سورۃ الحجرات (49): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Hujuraat کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الحجرات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الحجرات کے بارے میں معلومات

Surah Al-Hujuraat
سُورَةُ الحُجُرَاتِ
صفحہ 517 (آیات 12 سے 18 تک)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا۟ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ۞ قَالَتِ ٱلْأَعْرَابُ ءَامَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ وَلَٰكِن قُولُوٓا۟ أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ ٱلْإِيمَٰنُ فِى قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَٰلِكُمْ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّٰدِقُونَ قُلْ أَتُعَلِّمُونَ ٱللَّهَ بِدِينِكُمْ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا۟ ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا۟ عَلَىَّ إِسْلَٰمَكُم ۖ بَلِ ٱللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَىٰكُمْ لِلْإِيمَٰنِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ
517

سورۃ الحجرات کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الحجرات کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo ijtaniboo katheeran mina alththanni inna baAAda alththanni ithmun wala tajassasoo wala yaghtab baAAdukum baAAdan ayuhibbu ahadukum an yakula lahma akheehi maytan fakarihtumoohu waittaqoo Allaha inna Allaha tawwabun raheemun

آیت 12{ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ} ”اے اہل ِایمان ! زیادہ گمان کرنے سے بچو ‘ بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں“ کسی کے بارے میں خواہ مخواہ کوئی بات فرض کر کے یا کسی سنی سنائی بات کو بنیاد بنا کر کوئی برا گمان اپنے دل میں بٹھا لینا اور منفی رائے قائم کرلینا جبکہ متعلقہ شخص نے نہ تو ویسا کوئی اقدام کیا ہو اور نہ ہی اس کے عملی رویے سے ویسی کسی بات کی تصدیق ہوتی ہو ‘ یہ ہے اس گمان کی نوعیت جس سے یہاں منع کیا جا رہا ہے۔ ایسے گمان کو بدگمانی یا سوئے ظن کہا جاتا ہے اور یہ بہتان اور تہمت کے زمرے میں آتا ہے۔ { وَّلَا تَجَسَّسُوْا } ”اور ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ میں نہ رہا کرو“ عام طور پر ریاستی اور حکومتی سطح پر جاسوسی کے باقاعدہ محکمے بھی ہوتے ہیں اور ظاہر ہے ضرورت کے تحت ایسا کوئی محکمہ ایک اسلامی حکومت کے تحت بھی قائم ہوسکتا ہے ‘ لیکن اس حوالے سے جو بات معیوب اور ممنوع ہے وہ افراد کی سطح پر ایک دوسرے کے حالات کے بارے میں خواہ مخواہ کا تجسس ّہے۔ جیسے بعض لوگ عادتاً دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں رہتے ہیں اور ُ کرید کرید کر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں گھر کے اندر کیا ہو رہا ہے ؟ فلاں دو بھائیوں کے معاملات کیا ہیں ؟ اور کیا وجہ ہے کہ ابھی تک ان میں کوئی جھگڑاوغیرہ نہیں ہوا ؟ { وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا } ”اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔“ اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی غیر حاضری میں اس کی برائی بیان نہ کرے ‘ خواہ وہ برائی اس شخص میں بالفعل پائی بھی جاتی ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے غیبت کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے : ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ ”تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس انداز سے کرنا جسے وہ ناپسند کرے“۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا : ”دیکھئے ‘ اگر میرے بھائی میں وہ برائی واقعتا پائی جاتی ہو جس کا میں ذکر کرتا ہوں پھر بھی یہ غیبت ہے ؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ ‘ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ فَقَدْ بَھَتَّہُ 1 ”اگر وہ برائی اس میں موجود ہے جس کا تم ذکر کر رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی ہے ‘ اور اگر وہ برائی اس میں موجود ہی نہیں تب تو تم نے اس پر بہتان لگا دیا۔“ { اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُ } ”کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ اپنے ُ مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ یہ تو تمہیں بہت ناگوار لگا !“ یعنی مردہ بھائی کے گوشت کھانے والی بات یا مثال سے تو تمہیں بہت گھن محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھو ! اگر تم اپنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرتے ہو تو اخلاقی سطح پر یہ حرکت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ہی مترادف ہے۔ کیونکہ ایسی حرکت کا ارتکاب کر کے آپ اپنے بھائی کی عزت پر ایسی حالت میں حملہ کرتے ہیں جب وہ اس کا دفاع بھی نہیں کرسکتا۔ اگر تم اس کے سامنے اس کی برائی بیان کرتے تو وہ تمہارے الزامات کا ضرور جواب دیتا اور سو طرح سے اپنا دفاع کرتا۔ بہر حال کسی کی عدم موجودگی میں اسے برا بھلا کہنا ایسے ہے جیسے اس کی لاش آپ کے سامنے ہو اور آپ اس کی بوٹیاں نوچ رہے ہوں۔ { وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ } ”اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘ اللہ تو بہ کا بہت قبول فرمانے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔“ اس کے بعد اس سورت کا تیسرا حصہ شروع ہو رہا ہے جو بہت اہم اور عظیم مضامین پر مشتمل ہے۔ یہاں پر ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی نوٹ کرلیں کہ گزشتہ بارہ آیات میں اہل ایمان کو پانچ مرتبہ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کے الفاظ میں مخاطب کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ پورے مکی قرآن میں یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کا صیغہ گویا ہے ہی نہیں۔ بہر حال اب اس مدنی سورت میں بھی خطاب کا رخ نوع انسانی کی طرف پھیرا جا رہا ہے :

