سورۃ الاسراء (17): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Israa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الإسراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الاسراء کے بارے میں معلومات

Surah Al-Israa
سُورَةُ الإِسۡرَاءِ
صفحہ 283 (آیات 8 سے 17 تک)

عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَٰفِرِينَ حَصِيرًا إِنَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا وَأَنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَدْعُ ٱلْإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلْخَيْرِ ۖ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ عَجُولًا وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ ءَايَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَآ ءَايَةَ ٱلَّيْلِ وَجَعَلْنَآ ءَايَةَ ٱلنَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا۟ فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ فَصَّلْنَٰهُ تَفْصِيلًا وَكُلَّ إِنسَٰنٍ أَلْزَمْنَٰهُ طَٰٓئِرَهُۥ فِى عُنُقِهِۦ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ كِتَٰبًا يَلْقَىٰهُ مَنشُورًا ٱقْرَأْ كِتَٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ ٱلْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا مَّنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا وَإِذَآ أَرَدْنَآ أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا۟ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا ٱلْقَوْلُ فَدَمَّرْنَٰهَا تَدْمِيرًا وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ ٱلْقُرُونِ مِنۢ بَعْدِ نُوحٍ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًۢا بَصِيرًا
283

سورۃ الاسراء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الاسراء کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کا فر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAasa rabbukum an yarhamakum wain AAudtum AAudna wajaAAalna jahannama lilkafireena haseeran

عسبی ربکم ان یرحمکم (71 : 8) ” ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر حم کرے “۔ اگر تم اپنی تاریخ سے عبرت حاصل کرو۔

لیکن یاد رکھو اگر تم نے سرکشی کا یہ عمل پھر دہرایا تو اس کے نتائج پھر ظاہر ہوں گے۔ اللہ کی سنت جاری وساری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

وان عدتم عدنا (71 : 8) ” لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے “۔ ہاں انہوں نے پھر فساد کیا ، اللہ نے ان پر مسلمانوں کو مسلط کردیا اور ان کو جزیرۃ العرب سے خارج ۔۔ کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے پوری دنیا میں فساد کیا تو اللہ نے ان پر اپنے اور بندوں کو مسلط کردیا اور ہٹلر نے ان کی گوشمالی کی۔ اور دور حاضر ہوں انہوں نے پھر فساد اور سرکشی شروع کردی ہے۔ اسرائیل کی شکل میں منطم ہو کر انہوں نے پورے شرق اوسط کو مصائب میں مبتلا کردیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان پر اللہ کسی ایسی قوم کو مسلط کردے جو ان کو ان کی سرکشی کی پوری سزا دے تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پورا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ قطعی ہے کہ اگر تم نے پھر ایسا کیا تو ہم ۔۔ ایسا کریں گے۔ اور وہ وقت دور نہیں کہ بنی اسرائیل اپنے کیے کا مزہ چکھ لیں۔

اب یہاں سیاق کلام اہل کفر کے اخروی انجام کی طرف ہوجاتا ہے کیونکہ اکثر مقصد ۔۔ کافر ہی ہوتے ہیں ان کے درمیان یک رنگی ہوتی ہے۔

وجعلنا جھنم لککفرین حصیرا (71 : 8) ” اور کافروں کے لئے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا دیا ہے “۔ یہ جہنم اس طرح ان کو گھیر لے گی کہ ان میں سے کوئی اسے بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ جہنم اس قدر وسیع ہوگی کہ سب اس میں سماجائیں گے۔

سبق کے اس حصے میں تاریخ بنی اسرائیل کا یہ پہلو بیان ہوا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی کہ یہ لوگ اس سے ہدایت لیں۔ لیکن انہوں نے ہدایت نہ لی بلکہ گمراہ ہوئے اور اللہ کی ہلاکت نے ان کو آلیا۔ اب سیاق کلام قرآن کریم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کہ اس طرح یہ قرآن بھی نہایت ہی ٹھوس تعلیمات پیش کر رہا ہے۔

