعض کہتے ہیں شعوب سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو اسباط کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابو عمر بن عبداللہ کی کتاب الانباہ اور کتاب القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم سے جمع کیا ہے مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ حضرت آدم ؑ جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں توکل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہوگی وہ امر دینی اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہوگی یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لئے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جاسکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہوجائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلفیوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں نسب کا علم حاصل کرو تاکہ صلہ رحمی کرسکو صلہ رحمی سے لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے تمہارے مال اور تمہاری زندگی میں اللہ برکت دے گا۔ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے پھر فرمایا حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری سے ملتی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو لوگوں نے کہا ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے فرمایا پھر سب سے زیادہ بزرگ حضرت یوسف ؑ ہیں جو خود نبی تھے نبی ذادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ تھے انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ فرمایا پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو ؟ سنو ! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کرلیں صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر سے فرمایا خیال رکھ کہ تو کسی سرخ و سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا ہاں تقویٰ میں بڑھ جا تو فضیلت ہے۔ طبرانی میں ہے مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ۔ مسند بزار میں ہے تم سب اولاد آدم ہو اور خود حضرت آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں لوگو اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہوجاؤ گے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور انٹنی بطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا۔ اس کے بعد آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمدو ثنا بیان کر کے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کردی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے استغفار کرتا ہوں۔ مسند احمد میں ہے کہ تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے حضرت آدم کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین وتقویٰ سے ہے انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل، اور فحش کلام ہو۔ ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔ مسند احمد میں ہے کہحضور ﷺ منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو سب سے زیادہ مہمان نواز سب سے زیادہ پرہیزگار سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ کو دنیا کی کوئی چیز یا کوئی شخص کبھی بھلا نہیں لگتا تھا مگر تقوے والے انسان کے اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بےراہ ہو رہے ہیں۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں۔ اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں۔ دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں کتاب الاحکام میں ذکر کرچکے ہیں فالحمد اللہ۔ طبرانی میں حضرت عبدالرحمن سے مروی ہے کہ انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں پس فرمایا تیرے سوا میں بھی بہت زیادہ قریب ہوں ان سے بہ نسبت تیرے جو تجھے آپ سے نسبت ہے۔