اب اس سورت کے آخر میں ایمان کی حقیقت اور اس کی اہمیت بیان کی جاتی ہے اور یہ ان اعراب کی تردید میں بیان کی جاتی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر احسان جتلاتے تھے کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں اور اس احسان کے بارے میں نہ سوچتے تھے کہ اللہ نے دعوت ایمان بھیج کر لوگوں پر کس قدر احسان کیا۔
یہ آیات بنو اسد کے دیہاتی مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم “ ایمان لائے ” ہیں۔ یہ انہوں نے اس وقت کہا جب وہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات بھی کہی کہ حضور ﷺ ہم نے تو اسلام قبول کرلیا لیکن آپ ﷺ کے ساتھ ہم کبھی نہیں لڑے جبکہ دوسرے عربوں نے آپ کے ساتھ لڑائیاں لڑیں تو اللہ نے ان کو بتایا کہ تمہارے ذہنوں کے اندر جو بات بیٹھی ہوئی ہے ، وہ غلط ہے کہ تم نے اسلام قبول کرلیا۔ اسلامی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے ، لیکن ابھی تمہارے دل مرتبہ ایمان تک نہیں پہنچے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقت ایمان ابھی ان کے دلوں میں نہیں بیٹھی تھی۔ اور ان کی ارواح نے ابھی جام ایمان نوش نہیں کیا تھا۔
قل لم تؤمنوا ولکن ۔۔۔۔۔۔ فی قلوبکم (49 : 14) “ ان سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے۔ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے ”۔
لیکن اس کے باوجود اللہ نے فرمایا کہ تمہارے اعمال پر تمہیں پوری پوری جزاء دی جائے گی اور تمہارے اعمال کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوگا۔ یہ اسلام ابھی تک دلوں کے اندر داخل ہو کر قلوب کے اندر نہیں پہنچا کہ وہ پختہ اور قابل اطمینان ایمان بن جائے ، یہ اس بات کے لئے کافی ہے کہ ان اچھے اعمال پر انہیں جزائے خیروی جائے اور وہ کفار کے اعمال کی طرح ضائع نہ ہوں۔ اور اللہ کے ہاں ایسے مسلمانوں کے اجر میں کمی نہ ہوگی جب تک وہ مطیع فرمان اور سر تسلیم خم کرنے والے رہتے ہیں۔
وان تطیعوا اللہ ورسولہ لا یلتکم من اعمالکم شیئا (49 : 14) “ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمان برداری اختیار کرلو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے ”۔ کیونکہ اللہ بہت ہی رحیم و کریم ہے۔ وہ اپنے بندوں سے اسلام اور ایمان کی راہ میں پہلا قدم ہی قبول کرتا ہے۔ اطاعت اور تسلیم ہی سے راضی ہوجاتا ہے اور اس کے بعد دل میں خود بخود ایمان اور اطمینان آجاتا ہے۔
ان اللہ غفور رحیم (49 : 14) “ بیشک اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اس کے بعد حقیقی ایمان بتا دیا۔
آیت 14 { قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا } ”یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔“ { قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا } ”اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیجیے : تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان اطاعت گزار ہوگئے ہیں“ ”لَمْ تُـؤْمِنُوْا“ میں نفی جحد بِلَمْ کا نہایت موکد اسلوب ہے ‘ یعنی یہاں مضارع سے پہلے لَمْ تاکیدی نفی کے لیے آیا ہے۔ چناچہ ”لَمْ تُؤْمِنُوْا“ میں جو خاص تاکید پائی جاتی ہے وہ ”مَـا آمَنْتُمْ“ جیسے الفاظ میں نہیں۔ { وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“ اس آیت میں جو نکتہ بیان ہوا ہے وہ اسلامی معاشرے کی رکنیت اور اسلامی ریاست کی شہریت کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایمان دراصل ایک نظریے کا نام ہے جو دل کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی طریقے یا ذریعے سے کسی شخص کے ایمان کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اسلامی معاشرے کے افراد یا اسلامی ریاست کے شہریوں کی قانونی حیثیت کا تعین ”اسلام“ کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ ”ایمان“ کی بنیاد پر۔ البتہ آخرت میں اللہ کے ہاں ہر شخص کے معاملات کا فیصلہ ایمان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ چناچہ ہمارے ہاں مردم شماری کے فارم کے اندر مذہب کے خانے میں کسی کے لیے ”مسلم“ کا لفظ لکھ دینے سے متعلقہ شخص کو قانونی طور پر تو مسلمان تسلیم کرلیا جائے گا لیکن دنیا میں قانونی طور پر مسلمان بن جانے سے اللہ کے ہاں چھوٹ نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کے دل میں ایمان کی کیفیت کو دیکھے اور پرکھے گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَـنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ 1 ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا ‘ بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“۔ چناچہ دنیوی قانون کے تقاضوں اور نجاتِ اُخروی کے حوالے سے ایمان اور اسلام کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ { وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا } ”لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ { اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ”یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت مہربان ہے۔“ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے ‘ یعنی جب تک کسی کے دل میں ایمان نہیں اللہ کے ہاں اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے ‘ اس نے اپنی شان غفاری و رحیمی کے طفیل تم لوگوں کو خصوصی رعایت عطا کی ہے ‘ چناچہ اگرچہ تم نے ایمان کا ابھی صرف زبانی اقرار ہی کیا ہے اور یہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں راسخ نہیں ہوا ‘ پھر بھی اس اقرار کے بعد اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو شرف قبولیت بخشتا رہے گا۔ اس حوالے سے یہ اہم قانونی اور اصولی نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ یہاں جس اطاعت کا ذکر ہے اس سے مراد کلی اطاعت ہے۔ کیونکہ { اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } البقرۃ : 208 کے واضح حکم کے بعداسلام میں جزوی داخلہ اور اللہ تعالیٰ کی جزوی اطاعت قابل قبول ہی نہیں۔ آیت زیر مطالعہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کردیا گیا ہے اور یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں مسلمانوں کے ایک گروہ کو واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ تا حال ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوا کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے ‘ حالانکہ اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ منافقین کا تو کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ‘ جبکہ یہاں متعلقہ لوگوں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ چناچہ اس حکم کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے ان حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جن حالات میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو جزیرۃ العرب میں غلبہ عطا فرما دیا تو کفار و مشرکین کے تمام قبائل پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اب ان میں مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی۔ دوسری طرف سورة التوبہ کی ابتدائی آیات میں ان کے لیے یہ الٹی میٹم بھی نازل ہوچکا تھا : { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج } آیت 5 ”اور جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو قتل کرو ان مشرکین کو جہاں پائو ‘ اور پکڑو ان کو ‘ اور گھیرائو کرو ان کا ‘ اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو“۔ 9 ہجری کے حج کے موقع پر یہ الٹی میٹم ہر خاص و عام تک پہنچا بھی دیا گیا تھا۔ اس کے بعد متعلقہ لوگوں کے پاس صرف چار ماہ کا وقت تھا۔ ان حالات میں ان قبائل کے پاس اطاعت قبول کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ چناچہ انہوں نے یہی راستہ اپنایا اور حضور ﷺ کی اطاعت قبول کرنے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں اپنے اپنے وفد بھیجنے شروع کردیے۔ اس طرح اس سال مدینہ میں وفود کا تانتا بندھ گیا۔ گویا ہر قبیلہ اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرنے اور اسلام میں داخل ہونے کے لیے دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا تھا۔ اس صورت حال کا نقشہ سورة النصر میں یوں دکھایا گیا ہے : { اِذَاجَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ۔ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ اطاعت قبول کرنے والے ان لوگوں میں تین طرح کے افراد تھے۔ کچھ تو ظاہر ہے خلوص نیت سے ایمان لانے والے تھے اور کچھ منافق اور دھوکہ باز جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن ان دواقسام کے درمیان تیسری قسم کے کچھ لوگ بھی تھے ‘ جن کے دلوں میں نہ تو دھوکے کی نیت تھی اور نہ ہی ایمان لانے کا سچا جذبہ تھا۔ یعنی وہ مثبت اور منفی دو انتہائوں کے درمیان ”زیرو پوائنٹ“ پر کھڑے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل ان ہی لوگوں کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی ‘ بلکہ آگے آیت 17 میں انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ اگر تم خلوص دل سے اطاعت کے اس راستے پر چلتے رہو گے تو تمہارے دلوں میں سچا اور حقیقی ایمان بھی پیدا ہوجائے گا۔ دراصل ایمانِ حقیقی اور عمل صالح باہم لازم و ملزوم ہیں۔ ایک طرف دل میں ایمانِ حقیقی کی موجودگی اگر اعمالِ صالحہ کے صدور کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف اعمالِ صالحہ کی مداومت بھی ایمان کی تقویت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ اس حوالے سے ٹھوس نتائج کے لیے دل میں مضبوط ارادے اور نیت کا موجود ہونا نا گزیر ہے۔ یعنی دل میں پختہ نیت ہو کہ مجھے ایک سچا اور پکا مومن بننا ہے ‘ مومن بن کر جینا ہے اور مومن کی حیثیت سے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ لیکن اس ضمن میں اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ آج کل کے ماحول میں اول تو ایسی نیت یا آرزو کا دل میں پیدا ہونا ہی مشکل ہے ‘ اور اگر کسی دل میں یہ آرزو پیدا ہو ہی جائے تو اس کا زندہ رہنا محال ہے۔ کیونکہ آج کا معاشرہ اور خارج کا موجودہ ماحول ایسی مثبت سوچ کو غذا فراہم نہیں کرتا اور ظاہر ہے جس ماحول میں آکسیجن نہیں ہوگی وہاں کوئی متنفس ّکیسے زندہ رہ سکے گا۔ اقبالؔ نے اس صورت حال کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یا رہتی ہے خام ! بلکہ ہمارا موجودہ معاشرہ تو اس حوالے سے منفی کردار کے لیے غیر معمولی طور پر حساس اور فعال ہے۔ ایسی کوئی آرزو کسی دل میں ابھی پوری طرح آنکھیں بھی نہیں کھولنے پاتی کہ ماحول کی تمام منفی قوتین اپنے اپنے ہتھیار سجا کر اس جانِ ناتواں کے محاصرے کے لیے پہنچ جاتی ہیں۔ اس میں سب سے موثر کردار ”اپنوں“ کی ایسی نصیحتوں کا ہوتا ہے کہ دیکھو اپنے گھر بار کی بھی کچھ فکر کرو ! کیوں تم اپنا بنا بنایا کیرئیر تباہ کرنے پر ُ تل گئے ہو ؟ کیا تمہیں اپنے مستقبل اور اپنے بیوی بچوں کا بھی خیال نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس دبائو کا فطری اور منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ ”نوزائیدہ آرزو“ لمحہ بہ لمحہ کمزور ہونے لگتی ہے اور بالآخر سسک سسک کر دم توڑ جاتی ہے ‘ اِلا یہ کہ کسی کے ارادے میں غیر معمولی خلوص و استقامت ہو اور اللہ کی خصوصی توفیق و نصرت بھی اس کے شامل حال ہو۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہ بحث تو اسلام اور ایمان کے فرق سے متعلق تھی۔ لیکن اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ حقیقی مومن کسے کہتے ہیں تو وہ ”مومن“ کی اس تعریف definition کو اپنے پیش نظر رکھے جو اگلی آیت میں بیان کی گئی ہے۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة الانفال کی آیات 2 ‘ 3 اور 74 کے ضمن میں بھی کی جا چکی ہے۔
ایمان کا دعویٰ کرنے والے اپنا جائزہ تو لیں کچھ اعرابی لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہی اپنے ایمان کا بڑھا چڑھا کر دعویٰ کرنے لگتے تھے حالانکہ دراصل ان کے دل میں اب تک ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ اس دعوے سے روکتا ہے یہ کہتے تھے ہم ایمان لائے۔ اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہئے اب تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے یعنی اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے نبی کی اطاعت میں آئے ہیں اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جبرائیل ؑ والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں۔ پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے چند لوگوں کو عطیہ اور انعام دیا اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا اس پر حضرت سعد نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ وہ مومن ہے حضور ﷺ نے فرمایا مسلمان ؟ تین مرتبہ یکے بعد دیگرے حضرت سعد نے یہی کہا اور حضور ﷺ نے بھی یہی جواب دیا پھر فرمایا اے سعد میں لوگوں کو دیتا ہوں اور جو ان میں مجھے بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے اسے نہیں دیتا ہوں، دیتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ گرپڑیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے پس اس حدیث میں بھی حضور ﷺ نے مومن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہوگیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی کتاب الایمان کی شرح میں ذکر کردیا ہے فالحمد للہ۔ اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لئے کہ آپ نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کردیا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہوجانے کا ابھی سے دعویٰ کردیا تھا اس لئے انہیں ادب سکھایا گیا۔ حضرت ابن عباس اور ابراہیم نخعی اور قتادہ کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر نے اختیار کیا ہے ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ حضرت امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مومن نہ تھے (یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اسوقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ حضرت امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں کتاب الایمان میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے واللہ اعلم۔ (مترجم) حضرت سعید بن جبیر، حضرت مجاہد، حضرت ابن زید فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلکہ تم (اسلمنا) کہو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم قتل اور قید بند ہونے سے بچنے کے لئے تابع ہوگئے ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورة برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا۔ پھر فرماتا ہے اگر تم اللہ اور اسی کے رسول ﷺ کے فرماں بردار رہو گے تو تمہارے کسی عمل کا اجر مارا نہ جائے گا۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا۔ پھر فرمایا جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی ﷺ فرماتے ہیں دنیا میں مومن کی تین قسمیں ہیں 001 وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا 002 وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا نہ یہ کسی کا مال ماریں نہ کسی کی جان لیں 003 وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ کیا تم اپنے دل کا یقین و دین اللہ کو دکھاتے ہو ؟ وہ تو ایسا ہے کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے مخفی نہیں وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ پھر فرمایا جو اعراب اپنے اسلام لانے کا بار احسان تجھ پر رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ تم اگر اسلام قبول کرو گے میری فرماں برداری کرو گے میری مدد کرو گے تو اس کا نفع تمہیں کو ملے گا۔ بلکہ دراصل ایمان کی دولت تمہیں دینا یہ اللہ ہی کا احسان ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ (اب غور فرمائیے کہ کیا اسلام لانے کا احسان پیغمبر اللہ پر جتانے والے سچے مسلمان تھے ؟ پس آیات کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ ان کا اسلام حقیقت پر مبنی نہ تھا اور یہی الفاظ بھی ہیں کہ ایمان اب تک ان کے ذہن نشین نہیں ہوا اور جب تک اسلام حقیقت پر مبنی نہ ہو تب تک بیشک وہ ایمان نہیں لیکن جب وہ اپنی حقیقت پر صحیح معنی میں ہو تو پھر ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے۔ خود اس آیت کے الفاظ میں غور فرمائیے ارشاد ہے اپنے اسلام کا احسان تجھ پر رکھتے ہیں حالانکہ دراصل ایمان کی ہدایت اللہ کا خود ان پر احسان ہے۔ پس وہاں احسان اسلام رکھنے کو بیان کر کے اپنا احسان ہدایت ایمان جتانا بھی ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر باریک اشارہ ہے، مزید دلائل صحیح بخاری شریف وغیرہ ملاحظہ ہوں مترجم) پس اللہ تعالیٰ کا کسی کو ایمان کی راہ دکھانا اس پر احسان کرنا ہے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین والے دن انصار سے فرمایا تھا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تم میں اتفاق دیا تم مفلس تھے میری وجہ سے اللہ نے تمہیں مالدار کیا جب کبھی حضور ﷺ کچھ فرماتے وہ کہتے بیشک اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے بھی زیادہ احسانوں والے ہیں بزار میں ہے کہ بنو اسد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہم مسلمان ہوئے عرب آپ سے لڑتے رہے لیکن ہم آپ سے نہیں لڑے حضور ﷺ نے فرمایا ان میں سمجھ بہت کم ہے شیطان ان کی زبانوں پر بول رہا ہے اور یہ آیت (يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 17) 49۔ الحجرات :17) ، نازل ہوئی پھر دوبارہ اللہ رب العزت نے اپنے وسیع علم اور اپنی سچی باخبری اور مخلوق کے اعمال سے آگاہی کو بیان فرمایا کہ آسمان و زمین کے غیب اس پر ظاہر ہیں اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے الحمد اللہ سورة حجرات کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ توفیق اور ہمت اسی کے ہاتھ ہے۔