سورۃ الاسراء: آیت 16 - وإذا أردنا أن نهلك قرية... - اردو

آیت 16 کی تفسیر, سورۃ الاسراء

وَإِذَآ أَرَدْنَآ أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا۟ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا ٱلْقَوْلُ فَدَمَّرْنَٰهَا تَدْمِيرًا

اردو ترجمہ

جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha aradna an nuhlika qaryatan amarna mutrafeeha fafasaqoo feeha fahaqqa AAalayha alqawlu fadammarnaha tadmeeran

آیت 16 کی تفسیر

واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا مترفیھا ففسقوا فیھا فحق علیھا القول فدمر نھا تد میرا (71 : 61) ” جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں “۔

یہ مترفین کون لوگ ہوتے ہیں ؟ یہ کبراء کا وہ طبقہ ہے جو مالدار اور کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ نوکر ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ آرام طلب ہوتے ہیں اور خوشحالی ، عزت اور قیادت ان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ ڈھیلے ڈھانے ، گندے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور یہ لوگ اعلیٰ اقدار ، مذہبی مقدسات اور شرف و وقار کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور عیاشی اور فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جب ایسے لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں ہے تو وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ پھر وہ پوری امت میں فحاشی اور بےراہ روی پھیلاتے ہیں۔ اور جن اعلیٰ اقدار کی وجہ سے دنیا میں اقوام بنتی ہیں اور عروج حاصل کرتی ہیں ان کو ایسے لوگ سرعام پامال کرتے ہیں۔ یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اور اس میں سے زندگی ، قوت اور ترقی کے عناصر ختم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یوۃ وہ امت آخر کار تباہ ہو کر نیست و نابو دہوجاتی ہے۔

اس آیت میں اللہ کی اسی سنت پر بحث کی گئی ہے جب اللہ کسی امت کی ہلاکت کا فیصلہ کردیتا ہے ، اس لئے کہ اس نے اپنی بربادی کے تمام اسباب خود مکمل کردئیے ہوتے ہیں تو اس میں قسم کے مترفین زیادہ ہوجاتے ہیں۔ پھر اللہ کے ایسے لوگوں کی رسی ڈھیلی کردیتا ہے ، کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ یہ مترفین امت کے قائدین بن جاتے ہیں ، فسق و فجورعام ہوجاتا ہے ، یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اس میں سستی آجاتی ہے ، اس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے ، اور اچانک وہ ہلاک اور برباد ہوجاتی ہے۔ اس ہلاکت کی ذمہ داری پھر پوری امت پر ہوتی ہے کیونکہ امت کے افراد میں سے کسی نے ، جماعتوں میں سے کسی نے مترفین کے ہاتھ نہیں پکرے۔ نظام کی اصلاح کے لئے اجتماعی سعی اور جدوجہد نہیں کی۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ قوم کے اندر مترفین کو پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ ان کا وجود ہی اس بات کی علامت ہے کہ قوم پر ہلاکت آنے والی ہے۔ اگر کسی امت کا اجتماعی نظام ایسے لوگوں کی راہ روک دے اور ان کو پیدا ہونے ہی نہ دے تو امت ہلاکت سے بچ سکتی ہے۔ کیونکہ ہلاکت کا سبب صرف یہ مترفین اور ان کا فسق و فجور ہوتا ہے۔ یہی لوگ کسی امت اور سوسائٹی کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔

اللہ نے انسانیت کے لئے ایسے فطری قوانین مقرر کیے ہیں ، جو اٹل ہیں اور ان میں کبھی بھی تخلف یا استثناء نہیں ہوتی۔ یہ ناقابل تبدل سنن الہیہ ہیں۔ ان نوامیس اور سنن کے مطابق جب کسی واقعہ کے لئے اسباب فراہم ہوجاتے ہیں تو وہ واقعہ ہوجاتا۔ یوں اللہ کا ارادہ پورا ہوجاتا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور اس کی بات پوری ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ کسی کو فسق و فجور کا حکم نہیں دیتا۔ وہ فحاشی کا حکم کبھی نہیں دیتا۔ اس لئے اگر کسی سوسائٹی میں طبقہ مترفین پایا جاتا ہے تو اس کا وجود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس سوسائٹی نے اپنی ہلاکت کے اسباب پیدا کرنا شروع کردئے ہیں۔ اس کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں اور یہ تتر بتر ہونے والی ہے۔ اور وہ تقدیر الٰہی کے مطابق اپنے قدرتی انجام تک پہنچنے والی ہے۔ ہو یہ کہ سنت الہیہ کے فیصلے کے مطابق وہ ان مترفین کی وجہ سے نیست ونابود ہوگئی۔ کیونکہ اس نے کود اپنے اندر اس طبقہ مترفین کو پیدا ہونے دیا۔

اب یہاں ارادہ الہیہ سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ پکر پکڑ کر مترفین کو پیدا کرتا ہے اور وہ پھر مجبور ہو کر فسق و فجور کرتے ہیں اور اللہ زبردستی کرکے کسی سے اس کی ہلاکت کے اسباب پیدا کراتا ہے۔ بلکہ دراصل اسباب وہ سوسائٹی خود فراہم کرتی ہے اور سنن الیہ کے مطابق نتیجہ بعد میں مرتب ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ قانون فطرت اور سنت الہیہ اللہ کی جاری کردہ ہے۔ لیکن ہلاکت کا حقیقی سبب وجود مترفین اور فسق و فجور ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سو سائٹی پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاں نظام اجتماعی میں پائے جانے والے خلل کو دور کردے اور مترفین کو فسق و فجور کرنے سے روکا جائے تاکہ سنن الیہ کے مطابق پوری سوسائٹی پر ہلاکت اور بربادی کا عذاب نہ آجائے۔

قرون اولیٰ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد یہ سنت جاری وساری ہے۔ زمانوں کے بعد زمانے گزر گئے اور یہی ہوتا رہا ہے۔ جب بھی کسی امت میں فسق و فجور عام ہوا وہ ہلاک ہوئی۔ اور اللہ اپنے بندوں کی بداعمالیوں سے اچھی طرح خبردار ہے۔

فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًایہاں کسی بستی پر عذاب استیصال کے نازل ہونے کا ایک اصول بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اس کا سبب وہاں کے دولت مند اور خوشحال لوگ بنتے ہیں۔ یہ لوگ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی دیدہ دلیری کے سبب ان کی رسی مزید دراز کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی عیاشیوں اور من مانیوں میں تمام حدیں پھلانگ کر پوری طرح عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں عوام انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بھی ان کے ساتھ جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں اور یوں ایسا معاشرہ اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ ایسے میں صرف وہی لوگ عذاب سے بچ پاتے ہیں جو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہے ہوں۔

آیت 16 - سورۃ الاسراء: (وإذا أردنا أن نهلك قرية أمرنا مترفيها ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمرناها تدميرا...) - اردو