اردو ترجمہ

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna hatha alqurana yahdee lillatee hiya aqwamu wayubashshiru almumineena allatheena yaAAmaloona alssalihati anna lahum ajran kabeeran

یہ قرآن راہ راست دکھاتا ہے۔ یہ ہر قسم کی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور ہر کسی کے لئے منبع ہدایت ہے۔ بغیر کسی حدود وقیود کے۔ انسانوں کی راہنمائی کے لئے جس ہدایت ، جس نظام کی ضرورت ہے وہ اس میں موجود ہے۔ ہر دور اور ہر قسم کے معاشرے میں۔

انسانی ضمیر و شعور کو یہ ایک واضح عقیدہ اور صاف و سادہ خیالات عطا کرتا ہے ، ایسے عقائد و تصورات جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ خیالات انسانی شعور کو وہم و گمان ، اوہام و خرافات سے پاک کرکے اس کی سوچ کو قوانین قدرت اور ۔۔۔۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔

پھر یہ قرآن انسان کے ظاہر و باطن کو باہم مربوط کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور عمل کو باہم یکساں کرتا ہے اور انسانی نظریات اور اعمال کے اندر ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ گویا انسان کی شخصیت کے تمام پہلو ایک ہی رسی میں بندھ جات ہیں ، زمین پر انسان کے اعمال و خیالات عالم بالا کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں ، انسان اس دنیا میں جو جدوجہد کرتا ہے ، وہ عبادت بن جاتی ہے۔

عبادات میں بھی اس کی پالیسی اور ہدایت نہایت ہی متوازن ہے۔ وہ صرف اس قدر عبادت اور بندگی کا حکم دیتا ہے جس قدر انسان کے بس میں ہو۔ ایسے احکام نہیں دیتا کہ انسان کے اندر ان کی تعمیل کی طاقت ہی نہ ہو۔ یہ انسان کو سستی اور عیش پرستی کے حولاے بھی نہیں کرتا کہ انسان عیش پرست ہوجائے بلکہ ہر میدان میں اس کی ہدایات توازن و اعتدال پر مبنی ہیں۔

اس میں انسانوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں بھی نہایت ہی مستحکم ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک فرد اور فرد کے تعلقات کے بارے میں ، میاں اوری بیوی کے بارے میں ، حاکم و محکوم کے بارے میں ، اقوام اور حکومتوں کے بارے میں۔ یہ کتاب اس قسم کے تمام روابط کو نہایت ہی مستحکم بنیادوں پر قائم کرتی ہے ، ایسی مستحکم بنیادیں جو آراء اور خواہشات سے متاثر نہیں ہوتیں۔ دوستی اور دشمنی سے بھی ان اصولوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اغراض و مفادات بھی ان روابط کو متاثر ہے ، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر قسم کی سرزمین اور ہر علاقے کے لئے جامع ہدایت کیا ہے ، اس طرح اس نے اس کتاب میں ایک ایسا جامع نظام مرتب کردیا جو دنیا کے تمام انسانوں کی قانونی ، معاشی ، اجتماعی اور اخلاقی ضروریات کے لئے مستحکم ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔

اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔

اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہے۔ چناچہ جب انسان اس کتاب سے ہدایات اخذ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں تمام انسانوں کے درمیان ایک بھائی چارہ قائم ہوجاتا ہے اور انسان نہایت ہی امن وامان سے رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرا ان وہ راہ دکھاتا ہے ، جو سیدھی اور مستحکم ہے۔

ان ھذا القران یھدی لگتی ھی اقوم و یبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا کبیرا (9) وان الذین لا یومنون بالاخرۃ اعتدنا لھم عذابا الیما (01) (71 : 9۔ 01) ” جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا مہاجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے “۔ عمل اور جزائے عمل کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے نتائج مرتب ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح دونوں ضروری ہیں۔ بغیر ایمان کے عمل مفید نہیں ہے اور بغیر عمل کے صرف ایمان معتبر نہیں ہے۔ اگر ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو تو وہ ناتمام مسلمانی ہے۔ اور عمل بلا ایمان بھی بےبنیاد ہے۔ ایمان اور عمل دونوں ہوں تو زندگی راہ راست پر چلتی ہیں اور ایمان اور عمل دونوں ہوں تو انسان ہدایت اخذ کرسکتا ہے۔

