سورۃ الاسراء (17): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Israa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الإسراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الاسراء کے بارے میں معلومات

Surah Al-Israa
سُورَةُ الإِسۡرَاءِ
صفحہ 293 (آیات 105 سے 111 تک)

وَبِٱلْحَقِّ أَنزَلْنَٰهُ وَبِٱلْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَقُرْءَانًا فَرَقْنَٰهُ لِتَقْرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَٰهُ تَنزِيلًا قُلْ ءَامِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوْ لَا تُؤْمِنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهِۦٓ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩ قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَٱبْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٌ فِى ٱلْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ وَلِىٌّ مِّنَ ٱلذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًۢا
293

سورۃ الاسراء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الاسراء کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمدؐ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اُسے) متنبہ کر دو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wabialhaqqi anzalnahu wabialhaqqi nazala wama arsalnaka illa mubashshiran wanatheeran

نزول قرآن کا مقصد ایک امت کی تشکیل و تربیت تھا۔ پھر اس امت کے لئے ایک نظام حیات کی تشکیل قرآن کے پیش نظر تھی تاکہ یہ امت قرآن اور اس نظام کو لے کر اکناف عالم میں پھیل جائے۔ اور تمام انسانیت کو اس مکمل اور خود کفیل نظام حیات کی تعلیم دے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب متفرق طور پر مختلف اوقات میں اس امت کی واقعی ضرورت کے مطابق اترتی رہی۔ اور ان حالات کے مطابق اس کا نزول ہوتا رہا۔ جن حالات میں اس امت کی دو اول میں تربیت ہو رہی تھی۔ چونکہ مقصد ایک امت کی تربیت تھا۔ اس لئے نزول قرآن بھی متفرق طور پر ایک طویل عرصے تک ہوتا رہا کیونکہ کسی جماعت کی تربیت کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ یہ تربیت عملی تجربات کی شکل میں ایک طویل عرصہ تک ہوتی رہتی ہے۔ چناچہ یہ قرآن آیا اور اس نے اپنے ایک ایک جزئی حکم کو عملی مرحلے میں نافذ کیا اور وہ ایک نظام کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ نظام محض نظریاتی قانون سازی کی شکل میں نہیں آیا۔ نہ یہ مجرد فکر اور نظریہ کی شکل میں پیش ہوا ، کیونکہ نظریاتی بحثیں محض ذہنی عیاشی اور محض پڑھنے پڑھانے کے لئے ہوتی ہیں۔

یہ تھی قرآن مجید کے متفرق نزول کی حکمت۔ اور یہی وہ تھی کہ قرآن مجید کو یکبار ایک کتاب کی شکل میں نہیں اتارا گیا۔ قرآن کریم مسلمانوں کی پہلی نسل نے خد اور سول سے اس طرح اخذ کیا کہ یہ ان کے لئے ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں عملی ہدایات تھیں۔ جب بھی کوئی امر آیا یا نہی وارد ہوئی ، جب بھی کوئی اخلاقی ادب سکھایا گیا یا کوء فریضہ نازل ہوا تو یہ عمل کے لئے تھا۔ مسلمانوں نے قرآن مجید کو محض پڑھنے پڑھانے اور ذہنی اور نظریاتی اور نفسیاتی عیاشی کے طور پر نہیں لیا۔ جیسا کہ وہ شعر و ادب کو لیتے تھے۔ نہ وہ لہو ولعب کے طور پر اسے لیتے تھے جس طرح وہ قصے کہانیوں کو بطور لہو و لعب استعمال کرتے تھے۔ جب بھی قرآن نازل ہوا انہوں نے اس کی کیفیات کو اپنے اوپر طاری کردیا۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسے عملی شکل دے دی۔ ان کا شعور اور ان کا ضمیر اس رنگ میں رنگا گیا۔ قرآن ان کے طرز عمل اور ان کی سرگرمیوں پر چھا گیا۔ ان کے گھروں ، ان کے بازاروں میں قرآن کا دور دورہ ہوگیا اور وہ ان کے لئے ایک نظام زندگی بن گیا اور انہوں نے قرآن کے علاوہ ہر طور طریق کو ترک کردیا۔ جو طور طریقے ان کو وراثت میں جاہلیت سے ملے تھے یا جن کو وہ جانتے تھے یا جن کے مطابق وہ نزول قرآن سے قبل چل رہے تھے۔

حضرت ابن مسعود ؓ فرمتے ہیں کہ ہم میں سے جو شخص دس آیات پڑھ لیتا تھا تو وہ آگے نہ بڑھتا تھا جب تک وہ ان کا مفہوم نہ جان لیتا اور ان پر عمل نہ کرلیتا۔

اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن مجید حق پر قائم ہوتے ہوئے اتارا ہے۔

وبالحق انزلنہ (71 : 501) ” اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے “۔ یہ اس لئے نازل ہوا کہ زمین پر سچائی کو مستقلا ٹھہرا دے اور اس کی بنیادیں مضبوط کردے۔