اردو ترجمہ

لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha alnnasu inna khalaqnakum min thakarin waontha wajaAAalnakum shuAAooban waqabaila litaAAarafoo inna akramakum AAinda Allahi atqakum inna Allaha AAaleemun khabeerun

آیت 13 { یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی } ”اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے“ تم میں سے چاہے کوئی مومن ہے یا کوئی کافر و مشرک لیکن تم سب آدم علیہ السلام اور حوا کی ہی اولاد ہو۔ { وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا } ”اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔“ ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کی بنا پر اگر تمام انسان ایک رنگ اور ایک جیسی شکل و صورت کے حامل ہوتے تو ان کی پہچان مشکل ہوجاتی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے اور پھر انہیں رنگ ‘ نسل زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ کروڑوں ‘ اربوں انسانوں کی پہچان اور تعارف میں کسی سطح پر کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ یہاں دراصل اس اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ انسانوں کے درمیان رنگ و نسل کا فرق اوراقوام و قبائل میں ان کی تقسیم ‘ اعلیٰ و ادنیٰ کی تمیز و تفریق کے لیے نہیں بلکہ ان کی باہمی جان پہچان اور تعارف کے لیے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوادع میں اس مضمون کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی : یَا اَیُّھَا النَّاسُ ! اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَ بَاکُمْ وَاحِدٌ‘ اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیِّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی 1”لوگو ! آگاہ ہو جائو ‘ یقینا تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار ! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر۔ اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔“ ایچ جی ویلز 1866 ء۔ 1946 ء اپنی کتاب ”A Concise History of the World“ میں حضور ﷺ کے خطبہ مبارک کے یہ الفاظ نقل کرنے کے بعد گھٹنے ٹیک کر آپ ﷺ کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ چناچہ عیسائی ہونے کے باوجود اس نے لکھا ہے : ”اگرچہ انسانی اخوت ‘ مساوات اور حریت کے وعظ تو دنیا میں پہلے بھی بہت کہے گئے تھے اور ایسے وعظ ہمیں مسیح ناصری کے ہاں بھی بہت ملتے ہیں ‘ لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محمد ﷺ ہی تھے جنہوں نے تاریخ انسانی میں پہلی بار ان اصولوں پر ایک معاشرہ قائم کیا۔“ H.G.Wells کے اس تبصرے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ حضور ﷺ کا بہت بڑا مداح تھا ‘ بلکہ اس نے اپنی اسی کتاب میں حضور ﷺ کی شخصیت پر بہت رکیک حملے بھی کیے ہیں۔ اس حوالے سے اس کا انداز سلمان رشدی ملعون سے ملتا جلتا ہے ‘ لیکن اپنے تمام تر تعصب کے باوجود اسے حضور ﷺ کے حوالے سے تاریخ کی یہ عظیم حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔ مقامِ افسوس ہے کہ بعد کے ایڈیٹرز نے مصنف کے اس اعترافی بیان کو مذکورہ کتاب سے خارج کردیا ہے۔ اس لیے مذکورہ اقتباس کی تصدیق کے خواہش مند حضرات کو کسی لائبریری سے اس کتاب کا کوئی پرانا ایڈیشن تلاش کرنا پڑے گا۔ { اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰٹکُمْ } ”یقینا تم میں سب سے زیادہ با عزت اللہ کے ہاں وہ ہے جو تم میں سب سے بڑھ کر متقی ہے۔“ { اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} ”یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔“