جو لوگ قرآن کریم کی راہ نہیں لیتے وہ انسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور انسان بہت ہی جلد باز ہے۔ وہ اپنے نفع میں بھی جلدی کرتا ہے اور نقصان میں بھی۔ وہ اس قدر جلدی سے آگے بڑھنا چاہتا ہے کہ اپنے جذبات پر اسے کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ آگے ہی بڑھنا چاہتا ہے اگرچہ اس کے سامنے شر ہو۔

اردو ترجمہ

اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waanna allatheena la yuminoona bialakhirati aAAtadna lahum AAathaban aleeman

اردو ترجمہ

انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WayadAAu alinsanu bialshsharri duAAaahu bialkhayri wakana alinsanu AAajoolan

یہ اس لئے کہ وہ معاملات کے انجام سے بالکل بیخبر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور درحقیقت وہ شر ہوتا ہے اور اس کے کے گزرنے میں وہ بہت جلدی کرتا ہے ، بعض اوقات وہ کسی کام کو شر سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ خیر ہوتا ہے۔ غرض انسان کسی بھی کام کے عواقب و نتائج کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جبکہ قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے وہ نہایت ہی سیدھی ، نہایت ہی دھیمی اور پروقار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی رہنمائی والی راہ جدا ہے اور انسان کی خود طے کردہ راہ جدا ہے۔ اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہے۔

سابقہ آیات میں چند معجزانہ اشارات تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے واقعہ معراج اور اس کے اندر پائے جانے والے معجزات ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا معجزانہ طور پر طوفان سے بچنا اور ان لوگوں کی طرف اشارہ جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے۔ تاریخ بنی اسرائیل کے مدوجزر اور اور ان میں اللہ کے معجزانہ فیصلے اور اقوام کے عروج وزوال کے اصول کے طرف اشارہ ” اور انسانی زندگی میں مکافات عمل اور قرآن کریم کی کتاب ہدایت اور منہاج عمل ہونے کی طرف اشارہ۔

ان تمام معجزانہ امور کے بعد اب روئے سخن معجزات کائنات کی طرف پھرجاتا ہے ، ان سابقہ معجزات کا صدور تو پیغمبروں کے ذریعہ ہوا۔ لیکن یہ معجزات ایسے ہیں کہ ہر کسی کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ ان کائناتی معجزات کے ساتھ انسانی زندگی کی جدوجہد اور انسانی اعمال بھی وابستہ ہیں۔ انسانی اعمال اور جدوجہد کا نتیجہ ان قوانین قدرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چناچہ جس طرح انسانی عمل اور مکافات عمل کا اصول کائنات میں رواں دواں ہے ۔ اسی طرح نوامیس فطرت کے اصول بھی انسانی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں ، جس طرح انسانی ، عمران کچھ قواعد پر مبنی ہے ، اسی طرح یہ کائنات بھی بعض قواعد پر مبنی ہے۔ اور اس کے اندر کوئی تخلف نہیں ہوتا۔ رات و دن کا یہ نظام جس طرح نہایت ہی اٹل قواعد پر مبنی ہے اسی طرح سنت الہیہ بھی اس کائنات میں جاری وساری ہے اور اس کے اصول بھی اٹل ہیں ۔ او وہ بھی اسی ژات باری کے ارادے سے چل رہے ہیں جس کے ارادے سے رات و دن چل رہے ہیں۔

اردو ترجمہ

دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WajaAAalna allayla waalnnahara ayatayni famahawna ayata allayli wajaAAalna ayata alnnahari mubsiratan litabtaghoo fadlan min rabbikum walitaAAlamoo AAadada alssineena waalhisaba wakulla shayin fassalnahu tafseelan