وبالحق نزل (71 : 501) ” اور یہ قرآن بھی حق کے ساتھ اترا “۔ گویا اس کا مواد بھی سچائی پر مشتمل ہے اور اس کی غرض وغایت بھی سچائی ہے۔

اس کا بنیادی عصر ہی سچائی ہے اور اس کی اہم تعلمات بھی سچائی پر مبنی ہیں۔ وہ حق اور سچائی جو اس کائنات میں کارفرما ناموس قدرت کی شکل مین رواں اور جس حق و سچائی کی قوت پر یہ کائنات قائم ہے ، اور جس سچائی کے ساتھ یہ کائنات اور ارض و سما پیوستہ ہیں اسی کے ساتھ یہ قرآن بھی مربوط ہے۔ یہاں قرآن اسی نظام کائنات (حق) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہی سمجھتاتا ہے کہ یہ قرآن بھی اس عظیم تکوینی سچائی کا ذریعہ ہے۔ پس حق قرآن مجید کا جسم و جان ہے اور حق ہی اس کا بنیادی عنصر اور اس کا مقصود ہے اور رسول مبشر ، نذیر اور مبلغ ہے اس عظیم سچائی کا ، جسے وہ لے کر آیا ہے۔

یہاں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس حق کے ذریعے اپنی قوم کا مقابلہ کریں۔ اور انہیں چھوڑ دیں کہ وہ جو راہ اختیار کرنا چاہیں اختیار کریں۔ اگر چاہیں تو قرآن پر ایمان لائیں ، اگر چاہیں تو نہ لائیں۔ لیکن وہ جو راہ بھی اختیار کریں گے اس راہ کے نتائج و عواقب کے وہ ذمہ دار ہوں گے اور ان لوگوں کے سامنے بطور مثال ان اہل کتاب کو پیش کردیں ، یہودو نصاریٰ کو ان میں سے جنہوں نے قرآن مجید پر ایمان لایا ہے۔ شاید کہ وہ ان کے لئے اچھی مثال کا کام کریں۔ کیونکہ قریش تو امی ہیں۔ ان کہ پاس نہ تو تعلیم ہے۔ اور نہ ان کو اس سے قبل کوئی کتاب دی گئی ہے۔

اردو ترجمہ

اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سناؤ، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waquranan faraqnahu litaqraahu AAala alnnasi AAala mukthin wanazzalnahu tanzeelan

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul aminoo bihi aw la tuminoo inna allatheena ootoo alAAilma min qablihi itha yutla AAalayhim yakhirroona lilathqani sujjadan

یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔

یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش میں آتے ہیں اور ان کے تاثرات آنسوئوں کی شکل میں باہر آجاتے ہیں۔

ویخرون للاذقان یبکون (81 : 901) ” اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں “۔

اردو ترجمہ

اور پکار اٹھتے ہیں "پاک ہے ہمارا رب، اُس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayaqooloona subhana rabbina in kana waAAdu rabbina lamafAAoolan

اردو ترجمہ

اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayakhirroona lilathqani yabkoona wayazeeduhum khushooAAan

ویزیدھم خشوعا (71 : 901) ” اور قرآن کو سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے “۔ جبکہ اس سب قتل وہ نہایت ہی خشوع اور عاجزی سے اس کا استقبال کرچکے تھے۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جو نہایت ہی گہرے شعوری تاثرات کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ فیوض قرآن سے مسفتید ہونے کے لئے اپنے دلوں کو کھول دیتے ہیں ، جو قرآن مجید کی حقیقت ، اس کی قدر و قیمت اور اس کی تعلیمات کو جانتے ہیں اور جو لوگ قرآن سے قبل کتب الہیہ کے علوم سے واقف ہوتے ہیں ایسے لوگ قرآن کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، اس لئے کہ حقیقی علم وہی ہے جو کتب سماوی نے دیا ہے اور جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یہ منظر یہاں ایسے حالات میں پیش کیا گیا ہے کہ اہل مکہ نہایت ہی خلجان اور حیرت میں تھے کہ وہ اس علم کو قبول کریں یا نہ کریں جو قرآن دیتا ہے۔ ایسے حالات میں علمائے اہل کتاب کا یہ منظر پیش کرنے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کی ذات کو کوئی جس نام سے پکارے پکار سکتا ہے۔ اس کے لئے کئی اسمائے حسنی ہیں۔ جاہلیت میں یہ لوگ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ رحمن کو اللہ کا نام نہ سمجھتے تھے اس لئے کہا گیا کہ اللہ کے اسمائے صفات بیشمار ہیں جن سے چاہو ، اسے پکارو۔

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اُس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Quli odAAoo Allaha awi odAAoo alrrahmana ayyan ma tadAAoo falahu alasmao alhusna wala tajhar bisalatika wala tukhafit biha waibtaghi bayna thalika sabeelan

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔

ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔

جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔

اردو ترجمہ

اور کہو "تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو" اور اس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waquli alhamdu lillahi allathee lam yattakhith waladan walam yakun lahu shareekun fee almulki walam yakun lahu waliyyun mina alththulli wakabbirhu takbeeran
293