سورۃ الاسراء: آیت 107 - قل آمنوا به أو لا... - اردو

آیت 107 کی تفسیر, سورۃ الاسراء

قُلْ ءَامِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوْ لَا تُؤْمِنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهِۦٓ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul aminoo bihi aw la tuminoo inna allatheena ootoo alAAilma min qablihi itha yutla AAalayhim yakhirroona lilathqani sujjadan

آیت 107 کی تفسیر

یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔

یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش میں آتے ہیں اور ان کے تاثرات آنسوئوں کی شکل میں باہر آجاتے ہیں۔

ویخرون للاذقان یبکون (81 : 901) ” اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں “۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًااس آیت میں یہود کے بعض علماء کی طرف اشارہ ہے۔

سماعت قرآن عظیم کے بعد فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں تم مانو یا نہ مانو قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک برحق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آ رہا ہے۔ جو اہل کتاب، صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بےچین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلظ نہیں ہوتا۔ آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں ایمان و تصدیق اور کلام الہٰی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت وتقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے سجدے کا سجدے پر نہیں۔

آیت 107 - سورۃ الاسراء: (قل آمنوا به أو لا تؤمنوا ۚ إن الذين أوتوا العلم من قبله إذا يتلى عليهم يخرون للأذقان سجدا...) - اردو