وہ قوانین قدرت جو رات و دن کو کنٹرول کرتے ہیں ، انہی کے ساتھ انسان کے کسب اور جدوجہد کا تعلق بھی ہے۔ رات اور دن کی بنیاد پر سالوں کا حساب ہوتا ہے ، انہی کے ساتھ انسانی کسب و عمل بھی منسلک ہے۔ وہ اچھائی کرے یا برائی کرے اس پر جزاء و سزا مرتب ہوگی۔ اسی کے ساتھ ہدایت و ضلالت بھی مربوط ہے۔ اور تمام امور میں انفرادی ذمہ داری کا اصول کارفرما ہے ، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ اسی پر یہ اصول بھی طے ہوا ہے کہ اللہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک رسول نہ بھیج دے۔ اور اسی سے یہ اصول بھی مربوط ہے کہ جب اللہ کسی بستی کو ہلاک کرتا ہے تو تب کرتا ہے کہ اس کے مترفین اس نسبتی میں فسق و فجور اور دنگا فساد برپا کردیتے ہیں۔ اسی پر یہ اصول بھی مبنی ہے کہ بعض لوگ صرف دنیا کو طلب کرتے ہیں اور بعض آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں ، تو اہل دنیا کو اللہ دنیا دیتا ہے اور اہل آخرت کو اللہ آخرت دیتا ہے۔ یہ تمام امور خواہ دینی اور عمرانی ہوں یا تکوینی دونوں ایک ہی ناموس الٰہی کے مطابق چلتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کر رکھا ہے۔ اور یہ ناموس الٰہی اور یہ سنت المیہ اٹل ہے۔ اس کے اصولوں کے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی چیز بھی محض اتفاقی نہیں ہے۔

وجعلنا الیل والنھار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلنا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” دیکھو ، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو۔ اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا۔

رات اور دن اس کائنات کی نہایت ہی بڑی نشانیاں ہیں اور رات اور دن کے نظام کا اصول نہایت ہی دقیق اور باریک اصول پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کبھی کوئی خلل واقع نہیں ہوا ، اس میں کبھی بھی تعطیل واقع نہیں ہوئی ، یہ رات اور ون وائما چل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ (فمحونا) سے مراد کیا ہے۔ تو (فسحونا) کا مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ رات کو روشنی نہیں ہوتی۔ اس میں اس کائنات کی حرکات اور نظارے اچھی طرح نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے کہ دن کی سرگرمیوں اور رنگا رنگیوں کے مقابلے میں رات کو محو اور بےنور کہہ سکتے ہیں۔ دن کھلا ہے جس میں سب کچھ نظر آتا ہے اور رات ذرا محو ہے کہ اس مین دن کی طرح سب کچھ نظر نہیں آتا۔ رات کو محو ، اس لئے رکھا گیا اور دن کو کھلا اس لئے رکھا گیا ہے کہ

لتبتغوا فضلا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والھساب (71 : 21) ” تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو “۔ رات آرام ، سکون اور ملاپ کا وقت ہوتا ہے اور دن جدوجہد ، کسب و کمائی اور قیام و سفر کے لئے ہوتا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کی وجہ سے ماہ و سال کا حساب مکمل ہوتا ہے۔ وعدے کے وقت کا حساب ، موسم اور فصل کا حساب غرض تمام معاملات کا حساب رات اور ان کے نظام سے قائم ہے۔

وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” اور ہم نے ہر چیز کو الگ ممیز کرکے رکھ دیا ہے “۔ یعنی اس کائنات میں کوئی چیز ’ کوئی اہم اور غیر اہم بات ہم نے محض بخت و اتفاق کے حوالے نہیں کی بلکہ وہ ہمارے ناموس قدرت کے مطابق ہے۔ یا قانون قدرت پوری طرح مفصل اور جامع اور دقیق ہے مثلاً رات اور دن کی گردش ہی کو دیکھئے۔ اس سے اس کائنات کے مدبر کی گہری تدبیر کا ثبوت ملتا ہے۔