اردو ترجمہ

یہ بدوی کہتے ہیں کہ "ہم ایمان لائے" اِن سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ "ہم مطیع ہو گئے" ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقیناً اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qalati alaAArabu amanna qul lam tuminoo walakin qooloo aslamna walamma yadkhuli aleemanu fee quloobikum wain tuteeAAoo Allaha warasoolahu la yalitkum min aAAmalikum shayan inna Allaha ghafoorun raheemun

آیت 14 { قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا } ”یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔“ { قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا } ”اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیجیے : تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان اطاعت گزار ہوگئے ہیں“ ”لَمْ تُـؤْمِنُوْا“ میں نفی جحد بِلَمْ کا نہایت موکد اسلوب ہے ‘ یعنی یہاں مضارع سے پہلے لَمْ تاکیدی نفی کے لیے آیا ہے۔ چناچہ ”لَمْ تُؤْمِنُوْا“ میں جو خاص تاکید پائی جاتی ہے وہ ”مَـا آمَنْتُمْ“ جیسے الفاظ میں نہیں۔ { وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“ اس آیت میں جو نکتہ بیان ہوا ہے وہ اسلامی معاشرے کی رکنیت اور اسلامی ریاست کی شہریت کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایمان دراصل ایک نظریے کا نام ہے جو دل کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی طریقے یا ذریعے سے کسی شخص کے ایمان کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اسلامی معاشرے کے افراد یا اسلامی ریاست کے شہریوں کی قانونی حیثیت کا تعین ”اسلام“ کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ ”ایمان“ کی بنیاد پر۔ البتہ آخرت میں اللہ کے ہاں ہر شخص کے معاملات کا فیصلہ ایمان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ چناچہ ہمارے ہاں مردم شماری کے فارم کے اندر مذہب کے خانے میں کسی کے لیے ”مسلم“ کا لفظ لکھ دینے سے متعلقہ شخص کو قانونی طور پر تو مسلمان تسلیم کرلیا جائے گا لیکن دنیا میں قانونی طور پر مسلمان بن جانے سے اللہ کے ہاں چھوٹ نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کے دل میں ایمان کی کیفیت کو دیکھے اور پرکھے گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَـنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ 1 ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا ‘ بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“۔ چناچہ دنیوی قانون کے تقاضوں اور نجاتِ اُخروی کے حوالے سے ایمان اور اسلام کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ { وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا } ”لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ { اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ”یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت مہربان ہے۔“ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے ‘ یعنی جب تک کسی کے دل میں ایمان نہیں اللہ کے ہاں اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے ‘ اس نے اپنی شان غفاری و رحیمی کے طفیل تم لوگوں کو خصوصی رعایت عطا کی ہے ‘ چناچہ اگرچہ تم نے ایمان کا ابھی صرف زبانی اقرار ہی کیا ہے اور یہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں راسخ نہیں ہوا ‘ پھر بھی اس اقرار کے بعد اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو شرف قبولیت بخشتا رہے گا۔ اس حوالے سے یہ اہم قانونی اور اصولی نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ یہاں جس اطاعت کا ذکر ہے اس سے مراد کلی اطاعت ہے۔ کیونکہ { اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } البقرۃ : 208 کے واضح حکم کے بعداسلام میں جزوی داخلہ اور اللہ تعالیٰ کی جزوی اطاعت قابل قبول ہی نہیں۔ آیت زیر مطالعہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کردیا گیا ہے اور یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں مسلمانوں کے ایک گروہ کو واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ تا حال ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوا کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے ‘ حالانکہ اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ منافقین کا تو کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ‘ جبکہ یہاں متعلقہ لوگوں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ چناچہ اس حکم کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے ان حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جن حالات میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو جزیرۃ العرب میں غلبہ عطا فرما دیا تو کفار و مشرکین کے تمام قبائل پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اب ان میں مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی۔ دوسری طرف سورة التوبہ کی ابتدائی آیات میں ان کے لیے یہ الٹی میٹم بھی نازل ہوچکا تھا : { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج } آیت 5 ”اور جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو قتل کرو ان مشرکین کو جہاں پائو ‘ اور پکڑو ان کو ‘ اور گھیرائو کرو ان کا ‘ اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو“۔ 9 ہجری کے حج کے موقع پر یہ الٹی میٹم ہر خاص و عام تک پہنچا بھی دیا گیا تھا۔ اس کے بعد متعلقہ لوگوں کے پاس صرف چار ماہ کا وقت تھا۔ ان حالات میں ان قبائل کے پاس اطاعت قبول کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ چناچہ انہوں نے یہی راستہ اپنایا اور حضور ﷺ کی اطاعت قبول کرنے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں اپنے اپنے وفد بھیجنے شروع کردیے۔ اس طرح اس سال مدینہ میں وفود کا تانتا بندھ گیا۔ گویا ہر قبیلہ اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرنے اور اسلام میں داخل ہونے کے لیے دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا تھا۔ اس صورت حال کا نقشہ سورة النصر میں یوں دکھایا گیا ہے : { اِذَاجَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ۔ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ اطاعت قبول کرنے والے ان لوگوں میں تین طرح کے افراد تھے۔ کچھ تو ظاہر ہے خلوص نیت سے ایمان لانے والے تھے اور کچھ منافق اور دھوکہ باز جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن ان دواقسام کے درمیان تیسری قسم کے کچھ لوگ بھی تھے ‘ جن کے دلوں میں نہ تو دھوکے کی نیت تھی اور نہ ہی ایمان لانے کا سچا جذبہ تھا۔ یعنی وہ مثبت اور منفی دو انتہائوں کے درمیان ”زیرو پوائنٹ“ پر کھڑے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل ان ہی لوگوں کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی ‘ بلکہ آگے آیت 17 میں انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ اگر تم خلوص دل سے اطاعت کے اس راستے پر چلتے رہو گے تو تمہارے دلوں میں سچا اور حقیقی ایمان بھی پیدا ہوجائے گا۔ دراصل ایمانِ حقیقی اور عمل صالح باہم لازم و ملزوم ہیں۔ ایک طرف دل میں ایمانِ حقیقی کی موجودگی اگر اعمالِ صالحہ کے صدور کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف اعمالِ صالحہ کی مداومت بھی ایمان کی تقویت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ اس حوالے سے ٹھوس نتائج کے لیے دل میں مضبوط ارادے اور نیت کا موجود ہونا نا گزیر ہے۔ یعنی دل میں پختہ نیت ہو کہ مجھے ایک سچا اور پکا مومن بننا ہے ‘ مومن بن کر جینا ہے اور مومن کی حیثیت سے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ لیکن اس ضمن میں اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ آج کل کے ماحول میں اول تو ایسی نیت یا آرزو کا دل میں پیدا ہونا ہی مشکل ہے ‘ اور اگر کسی دل میں یہ آرزو پیدا ہو ہی جائے تو اس کا زندہ رہنا محال ہے۔ کیونکہ آج کا معاشرہ اور خارج کا موجودہ ماحول ایسی مثبت سوچ کو غذا فراہم نہیں کرتا اور ظاہر ہے جس ماحول میں آکسیجن نہیں ہوگی وہاں کوئی متنفس ّکیسے زندہ رہ سکے گا۔ اقبالؔ نے اس صورت حال کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یا رہتی ہے خام ! بلکہ ہمارا موجودہ معاشرہ تو اس حوالے سے منفی کردار کے لیے غیر معمولی طور پر حساس اور فعال ہے۔ ایسی کوئی آرزو کسی دل میں ابھی پوری طرح آنکھیں بھی نہیں کھولنے پاتی کہ ماحول کی تمام منفی قوتین اپنے اپنے ہتھیار سجا کر اس جانِ ناتواں کے محاصرے کے لیے پہنچ جاتی ہیں۔ اس میں سب سے موثر کردار ”اپنوں“ کی ایسی نصیحتوں کا ہوتا ہے کہ دیکھو اپنے گھر بار کی بھی کچھ فکر کرو ! کیوں تم اپنا بنا بنایا کیرئیر تباہ کرنے پر ُ تل گئے ہو ؟ کیا تمہیں اپنے مستقبل اور اپنے بیوی بچوں کا بھی خیال نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس دبائو کا فطری اور منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ ”نوزائیدہ آرزو“ لمحہ بہ لمحہ کمزور ہونے لگتی ہے اور بالآخر سسک سسک کر دم توڑ جاتی ہے ‘ اِلا یہ کہ کسی کے ارادے میں غیر معمولی خلوص و استقامت ہو اور اللہ کی خصوصی توفیق و نصرت بھی اس کے شامل حال ہو۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہ بحث تو اسلام اور ایمان کے فرق سے متعلق تھی۔ لیکن اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ حقیقی مومن کسے کہتے ہیں تو وہ ”مومن“ کی اس تعریف definition کو اپنے پیش نظر رکھے جو اگلی آیت میں بیان کی گئی ہے۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة الانفال کی آیات 2 ‘ 3 اور 74 کے ضمن میں بھی کی جا چکی ہے۔

