انما المؤمنون الذین ۔۔۔۔۔ ھم الصدقون (49 : 15) “ حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، وہی سچے لوگ ہیں ”۔
ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور رسول پر دل سے یقین ہوجائے۔ ایسا یقین جس کے ساتھ دل میں کوئی شک اور خلجان باقی نہ رہے۔ ایسا یقین جو مستحکم ہو ، جس کے اندر کوئی تزلزل اور اضطراب نہ ہو ، جس کے اندر کوئی خلش یا شک نہ ہو۔ جس میں قلب و شعور میں کوئی تزلزل نہ ہو ، اور جس کے نتیجے میں جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کے اعمال پیدا ہوں ، دل جب ایمان کی شیرینی کو چکھ لے اور اس پر مطمئن اور پختہ ہوجائے ، تو اس کا اخراج اعمال وجوارح سے ہوتا ہے۔ عملی دنیا میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔ مومن کی سعی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایمان جو اس کے احساس و شعور کے اندر اور اس کے باطن میں بیٹھا ہے وہ انسان کے اردگرد ماحول کے معاملات میں بھی ظاہر ہو۔ ایمان کی جو حسی تصویر انسان کے قلب میں ہوتی ہے اور اس کی عملی صورت جو مومن کے ماحول میں ہوتی ہے ان کے درمیان تو فرق و امتیاز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسی صورت ہو تو پھر ایک شخص کے مومن کو ہر وقت اذیت ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے وہ جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کے لئے میدان میں آجاتا ہے اور یہ مومن کے انفرادی ایمان کا ظہور اور طوفان ہے جو عملی شکل اختیار کرتا ہے اس لیے کہ مومن اس طرح اپنے دین کی تصویر کو عمل میں لانا چاہتا ہے تا کہ یہ تصویر واقعی تصویر بن جائے۔ اس لیے مومن کی جنگ اس کے ماحول سے ایک مومن کا خالص ذاتی معاملہ ہے۔۔۔۔ مومن کے دین میں کچھ اور ہو اور اس کے ماحول میں کچھ اور ہو ، یہ دہری زندگی وہ برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا ہے کہ ایمان کو دل سے نکال دے اور جدھر ہوا چلتی ہے ادھر چلنے لگے۔ اس لئے ایک شخص کے مومن ہوتے ہی اس کی اس کے ماحول کے ساتھ جنگ شروع ہوجاتی ہے جسے جہاد کہا جاتا ہے۔ اور یہ جہاد اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک مومن کے گرد پھیلی ہوئی اس جاہلیت کو ختم نہیں کردیا جاتا۔
اولئک ھم الصدقون (49 : 15) “ ایسے ہی لوگ سچے ہیں ”۔ یہ اپنے عقیدے اور نظریہ میں سچے ہیں اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل کا ایمان مسلح ہو کر ان کے ماحول کے ساتھ نہیں ٹکراتا جو زندگی کی عملی صورت میں ایمان سے متضاد ہے تو سمجھو کہ ایمان نہیں ہے۔ عقیدے اور نظریات میں ایسا شخص سچا نہیں ہے۔
اس آیت میں لفظ انما کے ساتھ حصر قابل ملاحظہ ہے۔
انما المؤمنون الذین امنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا (49 : 15) “ حقیقت میں تو مومن وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا ”۔ غرض ایمان صرف عبادت ہی نہیں ہے۔ ایمان مجرد شعوری حالت کا نام بھی نہیں ہے اور یہ اس حالت کے اندر کوئی ردو بدل بھی نہیں ہے جو نفس کے اندر ہوتی ہے۔ ایمان کے بعد لم یرتابوا (49 : 15) “ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا ”۔ اور اس کے ساتھ اس آیت کی حصر بھی درج ذیل آیت کے مشابہ ہے۔
ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ وہ لوگ جنہوں نے کہا ، ہمارا رب اللہ ہے اور اس کے بعد انہوں نے استقامت اختیار کی ”۔ یہ کہنے کے بعد کہ اللہ ہمارا رب ہے ، کوئی شک نہ کرنا اور استقامت اختیار کرنا ، اس طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات نفس مومن پر ، مختلف تجربات اور مختلف مشکلات کے نتیجے میں اور بعض شدید آزمائشوں کے نتیجے میں ، شکوک و اضطرابات پیدا ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز میں بعض اوقات انسانوں پر سخت شدائد آتے ہیں لیکن ایک سچے مومن کے دل میں کوئی اضطراب اور کوئی شک پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ ثابت قدم رہتا ہے۔ اور اس کے اندر کوئی تزلز پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا اپنے خدا پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور وہ آگے ہی بڑھتا رہتا ہے۔