جس طرح کائنات میں ایک مکمل ضابطہ کارفرما ہے۔ اسی طرح جزاء و عمل اور قانون و مکافات عمل بھی ایک نہایت ہی گہرا اور اٹل ضابطہ ہے۔

اردو ترجمہ

ہر انسان کا شگون ہم نے اُس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اُس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakulla insanin alzamnahu tairahu fee AAunuqihi wanukhriju lahu yawma alqiyamati kitaban yalqahu manshooran

وکل انسان الزمنہ ئرہ فی عنقہ انخرج لہ یوم القیمۃ کتبا یلقہ منشور (31) اقراء اکتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (41) (71 : 31۔ 41) ” ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے ، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لئے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے “۔ انسان کا شگون اس کا عمل ہے ، جو اس کی قسمت میں لکھا ہے۔ اس سے مراد خود انسان کا کسب وعمل ہے اور اس کے گلے میں لٹکانے سے مراد یہ ہے کہ انسان سے اس کا شگون یعنی اعمال کبھی جدا نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کریم کا انداز ہے کہ قرآن کریم معافی و مفاہیم کو بھی ایک مجسم شکل میں پیش کرتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کے ثمرہ کا ذمہ وار ہے اور وہ ان اعمال کے اثرات سے بھاگ نہیں سکتا۔ اسی طرح قیامت کے دن کتاب منشور سے بھی مراد اس کے اعمال کا ظہور ہے۔ یعنی اعمال کھلے ہوں گے۔ کوئی چھپا نہ سکے گا۔ یا کوئی عمل حساب سے رہ نہ جائے گا۔ لیکن قرآن اسے کھلی کتاب کی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے جس سے مخاطب پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور بات انسانی احساس کا حصہ بن جاتی ہے۔ چناچہ انسانی خیال یکدم پرندے اور کتاب کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور وہ اس سخت دن کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ جس کے تمام راز کھل جائیں گے۔ ایک کھلی کتاب ہوگی اور اس دن کسی محاسب کی ضرورت نہ ہوگی۔

اردو ترجمہ

پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Iqra kitabaka kafa binafsika alyawma AAalayka haseeban

اقراء کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (71 : 41) ” پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے “۔

اسی اٹل قانون قدرت کے ساتھ عمل اور مکافات عمل کا قانون وابستہ ہے۔

من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فائما یضل علیھا والا تزر وازرۃ وزر اخری (71 : 51) ” جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے ، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے “۔ چناچہ عمل کی ذمہ داری انفرادی ہے اور اس کی وجہ سے ہر انسان اپنے نفس کے ساتھ منسلک ہے۔ اگر ہدایت اختیار کرتا ہے تو بھی اپنے لیے کرتا ہے ، اگر گمراہ ہوتا ہے تو وہ خود ہی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی دوسرے کے کیے کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ اور کوئی بھی کسی کے بوجھ میں کمی نہ کرسکے گا۔ ہر انسان سے خود اس کے اعمال کی باز پرس ہوگی اور صرف اس کے اعمال حسنہ کی جزا دی جائے گی اور کوئی دوست بھی کسی دوست کا ذمہ دار نہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی کرتے ہوئے انسان کو صرف اس اصول پر مسئول اور ذمہ دار نہیں بنایا جو اس کائنات فطرت میں موجود ہے اور نہ اس کو صرف عہد الست کی بنا پر مسئول بنایا جو اللہ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب وہ آدم کی پشت میں تھے بلکہ اللہ نے نہایت مہربانی کرتے ہوئے سلسلہ رسل جاری فرمایا ، جو لوگوں کو ناموس شریعت کی یاد دہانی کراتے رہے ، انجام بد سے لوگوں کو ڈراتے رہے۔ اور یہ اصول مقرر فرمایا۔