اردو ترجمہ

حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے لوگ ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innama almuminoona allatheena amanoo biAllahi warasoolihi thumma lam yartaboo wajahadoo biamwalihim waanfusihim fee sabeeli Allahi olaika humu alssadiqoona

آیت 15 { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا } ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہرگز نہیں پڑے“ یعنی ایسے لوگوں کا ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو کر یقین کی ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ ان کے دلوں کے اندر شک کی کوئی گنجائش رہی ہی نہیں۔ جیسے قبل ازیں آیت 7 میں صحابہ رض کے بارے میں فرمایا گیا : { وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”لیکن اے نبی ﷺ کے ساتھیو ! اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر رچا بسا دیا ہے۔“ جب تک ایمان دل میں راسخ نہیں ہوا اور ابھی صرف زبان پر ہے آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ… تو یہ اسلام ہے۔ اسی لیے اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر بتائی گئی ہے : بُنِیَ الاِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ…الحدیث ان میں یقین قلبی شامل نہیں ہے ‘ بلکہ نظریاتی طور پر صرف توحید و رسالت کی گواہی دے کر اور اس کے بعد نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج کا التزام کر کے اسلام کا تقاضا پورا ہوجاتا ہے۔ لیکن ایمان اس سے اوپر کی منزل ہے۔ گویا مذکورہ پانچ شرائط پہلی شرط کا تعلق نظریے سے جبکہ باقی چار کا تعلق عمل سے ہے پوری کر کے جو شخص ”مسلمان“ ہوگیا اسے ”مومن“ بننے کے لیے کچھ اضافی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی اور آیت زیر مطالعہ کی رو سے یہ اضافی دو شرائط ہیں ‘ یعنی ”شہادت“ کے ساتھ یقین قلبی لَمْ یَرْتَابُوْا کی کیفیت کا اضافہ ہوگا اور اعمال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا : { وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ } ”یہی لوگ ہیں جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔“ گویا کسی شخص کو ”حقیقی مومن“ بننے کے لیے مذکورہ ساتوں شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ پہلی پانچ شرائط ”اسلام“ میں داخل ہونے کے لیے جبکہ آخری دو شرائط ”ایمان“ کی منزل حاصل کرنے کے لیے۔ اسلام اور ایمان کے اس فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک مومن لامحالہ ”مسلم“ تو ہوگا ہی لیکن ہر ”مسلم“ مومن نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور ایمان کی اس بحث میں لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ زبان سے : ”آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ…“ کا دعویٰ کرنا تو آسان ہے مگر دل میں حقیقی ایمان پیدا کرنا اور پھر اس ایمان کے تقاضے پورے کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی ”ایمانی کیفیت“ کا جائزہ لیتا رہے۔ خصوصی طور پر اس حوالے سے یہ حقیقت تو ہمیں کسی لمحے بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہم باطل نظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس حالت میں اگر ہم اس نظام کو ذہنی طور پر قبول کر کے اس کی چاکری کرنا شروع کردیں گے ‘ یعنی اس نظام کے تحت اپنی معیشت کی ترقی اور اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں لگ جائیں گے تو ایسی صورت میں ہمیں اپنے ایمان کی خبر لینے کی ضرورت ہوگی۔ دراصل کسی ملک یا معاشرے میں غلبہ باطل کی صورت میں ایک بندہ مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ اس نظام کے تحت حالت احتجاج میں رہتے ہوئے زندگی بسر کرے۔ اور اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ 1 کے مصداق باطل نظام کے تحت وہ ایسے رہے جیسے ایک قیدی جیل کے اندر رہتا ہے۔ یعنی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے میں وہ اپنی کم سے کم توانائی صرف کرے اور ان ضروریات کو بھی کم سے کم معیار subsistance level پر رکھے ‘ جبکہ اپنا باقی وقت اور اپنی بہترین صلاحیتیں نظام باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں کھپا دے۔ ع ”گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں !“ اگر باطل نظام کے تحت رہتے ہوئے ایک مرد مسلمان کی زندگی کے شب و روز کا نقشہ ایسا نہیں تو بیشک قانونی طور پر وہ اپنے ملک کا ایک مسلمان شہری ہے ‘ اپنے مسلمان باپ کی وراثت کا حقدار ہے ‘ مسلمان عورت سے شادی کرسکتا ہے اور اس طرح کے دوسرے تمام قانونی حقوق سے بھی مستفید ہوسکتا ہے ‘ لیکن ایسا ”مسلمان“ اللہ کے ہاں ”مومن“ شمار نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کے بارے میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اس کا آغاز ”اِنّما“ سے ہو رہا ہے اور آخر پر ”اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی آیت کا آغاز بھی اسلوبِ حصر سے ہو رہا ہے اور اختتام پر بھی اسلوبِ حصر آیا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ مومن تو ہیں ہی صرف وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان نے ”یقین“ کی شکل اختیار کرلی اور پھر انہوں نے اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں کھپا دیا۔ اور صرف یہی لوگ ہیں جو اپنے ایمان کے دعوے میں سچے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین ‘ ثم آمین ! آیت کے آخر میں ان مومنین کو جو سر ٹیفکیٹ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ عطا ہوا ہے اس کی اہمیت کو سورة التوبہ کی آیت 119 کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة التوبہ کی مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو صادقین کے ساتھ شامل ہونے کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ کا حکم دیا گیا ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ”صادقین“ کون ہیں۔ اس نکتے کو اس طرح سمجھیں کہ آیت زیر مطالعہ میں مومنین صادقین کی دو نشانیاں ایمان حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ ہماری راہنمائی کے لیے بتائی گئی ہیں کہ مسلمانو ! اٹھو ‘ اس ”چراغ“ کی روشنی میں ”مومنین ِصادقین“ کو تلاش کرو اور پھر ان کے مشن کی جدوجہد میں ان کے دست وبازو بن جائو ! حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ امیر معاویہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لاَ یَزَالُ مِنْ اُمَّتِیْ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌ بِاَمْرِ اللّٰہِ ، لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَذَلَھُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَھُمْ ، حَتّٰی یَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ وَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ 1 ”میری امت میں سے ایک گروہ اللہ کے حکم کو قائم کرنے والا ہمیشہ موجود رہے گا۔ ان کا ساتھ چھوڑ دینے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ‘ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا ‘ اور وہ اسی پر قائم ہوں گے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ”مومنین صادقین“ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں تلاش کریں اور { کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ } کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ان کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں تاکہ { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } الفتح : 29 کی طرز پر ایک مضبوط ”حزب اللہ“ تشکیل پا سکے۔ ظاہر ہے افراد کے اتحاد کے بغیر نہ تو کوئی جمعیت وجود میں آسکتی ہے ‘ نہ اقامت دین کی جدوجہد آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی ”اظہارِ دین حق“ کی شان تکمیلی کا ظہور ممکن ہوسکتا ہے۔

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، اِن (مدعیان ایمان) سے کہو، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul atuAAallimoona Allaha bideenikum waAllahu yaAAlamu ma fee alssamawati wama fee alardi waAllahu bikulli shayin AAaleemun