اس انداز میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو اس بات پر متنبہ کردیا جائے کہ اس راہ میں بہت سی مشکلات ، مقامات لغزش اور مقامات خطرہ موجود ہیں تا کہ ایک مومن اپنے عزم کو پختہ کرلے ، اپنی تیاری خوب کرے اور سیدھا سیدھا چلے ۔ اور جب افق پر دھند چھا جائے تو اسے شک نہ ہونے لگے اور وہ طوفانوں اور آندھیوں کی نذر نہ ہوجائے۔
آیت 15 { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا } ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہرگز نہیں پڑے“ یعنی ایسے لوگوں کا ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو کر یقین کی ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ ان کے دلوں کے اندر شک کی کوئی گنجائش رہی ہی نہیں۔ جیسے قبل ازیں آیت 7 میں صحابہ رض کے بارے میں فرمایا گیا : { وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”لیکن اے نبی ﷺ کے ساتھیو ! اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر رچا بسا دیا ہے۔“ جب تک ایمان دل میں راسخ نہیں ہوا اور ابھی صرف زبان پر ہے آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ… تو یہ اسلام ہے۔ اسی لیے اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر بتائی گئی ہے : بُنِیَ الاِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ…الحدیث ان میں یقین قلبی شامل نہیں ہے ‘ بلکہ نظریاتی طور پر صرف توحید و رسالت کی گواہی دے کر اور اس کے بعد نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج کا التزام کر کے اسلام کا تقاضا پورا ہوجاتا ہے۔ لیکن ایمان اس سے اوپر کی منزل ہے۔ گویا مذکورہ پانچ شرائط پہلی شرط کا تعلق نظریے سے جبکہ باقی چار کا تعلق عمل سے ہے پوری کر کے جو شخص ”مسلمان“ ہوگیا اسے ”مومن“ بننے کے لیے کچھ اضافی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی اور آیت زیر مطالعہ کی رو سے یہ اضافی دو شرائط ہیں ‘ یعنی ”شہادت“ کے ساتھ یقین قلبی لَمْ یَرْتَابُوْا کی کیفیت کا اضافہ ہوگا اور اعمال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا : { وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ } ”یہی لوگ ہیں جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔“ گویا کسی شخص کو ”حقیقی مومن“ بننے کے لیے مذکورہ ساتوں شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ پہلی پانچ شرائط ”اسلام“ میں داخل ہونے کے لیے جبکہ آخری دو شرائط ”ایمان“ کی منزل حاصل کرنے کے لیے۔ اسلام اور ایمان کے اس فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک مومن لامحالہ ”مسلم“ تو ہوگا ہی لیکن ہر ”مسلم“ مومن نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور ایمان کی اس بحث میں لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ زبان سے : ”آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ…“ کا دعویٰ کرنا تو آسان ہے مگر دل میں حقیقی ایمان پیدا کرنا اور پھر اس ایمان کے تقاضے پورے کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی ”ایمانی کیفیت“ کا جائزہ لیتا رہے۔ خصوصی طور پر اس حوالے سے یہ حقیقت تو ہمیں کسی لمحے بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہم باطل نظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس حالت میں اگر ہم اس نظام کو ذہنی طور پر قبول کر کے اس کی چاکری کرنا شروع کردیں گے ‘ یعنی اس نظام کے تحت اپنی معیشت کی ترقی اور اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں لگ جائیں گے تو ایسی صورت میں ہمیں اپنے ایمان کی خبر لینے کی ضرورت ہوگی۔ دراصل کسی ملک یا معاشرے میں غلبہ باطل کی صورت میں ایک بندہ مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ اس نظام کے تحت حالت احتجاج میں رہتے ہوئے زندگی بسر کرے۔ اور اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ 1 کے مصداق باطل نظام کے تحت وہ ایسے رہے جیسے ایک قیدی جیل کے اندر رہتا ہے۔ یعنی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے میں وہ اپنی کم سے کم توانائی صرف کرے اور ان ضروریات کو بھی کم سے کم معیار subsistance level پر رکھے ‘ جبکہ اپنا باقی وقت اور اپنی بہترین صلاحیتیں نظام باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں کھپا دے۔ ع ”گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں !“ اگر باطل نظام کے تحت رہتے ہوئے ایک مرد مسلمان کی زندگی کے شب و روز کا نقشہ ایسا نہیں تو بیشک قانونی طور پر وہ اپنے ملک کا ایک مسلمان شہری ہے ‘ اپنے مسلمان باپ کی وراثت کا حقدار ہے ‘ مسلمان عورت سے شادی کرسکتا ہے اور اس طرح کے دوسرے تمام قانونی حقوق سے بھی مستفید ہوسکتا ہے ‘ لیکن ایسا ”مسلمان“ اللہ کے ہاں ”مومن“ شمار نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کے بارے میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اس کا آغاز ”اِنّما“ سے ہو رہا ہے اور آخر پر ”اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی آیت کا آغاز بھی اسلوبِ حصر سے ہو رہا ہے اور اختتام پر بھی اسلوبِ حصر آیا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ مومن تو ہیں ہی صرف وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان نے ”یقین“ کی شکل اختیار کرلی اور پھر انہوں نے اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں کھپا دیا۔ اور صرف یہی لوگ ہیں جو اپنے ایمان کے دعوے میں سچے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین ‘ ثم آمین ! آیت کے آخر میں ان مومنین کو جو سر ٹیفکیٹ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ عطا ہوا ہے اس کی اہمیت کو سورة التوبہ کی آیت 119 کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة التوبہ کی مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو صادقین کے ساتھ شامل ہونے کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ کا حکم دیا گیا ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ”صادقین“ کون ہیں۔ اس نکتے کو اس طرح سمجھیں کہ آیت زیر مطالعہ میں مومنین صادقین کی دو نشانیاں ایمان حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ ہماری راہنمائی کے لیے بتائی گئی ہیں کہ مسلمانو ! اٹھو ‘ اس ”چراغ“ کی روشنی میں ”مومنین ِصادقین“ کو تلاش کرو اور پھر ان کے مشن کی جدوجہد میں ان کے دست وبازو بن جائو ! حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ امیر معاویہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لاَ یَزَالُ مِنْ اُمَّتِیْ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌ بِاَمْرِ اللّٰہِ ، لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَذَلَھُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَھُمْ ، حَتّٰی یَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ وَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ 1 ”میری امت میں سے ایک گروہ اللہ کے حکم کو قائم کرنے والا ہمیشہ موجود رہے گا۔ ان کا ساتھ چھوڑ دینے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ‘ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا ‘ اور وہ اسی پر قائم ہوں گے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ”مومنین صادقین“ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں تلاش کریں اور { کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ } کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ان کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں تاکہ { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } الفتح : 29 کی طرز پر ایک مضبوط ”حزب اللہ“ تشکیل پا سکے۔ ظاہر ہے افراد کے اتحاد کے بغیر نہ تو کوئی جمعیت وجود میں آسکتی ہے ‘ نہ اقامت دین کی جدوجہد آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی ”اظہارِ دین حق“ کی شان تکمیلی کا ظہور ممکن ہوسکتا ہے۔