اردو ترجمہ

جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے) ایک پیغام بر نہ بھیج دیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Mani ihtada fainnama yahtadee linafsihi waman dalla fainnama yadillu AAalayha wala taziru waziratun wizra okhra wama kunna muAAaththibeena hatta nabAAatha rasoolan

وما کنا معذبین حتی نبعث (71 : 51) ” اور ہم اس وقت تک سزا دینے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ عذاب دینے سے قبل لوگوں پر حجت تمام کرتا ہے۔ اور کوئی عذر رہنے نہی دیتا۔

یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس اور کوئی عذر رہنے نہیں دیتا۔

یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس قدرت کے مطابق ہی نازل ہوتا ہے جس کے مطابق نظام لیل و نہار جاری وساری ہے۔

اردو ترجمہ

جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha aradna an nuhlika qaryatan amarna mutrafeeha fafasaqoo feeha fahaqqa AAalayha alqawlu fadammarnaha tadmeeran

واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا مترفیھا ففسقوا فیھا فحق علیھا القول فدمر نھا تد میرا (71 : 61) ” جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں “۔

یہ مترفین کون لوگ ہوتے ہیں ؟ یہ کبراء کا وہ طبقہ ہے جو مالدار اور کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ نوکر ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ آرام طلب ہوتے ہیں اور خوشحالی ، عزت اور قیادت ان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ ڈھیلے ڈھانے ، گندے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور یہ لوگ اعلیٰ اقدار ، مذہبی مقدسات اور شرف و وقار کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور عیاشی اور فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جب ایسے لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں ہے تو وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ پھر وہ پوری امت میں فحاشی اور بےراہ روی پھیلاتے ہیں۔ اور جن اعلیٰ اقدار کی وجہ سے دنیا میں اقوام بنتی ہیں اور عروج حاصل کرتی ہیں ان کو ایسے لوگ سرعام پامال کرتے ہیں۔ یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اور اس میں سے زندگی ، قوت اور ترقی کے عناصر ختم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یوۃ وہ امت آخر کار تباہ ہو کر نیست و نابو دہوجاتی ہے۔

اس آیت میں اللہ کی اسی سنت پر بحث کی گئی ہے جب اللہ کسی امت کی ہلاکت کا فیصلہ کردیتا ہے ، اس لئے کہ اس نے اپنی بربادی کے تمام اسباب خود مکمل کردئیے ہوتے ہیں تو اس میں قسم کے مترفین زیادہ ہوجاتے ہیں۔ پھر اللہ کے ایسے لوگوں کی رسی ڈھیلی کردیتا ہے ، کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ یہ مترفین امت کے قائدین بن جاتے ہیں ، فسق و فجورعام ہوجاتا ہے ، یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اس میں سستی آجاتی ہے ، اس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے ، اور اچانک وہ ہلاک اور برباد ہوجاتی ہے۔ اس ہلاکت کی ذمہ داری پھر پوری امت پر ہوتی ہے کیونکہ امت کے افراد میں سے کسی نے ، جماعتوں میں سے کسی نے مترفین کے ہاتھ نہیں پکرے۔ نظام کی اصلاح کے لئے اجتماعی سعی اور جدوجہد نہیں کی۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ قوم کے اندر مترفین کو پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ ان کا وجود ہی اس بات کی علامت ہے کہ قوم پر ہلاکت آنے والی ہے۔ اگر کسی امت کا اجتماعی نظام ایسے لوگوں کی راہ روک دے اور ان کو پیدا ہونے ہی نہ دے تو امت ہلاکت سے بچ سکتی ہے۔ کیونکہ ہلاکت کا سبب صرف یہ مترفین اور ان کا فسق و فجور ہوتا ہے۔ یہی لوگ کسی امت اور سوسائٹی کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔

اللہ نے انسانیت کے لئے ایسے فطری قوانین مقرر کیے ہیں ، جو اٹل ہیں اور ان میں کبھی بھی تخلف یا استثناء نہیں ہوتی۔ یہ ناقابل تبدل سنن الہیہ ہیں۔ ان نوامیس اور سنن کے مطابق جب کسی واقعہ کے لئے اسباب فراہم ہوجاتے ہیں تو وہ واقعہ ہوجاتا۔ یوں اللہ کا ارادہ پورا ہوجاتا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور اس کی بات پوری ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ کسی کو فسق و فجور کا حکم نہیں دیتا۔ وہ فحاشی کا حکم کبھی نہیں دیتا۔ اس لئے اگر کسی سوسائٹی میں طبقہ مترفین پایا جاتا ہے تو اس کا وجود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس سوسائٹی نے اپنی ہلاکت کے اسباب پیدا کرنا شروع کردئے ہیں۔ اس کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں اور یہ تتر بتر ہونے والی ہے۔ اور وہ تقدیر الٰہی کے مطابق اپنے قدرتی انجام تک پہنچنے والی ہے۔ ہو یہ کہ سنت الہیہ کے فیصلے کے مطابق وہ ان مترفین کی وجہ سے نیست ونابود ہوگئی۔ کیونکہ اس نے کود اپنے اندر اس طبقہ مترفین کو پیدا ہونے دیا۔

اب یہاں ارادہ الہیہ سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ پکر پکڑ کر مترفین کو پیدا کرتا ہے اور وہ پھر مجبور ہو کر فسق و فجور کرتے ہیں اور اللہ زبردستی کرکے کسی سے اس کی ہلاکت کے اسباب پیدا کراتا ہے۔ بلکہ دراصل اسباب وہ سوسائٹی خود فراہم کرتی ہے اور سنن الیہ کے مطابق نتیجہ بعد میں مرتب ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ قانون فطرت اور سنت الہیہ اللہ کی جاری کردہ ہے۔ لیکن ہلاکت کا حقیقی سبب وجود مترفین اور فسق و فجور ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سو سائٹی پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاں نظام اجتماعی میں پائے جانے والے خلل کو دور کردے اور مترفین کو فسق و فجور کرنے سے روکا جائے تاکہ سنن الیہ کے مطابق پوری سوسائٹی پر ہلاکت اور بربادی کا عذاب نہ آجائے۔

قرون اولیٰ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد یہ سنت جاری وساری ہے۔ زمانوں کے بعد زمانے گزر گئے اور یہی ہوتا رہا ہے۔ جب بھی کسی امت میں فسق و فجور عام ہوا وہ ہلاک ہوئی۔ اور اللہ اپنے بندوں کی بداعمالیوں سے اچھی طرح خبردار ہے۔

اردو ترجمہ

دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakam ahlakna mina alqurooni min baAAdi noohin wakafa birabbika bithunoobi AAibadihi khabeeran baseeran

وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیرا بصیرا (71 : 71) ” دیکھ لو ، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک لوئیں۔ تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔

اب آخر میں بتایا جاتا ہے بعض لوگ صرف دنیا ہی کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ صرف اس دنیا کے لئے ۔ وہ اس زمین سے اوپر کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے ، ایسے لوگوں کو اللہ صرف اس دنیا کے سامان فراہم کرتا ہے ، اور آخرت میں ایسے لوگوں کے حصے میں صرف جہنم آتی ہے ، اور جو لوگ صرف اس دنیا ہی کے لئے زندہ ہوتے ہیں اور ان کی نظریں اس سے آگے کسی منظر کی تلاش میں نہیں اٹھتیں ، وہ اسی دنیا میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ اس زمین کے کیچڑ میں لت پت ہوتے ہیں ، کیڑوں کی طرح گندی نالیوں میں پڑے رہتے ہیں ، اور ہر قسم کی گندی لذت کوشی میں ڈوبے ہوئے ہوتے اور شہوت اور جذبات کے غلام ہوتے ہیں اور دنیاوی لذت کے حصول میں ایسے ایسے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کو جہنم رسید کردیتے ہیں۔

283