آیت 16 { قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰہَ بِدِیْنِکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے : کیا تم اللہ کو جتلانا چاہتے ہو اپنادین ؟“ مثل مشہور ہے ”تھو تھا چنا باجے گھنا“۔ یعنی جو برتن خالی ہوگا وہ کھنکھنانے پر بھرے ہوئے برتن کی نسبت زیادہ آواز دے گا۔ ان لوگوں کے دل چونکہ حقیقی ایمان سے خالی تھے اس لیے وہ اپنے ایمان کا بڑھ چڑھ کر پرچار کرتے تھے اور حضور ﷺ پر احسان دھرتے تھے کہ دیکھیں ! ہم تو لڑے بھڑے بغیر اسلام لے آئے ہیں ‘ اس لیے اب ہمارے حقوق بھی زیادہ ہونے چاہئیں۔ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔“ { وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ”اللہ تو ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔“ اگر حقیقی ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوتا تو انہیں یہ بھی یقین ہوتا کہ اللہ عالم الغیب ہے ‘ دنیا ومافیہا کی ہرچیز اس کے علم میں ہے ‘ اس لیے اس کے سامنے کسی کو اپنے ایمان کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

اردو ترجمہ

یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ اِنہوں نے اسلام قبول کر لیا اِن سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم واقعی اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yamunnoona AAalayka an aslamoo qul la tamunnoo AAalayya islamakum bali Allahu yamunnu AAalaykum an hadakum lileemani in kuntum sadiqeena

آیت 17 { یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا } ”اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ پر احسان دھر رہے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں !“ { قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ } ”ان سے کہیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ دھرو۔“ { بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدٰٹکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”بلکہ اللہ تم پر احسان دھرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کے راستے پر ڈال دیا ہے ‘ اگر تم سچے ہو۔“ اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی کہ تم اسلام لے آئے۔ ابھی تم لوگ ایمان کے راستے پر آئے ہو۔ اگر تم اپنے اسلام کے دعوے میں سچے ہو گے ‘ نماز کی پابندی کرو گے ‘ رمضان کے روزے رکھو گے ‘ زکوٰۃ ادا کرو گے اور اعمالِ صالحہ کا اہتمام کرو گے تو ان اعمال کی نورانیت سے تمہارے دلوں کے اندر ایمان بھی پیدا ہوجائے گا۔ اس آیت میں اسلام اور ایمان کا فرق بہت واضح ہوگیا ہے۔ متعلقہ لوگوں کے دعوے کے حوالے سے یہاں دو دفعہ اسلام کا لفظ آیا ہے۔ لیکن بعد میں جب اللہ کی توفیق کے حوالے سے بات ہوئی ہے تو ایمان کا ذکر کیا گیا ہے : { بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدٰٹکُمْ لِلْاِیْمَانِ } یعنی یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام لانے کی توفیق دی اور یوں اس نے تمہیں ایمان کی شاہراہ پر ڈال دیا۔ اگر تم صدق دل سے اسلام لائے ہو تو یہ شاہراہ ضرور تمہیں ایمان کی منزل تک لے جائے گی۔ لیکن اگر تم منافق ہو یا صرف جان بچانے کے لیے اسلام کی پناہ میں آئے ہو تو قانونی طور پر بیشک تمہارا شمار مسلمانوں میں ہوجائے گا لیکن اللہ کے ہاں نہ تمہارا اسلام قبول ہوگا اور نہ ایمان۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوا ہے ‘ اس ضمن میں قانون یہی ہے کہ جو کوئی بھی زبان سے توحید و رسالت کی گواہی دے کر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے گا اسے مسلمان تسلیم کرلیا جائے گا۔ اسی قانون کے تحت غزوہ تبوک تک تمام منافقین کو بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ نے رئیس المنافقین عبدا للہ بن ابی کی نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ البتہ غزوئہ تبوک کے بعد ان کی منافقت کا پردہ چاک کیا گیا اور ان کی بنائی ہوئی مسجد مسجد ضرار بھی گرا دی گئی۔

اردو ترجمہ

اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna Allaha yaAAlamu ghayba alssamawati waalardi waAllahu baseerun bima taAAmaloona

آیت 18{ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ } ”یقینا اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے بھی دیکھ رہا ہے۔“بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ، ونفعنی وایّاکم بالات والذّکر الحکیم

517