سورۃ الحجرات: آیت 16 - قل أتعلمون الله بدينكم والله... - اردو

آیت 16 کی تفسیر, سورۃ الحجرات

قُلْ أَتُعَلِّمُونَ ٱللَّهَ بِدِينِكُمْ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، اِن (مدعیان ایمان) سے کہو، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul atuAAallimoona Allaha bideenikum waAllahu yaAAlamu ma fee alssamawati wama fee alardi waAllahu bikulli shayin AAaleemun

آیت 16 کی تفسیر

اس کے بعد یہی بیان جاری رکھتے ہوئے ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ تو تمہارے دلوں اور نیتوں سے بھی واقف ہے ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو تمہیں تمہارے دلوں کی باتیں بناتا ہے اور اللہ تم سے علم حاصل نہیں کرتا۔

قل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اے نبی ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ انسان اپنے علم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے نفس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے آپ کی شعوری دنیا کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں رکھتا۔ اور نہ اسے اپنے نفس کی پوری حقیقت معلوم ہے اور نہ شعور اور لاشعور کی۔ انسان یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی عقل کس طرح کام کرتی ہے۔ کیونکہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو اس وقت وہ خود اپنے دماغ کا ملاحظہ (observation) نہیں کرسکتا۔ اور جب وہ اپنے نفس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا وہ کام رک جاتا ہے جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ملاحظہ کے لئے کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ اور جب انسان کسی کام میں لگا ہوتا ہے اس وقت وہ نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان خود اپنی ذات کی حقیقی معرفت سے بھی عاجز ہے۔ اور اس کے معلوم کرنے سے بھی عاجز ہے کہ انسانی دماغ کس طرح کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی تو وہ چیز ہے جس پر انسان نازاں ہے۔

واللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض (49 : 16) “ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے ”۔ حقیقی علم اللہ کے پاس ہے ہم تو صرف ظاہری علم جانتے ہیں ، جبکہ اللہ ہر چیز کی ماہیت اور حقیقت سے واقف ہے۔ اور اللہ کا علم شامل ، محیط اور لا محدود ہے اور ازلی اور ابدی ہے۔

واللہ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ یعنی ہر چیز جس پر چیز کا اطلاق ہوتا ہے۔ وہ علم محیط رکھتا ہے۔ یہ بیان کرنے کے بعد کہ تم ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے ہو اور نہ تم نے اس کی حقیقت کا ادراک کیا ہے ، روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے کہ یہ لوگ آپ پر اپنے اسلام کا احسان رکھتے ہیں ان کا احسان جتلانا ہی اس بات کی شہادت ہے کہ وہ حقیقت ایمان کا ادراک نہیں کرسکے۔ اور انہوں نے ابھی تک ایمان کی مٹھاس کو چکھا نہیں ہے۔

آیت 16 { قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰہَ بِدِیْنِکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے : کیا تم اللہ کو جتلانا چاہتے ہو اپنادین ؟“ مثل مشہور ہے ”تھو تھا چنا باجے گھنا“۔ یعنی جو برتن خالی ہوگا وہ کھنکھنانے پر بھرے ہوئے برتن کی نسبت زیادہ آواز دے گا۔ ان لوگوں کے دل چونکہ حقیقی ایمان سے خالی تھے اس لیے وہ اپنے ایمان کا بڑھ چڑھ کر پرچار کرتے تھے اور حضور ﷺ پر احسان دھرتے تھے کہ دیکھیں ! ہم تو لڑے بھڑے بغیر اسلام لے آئے ہیں ‘ اس لیے اب ہمارے حقوق بھی زیادہ ہونے چاہئیں۔ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔“ { وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ”اللہ تو ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔“ اگر حقیقی ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوتا تو انہیں یہ بھی یقین ہوتا کہ اللہ عالم الغیب ہے ‘ دنیا ومافیہا کی ہرچیز اس کے علم میں ہے ‘ اس لیے اس کے سامنے کسی کو اپنے ایمان کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

آیت 16 - سورۃ الحجرات: (قل أتعلمون الله بدينكم والله يعلم ما في السماوات وما في الأرض ۚ والله بكل شيء عليم...) - اردو